(استبان سنیتیا گواور سوالات ؟(عمر ابراہیم

Print Friendly, PDF & Email

وہ امریکہ کے شہر نیوجرسی میں پیدا ہوا۔ دوسال کا تھا، والدین پوئرٹوریکو منتقل ہوگئے۔ اسکولنگ سے نوجوانی تک کے حالات غالباً کچھ غیر معمولی نہیں۔ عراق پر جارج بش کی جارحیت ہوئی، تب چودہ سال کا تھا۔ وہ 2007ء میں نیشنل گارڈ میں بھرتی ہوگیا۔ تین سال بعد، بیس سال کی ناپختہ عمر میں عراق جنگ پر بھیج دیا گیا۔ فروری 2011ء میں عراق سے لوٹا، ایسا لگا جیسے انسانی اقدار و تعلیمات لٹا آیا ہو، جیسے احترامِ آدمیت کا احساس مٹا آیا ہو۔ عراق جنگ کا مشاہدہ جیسے دماغ شل کرگیا ہو، دل بوجھل کرگیا ہو۔ بدلا بدلا سا نظر آتا تھا۔ کسی نے اسے پہلے کبھی اس طرح نہ دیکھا تھا۔ اعصاب پر انتہائی غیر انسانی صورت حال کا تناؤ تھا، اپنا آپ بس سے باہر ہوتا جارہا تھا۔ دوسال قبل پہلی بار اُس نے اُس وقت توجہ حاصل کی، جب گرل فرینڈ سے جھگڑا ہوا، اور اُسے زدوکوب کرنے کے الزام میں گرفتارکیا گیا۔ گرل فرینڈ سے اُس کا چند ماہ کا بچہ بھی تھا۔ مختصر یہ کہ گرفتاری ورہائی کے بعد گزشتہ سال اگست میں اسے برطرف کردیا گیا۔ غیر اطمینان بخش کارکردگی اور بغیر اطلاع مسلسل غیر حاضری کے الزامات لگے تھے۔
گزشتہ نومبر میں اُس کا اضطراب عتاب ہوا، وہ نہ جانے کس خوش فہمی میں ایف بی آئی کے مقامی دفتر جا پہنچا، سی آئی اے کی شکایت کردی کہ وہ دہشت گرد تنظیم داعش کے لیے لڑنے پر مجبور کررہی ہے، دباؤ ڈال رہی ہے، داعش کی وڈیوز دیکھنے کی ہدایت دے رہی ہے، اُس کا دماغ کنٹرول کررہی ہے۔ ایف بی آئی والوں نے بھگادیا، وہ نیم پاگل حالت میں گھر لوٹا۔
وہ پھر جنوری 2017ء میں عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ الاسکا سے فلوریڈا کے فضائی سفرکے اختتام پر فائرنگ کے ہولناک واقعہ کا مرکزی کردار بن کر سامنے آیا۔ اُس نے لاؤڈرڈیل ہوائی اڈے پراپنی لائسنس یافتہ گن سے پانچ افراد کو ہلاک اورکئی کو شدید زخمی کردیا تھا۔ دنیا نے اُسے استبان سینتیاگوکے نام سے جانا، تفصیل خبروں کی ملاوٹ میں یوں گْھل مل گئی، کہ استبان سینتیاگوکو نفسیاتی مریض قرار دے کرکئی پردوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔ مگرکئی سوالات پیچھے رہ گئے۔ یہی سوالات سارے معاملے کا مغزہیں۔
سینتیاگو نفسیاتی مرض کا شکار کیوں ہوا؟
کیا یہ پہلا امریکی فوجی ہے، جو نفسیاتی مرض کا شکار ہوا؟
نہیں، بالکل نہیں۔ عراق، افغانستان، اور شام سے واپس وطن پہنچنے والے بے شمار امریکی فوجی PTSD کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ ان کی تفصیلات پر ایک ضخیم رپورٹ تیار ہوسکتی ہے۔
عراق جنگ سے واپسی پر سینتیاگو تشدد پسند ہوگیا تھا، کیا یہ ایسا پہلا اور واحد فوجی ہے؟
نہیں، بالکل نہیں۔ بے شمار امریکی فوجی وطن واپسی پر پُرتشدد زندگی گزارتے ہیں، شکایات عام ہیں۔ ان کے لیے معمول کی زندگی گزارنا محال ہوتا ہے۔ کیوں؟
امریکی حکام کہتے ہیں، سینتیاگو نفسیاتی مرض کا علاج کروا رہا تھا۔ بیوی پر تشدد کے الزام میں گرفتار بھی ہوا تھا۔ کیا ایسے شخص کے پاس دورانِ سفر اسلحہ ہونا چاہیے تھا؟
کیا امریکہ پر داعش کے دہشت گردوں کی سرپرستی کا الزام پہلی بار لگا ہے؟
نہیں، بالکل نہیں۔ یہ الزام متواتر لگ رہا ہے۔
استبان سینتیاگو کی دو تصاویر ہیں، ایک میں امریکی فوجی، دوسری میں داعش کا دہشت گرد نظر آتا ہے۔ کون سی تصویر اصلی ہے؟ یا دونوں ہی اصلی تصاویر ہیں؟ یا دونوں ہی جعلی ہیں؟ یا پھردونوں اصل میں ایک ہی ہیں؟
کیا استبان سینتیاگو پہلا فوجی ہے، جس نے ’مائنڈ کنٹرول‘ کی شکایت کی ہے؟ کیا ’مائنڈ کنٹرول‘ کا کوئی پروگرام سی آئی اے ایجنڈے میں شامل رہا ہے؟ جی ہاں، بالکل۔ ایم کے الٹرا پروگرام 1953ء میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر ایلن ڈلس کی قیادت میں شروع ہوا۔ سرد جنگ کے دوران روسی جاسوسوں اور قیدیوں پر ایم کے الٹرا پروگرام کے تحت LSD اور دیگر نشہ آور ادویات کے تجربات کرکے راز اگلوائے جاتے تھے، دماغوں کو عارضی طور پر گرفت میں لے کر مطلوبہ کام لیے جاتے تھے۔ ایم کے الٹرا پروگرام کا مقصد انسانی رویّے کو واہمہ خیز مادہ PSYCHEDELIC، واہمہ ساز دوا HALLUCINOGENIC، اور ریڈیائی لہروں کے ذریعے مطلوبہ سانچے میں عارضی طور پر ڈھال کرکام لینا تھا۔ اس پروگرام کی خاطر مختلف اوقات میں امریکہ و کینیڈا کی 80 جامعات، میڈیکل سینٹر، اور تین بڑی جیلوں میں 185 ماہرین اور بہت سی دوا ساز کمپنیوں کے اشتراک سے تجربات کیے گئے۔
یہ سوال نئے زاویے سے سامنے آگیا ہے کہ داعش کون ہے؟ کس کے مفادات کو فائدہ پہنچا رہی ہے؟ کس کے مفادات مجروح کررہی ہے؟ دنیا کوکیا پیغام دے رہی ہے؟ استبان سینتیاگو کون ہے؟ سابق امریکی فوجی ہے؟ نفسیاتی مریض ہے؟ داعش کا دہشت گرد ہے؟ آخر یہ کون ہے، جس نے بے قصور امریکی شہریوں کی جان لے لی؟
یہ بے سبب نہیں کہ استبان سینتیاگو نفسیاتی مریض بن گیا۔ جو کچھ اس نے کہا، اسے بھی پاگل کی بڑ سمجھ کر قالین تلے دبا دینا آسان نہیں۔ مذکورہ سوالات پر زمینی حقائق سے جتنے جواب ابھرکر سامنے آئیں گے، اتنے ہی اہم ہوتے چلے جائیں گے۔
nn

Share this: