آراقارئین

Print Friendly, PDF & Email

منہ توڑ جواب
فرائیڈے اسپیشل کی تازہ ترین اشاعت میں سینئر، زیرک صحافی امان اللہ شادیزئی کا مضمون ’’جہادِ افغانستان کا آغاز اور نواب اکبر بگٹی کے گھر ایک روسی صحافی سے ملاقات‘‘ پڑھا۔ مضمون پڑھ کر ایمان تازہ ہوگیا۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ ایک صحافی کے غیر متزلزل ایمان اور جرأت کی بات تھی اور ہے۔ امان اللہ شادیزئی کا سینہ معلومات کا دفینہ ہے۔ اب تو قربِ قیامت ہے جس کی یہ بھی نشانی ہے کہ وہ اپنے خزانے اُگلے گی۔ اس خاکی کے پُتلے کو بھی اس دفینے کو اب باہر لانا ہوگا تاکہ کفر، سیکولر اور نام نہاد مفکر، علماءِ سو پر قیامت ٹوٹ پڑے۔ قدرت کا اپنا نظام ہے، روسی صحافی کو اکبر بگٹی نے پاس بلوایا تو امان اللہ شادیزئی کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے بھجوایا۔ صحافت کی دنیا عجیب ہے، اور سچائی کا پیکر صحافی غریب ہے۔ یوں یہ دنیا عجیب و غریب کہلاتی ہے۔
اس مضمون کو پڑھ کر مجھے بھی اپنی صحافت کے دورِ اول کا واقعہ یاد آگیا۔ کراچی پریس کلب کے جنرل سیکریٹری سکرنڈ میں میرے ہم قلم ہوا کرتے تھے۔ ہمیں پتا چلا کہ ایک مسلکی تنظیم کے رہنما جو صوبائی سطح کے بزرگ بھی تھے، سکرنڈ مدرسہ میں آئے ہوئے ہیں۔ ہم دونوں ساتھی اُن سے ملنے چلے گئے۔ جوں ہی اُن کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ایک شاگرد نے ان سے یہ کہہ کر ہمارا تعارف کرایا کہ صحافی ہیں اور جماعت اسلامی کے ہیں، یعنی کریلا اور نیم چڑھا کا معاملہ ہے، ذرا دیکھ کر۔ یہ سننا تھا کہ حضرت جی کا والیوم کھل گیا۔ ارشاد فرمانے لگے: اللہ مصر کے ہیرو صدر جمال ناصر کا بھلا کرے، اس بطلِ جلیل نے اخوان کو پھانسیاں لگائیں اور یہ کارنامہ کیا، وہ کارنامہ سرانجام دیا۔۔۔ اور لگے دعائیں دینے اُس بدبخت صدرِ مصر ناصر کو، جس نے اسلام کی جڑ پر حملہ کیا، بے گناہوں کو عقوبت خانوں میں سخت اور بدترین ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ میں ان حضرت جی کی یہ سب تقریر سنتا رہا اور دل ہی دل میں افسوس کرتا رہا ان کے مسلکی تعصب پر، اور تف بھیجتا رہا ان کی معلومات اور قابلیت پر۔ وہ چپ ہوئے تو راقم یعنی میں نے ایک جملہ کہا جو اللہ نے کہلوایا ’’اللہ کرے روزِ محشر آپ جمال عبدالناصر کے ساتھ اُس کے جھنڈے تلے ہوں‘‘۔ یہ کہہ کر میں نے حضرت جی سے التماس کی ’’حضرت جی آمین تو کہہ دو‘‘۔ اس پرحضرت جی کا رنگ فق ہوگیا۔ شاید انہیں اس جملے کی توقع نہ تھی۔ 1967ء کی جنگ میں جب اسرائیل نے مصر پر حملہ کیا تو جمال عبدالناصر نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آلِ فرعون آل موسیٰ نے تم حملہ کردیا ہے، ان کو تہس نہس کردو۔ یہ تھا جمال عبدالناصر کا متکبرانہ جملہ، جس کی تعریف میں حضرت جی بھی رطب اللسان تھے۔ باقی باتیں اور آمین حضرت جی کے حلق میں اٹک گئیں اور ہم بھی لوٹ آئے۔
یہ بولتی بند ہونے کا کھیل پرانا ہے، حق کے سامنے بولتی بند ہوتی آئی ہے۔ فرعون کا دربار ہو یا نمرود کا آتش کدہ، یہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہی ہے۔۔۔ یہ روزِ اول سے ہوتا آیا ہے اورروزِ آخر تک ہوتا رہے گا۔ امان اللہ شادیزئی کو باقی باتیں بھی منظرعام پر لانی چاہئیں اور نئی نسل کی رہنمائی کرنی چاہیے۔ بڑے کہتے ہیں
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
سبق یاد کراؤ قوم کو استاد محترم۔
عبدالتواب شیخ۔۔۔ سکرنڈ
اسلام دشمن قانون کی منظوری
اسلام کے نام پر بننے والے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صوبائی اسمبلی نے اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کے قبولِ اسلام پر پابندی عائد کردی۔ جمعرات 17 نومبر کو سندھ اسمبلی میں ایک بل منظور کیا گیا جس کی رو سے اپنی مرضی سے دینِ اسلام قبول کرنے کے باوجود کوئی شخص اکیس دن تک اس کا اعلان نہیں کرسکتا، جب کہ زبردستی مذہب تبدیل کرانے پر پانچ برس سے لے کر عمر قید تک کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ جرمانہ اس کے علاوہ ہوگا۔ یہ شرمناک بل ایک سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رکن اسمبلی نے پیش کیا جسے خود کو مسلمان کہلانے والے اسمبلی اراکین نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
ایک سروے کے مطابق نوجوانوں میں اسلام قبول کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، اس لیے اسلام کی راہ میں ر کاوٹ ڈالنے کے لیے یہ بل پیش کیا گیا اور اس بل کو بہت سوچ سمجھ کر تیار کیا گیا ہے۔ مذکورہ بل کو اسلام دشمنی کے سوا اور کیا نام دیا جا سکتا ہے؟ اگر تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھیں تو ہمیں صحابہ کرامؓ کی ایک کثیر تعداد ملے گی جنہوں نے کم عمری میں اسلام قبول کیا۔ حضرت علیؓ جنہوں نے دس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ حضرت زید بن ثابتؓ جنہوں نے گیارہ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ اور حضرت معاذؓ اور معوذؓ۔۔۔ ان دو نوجوان صحابہ جنہوں نے بارہ یا تیرہ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا اور بدر میں ابوجہل کو جہنم واصل کیا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جب سترہ سال کا بچہ پارٹی کی صدارت سنبھال سکتا ہے تو اسلام قبول کیوں نہیں کر سکتا؟ یہاں ہندوؤں کے تہوار ہولی، دیوالی، بسنت کے منانے پر کوئی پابندی نہیں۔ مسلمان ہوتے ہوئے بھی ہندوؤں کے بتوں کی پوجا کرنے اور ان کی آرتی اتارنے پر کوئی پابندی نہیں، تو اسلام قبول کرنے پر پابندی کیوں؟ کیا یہ بل یہودیوں کو خوش کرنے کے لیے پاس کیا گیا ہے؟ سورہ الحج میں اللہ تعالیٰ نے قبولِ اسلام کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کو کفار کی نشانی قرار دے کر ایسے افراد کے لیے جہنم کی نوید سنائی۔ میری اسلام کے منافی بل پیش کرنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنا بل واپس لیں ورنہ آخرت میں سزا کے لیے خود کو تیار کرلیں۔
بتول فاطمہ
سرکاری تعلیمی اداروں کی زبوں حالی
ہمارے ملک پاکستان میں سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ کراچی بورڈ کے میٹرک 2016ء کے نتائج نے سرکاری تعلیمی معیار کو بے نقاب کردیا ہے۔
ہمارے ہاں نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار ہمیشہ سے زیربحث رہا ہے۔ لیکن کسی بھی حکومت نے سرکاری تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے کوئی جامع پروگرام ترتیب نہیں دیا اور نہ ہی اس بارے میں کبھی سوچا۔ موجودہ دور سائنس و ٹیکنالوجی کا دور ہے، دنیا ترقی کے آسمان چھو رہی ہے۔ حصولِ علم بزنس بن چکا ہے۔ تمام سرکاری و نجی ادارے جن میں یونیورسٹی،کالج اور کاروباری ادارے شامل ہیں، سلیکشن کا کام اور ٹیسٹ کی ذمہ داری NTS کے سپرد کرتے جارہے ہیں۔ ایک اور مقابل ٹیسٹنگ فرم (PTS) Pakistan Testing Service کے نام سے مارکیٹ میں موجود ہے۔ یہاں حکومتِ وقت کو تعلیم کا معیار اعلیٰ درجے تک پہنچانے کے لیے انتہائی قدم اٹھانا ہوگا۔ اربابِ حکومت بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان میں تعلیمی معیار کی بہتری اور ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے بچوں کی تعلیمی اداروں تک رسائی ملک کے بہتر مستقبل کے لیے بہت ضروری ہے۔ ہمارے ہاں متوسط طبقہ چاہتا ہے کہ اس کے بچے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کریں لیکن پرائیویٹ اسکولوں کی فیسیں اور دیگر اخراجات ان کی پہنچ سے باہر ہیں۔ اس لیے وہ مجبوراً اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کراتے ہیں۔ اگر سرکاری تعلیمی اداروں کا معیارِ تعلیم بلند کردیا جائے اور سنجیدگی سے تعلیم دی جائے تو ان بچوں کا بھی مستقبل بہتر ہوسکتا ہے۔
لکشمی ساحل/کراچی
nn

Share this: