عبدالرؤف شاکر

Print Friendly, PDF & Email

دنیا میں بڑے بڑے اربابِ علم و دانش اور اصحابِ علم و فضل آئے ہیں، جنہیں درازئ عمر کی نعمتِ عظمیٰ سے سرفراز کیا گیا، انہوں نے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیے اور بالآخر اس جہانِ فانی کو الوداع کہا۔ تاریخ میں ایسے لوگ آپ کو بکثرت ملیں گے مگر ایسی عبقری اور تاریخی شخصیات بہت کم دیکھنے میں آئیں گی جنہیں طبعی عمر نسبتاً کم عطا ہوئی مگر وہ انمٹ اور لازوال تاریخ رقم کرگئیں۔ ان ہی شخصیات میں پاکستان کے کم عمر اور کم سن خطاط حضرت مولانا خالد محمود نفیسی کی شخصیت ہے، جنہوں نے 34 سال کی مختصر عمر میں اپنے اخلاص و للہیت، جہدِ مسلسل، فنِ خطاطی میں خداداد صلاحیت، باکمال اساتذہ کے فیضانِ صحبت اور اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی بدولت خطاطی کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرلیا۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
(یہ سعادت زورِ بازو سے حاصل نہیں ہوتی، جب تک خدائے عطا کنندہ یہ عطا نہ کرے)
ولادت: آپ صوبہ پنجاب کے ضلع کبیر والا کے ایک دیہی علاقے ’’پیر کوٹ سدھانہ‘‘ میں 25 دسمبر1981ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کا نام خالد محمود عثمان ہے، نفیسیؔ آپ کا تخلص ہے۔
تعلیم و تربیت: آپ نے پرائمری تک تعلیم اپنے علاقے کبیر والا میں حاصل کی، مڈل اور حفظ القرآن کے لیے آپ جھنگ شہر منتقل ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچپن ہی سے خطاطی کا پاکیزہ ذوق عطا فرمایا تھا۔ یہیں آپ کی ملاقات ’’استاذ عبدالسلام یوسفی‘‘ سے ہوئی جو علاقے کے معروف خطاط تھے اور اب بھی بقیدِ حیات ہیں، ان کی رہنمائی میں آپ خطاطی سیکھتے رہے۔ آپ کو خطاطی سے والہانہ دلچسپی تھی، چنانچہ خطاطی میں مزید مہارت حاصل کرنے کے لیے ملک کے نامور خطاط ’’عبدالرشید قمر‘‘ سے سلسلۂ تلمذ قائم کیا جو حضرت سید نفیس شاہ الحسینیؒ کے قابلِ فخر شاگرد ہیں، ان کی روش خاص ہے اور کتابوں کے سرورق (ٹائٹل) اور اشتہار لکھنے میں اپنی مثال آپ ہیں۔
جامعہ مدینہ کریم پارک لاہور میں داخلہ: نفیسی ؔ مرحوم کو جب حضرت شاہ صاحب (سید نفیس شاہ الحسینی ، المولود 1933ء المتوفی 2008ء) کے بارے میں پتا چلا تو خطاطی کا یہ شیدائی وہاں حاضر خدمت ہوا۔ حضرت شاہ صاحب جامعہ مدینہ میں بعد نماز عصر خطاطی کا شغف رکھنے والے شوقین طلبہ کو خطاطی سکھاتے تھے، چنانچہ آپ 1996ء میں مستقل لاہور آگئے اور جامعہ مدینہ میں داخلہ لے لیا اور 2003ء تک اسی جامعہ میں زیر تعلیم رہے، اور یہیں سے درسِ نظامی میں سندِ فراغت حاصل کی۔ اسی دوران آپ نے حضرت شاہ صاحب سے بھرپور اور مسلسل کئی سال تک استفادہ کیا، جس کی بنا پر آپ کے خط میں نکھار اور حسن آگیا۔
درس و تدریس و نظامت: جامعہ ہذا میں آپ 2006ء تک ناظم تعلیمات رہے اور ساتھ ساتھ تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔
ادارہ نفائس الخطوط میں آپ کا تقرر: حضرت شاہ صاحب کے فرزندِ ارجمند مولانا سید انیس الحسن جو بنوری ٹاؤن کراچی کے فاضل تھے اور خطاطی میں آپ کے صحیح جانشین تھے اور اردو بازار لاہور میں آپ کے قائم کردہ ’’ادارہ نفائس الخطوط‘‘ کو سنبھالے ہوئے تھے، 18 اکتوبر 2001ء کو ان کے اچانک انتقال پرملال کے بعد حضرت شاہ صاحب نے ادارہ ہذا میں آپ ہی کا تقرر فرمایا تھا۔
دبئی کا سفر: آپ حافظِ قرآن تھے اور رمضان المبارک میں تقریباً ہر سال قرآن سناتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ کو دبئی میں قرآن کریم سنانے کا موقع ملا۔ وہیں آپ کی قسمت کا ستارہ چمکا اور آپ کی ملاقات استاذ صلاح الدین شیرزاد سے ہوئی جو حامد الآمدی (م 1400ھ/ 1982ء) اور ہاشمی بغدادی (م1393ھ/ 1973ء) کے مایۂ ناز شاگرد ہیں اور عراقی ہیں۔ آپ نے استاذ صلاح الدین شیرزاد سے باقاعدہ اصلاح لینی شروع کی جس کی وجہ سے آپ کے فن کو چار چاند لگ گئے۔
دائرۃ الثقافہ والعلوم شارجہ میں سرکاری ملازمت: استاذ صلاح الدین شیرزاد کے توسط سے بحیثیت خطاط آپ کا تقرر 2007ء میں شارجہ میں ہوا، یہ آپ کے فنی سفر کا سنہرا دور ہے۔ یہیں آپ کو خطاط فاروق حداد شامی اور استاذ صلاح الدین شیرزاد کی رفاقت و معیت میں کام کرنے کا موقع ملا۔
لاہور میں مقابلۂ خطاطی: 2007ء میں اسلامک میوزیم لاہور کے زیرانتظام خطِ ثلث میں لفظِ جلالہ لکھنے کے لیے پاکستانی خطاطوں کے مابین ملکی سطح پر ایک شاندار مقابلۂ خطاطی کا انعقاد کیا گیا۔ منصفین میں غلام مرتضیٰ، سجاد خالد اور محمد علی قادری شامل تھے۔ اس مقابلے میں پہلی پوزیشن محمد علی زاہد صاحب (جنہیں پاکستان کا سامی کہا جاتا ہے)، دوسری محفوظ احمد کراچی، اور تیسری پوزیشن کاشف خان کراچی نے حاصل کی۔ پانچ اعزازی پوزیشن حاصل کرنے والوں میں مولانا خالد محمود نفیسیؒ مرحوم، الٰہی بخش مطیع اور محسن جمال شامل ہیں۔
شادی: آپ کی شادی 2010ء میں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو پھول عطا فرمائے ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔
حروفِ عربیہ کی ترسیل: عالمی سطح پر خطاطی کی ترویج اور نشرواشاعت میں جس رسالے نے کلیدی کردار ادا کیا ہے وہ ہے ’’حروفِ عربیہ‘‘۔ آپ وہاں وقتاً فوقتاً جناب ملک محمد نواز احمد اعوان صاحب کی خدمت میں یہ رسالہ بطور تحفہ و ہدیہ ارسال کرتے تھے۔ نفیسی مرحوم کی اس علم دوستی کو اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے آمین۔
بردہ ایوارڈ اور شام کا سفر: 2004ء سے ہر سال باقاعدہ دبئی میں ربیع الاول کے مہینے میں بین الاقوامی سطح پر خطاطی، نقاشی اور عربی زبان میں شاعری کے ایک عظیم الشان مقابلے کا انعقاد کیا جاتا ہے، جو ’’الجائزۃ البردہ‘‘ یعنی بردہ ایوارڈ کے نام سے مشہور ہے، جس میں دنیا بھر کے نامور اور مانے ہوئے خطاط، نقاش اور شعراء کرام حصہ لیتے ہیں۔ شام سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ خطاط استاذ احمد شمطہ نے جب لگاتار تیسری بار پوزیشن حاصل کی تو آپ اُن کو مبارک باد پیش کرنے کے لیے اور بغرض استفادہ ان سے ملاقات کے لیے شام تشریف لے گئے۔ اس علمی سفر میں آپ کو خطاطی کے بہت سارے اسرار و رموز سیکھنے کا موقع ملا۔ عربی کا مشہور مقولہ ہے ’’من لم یرحل فلاثقہ لہ فی العلوم‘‘ جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے سفر نہ کرے اسے علوم میں مہارت حاصل نہیں ہوسکتی۔
ارسیکا مقابلے میں شرکت: ’’ارسیکا مرکز‘‘ ترکی کا وہ مشہور ادارہ ہے جہاں 1986ء سے باقاعدہ ہر تین سال بعد بین الاقوامی سطح پر خطاطی کے مقابلے کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ آج دنیا بھر میں خطاطی کی جو بہاریں نظر آرہی ہیں اور اس کی ترویج اور نشرو اشاعت کے لیے جو کام ہو رہا ہے، یہ اس ادارے کا فیض ہے، اور اس میں منعقد ہونے والے خطاطی کے مقابلوں اور نمائشوں کے مبارک آثار ہیں اور اس کا نتیجہ ہے۔
2013ء میں ارسیکا مرکز کے زیراہتمام ترکی میں منعقد ہونے والے نویں عالمی مقابلہ خطاطی میں خط جلی دیوانی میں نفیسی مرحوم نے اعزازی پوزیشن حاصل کی اور انعام کے حقدار ٹھیرے۔
دبئی نمائش: ’’معرض دوبی الدولی‘‘ یعنی دبئی نمائش جو خطاطی کی بین الاقوامی نمائش ہے اور ہر سال بڑی آب و تاب سے منعقد ہوتی ہے، جس میں معیاری کام پیش کرنے والے خطاط ہی حصہ لے سکتے ہیں۔ آپ نے اس نمائش میں بھی خطاطی کے جوہر دکھائے ہیں جس کی وجہ سے آپ کو بے حد مقبولیت ملی۔
آپ کی خطاطی کی ذاتی نمائش تو نہیں ہوئی مگر آپ نے کئی خطاطوں کے ساتھ مل کر اکٹھی نمائش کروائی جس میں آپ کے تخلیق کردہ فن پارے مہنگے داموں فروخت ہوئے۔ دبئی نمائش 2015ء میں آپ کو ماشاء اللہ بے حساب اور بے پناہ مالی فوائد حاصل ہوئے۔
نوادراتِ نفیسی کی امتیازی خصوصیات:
1۔ کاغذ۔۔۔ آپ خطاطی کے لیے اکثر ہاتھ سے تیار کردہ کاغذ (ہینڈ میڈ پیپر) استعمال فرماتے اور وقتاً فوقتاً مقہر کاغذ پر بھی کام کرتے، ان کاغذوں پر گردشِ قلم صاف اور واضح دکھائی دیتی ہے۔
2۔ قلم۔۔۔ آپ لاہوری قلم، ایرانی قلم، حاوی قلم اور قلم طومار جو صرف جلی لکھنے کے لیے مخصوص ہے، استعمال فرماتے۔
3۔ سیاہی۔۔۔ آپ ونسر اینڈ نیوٹن، سومی ڈرائنگ انک اور شمنک جیسی رنگا رنگ سیاہیوں کا انتخاب کرتے۔
4۔ لکھائی کے اردگرد نقاشی اور تذہیب وزخرفہ کے لیے آپ کسی ماہر رسام اور نقاش سے اس کی خدمات حاصل کرتے۔
5۔ اپنے تیار کردہ کتبات میں سیاہیوں کی مناسبت سے عمدہ فریم کا انتخاب کرتے جو ’’نور علی نور‘‘ کا سماں پیش کرتا۔
اس کے علاوہ آرٹ ڈیلروں سے بھی آپ کے گہرے تعلقات تھے۔ لوگوں کے اصرار اور فرمائش پر آپ نوادرات تخلیق کرتے، یہی وجہ ہے کہ آپ کے نوادرات کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز ہے۔
معاصرین: اندرون ملک خطاطوں میں لاہور سے محمد علی زاہد، عبدالرحمن، جہلم سے غلام مرتضیٰ صاحب، کراچی سے محفوظ احمد صاحب، کاشف خان صاحب، صاحبِ تصانیف کثیرہ محمد راشد شیخ صاحب اور جناب ملک نواز احمد اعوان صاحب اور دیگر پاکستانی خطاطوں سے آپ کے گہرے مراسم تھے۔
بیرون ملک خطاطوں میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے سعودیہ میں مقیم خطاط مسجد نبوی جناب شفیق الزماں صاحب، شام سے احمد امین شمطہ اور ترکی سے تعلق رکھنے والے عالمی ایوارڈ یافتہ مشہور ومعروف خطاط جناب داؤ بیکتاش سے آپ کے گہرے مراسم تھے۔
بیماری: اپریل 2015ء میں پھیپھڑوں کے کینسر کا عارضہ لاحق ہوا، آپ علاج معالجہ کے لیے وطن واپس تشریف لائے، شوکت خانم اسپتال اور مینارِ پاکستان اسپتال ملتان میں تقریباً ایک ماہ زیر علاج رہے۔ صحت یاب ہونے پر آپ دوبارہ دبئی چلے گئے، ابھی پورے دو ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ بیماری نے پھر شدت اختیار کرلی۔
سفر آخرت: بغرض علاج دوبارہ وطن لوٹے مگر ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘۔ بالآخر دنیائے خطاطی کے افق پر طلوع ہونے والا تابندہ ستارہ زندگی کی 34 بہاریں گزارنے کے بعد 10جنوری 2016ء کو سرزمین جھنگ میں ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آتی ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا
تدفین: آپ کی نماز جنازہ جامعہ محمودیہ جھنگ میں ادا کی گئی۔ آپ چونکہ حضرت سید نفیس شاہ الحسینی کے شاگرد اور فیض یافتہ تھے اس لیے آپ کی نماز جنازہ بھی حضرت شاہ کے خلیفہ مجاز مفتی شیراز صاحب نے پڑھائی جو حضرت شاہ صاحب کے صحبت یافتہ تھے، اور تدفین جھنگ شہر کے مرکزی قبرستان میں ہوئی، اللہ ان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین۔
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
سنا ہے کہ ان کے عزیز و اقارب نفیسی مرحوم کے نوادرات کو بعض اہلِ فن کی معاونت سے کتابی صورت میں مرتب کر رہے ہیں۔ اگر ایسا ہوجائے تو مرحوم کے لیے بہترین صدقۂ جاریہ ہوگا۔
مقابلہ خوشنویسی بیاد گار خالد محمود نفیسی: وطنِ عزیز کے مختلف شہروں میں مختلف اسکولوں، کالجوں اور دینی مدارس میں وقتاً فوقتاً خطاطی کے مقابلوں اور نمائشوں کا انعقاد کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس مقدس فن کی ترویج و ترقی میں روزافزوں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
گزشتہ دنوں کراچی کے ایک مشہور دینی مدرسہ ’’بیت العلم‘‘ ٹرسٹ کے زیراہتمام ایک عظیم الشان خطاطی کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا اور اس مقابلے کو نفیسی مرحوم کی یاد میں ان کے نام سے معنون کیا گیا، تاکہ نونہالانِ قوم کو خط اور خطاطوں سے آگاہی حاصل ہو اور فنِ خطاطی میں عظیم خدمات پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔
مولانا نفیسی مرحوم کو ویسے تو تمام خطوط لکھنے میں مکمل عبور تھا مگر ثلث، نسخ اور جلی دیوانی لکھنے میں یدطولیٰ حاصل تھا۔ آپ عمر بھر خطاطی کے احیاء کے لیے کمربستہ رہے۔ آپ نہایت ذہین، ذکی الطبع اور ملنسار تھے۔ عربی زبان بڑی روانی سے بولتے تھے۔ آپ پاکستانی خطاطوں کے ترجمان تھے۔ جب بھی کسی پاکستانی خطاط کو دبئی یا شارجہ جانا ہوتا آپ اُس کے ساتھ ساتھ ہوتے اور اس کا تعارف کراتے۔ پاکستانی خطاطوں کو آپ سے بہت سے علمی و فنی اور مالی فوائد حاصل ہوئے۔ اس قحط الرجال کے دور میں آپ کا وجودِ مسعود نوجوان خطاطوں کے لیے امید اور روشنی کی ایک کرن تھا۔
یہ آپ کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے کہ حضرت شاہ کے تلامذہ میں آپ کا نامِ نامی بھی سنہری حروف سے لکھا جائے گا اور نفیسی مرحوم کے موئے قلم سے خطِ ثلث جلی میں لکھے گئے مفردات اور ابجد، اور استاذ صلاح الدین شیرزاد کے تعریفی کلمات و دستخط 2009ء حروفِ عربیہ کے بائیسویں شمارے میں چھپ چکے ہیں۔ یہ خطاطی کی تاریخ کا وہ روشن باب ہے کہ زمانہ انہیں داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
نامی کوئی بغیر مشقت کے نہ ہوا
سو بار جب عقیق کٹا تب نگیں ہوا
دعا ہے کہ اللہ رب العزت نفیسی مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ (آمین)
nn

Share this: