کشمیر

Print Friendly, PDF & Email

سوشوبھا باروے کا نام پاکستان میں بہت سوں کے لیے نیا نہیں۔ 1990ء کی دہائی میں امریکہ کی آشیرباد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ڈھیلے ڈھالے حل کی کوششوں میں 2000ء کی دہائی میں تیزی آگئی تو مس باروے کا نام اکثر پڑھنے اور سننے کو ملتا رہا۔ یہ خاتون تنازعات میں گھرے بھارت اور آبادیوں کے مسائل اور تعلقات پر کئی کتابوں کی مصنف اور دہلی میں قائم ایک تھنک ٹینک ’سینٹر فار پیس اینڈ ری کنسلی ایشن‘ کی پروگرام ڈائریکٹر ہیں اور خود کو بھارت کے اندر مختلف تنازعات کے حل اور متحارب آبادیوں میں مفاہمت کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دہائی میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا عمل تیز ہوا تو سوشوبھا باروے ان سرگرمیوں کی ایک اہم سہولت کار کے طور پر سامنے آئیں۔ اس عرصے میں وہ پاکستان آتی جاتی رہیں۔ سری نگر، اسلام آباد اور دہلی میں کئی انٹراکشمیری ڈائیلاگ انہی کی میزبانی میں منعقد ہوئے۔ 2005ء میں سری نگر میں منعقد ہونے والے ایک انٹرا کشمیر ڈائیلاگ میں انہی کے توسط سے مجھے بھی شرکت کا موقع ملا۔ اس سے پہلے بھارت کا تین ہفتے پر محیط سفر کرچکا تھا اور برطانیہ اور آئرلینڈ کے درمیان مدتوں سے چلے آنے والے تنازعے شمالی آئرلینڈ کو کشمیر کے تناظر میں سمجھنے کا موقع بھی مل چکا تھا، مگر سری نگر کا سفر شاید وہ پہلا اور آخری موقع تھا جب مجھے اندازہ ہوا کہ منقسم خاندانوں کے زیادہ تر لوگ ڈپلومیسی کی راہوں اور ایسی محفلوں میں زیادہ دور اور زیادہ دیر تک نہیں چل سکتے، کیونکہ ڈپلومیسی کی اپنی اصطلاحات، محاورے اور ضرورتیں ہوتی ہیں اور منقسم خاندان کا فرد زیادہ دیر تک ان اصطلاحات کا بوجھ اُٹھاکر نہیں پھر سکتا۔ اور ایسا ہی ہوا، اور اس سفر کی روداد شائع ہوئی تو اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے عہدیداروں کی جبینوں پر شکنیں اُبھریں اور پھر دوبارہ کشمیر کا سفر ممکن نہ رہا۔ اس کے باوجود سوشوبھاباروے سے تعلقِ خاطر قائم رہا اور اب تک قائم ہے۔ یہاں تک کہ 8 اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزلے میں وہ بہت محنت کے بعد پاکستان آئیں اور راولپنڈی میں ڈھونڈ نکالا۔ مظفرآباد آکر زلزلے کی تباہ کاریوں کا حال جاننے کی خواہش ظاہر کی اور وہ ایک مختصر دورے کی اجازت حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ اس سفر میں مَیں اُن کے ساتھ رہا۔
سوشوبھا باروے بھارتی شہری ہیں، ظاہر ہے اُن کی وفاداری کا محور بھارت ہی ہوگا، مگر وہ انسان دوست شخصیت ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سری نگر کے نامی گرامی اور سخت گیر آزادی پسندوں کے جو دروازے بہت کم بھارتیوں کے لیے کھلتے ہیں، سوشوبھا ان میں جھانکنے اور انہیں پار کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد کشمیر جذبات اور بغاوت کا کھولتا سمندر بن چکا ہے۔ بھارت میں اس صورت حال کا ادراک ہوا اور راجیہ سبھا میں گرماگرم بحث کے بعد ایک پارلیمانی وفد کشمیر بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔ اُس وقت کشمیر میں پیلٹ گنوں سے چھرّوں کی برسات جاری تھی اور جسموں کے بے جان اور آنکھوں کے بے نور ہونے کا عمل زوروں پر تھا۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ جو عملی طور پر کشمیر میں فوجی کارروائیوں کے نگران تھے، کی سربراہی میں اس وفد نے حریت راہنماؤں سے ملاقات کی کوشش کی، مگر حریت قائدین نے عالمِ اسیری میں ملاقات سے انکار کیا۔ تب بھی وفد کے ارکان ٹکڑیوں میں بٹ کر مختلف دروازوں کے باہر کھڑے ہوکر کال بیل بجاتے رہے مگر کوئی دروازہ کھل نہ سکا اور بند کواڑوں پر دستک بے سود ہی رہی۔ دوسری بار سوشوبھا باروے نے خالص انسانی پہلو سے وفد تشکیل دیا جس کی قیادت بھارت کے سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا کررہے تھے۔ اس وفد میں یشونت سنہا اور سوشوبھا باروے کے علاوہ بھارت میں اقلیتوں کے قومی کمیشن کے سابق سربراہ اور کشمیر کے سابق چیف سیکرٹری وجاہت حبیب اللہ، ریٹائرڈ وائس ائر مارشل کپل کاک اور معروف صحافی مسٹر بھوشن بھی شامل تھے۔ جن لوگوں کے دروازے پہلے وفد کے لیے نہ کھل سکے تھے، سوشوبھا باروے ان دروازوں سے داخل ہونے میں کامیاب ہوئیں جن میں حیدرپور میں واقع سید علی گیلانی کی رہائش بھی شامل تھی جہاں وفد کو خوش آمدید کہا گیا۔ اس وفد نے دو بار کشمیر کا دورہ کیا۔ وفد اعلیٰ ترین قیادت سے ایک عام مجروح شخص تک ہر کسی سے ملا، کشمیریوں کے زخمی دلوں میں جھانکا، ان کی آواز کو سنا اور اسے بلاکم وکاست دنیا تک پہنچایا۔ وفد نے اپنے دورے کے تاثرات پر مبنی کشمیر کی زمینی صورت حال کی عکاسی کرنے والی رپورٹ جاری کی ہے۔ یہ کشمیر کے تلخ زمینی حقائق اور نفرت انگیز جذبات کی عکاسی کرنے والی متوازن رپورٹ ہے جس میں کشمیر کی آواز کو بغیر کسی ترمیم واضافے کے دنیا کے سامنے لایا گیا ہے۔
رپورٹ پر طائرانہ نظر ڈالنے سے ہی یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ آج آتش فشاں کی صورت سلگتی، دہکتی، لاوا اُگلتی ہوئی وادئ کشمیر میں بسنے والی قوم بنیادی طور پر مارشل اور بہادر رہی ہے جسے کاٹ اور چاٹ کھانے کے لیے اندر ہی اندر عارضوں کا شکار بناکر مفتوح کیا گیا۔ سلاطینِ کشمیر کے عہد کی ’’کشورِ کشمیر‘‘ کو مسلکی تعصب کے نام پر تنگ دائروں کا مسافر بناکر اندر سے توڑ کر رکھ دیا گیا۔ جب یہ لڑنے اور مزاحمت کی طاقت سے محروم ہوگئی تو مغل بادشاہوں کے لیے اسے تسخیر کرنا آسان ہوگیا، اور اس کے بعد تو گویا یہ زوال کے راستوں کی مستقل راہی بن گئی۔ صدیاں گزرنے کے بعد اس قوم کی جینیاتی اور بہادرانہ خو بو عود کر آئی ہے اور آج کا کشمیر اس حقیقت کا چلتا پھرتا اشتہار ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف بھارت کے پانچ رکنی وفد کی رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج کی طرف سے مظاہروں کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال نے نوجوانوں کے دلوں سے موت کا خوف نکال دیا ہے اور وہ موت کو گلے لگانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ کشمیری یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت کشمیر کو سیاسی مسئلہ تسلیم کرنے اور اس کے سیاسی حل پر تیار نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفد نے جتنے بھی کشمیریوں سے بات کی، سب نے مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیا اور کہا کہ جب تک سیاسی حل تلاش نہیں کیا جاتا، وادی میں تباہی اور موت کا سلسلہ زیادہ شدت سے جاری رہے گا۔ کشمیریوں کا کہنا تھا کہ انہیں بھارت پر اعتماد نہیں رہا، اور بداعتمادی کی یہ خلیج بڑھتی جارہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کی کُل آبادی کا 68 فیصد نوجوان ہیں جو بے خوف اور مایوسی کا شکار ہیں۔ ایک نوجوان نے وفد کے ارکان کو بتایا تھا کہ ہم شکر گزار ہیں وہ پیلٹ گن جیسے ہتھیار استعمال کرتے ہیں جس نے ہمارے دلوں سے خوف نکال دیا ہے، اب ہم شہادتوں کا جشن مناتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کچھ نوجوان بھارت سے بات چیت پر آمادہ ہی نہیں، ان کی بول چال کے انداز اور روزمرہ کے محاورے ہی بدل گئے ہیں جن میں ہڑتال،کرفیو، شہادت اور برہان وانی کے الفاظ کا استعمال جاری رہتا ہے۔ مظاہروں میں وقفہ کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ عمومی طور پر ایک خوف ہے کہ آئندہ موسم گرما میں اپریل سے ستمبر کے درمیان کچھ بڑا ہونے والا ہے۔ 2017ء میں سنگینی اور شدت کے اعتبار سے کوئی بڑا واقعہ رونما ہوسکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تینوں فریقوں کو لچک دار رویہ اپنانا ہوگا تاکہ کشمیریوں کی مشکلات کم ہوسکیں۔
اب یشونت سنہا اسی رپورٹ پر نریندر مودی کے مشیر برائے قومی سلامتی اجیت دووال سے رابطے میں ہیں اور ایک ملاقات میں وہ یہ رپورٹ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو پیش کرنے جارہے ہیں۔ یشونت سنہا انہیں بتائیں گے کہ کشمیر کا مسئلہ بھارت کے آئین کے اندر اور باہر کی اصطلاحات سے نہیں بلکہ واجپائی کے انسانیت کے دائرے کی اصطلاحات سے حل کیا جا سکتا ہے، جہاں ایک طرف سری نگر اور دہلی میں مذاکراتی عمل چل رہا ہو تو دوسری طرف دہلی اور اسلام آباد کے درمیان بھی مسلسل روابط قائم ہوں۔ گویا کہ تعلقات اور رابطوں کی ٹوٹی ہوئی ڈور کو پرویزمشرف اور من موہن سنگھ کے دور سے دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی جائے گی۔
nn

Share this: