(مولانا امین احسن اصلاحٰ (حامد ریاض ڈوگر

Print Friendly, PDF & Email

19 برس قبل یہ پیر کا دن اور 15 دسمبر 1997ء کی تاریخ تھی جب قحط الرجال کے موجودہ دور میں علم و عمل، فہم و فراست اور فکر و تدبر کے روشن چراغ مولانا امین احسن اصلاحیؒ علی الصبح تین بجے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مرحوم اپنی ذات میں ایک پورا مکتبِ فکر تھے۔ مدرسۃ الاصلاح میں دینی تعلیم کے حصول کے لیے داخلہ لیا جہاں اپنے دور کے ممتاز عالم دین اور منفرد مفسرِ قرآن مولانا حمیدالدین فراہیؒ سے علوم قرآن میں فیض پایا، مولانا عبدالرحمن مبارکپوریؒ سے علوم حدیث میں استفادہ کیا اور جامع ترمذی ان سے پڑھی۔ ابتدائی زندگی کے اس دورِ تدریس کا رنگ ایسا اپنایا کہ یہ تمام زندگی آپ پر غالب رہا، بلکہ فکرِ فراہی کو برصغیر میں زندہ رکھنے اور حیاتِ نو بخشنے کے لیے آپ نے اپنی زندگی وقف کیے رکھی۔
مولانا امین احسن اصلاحیؒ ، مولانا حمیدالدین فراہیؒ کے شاگردِ خاص تھے۔ اپنی معرکۃ الآرا تفسیر ’’تدبر القرآن‘‘ میں مولانا فراہیؒ کا طرز اپنانے کے علاوہ مولانا اصلاحیؒ نے اپنے استادِ محترم کی ’’تفاسیر فراہیؒ ‘‘ کا بھی اردو میں ترجمہ کیا اور فکرِ فراہیؒ کے فروغ کے لیے ’’دائرہ حمیدیہ‘‘ کی بنیاد رکھی۔ غرضیکہ آپ نے ہر ہر طرح سے مکتبِ فراہی کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے تجدید و احیائے دین کے مقاصد کے پیش نظر جب ’’جماعت اسلامی‘‘ کی بنیاد رکھی تو اس میں بھی مولانا اصلاحیؒ سید مودودیؒ کے اوّلین ساتھیوں میں شامل تھے۔ اور جب دارالسلام پٹھانکوٹ کو تحریک کا مرکز بنانے کا فیصلہ کیا گیا تو مولانا اصلاحی بھی وہاں منتقل ہوگئے، تاہم جلد ہی جب سید مودودیؒ پاکستان آگئے تو مولانا اصلاحیؒ بھی یہاں تشریف لے آئے اور اسلامی نظام حیات کے نفاذ کی جدوجہد میں ان کے معتمد ترین ساتھی بنے۔ پنجاب میں میاں ممتاز دولتانہ کے دورِ اقتدار میں جب ختمِ نبوت کی تحریک چلی تو مولانا اصلاحیؒ کو بھی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ، میاں طفیل محمدؒ اور جماعت اسلامی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ جیل میں ڈال دیا گیا۔ اپنے دیگر ساتھیوں کی طرح آپ نے بھی قید و بند کی یہ صعوبتیں جرأت و ہمت اور عزم و حوصلے سے برداشت کیں۔ آپ کا شمار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے بعد جماعت اسلامی کے اہم ترین رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ 1957ء میں جب جماعت میں انتخابی سیاست میں حصہ لینے پر اختلافِ رائے ہوا تو معرکہ ماچھی گوٹھ میں آپ اُن لوگوں کے ساتھ تھے جن کا مؤقف یہ تھا کہ معاشرہ ابھی اسلامی نظام کے لیے تیار نہیں اس لیے انتخابی میدان سے باہر رہ کر اصلاحِ معاشرہ کی کوششیں مزید جاری رکھنی چاہئیں، جب کہ مولانا مودودیؒ اور ان کے ساتھیوں کا مؤقف یہ تھا کہ معاشرے کو اسلامی انقلاب کے لیے تیار کرنے کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ انتخابات میں حصہ لیا جائے اور اسلامی اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے اس انداز میں انتخابی مہم چلائی جائے جو بجائے خود لوگوں تک دین کا پیغام پہنچانے اور عملاً اصلاحِ معاشرہ کا ایک ذریعہ ثابت ہو۔ مگر رائے کے اس اختلاف پر جب کچھ لوگوں نے جماعت اسلامی سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تو مولانا اصلاحیؒ نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور اختلاف کے باوجود جماعت میں شامل ہے، اور 1958ء کے مارشل لا سے قبل جماعت اسلامی کا جو الیکشن سیل بنایا گیا مولانا امین احسن اصلاحی اس کے انچارج تھے۔ اس طرح انہوں نے اختلاف کے باوجود جماعت اسلامی سے وابستہ رہنے اور اطاعتِ نظم کی ایک روشن مثال قائم کی۔
قیام پاکستان کے بعد جب جماعت کا مرکز لاہور منتقل ہوا تو مرکز کی ایک شاخ راولپنڈی میں قائم کی گئی۔ اس شاخ کی ذمہ داری مولانا امین احسن اصلاحی کے سپرد کی گئی۔ اس دور میں وہ راولپنڈی ڈویژن کے امیر بھی رہے۔ مولانا فتح محمد مرحوم ان کے اس دور میں قیم تھے جو بعد ازاں راولپنڈی اور پھر صوبہ پنجاب کے طویل عرصہ تک امیر رہے، اور بعد ازاں بھی اپنی ضعیف العمری اور کمزور صحت کے باوجود دارالعلوم منصورہ کے مہتمم کی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ مولانا فتح محمد راوی ہیں کہ اس دور میں مرکزی شاخ اور راولپنڈی ڈویژن کی امارت کی اہم ذمہ داریوں کے باوجود مولانا امین اصلاحی نے علمی و فکری کام جاری رکھا اور اپنے قریبی ساتھی مولانا عبدالجبار غازی کی رہائش گاہ پر فوجی افسران کے لیے حلقہ درس قائم کیا جہاں وہ روزانہ شرکاء کو قرآن حکیم کی تعلیمات سے روشناس کراتے۔
ایک مرحلے پر جب انہوں نے جماعت اسلامی سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تو بھی انہوں نے کبھی اختلاف کو عناد میں بدلنے نہیں دیا اور جماعت کے احباب سے نہایت اچھے مراسم قائم رکھے اور جماعت کے کارکن بھی علیحدگی کے باوجود انہیں اپنا مربی و محسن اور رہنما ہی سمجھتے رہے، اور کسی بھی مرحلے پر ان کے احترام میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دی، اور ان کی کتب ہمیشہ جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے تربیتی نصاب کا حصہ رہیں جن سے آج بھی تحریک اسلامی کے کارکن علمی پیاس بجھاتے اور فکری رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ان کے لیے جماعت کے کارکنوں میں عزت و احترام کا جو جذبہ پایا جاتا ہے اس کا اندازہ اس سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ ان کے جنازے میں مناسب طور پر اطلاع نہ مل سکنے کے باوجود بہت بڑی تعداد میں جماعت کے کارکنوں نے شرکت کی۔ اُس وقت کے امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد مرحوم مولانا کے انتقال کی اطلاع ملنے پر تمام مصروفیات ترک کرکے ہنگامی طور پر اسلام آباد سے لاہور پہنچے اور ایئرپورٹ سے سیدھے جنازہ گاہ پہنچ کر نماز جنازہ کی امامت کی، جب کہ جماعت کے مرکزی نائب امراء، قیم، منصورہ کے دیگر ذمہ داران اور شہر لاہور کے تمام اہم ذمہ داران بھی جنازے میں شریک تھے۔
جیسا کہ سطورِ بالا میں عرض کیا گیا علیحدگی کے باوجود مولانا اصلاحیؒ کا جماعت اسلامی کے کارکنوں اور رہنماؤں سے شفقت و محبت کا تعلق استوار تھا، چنانچہ آپ نے جماعت اسلامی سے الگ ہونے کے بعد عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے جب درس و تدریس اور علمی تحقیق و تصنیف پر توجہ دی تو ان کے حلقہ درس کے سب سے زیادہ شرکاء اور ان کی کتب کے قارئین بھی یہی تحریکی کارکن تھے۔ ایک طویل عرصے تک وہ سید مودودیؒ کے قریبی ساتھی اور جماعت کے اولین ارکان میں شامل حافظ نور احمد مرحوم کی گڑھی شاہو لاہور میں واقع مسجد میں درس قرآن دیتے رہے۔ جب مولانا اصلاحی کی اہلیہ جو آپا نثار فاطمہ مرحومہ کی بہن بھی تھیں، انتقال فرما گئیں تو حافظ نور احمد مولانا اصلاحی صاحب سے تعزیت کے لیے گئے، اس موقع پر فرمانے لگے کہ ’’حافظ صاحب اصولاً تو مجھے آپ سے تعزیت کرنی چاہیے کہ میرا گھر جماعت اسلامی کی ایک زبردست وکیل سے خالی ہوگیا ہے۔‘‘
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ستمبر 1979ء میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے تو مولانا اصلاحیؒ ان کے جنازے میں شرکت کے لیے گئے اور حالت یہ تھی کہ زار و قطار رو رہے تھے۔ اس موقع پر جب صحافیوں نے ان کے تاثرات معلوم کرنا چاہے تو روتے ہوئے نہایت مختصر مگر بلیغ و جامع جملہ ارشاد فرمایا ’’مزاج شناسِ رسولؐ دنیا سے اٹھ گیا ہے‘‘۔ یہ بلاشبہ ایک ایسا خراج تھا جو مولانا اصلاحیؒ جیسا بلند پایہ عالم دین ہی اپنے ساتھی اور ہم عصر کو پیش کرسکتا تھا۔
مولانا امین احسن اصلاحیؒ 1904ء میں بھارت کے علاقہ اعظم گڑھ کے موضع بھمبور میں پیدا ہوئے۔ تعلیم و تربیت کے بعد تمام عمر دینِ حق کی تبلیغ و اشاعت میں سرگرم عمل رہے اور اس مقصد کے لیے قابلِ قدر اور ٹھوس علمی تحقیق پر مبنی کتب بھی تحریر فرمائیں جن میں نو جلدوں پر مشتمل تفسیر ’’تدبرالقرآن‘‘ کے علاوہ ’’اسلامی ریاست‘‘، ’’تزکیہ نفس‘‘، ’’حقیقتِ شرک‘‘، ’’حقیقتِ توحید‘‘ اور ’’دعوتِ دین اور اس کا طریق کار‘‘ بہت مقبول و مشہور ہوئیں۔ آپ ہر مسئلے پر اپنی ایک سوچی سمجھی رائے رکھتے تھے اور کسی قیمت پر اس سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں ایک موقع پر جب زانی کی سزا کے مسئلے پر بحث شروع ہوئی تو آپ نے اپنے دلائل کی بنیاد پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ قرآن حکیم میں زانی کے لیے کوڑوں کی سزا کا حکم ہے اور اس میں سنگسار کرنے کا کہیں ذکر نہیں، اس لیے سنگسار کرنا شرعی سزا نہیں۔ اس پر بعض مذہبی حلقوں کی طرف سے ان پر ’’منکرِ حدیث‘‘ کا الزام بھی عائد کیا گیا مگر وہ مسلسل اپنی رائے پر مُصر رہے اور کسی الزام کی پروا کیے بغیر اس رائے کا اظہار برملا کرتے رہے۔
وفات سے تقریباً دو سال قبل مولانا اصلاحیؒ پر فالج کا حملہ ہوا جس کے بعد وہ مسلسل بسترِ علالت پر رہے۔ ان کے قویٰ وفات سے بہت عرصہ پہلے ہی جواب دے چکے تھے۔ اور ان کی کیفیت طویل عرصے سے ’’ چراغ سحری ہوں بجھا چاہتا ہوں‘‘کی سی تھی۔ چنانچہ 15 دسمبر 1997ء کی سحر طلوع ہونے سے قبل یہ چراغ گل ہوگیا جس سے جہالت کی تاریکیاں بلاشبہ مزید گہری ہو گئی ہیں۔ ع
اک دیا اور بجھا اور بڑھی تاریکی
nn

Share this: