(سفر نامہ ترکی(ڈاکٹر فواد احمد

Print Friendly, PDF & Email

7 تا16 اکتوبر 2016ء ترکی کے سفر کا موقع ملا۔ اس سفر میں ہم چار افراد پاکستان سے جبکہ 4 احباب امریکہ سے تشریف لائے تھے۔ 9 دن کے قیامِ ترکی میں ہم 7 دن استنبول اور 2 دن انقرہ میں رہے۔ استنبول میں ہم بَشِکْ شہیر ( بَشِکْ=خوشہ گندم، شہیر=شہر(کے علاقہ میں عزیزم ڈاکٹر شاہد منصور صاحب کے گھر مقیم رہے۔ ان کا گھر ترکی کی تعمیراتی صنعت کی مشہور شخصیت آغا اوغلو کے ایک پراجیکٹ کی 21ویں منزل پر واقع ہے۔ یہ پراجیکٹ بھی اپنی منصوبہ بندی، رہائشی سہولیات اور تعمیرات کے لحاظ سے قابلِ دید ہے۔
ترکی کا شوقِ سفر
ترکی سے تعلق کے کئی حوالے ہیں اور ان سب حوالوں نے ترکی جانے، ترکوں سے ملنے اور ترکی کو دیکھنے میں مہمیز کا کام کیا۔ سب سے پہلی وجہ خلافتِ عثمانیہ اور اس سے منسلک مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کی داستانیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام، بزرگانِ دین کے تبرکات کی زیارت، حضرت ابوایوب انصاریؓ، حضرت ابو درداؓ کی قبور پر حاضری کا شوق، نیلے گنبد والی مسجد(blue mosque)، ایا صوفیہ اور استنبول جو کہ بیک وقت یورپ اور ایشیا میں واقع ہے، کی سیر کی خواہش بھی ترکی کے سفر کا محرک رہیں۔ ترکی سے تعارف کا ایک سبب درسی کتب میں تحریکِ خلافت اور مصطفی کمال پاشا اتاترک پر مضامین بھی بنے۔ اربکا ن صاحب اور اردوان صاحب کی شخصیات اور ان کا امتِ مسلمہ میں کردار اور15جولائی 2016ء کی فتح اللہ گولن کے حامیوں کی جانب سے کی گئی بغاوت، اور اس کے بعد کی صورت حال نے ترکی کے سفر کا اشتیاق مزید بڑھا دیا تھا۔
خلافتِ عثمانیہ کا تاریخی پس منظر
عثمانی سلطنت کے قیام کا قصہ بڑا دلچسپ ہے۔ ہلاکو خان کے زمانے میں جب بغداد پر منگولوں نے قبضہ کرلیا تو چند سال بعد ان کی ایک فوج ایشیائے کوچک پر قبضہ کرتے ہوئے شہر انقرہ کے قریب پہنچ گئی۔ یہاں قونیہ کے سلجوقی سلطان نے ان کا مقابلہ کیا۔ جب ان دونوں کی لڑائی ہورہی تھی، خانہ بدوش ترکوں کی ایک جماعت اپنے سردار ارطغرل کی قیادت میں وہاں سے گزری۔ ارطغرل نے جس کے پاس صرف 444 سوار تھے، سلجوقیوں کی کمزور فوج کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور اس زور سے حملہ کیا کہ منگولوں کی طاقتور فوج شکست کھا گئی۔ ارطغرل کی اس بہادری کے بدلے میں سلطان علاء الدین سلجوقی نے اسے ایک جاگیر عطا کی۔
ارطغرل 1288ء میں وفات پا گیا۔ اس کے انتقال کے بعد اس کا لڑکا عثمان خان (1288ء تا 1326ء) اس کا جانشین بنا۔ 1300ء میں قونیہ کی سلجوقی حکومت کو منگولوں نے ختم کردیا اور سلطان علاء الدین جنگ میں مارا گیا۔ اب عثمان خان نے ایک خودمختار حکومت قائم کرلی جو اس کے نام پر ’’عثمانی سلطنت‘‘ کہلاتی ہے۔ یہ ہندوستان میں بلبن اور علاء الدین خلجی کا دور تھا۔
عثمان خان بڑا بہادر اور عقلمند حکمران تھا۔ رعایا کے ساتھ عدل و انصاف کرتا تھا۔ وہ فیاض، رحم دل اور مہمان نواز تھا۔ اس کی خوبیوں کی وجہ سے ترک آج بھی اس کا نام عزت سے لیتے ہیں۔ اس کے بعد یہ رواج ہوگیا کہ جب کوئی بادشاہ تخت پر بیٹھتا تھا تو عثمان کی تلوار اس کی کمر سے باندھی جاتی تھی اور یہ دعا کی جاتی تھی کہ خدا اس میں بھی عثمان ہی جیسی خوبیاں پیدا کرے۔
عثمانی سلطنت کے چند مشہور حکمرانو ں میں مراد اوّل، محمد فاتح، سلیم اوّل اور سلیمان اعظم شامل ہیں۔ سلطان محمد فاتح کا سب سے بڑا کارنامہ قسطنطنیہ کی فتح ہے۔ اس فتح کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بشارت پوری ہوگئی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ:’’خدا نے مجھے قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کی کنجیاں دے دی ہیں۔‘‘
سلیمان اعظم سلاطینِ عثمانیہ میں سب سے بڑا اور سب سے باعظمت حکمران گزرا ہے۔ یورپ والے اسے’’ذی شان‘‘ کے لقب سے یاد کرتے تھے، لیکن ترک اس کو’’سلیمان قانونی‘‘ کہنا پسند کرتے ہیں۔ سلطان سلیمان اعظم کی فتوحات کی اہمیت کی بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اس نے ایک ایسے زمانے میں اپنی سلطنت کو وسعت دی جب یورپ میں بیداری پیدا ہوگئی تھی اور وہاں فرانس، انگلستان اور ہسپانیہ کی بڑی اور طاقتور حکومتیں قائم ہوگئی تھیں۔ سلیمان یورپ کا بڑا حصہ فتح کرلیتا لیکن ایران سے لڑائیوں کی وجہ سے وہ ایسا نہ کرسکا۔ یورپ کی حکومتوں نے ایران سے تعلقات قائم کررکھے تھے، وہ اس کو عثمانی سلطنت کے خلاف اکساتی رہتی تھیں۔ آسٹریا کے ایک سفیر کا قول ہے کہ ’’ہماری مکمل تباہی اور عثمانی سلطنت کے درمیان ایران حائل تھا۔‘‘
عثمان خان کے زمانے میں ’’اُس کی شہر‘‘ دارالحکومت تھا۔ بعد میں عثمانیوں نے ’’بروصہ‘‘کو دارالحکومت بنایا۔ 1451ء میں عثمانیوں نے ’’استنبول‘‘ کو اپنا دارالحکومت بنا لیا۔ استنبول 1451ء سے 1924ء تک تقریباً پونے پانچ سو سال دارالحکومت رہا۔
استنبول
کراچی سے استنبول کا فضائی سفر تقریباً6گھنٹے پر محیط ہے۔ استنبول ایئرپورٹ پر جہاز لینڈ کرنے کے لیے اپنی باری کے انتظار میں تھا۔ اس دوران جہاز کی کھڑ کی سے جھانک کر جب نیچے دیکھا تو نیلگوں سمندر میں بحری جہازوں کی قطاریں انتہائی خوبصورت منظر پیش کررہی تھیں۔ جہاز کی سیڑھیوں سے اتر کر جب رن وے پر اترے تو انتہائی خوشگوار موسم نے ہمارا استقبال کیا۔ ٹرمینل پر پہنچ کر جو بھیڑ دیکھی تو چند لمحوں کے لیے دبئی ایئرپورٹ کا گمان گزرا۔ اتنے مسافروں سے جس پھرتی، مستعدی اور خوش اخلاقی سے امیگریشن کا نوجوان عملہ پیش آرہا تھا وہ نہ صرف حیران کن تھا بلکہ ترکوں کی مہمان نوازی، مہذب ہونے اور ان کے ترقی کے سفر کی گواہی بھی دے رہا تھا۔ امیگریشن کے حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ ہمارے ایک ساتھی کے ساتھ بھی پیش آیا۔ ان کے پاس ای ویزا تھا جس کی ہارڈ کاپی ان سے پاکستان میں رہ گئی تھی۔ اب جب امیگریشن کے لیے ہم لائن میں شامل ہوئے تو پتا چلاکہ ایئرپورٹ پر فری wifi سروس نہیں ہے اور ان کے پاس ای ویزا جس ای میل پر ہے وہ انٹرنیٹ نہ ہونے کے باعث نہیں کھل سکتی۔ لیکن امیگریشن کے عملہ نے ان کے email کے Subjet کو دیکھ کر پاسپورٹ اسٹیمپ کردیا۔ اب آپ اسے پاکستان دوستی بھی کہہ سکتے ہیں اور ٹورسٹ فرینڈلی ماحول/ پالیسی بھی۔
استنبول ایئرپورٹ پر ایئرپورٹ انتظامیہ کی جانب سے پینے کے پانی کی فراہمی کا کوئی انتظام موجود نہیں ہے، آپ کو پانی خرید کر پینا پڑے گا۔ استنبول ایئرپورٹ پر حجاب میں ملبوس خواتین اور باریش نوجوانوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف دیکھ کر حیرت اور مسرت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ وہ منظر آنکھوں کے سامنے آگیا جب میں سندھ میڈیکل کالج میں زیرتعلیم تھا، اُس زمانے میں (غالباً 1996ء کی بات ہے) ترکی سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے جس سے ہماری دعا سلام تھی، بتایاکہ جب وہ چھٹیوں میں واپس ترکی جاتا ہے تو ایک دن قبل اپنی ڈاڑھی منڈھوا لیتا ہے، اس لیے کہ ترکی میں اگر اسے کسی نے ڈاڑھی میں دیکھ لیا تو اس کے لیے ترکی میں کسی بھی قسم کی سرکاری ملازمت کا حصول ناممکن ہوجائے گا۔ فللّٰہ الحمد۔ بیشک تعریف صرف اللہ ہی کے لیے ہے۔
استنبول بیک وقت یورپ اورایشیا کاحصہ ہے۔ استنبول سمندر کی ایک کھاڑی کے کنارے آباد ہے جسے شاخ زریں یا Golden Horn کہا جاتا ہے۔ اس سے زیادہ خوبصورت محلِ وقوع دنیا کے کسی اور شہر کو نصیب نہیں۔ اسے اگر ’’قدرت کے حسن اور انسان کی کاریگری کا حسین امتزاج‘‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ علامہ اقبال ؒ نے استنبول کو ملتِ اسلامیہ کا ’’دل‘‘ کہا ہے۔
استنبول دنیا کے چند بڑے اہم اور مصروف سیاحتی مراکز میں سے ایک ہے۔ ویسے تو استنبول میں جگہ جگہ تاریخ بکھری ہوئی نظر آتی ہے۔ یہاں چند تاریخی مقامات وشخصیات کا احوال پیش خدمت ہے۔
میزبانِ رسولؐ حضرت ابوایوب انصاریؓ کا مزار اوراس سے منسلک کمپلیکس۔
مشہور صحابی رسولؐ حضرت ابودرداؓ کا مزار۔
توپ قاپی میوزیم جوکہ ایک عرصے تک عثمانی حکمرانوں کا محل رہا ہے، اس میں موجود تبرکات جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندانِ مبارک،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تین تلواریں، تیرکمان، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا پانی پینے کا پیالہ، حضرت یوسف علیہ السلام کا عمامہ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا، حضرت داؤد علیہ السلام کا لوہے کا دستانہ، حضرت فاطمہؓ کا کرتا، حضرت حسینؓ کی قمیص، حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرفاروقؓ ، حضرت علیؓ، حضرت خالد بن ولیدؓ، حضرت جعفرطیارؓ، حضرت زبیر بن العوامؓ اور حضرت امیر معاویہؓ کی تلواریں قابل دید اور ایمان افروز ہیں۔
استنبول میں جابہ جا عثمانی دورکی مساجد نظرآتی ہیں۔ ان مساجد کے خوبصورت نوک دار مینار عثمانیوں کے طرزِ تعمیر کی سب سے نمایاں خصوصیت ہیں۔ اگر ہم استنبول کو ’’میناروں کا شہر‘‘ کہیں تو غلط نہ ہوگا۔
استنبول کی چند مشہور مساجد جامع فاتح، جامع سلیمانیہ اور جامع سلطان احمد یا Blue mosqueجس کے چھ مینار ہیں، شامل ہیں۔
استنبول کی ایک مشہور عمارت ایاصوفیہ ہے۔ یہ مسلمانوں سے قبل رومیوں کے عہد کا گرجا تھا۔ محمد فاتح نے قسطنطنیہ (استنبول) فتح کرنے کے بعد اسے مسجد میں تبدیل کردیا اور اس میں چار نوک دارمینار لگاکر اس کے حسن میں اور اضافہ کردیا۔ آج کل یہ عجائب گھر ہے، البتہ اب اس کے ایک چھوٹے سے حصے میں نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد بنائی گئی ہے۔
مشہور Blue Mosqueکے سامنے تجارت و زراعت کے محکمہ کی عثمانی دورکی عمارت بھی موجود ہے، اسی طرح قدیم مصری اور رومی آثار بھی نصب کیے گئے ہیں۔
Teksim Square جسے ہمارے ہاں تقسیم اسکوائر بھی کہا جاتا ہے، سیاحوں کے لیے انتہائی پُرکشش جگہ ہے۔ Teksimاسکوائر میں ٹرام کی قدیم پٹڑی بھی موجود ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا میں سب سے قدیم پٹڑی ہے، اس پٹڑی پر ابھی بھی ٹرام چلتی ہے۔
ترکی کی ایک مشہور شخصیت معمار سنان کی بھی ہے۔ خواجہ سنان ایک فوجی ہونے کے ساتھ ساتھ بے مثل انجینئر بھی تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں تین سو سے زیادہ عمارتیں بنائیں جن میں مسجدیں، شفا خانے، مدرسے، دارالقرآن، پل،کارواں سرائے، حمام، محل وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی بنائی ہوئی سب سے شاندار عمارت جامع سلیمان ہے۔ ان کے نام پر استنبول میں ایک یونیورسٹی بھی قائم کی گئی ہے۔
مشہورِ زمانہ Blue mosque / جامع سلطان احمد، خواجہ سنان کے ایک شاگر محمد آغا کی بنائی ہوئی ہے۔ ترکی میں دونام فاتح اور سنان بہت مشہور ہیں۔
استنبول کی ایک اور مشہور عمارت گرینڈ بازار ہے جس کا نام ’’کپالی چارشی‘‘ ہے۔ یہ 1461ء میں قائم ہوا۔ یہ پورے کا پورا بازار مسقف ہے یعنی اوپر چھت پڑی ہوئی ہے جس میں چھوٹی بڑی پانچ ہزار دکانیں ہیں۔ یہ اپنی قسم کا دنیا میں سب سے بڑا بازار ہے اور اپنی دلکشی کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہور ہے۔ سیاح اس بازار کو دیکھنے ضرور آتے ہیں۔
استنبول انتہائی صاف ستھرا شہر ہے۔ اس کی مثال اس بات سے بھی لی جاسکتی ہے کہ جتنی زیادہ سگریٹ نوشی ترک (مرد وعورت) کرتے ہیں اس کے باوجود آپ کو سگریٹ کے ٹوٹے کہیں نظر نہیں آتے۔ سلیقہ شعاری اور صفائی و نفاست پسندی تاریخی طور پر ترک مسلمانوں کے قومی مزاج کا حصہ ہیں۔ اسی طرح ترکوں میں صبر و برداشت اور مہمان نوازی جیسی اعلیٰ خصوصیات بھی نظرآتی ہیں۔
Mall Of Istanbul اس وقت استنبول کا سب سے بڑا اور جدید شاپنگ مال ہے جسے انٹرنیشنل کونسل آف شاپنگ سینٹرز کی جانب سے 2016ء کے لیے یورپ کے بہترین شاپنگ سینٹر کا ایوارڈ دیا گیا ہے۔
انقرہ
انقرہ کا استنبول سے زمینی سفر تقریباً 4گھنٹے پرمحیط ہے۔ انقرہ کو 1924ء میں مصطفی کمال پاشا اتاترک نے جدید ترکی کا دارالحکومت بنایا۔ انقرہ اسلام آباد جیسا لگتا ہے۔ ترکی کی تمام سیاسی جماعتوں کے مرکزی دفاتر انقرہ میں واقع ہیں۔ ہمیں سعادت پارٹی اور موجودہ حکمران جماعت AK پارٹی کے مرکزی دفاتر جانے کا موقع ملا۔ ترک پارلیمان کے کیفے ٹیریا میں ہمارے لیے رات کے کھانے کا اہتمام سعادت پارٹی کے احباب کی جانب سے کیا گیا۔ نوتعمیر شدہ صدارتی محل جانے اور اس کے ساتھ قائم روایتی ترک طرزِ تعمیر کا نمونہ جدید اور خوبصورت مسجد کو دیکھنے اور اس میں نمازِ عصر کی ادائیگی کا بھی موقع ملا۔
جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال پاشا اتاترک کا مقبرہ بھی انقرہ میں ہی واقع ہے۔ اس کے احاطے میں ایک عجائب گھر بھی قائم کیا گیا ہے جس میں جدید ترکی کے قیام کی تاریخ کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔
پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے ترکوں کے جذبات
پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے ترکوں کی محبت اور خیرسگالی کے کچھ مشاہدات سعودی عرب میں مختلف مواقع پر ہوچکے تھے۔ کچھ سن اور پڑھ بھی رکھا تھا، لیکن ترکی میں ان کا بھرپور مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ ایک واقعہ تو ایئرپورٹ پر اپنے ایک ساتھی کا میں پہلے بیان کرچکا ہوں اور ایک واقعہ خود میرے ساتھ پیش آیا۔ استنبول میں فاتح کے علاقے میں بازار سے گزرتے ہوئے ایک بیکری بڑی خوبصورت محسوس ہوئی، سوچا اس کی تصویر کھینچ لی جائے۔ اجازت کے لیے اس کے مالک سے پوچھا تو اس نے منع کردیا، لیکن چند ثانیوں بعد ہی اس نے پوچھا: کہاں سے آئے ہو؟ جب میں نے اسے بتایا کہ پاکستانی ہوں تو اس نے فوراً تصویر کھینچنے کی اجازت دے دی۔ ہمیں ایک نشست میں بتایا گیا کہ پاکستان واحد ملک ہے جس کے قومی دن کے موقع پر سرکاری ریڈیو اور ٹی وی پر خصوصی پروگرام نشرکیے جاتے ہیں اور ’’جیوے جیوے پاکستان‘‘ کا ترانہ بجایا جاتا ہے۔ ترکی میں آپ کو ’’جیوے جیوے پاکستان‘‘ کہتے ہوئے بہت لوگ مل جائیں گے۔ ہمارے بیرون ملک سے آئے ہوئے ساتھیوں نے بتایا کہ ترکی وہ واحد ملک ہے جہاں ہم فخر سے بتاتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں۔ مجھے ایسا لگا جیسے برصغیر کے مسلمانوں نے تحریک خلافت میں جس ایثار وقربانی کا مظاہرہ کیا تھا یہ ساری محبت ان کے اس اخلاصِ نیت اور ان کی اسلام اور خلافت سے محبت کا ثمر ہے۔ بعض اوقات وقتی طور پر ناکام قرار پانے والی کوششیں محض اخلاصِ نیت کی بنیاد پر کیسے برگ و بار لاتی ہیں ’’تحریکِ خلافت‘‘مجھے اس کی ایک مثال لگتی ہے۔
مولانا مودودیؒ کی تفہیم القرآن ترک زبان میں پاکستان سے زیادہ شائع ہوچکی ہے۔ مولانا مودودیؒ سے نوجوان نسل بھی بڑی تعداد میں واقف ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اور ترکوں کے اس تعلق کو ہر قسم کی سازشوں اور نظرِبد سے محفوظ رکھے۔آمین۔
آج کا ترکی
آبادی میں 14سال سے کم عمر افراد کا تناسب 24فیصد، 65 سال سے کم عمر افراد کا تناسب 67 فیصد، اور 65 سال سے زائد عمر کے افراد کا تناسب 9 فیصد ہے۔ 60 سال سے پہلے 90 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی تھی جبکہ اب 90 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے۔
آج کے ترکی کے سفر کا آغاز اربکان صاحب مرحوم کی زیر قیادت 1992ء میں استنبول سمیت 3 شہروں کی بلدیاتی حکومتوں کے قیام سے ہوا جس میں اردوان صاحب استنبول کے میئر تھے۔
انہوں نے میئر بننے سے پہلے ہی اپنی منصوبہ کی، جس کے لیے انہوں نے یونیورسٹی اساتذہ اور سابق بیوروکریٹس کو شامل کیا۔ موجودہ وزیراعظم بن علی یلدرم نے Sea transportکے نظام کی منصوبہ بندی کی۔ جب اردوان استنبول کے میئر بنے تو مشہور زمانہ شاخ زریں (Golden horn) سے شدید بدبو آتی تھی، لوگ کہتے تھے یہ کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتا، اسے بند کردینا چاہیے۔ انہوں نے وہاں سے گندی مٹی صاف کروائی۔ شہر کو ترقی دی۔ معذور افراد کی غذا، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروریات کے حوالے سے بھی کام کیا۔ اردوان کی میئرشپ کے دور میں بلدیہ یونیورسٹی کے طلبہ کو اسکالرشپ تک دیتی تھی، جسے بعد میں سیکولر عناصر نے عدالت کے ذریعے یہ کہہ کر بندکروا دیا کہ یہ کام میونسپلٹی کا نہیں ہے۔ ان کا ایک بڑا کام استنبول میں صاف پانی کی فراہمی کا بھی ہے۔
ترکی میں بلدیات کا نظام بہت ترقی کرچکا ہے۔ اس وقت بچے کی پیدائش سے لے کر میت کی تجہیز و تکفین تک زندگی کے تمام کام بلدیہ کرتی ہے۔ بچے کی پیدائش پر بلدیہ کا عملہ گھر پر مبارکباد دینے جاتا ہے۔ ایسے بزرگ جو ہسپتال نہ آسکتے ہوں ان کے لیے ڈاکٹروں کی ٹیم گھر پر جاکر ان کا علاج معالجہ کرتی ہے۔ معذوروں کے لیے مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ ایسے ریسٹورنٹ بھی بلدیہ کے زیراہتمام قائم ہیں جہاں معذور افراد کام کرتے ہیں۔ یونیورسٹی میں داخلے کے امتحان کی تیاری بھی بلدیہ کرواتی ہے، اس کے علاوہ نوجوانوں کو نوکری کی تلاش یا کاروبار کے آغاز کے لیے بھی بلدیہ مدد کرتی ہے۔ بلدیہ کے زیراہتمام خوبصورت ریسٹورنٹ بھی قائم ہیں۔ بلدیاتی اداروں میں تمام عملہ کے لیے دوپہر کا کھانا مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ ترکی میں بلدیاتی اداروں کا نظام مؤثر منصوبہ بندی اور جدید ذرائع کے بھرپور استعمال کے ذریعے عام آدمی کی زندگی میں نظر آنے والی بہتری پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ نظر آتا ہے۔
ترکی معاشی ترقی میں 116 ویں نمبر سے 16 نمبر پر آگیا ہے۔ غربت 32 فیصد سے کم ہوکر ایک فیصد پرآگئی ہے۔ ترکی اپنی دفاعی ضروریات کا 60 فیصد اسلحہ خود تیار کرتا ہے۔ ترکش ایئرلائن کے 300 سے زیادہ طیارے ہیں اور یہ دنیا کی پانچ بڑی ایئر لائنوں میں شمار ہوتی ہے۔
2024ء تک ترقی یافتہ ملک بننا ان کا ہدف ہے۔ ترک بھکاری نظر نہیں آتے، البتہ شامی مہاجرین کہیں کہیں بھیک مانگتے نظر آجاتے ہیں۔
ترکی نے آئی ایم ایفکا قرض اتارکر ایک مثال قائم کی ہے۔
ترکی میں تعلیم وتربیت کا بامقصد اور نتیجہ خیز پروگرام بھی نظر آتا ہے۔ 185یونیورسٹیاں ہیں۔105اسلامک اسٹڈیز کی فیکلٹیز ہیں۔ 300 اسلامک اسکول ہیں، 2000قرآن اسکول ہیں۔
ترکی میں اس تمام تر ترقی کے ساتھ ایک مضبوط خاندانی نظام بھی موجود ہے۔ یہاں طلاق کی شرح صرف 1.6فیصد ہے۔
ترکی میں اداروں (NGOs)کے قیام، ان کے استحکام اور ان سے استفادے کا پورا نظام نظر آتا ہے۔
اندرونی اور بیرونی چیلنج
موجودہ ترک حکومت جوکہ 2002ء سے برسراقتدار ہے، کے خلاف 2004ء، 2006ء، 2007ء، 2013ء اور 2016ء میں سازشیں کی گئیں۔ ان سازشوں میں سب سے خطرناک 15جولائی 2016ء کی سازش تھی۔ اس سازش سے نہ صرف ترکی بلکہ باہر بھی اسلام پسندوں اور ترکوں کے بہی خواہوں میں بجاطور پر ایک تشویش پائی جاتی ہے۔ خاص کر اس سازش کی ناکامی کے بعد حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر بھی بیرونِ ترکی اور خود ہمارے یہاں یہ تشویش موجود رہی کہ اس کا ردعمل نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
مختلف ملاقاتوں کے دوران معلوم ہوا کہ تقریباً تیس لاکھ سرکاری ملازمین میں سے ڈھائی لاکھ ملازمین فتح اللہ گولن کی تحریک سے وابستہ ہیں۔ یہ لوگ ریاست کے اندر ریاست کی صورت حال پیدا کرچکے تھے۔
عدلیہ، فوج، بیوروکریسی، تعلیمی اداروں وغیرہ میں ان کے لوگ موجود تھے اور انہوں نے باہم رابطے کے لیے اپنی ایک APP بھی بنائی ہوئی تھی۔ ان سے اداروں کو صاف کرنا اس لیے بھی ضروری تھا کہ یہ غیروں کے لیے کام کررہے تھے۔
فتح اللہ گولن کے حوالے سے سب سے حیران کن بات جو نظر آئی وہ پوری ترک قوم کا اس بات پر اتفاقِ رائے تھاکہ یہ امریکہ اور مغرب کا ایجنٹ ہے۔ اس نے غیروں کے ساتھ مل کر ترکوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے۔
ایک ترک میزبان کے بقول فتح اللہ گولن کے بارے میں ترکی میں اسی طرح اتفاقِ رائے ہے جیسا آپ کے ہاں قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے پر پوری قوم اپنے تمام ترمسلکی اختلافات کے باوجود متفق ہے۔ ہمیں ایسا لگاکہ ترک ابھی تک اس چیلنج سے نمٹ رہے ہیں۔
ترکی کے پڑوس میں عراق اورشام خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہیں جس کی وجہ سے ترکی کی سرحدیں غیر محفوظ ہیں۔ آئے دن ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اسی کی ایک کڑی ہیں۔ البتہ ترکوں نے شامی مہاجرین کی بے مثال میزبانی کی ہے۔ ترک کہتے ہیں کہ یہ ہمارے مہمان ہیں مہاجر نہیں ہیں، اور مہمان جب آتا ہے تو اپنے ساتھ دس برکتیں لاتا ہے اور جب جاتاہے تو نو برکتیں وہیں چھوڑ جاتاہے۔ ترکی میں یہ بھی رائے ہے کہ 15 جولائی کو جو بلا ٹلی ہے وہ اسی میزبانی کا صدقہ ہے۔ شامی مہاجرین کے لیے جوکیمپ قائم کیے گئے ہیں وہ 5 اسٹار سہولیات سے آراستہ ہیں۔
15جولائی 2016ء کی بغاوت کو ناکام بنانے کے لیے لگ بھگ 260 لوگوں نے اپنی جان کی بازی لگادی۔ ہمارے لیے یہ سوال بڑا اہم تھاکہ جب قوم اتنی آسودہ حال ہوچکی ہے تو پھر لوگوں نے کیوں کسی حکومت کے لیے جان کی بازی لگائی؟
(باقی صفحہ 41پر)

Share this: