(کیسے بلدیں گے حالات ؟)(سید تاثیر مصطفی

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان کے حساس اور دردِ دل رکھنے والے حلقے اب یہ سوال زیادہ شدت سے اٹھا رہے ہیں کہ جس نظام میں سیاسی جماعتیں انتخابات کے بجائے نامزدگیوں پر چل رہی ہوں اور جن کا اندرونی نظام جمہوریت کے بجائے فسطائیت پر قائم ہو، جہاں مشاورت کے بجائے فردِ واحد کی رائے حتمی ہو، جس میں سیاسی جماعتیں جمہوریت کی نرسری کے بجائے اجارہ دار خاندانی گروپ بن گئی ہوں۔۔۔ اُس نظام کو بچانے کی زبانی کوششیں کتنے عرصے چل سکیں گی؟ جس جمہوریت کی تعریفیں کرتے ہوئے ہم صبح سے شام کردیتے ہیں، جس کے خلاف ایک لفظ سننے کے لیے تیار نہیں، اور جس کے نام پر قائم نظام کے تحفظ کے لیے ہم سردھڑ کی بازی لگانے کے دعوے کرتے ہوں اُس کی روح تو ہمارے نظام کے ابتدائی مرحلے (سیاسی جماعتوں کا مرحلہ) ہی میں زخمی اور نڈھال ہورہی ہے۔ اس نڈھال اور نیم جان نظام کی رہی سہی جان الیکشن کمیشن، منتخب اداروں کے ارکان، افسر شاہی، انتظامی مشینری کے رویّے اور قانونی و آئینی موشگافیاں نکال دیتی ہیں۔ اور اس بے روح اور حالتِ نزاع میں پڑے جسم کو بچانے کے لیے ہم آخری دم تک لڑنے کی باتیں کرتے ہیں۔ کیا واقعی ہم اس نظام کو بچانا چاہتے ہیں، یا یہ ایک دھوکا ہے؟ اس پر ہمیں تفصیل اور گہرائی سے غور کرنا ہوگا۔
تحریک انصاف کی عوامی سطح پر پذیرائی کے بعد عوامی حلقے بھی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ملک میں جاری موجودہ نظامِ حکومت کی حفاظت کا بندوبست کرنا چاہیے؟ اسے بچانے کے لیے قوم کی توانائیاں صرف کرنی چاہئیں؟ یا اس نظام کو جو اب تک کچھ ڈیلیور نہیں کرسکا اور اپنی ظاہری شکل و صورت میں ایک استحصالی نظام ہے، یکسر مسترد کرکے بحیرہ عرب میں پھینک دینا چاہیے؟
دانش وروں اور عوامی حلقوں کا سوال یہ ہے کہ جس نظام نے اپنے متفقہ آئین میں یہ بات درج کی ہو کہ اس مملکتِ خداداد پاکستان میں قرآن و سنت سے متصادم کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا وہاں پورا معاشی نظام سود پر قائم ہو، شراب کی فیکٹریاں قانون کی چھتری کے تحت چل رہی ہوں، جوئے کی کئی اقسام کو قانونی تحفظ حاصل ہو، جہاں آئین کی دفعہ 62،63 پر عملدرآمد اور کارروائی تو دورکی بات، اسے مذاق بنادیا گیا ہو، اور جہاں آئین کی نصف سے زیادہ شقوں اور دفعات پر عملدرآمد نہ ہوتا ہو، جس نظام میں قانون امیر کے لیے مختلف اور غریب شہری کے لیے مختلف ہو، رشوت خور لٹیرے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد رشوت دے کر اور پلی بارگین کرکے نہ صرف آزاد گھوم رہے ہوں بلکہ ان ہی منافع بخش اسامیوں پر دوبارہ براجمان ہوں جن سے لوٹ مار کرتے ہوئے پکڑے گئے ہوں، جہاں انتخابات میں پری پول رگنگ، آن اسپاٹ رگنگ اور پوسٹ پول رگنگ معمول ہو، جہاں الیکشن کمیشن کا چیئرمین قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف کے مشورے سے ایسا شخص بنادیا جاتا ہو جو ان دونوں رہنماؤں اور ان کی پارٹیوں کے لیے سودمند ہو یا کم از کم ضرر رساں نہ ہو، جہاں دھاندلی کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے والی اور پیسے، اثر رسوخ اور عیاری کے ذریعے عوام کا مینڈیٹ چوری کرنے والی سیاسی جماعتیں حکومت بناتی ہوں، اور جہاں کی اپوزیشن پر کھلے عام فرینڈلی اپوزیشن کا الزام لگتا ہو، جہاں ہر سیاسی جماعت حتیٰ کہ کامیابی حاصل کرنے والی جماعتیں بھی انتخابات میں دھاندلی پر سراپا احتجاج ہوں، جہاں اپوزیشن لیڈروں پر حکومت سے زیادہ سے زیادہ مراعات لینے کا الزام لگ رہا ہو، جہاں سیاسی جماعتیں ٹکٹ باقاعدہ فروخت کرتی ہوں مگر ان کے پاس اپنے ارکان اور کارکنوں کا کوئی ریکارڈ ہو نہ اخراجات کی کوئی قابلِ قبول اماؤنٹ شیٹ، جہاں سیاسی جماعتوں کے فنڈز کے ذرائع نامعلوم یا غیر مصدقہ ہوں، جہاں کی سیاسی جماعتوں پر خفیہ ایجنسیوں بلکہ دشمن ممالک سے فنڈز لینے کے الزامات ہوں، جہاں خفیہ ایجنسیاں انتخابات پر پوری طرح اثرانداز ہوتی ہوں اور بہت سے سیاسی اتحاد اور حکومتیں بنانے کا فخریہ اعتراف کرتی ہوں، جہاں الیکشن کمیشن کے ارکان کوئی آزاد سوچ والے نہیں بلکہ صوبائی حکومتوں کے پسندیدہ نامزد افراد ہوں، جہاں انتخابی اخراجات کی حد 10لاکھ ہو لیکن قومی اسمبلی کے ایک ایک حلقے میں 20کروڑ روپے خرچ ہوتے ہوں اور یہ سب کچھ الیکشن کمیشن کو نظر نہ آتا ہو، جہاں پر بلدیہ کے معمولی کونسلر بھی ایک ایک کروڑ روپے خرچ کرکے کامیاب ہوتے ہوں، جہاں الیکشن کمیشن انتخابی عذرداری کا فیصلہ 120 دن میں کرنے کا پابند ہو مگراس کی کوئی مثال موجود نہ ہو بلکہ اسمبلیوں کی پوری مدت کے دوران انتخابی فیصلے نہ آتے ہوں یا کوئی فیصلہ آنے کی صورت میں کامیاب امیدوار حکم امتناعی پر پوری مدت گزار لیتا ہو، جہاں قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے معزز ارکان جعلی ڈگریوں کے حامل ہوں اور جھوٹے حلف نامے داخل کرکے کامیاب ہوئے ہوں، جہاں نیب کے چیئرمین کا تقرر وزیراعظم اور قائدِ حزب اختلاف مل کر کرتے ہوں جبکہ ان دونوں یا کم از کم ان میں سے ایک پر کرپشن کے سب سے زیادہ الزامات ہوں، جہاں ایف آئی آر رشوت دیے بغیر درج نہ ہوسکتی ہو، جہاں تفتیشی افسر کی مٹھی گرم کرنے سے قاتل بے گناہ بن جاتے ہوں، جہاں کوئی بوڑھی ماں اپنے جوان بے گناہ بیٹے کے قتل پر روتے روتے بینائی کھو بیٹھتی ہو مگر اس کے پاس تاریخ لینے کے لیے پیسے اور وکیل کی بھاری فیس ادا کرنے کی خاطر فروخت کرنے کے لیے کوئی جائداد نہ ہو جس کی وجہ سے بااثر قاتل عدالتوں سے باعزت بری ہورہے ہوں، جہاں ایک نہیں سینکڑوں بلکہ ہزاروں مریض علاج کے بغیر موت کے منہ میں چلے جاتے ہوں، جہاں اسپتال معمولی سے واجبات کی عدم ادائیگی پر مرنے والوں کی میتیں روک لیتے ہوں، جہاں تندوروں پر روٹیاں لگانے والے اور ہوٹلوں میں چائے بیچنے والے بچے میٹرک اور انٹر میں تو ٹاپ کرتے ہوں مگر زندگی میں کلرک، اسکول ٹیچر، چونگی محرر سے آگے نہ بڑھ سکتے ہوں اور ان کے
(باقی صفحہ 41پر)
مقابلے میں بااثر لوگوں کے نکھٹو بچے انتظامیہ اور عدلیہ کے اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہوں اور انسپکٹر، نائب تحصیل دار یا لیکچرر بھرتی ہوکر بھی قابلِ رشک عہدوں سے ریٹائر ہوتے ہوں، جہاں سرکاری ملازمین رشوت نہ دینے کی وجہ سے دفتروں کے دھکے کھاتے کھاتے اپنی ہی پنشن لیے بغیر قبر میں اتر جاتے ہوں، جہاں پر جائز کام کرانا مشکل اور تعلقات اور رشوت کے ذریعے ہر ناجائز کام کرانا انتہائی آسان ہو، جہاں پرائیویٹ یونیورسٹیاں ڈگریوں کا کاروبار کررہی ہوں، اسپتال موت بانٹ رہے ہوں اور کاروباری لوگ اشیائے خورونوش اور ادویات میں ملاوٹ کرکے عمرے ادا کررہے ہوں، جہاں تھانیدار معزز اور استاد بے وقعت ہو، جہاں اعلیٰ عدالتوں سے بری ہونے والوں کو دو دو سال قبل پھانسی پر لٹکایا جاچکا ہو، جہاں مساجد غیر محفوظ اور جوا خانے بے خوف چل رہے ہوں وہاں جاری نظام کو بچانے کی باتیں کتنی قرین انصاف ہیں، اس پر ہمیں غور کرنا ہوگا۔ کہیں یہ استحصال زدہ لوگوں کے زخموں کو ہرا کرنے کا باعث تو نہیں بنیں گی! یہ مجبور اور بے بس لوگ اس ظلم اور استحصال سے تنگ آکر سب کچھ ہی بھسم نہ کردیں، یا کوئی دشمن اس صورت حال کا فائدہ اٹھاکر کوئی ایسا کام نہ کردے جس کا خمیازہ ہمیں برسوں بھگتنا پڑے۔ اس لیے ہمارے دانش وروں، اربابِ اختیار و اقتدار اور اہلِ سیاست کو اپنے ذاتی، گروہی اور خاندانی مفادات کو ایک طرف رکھنا ہوگا، اور شاید وقت آگیا ہے کہ ہم گہرے غوروخوص کے بعد یہ فیصلہ کرلیں کہ اس نظام کو بچانا ہے یا اسے اس کی تمام خرابیوں اور تھوڑی بہتخوبیوں کے ساتھ بحیرہ عرب میں غرق کردینا ہے۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو اس نظام کی نحوستیں خود اسے ڈبو دیں گی، مگر پھر خطرہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ کہیں ہم سب بھی نہ ڈوب جائیں۔ بہتر ہوگا کہ اس نازک معاملے پر علمی اور عوامی سطح پر ایک مباحثے کا آغاز کیا جائے۔ دانش ور اس کے ہر پہلو پر غور کریں اور تحقیقی ادارے معروضی حالات، ہماری تاریخی اور سماجی روایات اور ہمارے مخصوص حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اگر اس نظام کو چلانا ہے تو اس کے لیے ضروری حدود مقرر کریں اور انتظامیہ اس پر سختی سے عمل کرے ورنہ جیلوں میں جائے، یا پھر اس نظام کی جگہ کسی بہتر متبادل نظام کا نقشہ پیش کیا جائے جس میں موجودہ نظام کی خوبیاں تو ہوں مگر خرابیوں کی گنجائش نہ ہو۔

Share this: