(امت رسول مارچ (اے۔اے۔سیّد

Print Friendly, PDF & Email

مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی صورت حال کے تسلسل میں حلب میں موت کا رقص جاری ہے۔ امریکہ اور روس کی سرپرستی میں مسلمانوں کو چن چن کر اور گن گن کر قتل کیا جارہا ہے۔ مفادات کا ٹکراؤ اس انسانی المیے کی بنیاد بن گیا ہے۔ امریکی اور روسی جنگی آلات اپنی مہلک قوت کے بل پر سنگین تباہی مچا رہے ہیں۔ بدقسمتی سے اس سارے فساد میں عالم اسلام کے دو اہم ملک ان کے آلۂ کار اور معاون بن کر اس خونیں کھیل میں اپنا پورا حصہ ڈال رہے ہیں۔گزشتہ ڈھائی برس میں ایک لاکھ سے زائد شہری ہلاک، لاکھوں زخمی اور معذور ہوچکے ہیں، چالیس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہیں اور ان کے پیچھے، ملبے کی صورت میں عمارتوں کا ڈھانچہ رہ گیا ہے۔ اقوام متحدہ سے تو کیا اُمید رکھنا، عالم اسلام میں بھی مکمل سکوت اور اطمینان ہے جیسے کچھ ہو ہی نہیں رہا۔ امتِ مسلمہ میں عوامی سطح پر بے چینی ہے، افسوس ہے، دکھ ہے، درد ہے اور اس کا اظہار بھی ہے۔ لیکن عالم اسلام میں ترکی کے سوا باقی ریاستیں یا تو اس ظلم کا حصہ ہیں یا خاموشی کی عملی تصویر بنی ہوئی ہیں۔ لیکن کراچی شہر ملّی اور قومی تحریکوں کا مرکز رہا ہے اور اس کی یہ روایت آج بھی جماعت اسلامی نے برقرار رکھتے ہوئے شام اور برما کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے وحشیانہ مظالم کے خلاف اور مظلومین کی حمایت اور اُن سے اظہار یکجہتی کے لیے شاہراہ قائدین پر فقیدالمثال ’’اتحادِ امتِ رسولؐ مارچ ‘‘ کیا جس میں نوجوانوں، بچوں، بزرگوں، خواتین، علماء کرام، وکلا، صحافیوں، اساتذہ، ڈاکٹروں، انجینئروں، مزدوروں، محنت کشوں اور مختلف شعبۂ زندگی سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور مظلومین کی حمایت اور اتحادِ امت کا بھرپور اظہار کیا۔ امتِ رسولؐ مارچ سے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے اپنے کلیدی خطاب میں عالم اسلام کے حکمرانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امت کے اہم مسائل پر خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ مسلم حکمرانوں کو عالم اسلام کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے لیے اقوام متحدہ کے اندر اپنا حق مانگنا ہوگا، اور اگر یہ حق نہیں ملتا اور مسلمانوں کے بہتے خون پر یہ ممالک اسی طرح خاموش رہتے ہیں تو اپنی الگ عالمی تنظیم بنائی جائے، اور اب حکمرانوں کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ غلامی چاہتے ہیں یا آزادی؟ مسلمانوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم، مشترکہ معاشی منڈی اور مشترکہ فوج بنانے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کے لیے زندگی کا واحد راستہ اتحاد و یکجہتی اور جدوجہد کا راستہ ہے۔ مشرقی تیمور اور سوڈان کے اندر تو اقوام متحدہ فوراً حرکت میں آجاتی ہے لیکن کشمیر، فلسطین، حلب اور برما کے اندر مسلمانوں پر مظالم پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اندھی، بہری اور گونگی بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان خواہ کسی علاقے اور خطے کا ہو، وہ انسان ہے اور اس کا خون سرخ ہے۔ امریکہ، مغرب اور اقوام متحدہ کو مسلمانوں کا خون آج کیوں نظر نہیں آرہا! امتِ رسولؐ مارچ برما اور شام سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں سے بھرپور اظہارِ یکجہتی کا مظہر ہے۔ آج عظیم الشان امتِ رسولؐ مارچ کرنے پر کراچی کے نوجوان، مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور غیور عوام مبارکباد اور خراجِ تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے یہ فرضِ کفایہ ادا کیا ہے۔ حلب کے اندر نوجوان، خواتین، بزرگ، بچے تہہ تیغ کیے جارہے ہیں۔ ہم آج حلب کی ماؤں، بہنوں اور مظلوم مسلمانوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم اُن کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حلب کے اندر مسلم خواتین علماءِ کرام سے فتویٰ مانگ رہی ہیں کہ جب ان کے ساتھ زیادتی اور ان کی بے حرمتی ہورہی ہے تو کیا وہ خودکشی کرسکتی ہیں؟ یہ صورت حال انتہائی افسوس ناک اور تشویش ناک ہے۔ برماکے اندر مسلمانوں کی آبادیاں جلائی جارہی ہیں۔ ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ کلمہ لا الٰہ الا اللہ پڑھتے ہیں۔ اس ظلم پر آج مسلم حکمران آخر کیوں خاموش ہیں! حکمران جب امریکہ اور اقوام متحدہ کچھ کہتے ہیں تو بولتے ہیں ورنہ خاموش رہتے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے پاکستان کے حکمرانوں کے حوالے سے کہا کہ ہم نے حکومت کے اہم ذمہ داران سے رابطہ کیا ہے اور بات کی ہے کہ حکومتِ پاکستان کا فرض ہے کہ وہ امت کے ان مسائل پر آواز بلند کرے۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کے حکمرانوں نے امت کے اہم مسائل پر خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ حکمران ٹولے کے اندر قبرستان کی سی خاموشی ہے۔ جماعت اسلامی کشمیریوں، فلسطینیوں اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ ہمیشہ کھڑی رہی ہے اور آج جماعت اسلامی شام کے علاقے حلب اور برما کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ جماعت اسلامی نے آج یکم جنوری کو مظلوم مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کرکے 2017ء کے سال کو مظلوم مسلمانوں کا سال بنادیا ہے۔ ہم مظلومین کی حمایت آخری دم تک جاری رکھیں گے۔ حکمران امریکہ، مغرب اور عالمی اداروں کے ایجنڈے کو ملک کے اندر لانا چاہتے ہیں۔ نصابِ تعلیم کو تبدیل کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اتحاد و وحدت کی علامت ہے۔ امتِ مسلمہ کو ہم جسدِ واحد کی طرح سمجھتے ہیں اور اپنا یہ فرض ادا کرتے رہیں گے۔ آج ہماری ان کوششوں سے حلب اور برما کے مسلمانوں کو حوصلہ مل رہا ہے۔ اقوام متحدہ کفن چوروں کا ٹولہ ہے اور یہ مسلمانوں کے لیے کبھی کچھ کرنے پر تیار نہیں۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کو مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی سازشوں میں شریک ہونے کے بجائے امت کو ایک کرنے کی جدوجہد کا حصہ بننا چاہیے۔ ترکی کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے جو سب کے لیے تشویش ناک ہے۔ مسلمانوں کے لیے زندگی کا واحد راستہ اتحاد و یکجہتی اور جدوجہد کا راستہ ہے۔ مسلم عوام کو اٹھنا ہوگا اور عالم اسلام کے اندر ایسی قیادت لانی ہوگی جو عوام کے حقیقی احساسات و جذبات کی ترجمانی کرتی ہو۔ امیر جماعت اسلامی نے پاکستان کے مستقبل کے پس منظر میں کہا کہ ہم عزم کرتے ہیں کہ 2017ء ظلم سے نجات، جدوجہد اور اسلامی اور خوشحال پاکستان بنانے کا سال ثابت ہوگا۔ ہم ملک کے اندر ایسی قیادت لانا چاہتے ہیں جو کرپشن سے پاک ہو۔ ہمارے ساتھ ایسا کوئی نہیں جس کا نام پاناما لیکس کے اندر ہو۔ ہمارا دامن کرپشن کے داغ دھبوں سے بالکل پاک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مسلمان متحد ہوں گے اور امت کے حکمران عوام کے ساتھ ہوں گے تو نہ شام کے اندر بشارالاسد حلب میں مسلمانوں پر مظالم ڈھا سکے گا اور نہ برما کی فوج روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کرسکے گی۔ کشمیر و فلسطین آزاد ہوں گے۔ مایوس اور ناامید ہونے کی ضرورت نہیں۔ مسلم عوام اور نوجوان بیدار اور متحرک ہیں اور فتح و کامرانی اِن شاء اللہ امتِ مسلمہ کا مقدر ضرور بنے گی۔
مارچ کے شرکا کے اندر زبردست جوش وخروش دیکھنے میں آیا، وہ فلک شگاف نعرے لگاتے رہے۔ سراج الحق کی اسٹیج پر آمد کے موقع پر شرکا نے پُرجوش نعرے لگائے اور سراج الحق نے دیگر رہنماؤں اور قائدین کے ساتھ شرکا کے نعروں کا جواب دیا۔ اسٹیج سے نظمیں اور ترانے بھی پیش کیے گئے جن سے شرکا کے اندر مزید جوش اور جذبہ پیدا ہوا۔ امتِ رسولؐ مارچ سے امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن، جماعت الدعوۃ کے رہنما ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی، برمی مسلمانوں کے رہنما حبیب اللہ تاج اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مارچ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے قرارداد منظور کی گئی۔ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کراچی نے ثابت کردیا ہے کہ یہ امتِ مسلمہ کا شہر ہے۔ شام کے علاقے حلب میں معصوم انسان اپنے بچوں کی لاشیں اٹھائے اقوام متحدہ کے سامنے سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں، حقوقِ انسانی کی بات کرنے والے اور ذرا ذرا سی باتوں پر موم بتی جلانے والی مافیا شام اور برما کے مسلمانوں پر مظالم پر خاموش ہیں۔ دشمن چاہتا ہے کہ شام کے اندر مسلمانوں کی حالتِ زار کو اختلاف کا ذریعہ بنایا جائے، لیکن ہم اتحادِ امت کو ہرگز نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔ اتحادِ امت وقت کا تقاضا ہے۔ ہم ترکی کی حکومت اور عوام کو سلام پیش کرتے ہیں اور فرانس کے بھی شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج شام، برما،کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کی حالتِ زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ شام کے علاقے حلب سے 40 لاکھ سے زائد مسلمان نقل مکانی پر مجبور ہیں، 5 لاکھ مسلمان شہید کیے جاچکے ہیں۔ امریکہ اور روس کی نوراکشتی جاری ہے۔ ہم نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے اور مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانے کے لیے یہ مارچ رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کراچی کے عوام نے ثابت کیا ہے کہ عوام امتِ مسلمہ کے ترجمان ہیں لیکن بدقسمتی سے حکمران امریکہ اور روس کے غلام بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برما کے اندر مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں، بنگلہ دیش کی حسینہ واجد نے اپنے ملک کی سرحدیں ان کے لیے بند کی ہوئی ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ برما کے اندر اسلامی حکومت کو تسلیم کیا جائے۔ ہم اہلِ کراچی کی جوق در جوق شرکت پر کراچی کے عوام کو خراج تحسین اور اظہارِ تشکر کرتے ہیں۔ مزمل اقبال ہاشمی نے کہا کہ آج پوری امت کا فرض ہے کہ شام اور برما کے مظلوم مسلمانوں کی آواز بنے اور ان کے حق میں آواز بلند کرے۔ حبیب اللہ تاج نے کہا کہ شام اور برما کے اندر جس طرح مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ برمی افواج مسلمانوں کی نسل کشی کررہی ہیں۔ بشارالاسد شام کے علاقے حلب میں مظلوم و نہتے مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہا ہے۔ پاکستان کے عوام نے ہمیشہ امتِ مسلمہ کے سلگتے مسائل پر آواز بلند کی ہے اور امت سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
جماعت اسلامی نے کراچی میں امتِ مسلمہ مارچ کرکے حلب اور برما کے مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہار کرکے مسلم عوام کی ترجمانی کی ہے اور عالم اسلام کے حکمرانوں کو نیند سے جگانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن مسلم حکمرانوں کو مغربی طاقتوں کے ایجنٹ کا کردار ادا کرنے کے بجائے اپنے مسلمان بھائیوں کو خون میں نہلانے کی مکروہ ’’سیاست‘‘ اور جارحیت کے ظالمانہ کھیل کو روکنا ہوگا اور اس خطہ میں مغرب کی مداخلت کو روکنے کے لیے اسلامی ممالک کو جلد اہم اور مثبت پیش رفت کرنی ہوگی، ورنہ عالم اسلام کی غلامی کا دور مزید طویل ہوتا جائے گا۔ یہ جنگ جاری رہی تو اس میں نقصان مسلمانوں کا ہی ہوگا جس سے عالم اسلام مزید کمزور ہوگا۔ اور ایک وقت آئے گا کہ ان سفاک مسلم حکمرانوں کے حصے میں بھی کچھ نہیں آئے گا۔ nn

Share this: