(انتخاب مضامین (رشید احمد صدیقی احمد حاطب صدیقی

Print Friendly, PDF & Email

رشید احمد صدیقی اصلاً تو اُردو کے استاد تھے۔ تحقیق و تنقید کے مردِ میدان تھے۔ تراجم بھی کیے اور خاکہ نگاری بھی۔ ہر بڑے ادیب کی طرح بچوں کا ادب بھی تخلیق کیا۔ مگر اُردو ادب میں اُن کی شہرت طنز و مزاح نگار کی حیثیت سے زیادہ ہوئی۔رشید احمد صدیقی کا شمار اُردوکے بڑے مزاح نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ علی گڑھ کالج کے طالب علم تھے اور علی گڑھ یونیورسٹی کے اُستاد۔ چناں چہ اُن کی تحریروں میں بھی علی گڑھ یونیورسٹی کی روایات، وہاں کی شخصیات اور علی گڑھ یونیورسٹی کی بہت سی علامات کا ذکر جابجا پایا جاتاہے۔ اُن کے مزاح میں بڑی شائستگی اور بہت وضع داری ہے۔ اُن کی ظرافت میں جابجا دعوتِ فکر ملتی ہے۔ انہوں نے مزاح نگاری کو محض ہنسنے ہنسانے کی چیز یا نرا ’پھکڑپنا‘ بنانے سے گریز کیا۔ مزاح کو فلسفے کا امتزاج دیا ، ضرب الامثال اور محاوروں کی چاشنی سے نیا لطف پیدا کیا اور اشعار یا مصرعوں کے جابجا اور برجستہ استعمال کی روایت ڈالی۔ ’دو سخنے‘ فقرے تخلیق کیے۔ رشید احمد صدیقی اُردو کے اُن مزاح نگاروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اُردو مزاح کا معیار بلند کیا اور اسے عالمی ادب کے مقابلے میں لا کھڑا کیا۔ ڈاکٹر رؤف پاریکھ لکھتے ہیں کہ:
’’آلِ احمد سرور نے رشید احمد صدیقی کو اُردو کا چسٹرٹن اور برنارڈ شا کہاہے‘‘۔
سچ پوچھیے تو رشید احمد صدیقی کی تحریروں نے جدید اُردو مزاح نگاری کی سمت اور رُخ متعین کر دیا۔ مزاح کا موضوع بنانے کے لیے انہوں نے اپنے اِرد گرد پھیلے ہوئے ماحول کو منتخب کیا۔ اپنے دور کے معاشرتی تضادات کو ہنسی ہنسی میں نمایاں کیا اور اپنے زمانے کی معاشرتی خوبیوں کی نشان دہی بھی اپنے مخصوص دلچسپ انداز میں کرتے گئے۔ رشید احمد صدیقی کی تحریروں میں دیسی بابوؤں کی انگریز پسندی اور انگریز پرستی کے مضحک خاکے بھی ملتے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ علی گڑھ سے منسلک رہنے کے باوجود اکبرؔ کے ہم خیال تھے اور مغربیت کے ناقد۔
رشید احمد صدیقی کے مضامین کا مطالعہ کیجیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے دور کے بہت بڑے بڑے مزاح نگاروں نے بہت حد تک اُن کے اُسلوب کا تتبع ہی کیا ہے۔بلاشبہ صرف تتبع نہیں کیا، اضافہ بھی کیا ہے اوراُن کی قائم کی ہوئی روایات کو آگے بھی بڑھایا ہے، مگر یہاں وہی پروفیسر ڈاکٹر کلیم عاجزؔ کی کہی ہوئی بات دوہرانے کا جی چاہتا ہے کہ:
جگر کا خون نہ دیتے اگر غزل والے
تو یار تم بھی نہ کہلاتے پھول پھل والے
اِس وقت ہمارا مزاح جس قدر پھول پھل رہا ہے، اُس کی پنیری لگانے والوں میں رشید احمد صدیقی کانام بہت اہم نام ہے۔ اُردو طنز و مزاح سے دلچسپی رکھنے والوں کو رشید احمد صدیقی کے مزاح کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ مگر کیسے کریں؟ اُردو ادب تو کیا؟ اب اُردو ہی نہیں پڑھائی جاتی۔ ہمارے طالب علم کا ذریعہ تعلیم انگریزی ہو گیا ہے۔ وہ اپنے تمام سرمایہ علم و فن سے مکمل طور پرلاتعلق ہو چکا ہے۔ لوگوں کو اب راقم الحروف کی اُردو سمجھنے میں دشواری کاسامنا کرنا پڑتا ہے تو بھلا رشید احمد صدیقی کی اُردو کیسے سمجھ میں آئے گی؟
اس ساری صورتِ حال کے باوجود جناب محمود عزیز نے رشید احمد صدیقی کے مضامین کا ایک انتخاب (مع فرہنگ) مرتب کرکے ’’گرین بکس‘‘ سے شائع کروا دیا ہے۔ ہر نامانوس اور مشکل لفظ کا ترجمہ لکھنا کوئی سہل کام نہیں تھا۔ ستارے (*) ڈال ڈال کر محمود عزیز صاحب نے ہر صفحے کے حاشیے پر، اُس صفحے کے تمام مشکل الفاظ کے معانی درج کر دیے ہیں۔ بعض صفحات کو تو بالکل کہکشاں بنا کر رکھ دیا ہے۔ کئی صفحات ایسے ہیں جن پر حاشیے میں اٹھارہ، اٹھارہ الفاظ کے معانی دیے گئے ہیں۔ پڑھنے میں تھوڑی سی رکاوٹ تو پیش آتی ہے، مگر مطلب معلوم ہونے کے بعد لطف بڑھ جاتا ہے۔
جناب محمود عزیز نے ہندی، فارسی، عربی اور اُردو کے الفاظ پر جس قدر محنت سے کام کیا ہے، اُس کی داد نہ دینا بڑی زیادتی ہوگی۔ بالعموم الفاظ کے صرف وہی معانی درج کیے گئے ہیں جو تحریر کے سیاق و سباق میں مصنف کی مراد ہو سکتے ہیں۔مثلاً ’ڈاکٹر خنداں‘ پر رشید احمد صدیقی نے جو نہایت دلچسپ مضمون لکھا ہے، اُس میں ڈاکٹر خنداں کے پُر مزاح اشعار کی بھرمار کردی ہے۔ انہی میں سے ایک شعر ہے:
اِک ڈوز جس کو دے دیا فی النار ہو گیا
خنداں تمھارے ہاتھ ہیں گویا قضا کے ہاتھ
اس شعر میں ایک تو لفظ ‘Dose’ کا مطلب بھی بتایا گیاہے، جس کی نئی نسل حاجت مند نہیں، دوسرے ’’فی النّار‘‘ کا مطلب ’’مرگیا‘‘ لکھا گیا ہے، جس سے نئی نسل کو کسی اور جگہ یہ لفظ دیکھ کر غلط فہمی ہو سکتی ہے۔
کتاب کی پشت پر ایک نوٹ لکھا گیا ہے، جس میں یہ جملہ بھی ہے:
’’بعض الفاظ کے معنی باوجود کوشش کے دستیاب نہیں ہو سکے۔غالباً اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ صدیقی صاحب نے از راہ تفنن بہت سی تراکیب اور الفاظ خود وضع کیے ہیں جس کے باعث ان کے معنی مروجہ کتب ہائے لغت میں نہیں مل سکے‘‘۔
جناب محمود عزیز صاحب نے ایسے الفاظ کی (بطورِ مثال بھی) نشان دہی نہیں کی، جن کے معنی انہیں نہیں مل سکے اور جن کو انہوں نے صدیقی صاحب کی ایجاد سمجھ لیا۔ مثال دے دیتے تو سہولت ہو جاتی۔
در اصل رشید احمد صدیقی کا تعلق مشرقی یوپی کے شہر جون پور سے تھا۔ مشرقی یوپی کی عوامی زبان ’پوربی‘ کہلاتی ہے۔ رشید احمد صدیقی کے جو مضامین اپنے موضوع کے لحاظ سے دیہاتی پس منظر رکھتے ہیں اُن میں پوربی زبان کی بھرمار ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا صحیح لطف وہی لوگ اُٹھا سکتے ہیں جو پوربی زبان سے بخوبی واقف ہوں۔ جناب محمود عزیز نے اکثر پوربی الفاظ کے بھی معنی تلاش کر کے حاشیے میں درج کر دیے ہیں۔ مگر کہیں کہیں یا تو سہو ہوا ہے یا درست معلومات نہ مل سکیں۔ مثلاً ’’دعوت‘‘ کے عنوان سے جو مضمون کتاب میں شامل ہے، اُس کا ایک فقرہ ہے:
’’ناتی گود میں پوتا کندھے پر‘‘ (ص ۱۷)
حاشیے میں ’’ناتی‘‘ کا مطلب لکھا گیا ہے’’نواسا، نواسی‘‘۔ جب کہ پوربی زبان میں نواسے کو ’’ناتی‘‘ کہا جاتا ہے اور نواسی کو ’’نتنی‘‘ (نَت نی)۔ اسی مضمون میں یہ فقرہ بھی ہے:’’بہشتی نے مَشک سے تام چینی کے گندے شکستہ گلاس میں پانی پلانا شروع کیا‘‘۔ (ص۱۶)
اس فقرے میں سے بہشتی اور تام چینی دونوں کے معنی درج کیے گئے ہیں۔تام چینی کا مطلب لکھا گیا ہے: ’’تانبے کی ایک قسم‘‘۔ یہ جزوی طور پر درست ہے۔ تانبے پر چینی مٹی سے میناکاری کا کام کر دیا جائے تو وہ ’تام چینی‘ کہا جاتا ہے۔ بہت سے الفاظ کے معنی نہیں دیے گئے ہیں۔ سہواً رہ گئے یا ان کا مطلب نہیں مل سکا؟ کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ ایسے ہی الفاظ میں سے ایک لفظ ’’کھتونی‘‘ بھی ہے۔ ’’اُردو شاعری میں رقیب‘‘ کے عنوان سے جو مضمون ہے، اُس کے ایک فقرہ میں ’’کھتونی‘‘ کا ذکر ہے:
’’رقیبوں کی بہت سی اقسام ہیں، یہ زندگی کے ہر شعبے میں ملیں گے۔لیکن یہاں ہمارا سروکار اُن رقیبوں سے ہے جو اُردو شاعری میں ملتے ہیں۔ رقیبوں کی صرف اس قسم کو متعین کر لینے سے رقیبوں کی کھتونی کا کام ہلکا ہو جاتا ہے‘‘۔ (ص۱۷۷)
’’کھِتونی‘‘ اُس سرکاری کھاتے (رجسٹر) کو کہا جاتا ہے جس میں گاؤں (بالخصوص کھیتوں) کی زمینوں کا حساب کتاب رکھتے ہیں۔
اس کتاب میں رشید احمد صدیقی کے ۲۲ دلچسپ مضامین کا انتخاب کیا گیا ہے۔ جناب محمود عزیز کی نظر انتخاب کی داد نہ دینا بھی انصاف سے بعید ہوگا۔ قارئین کے تفنن طبع کے لیے ان منتخب مضامین سے چند اقتباسات درج کیے جاتے ہیں۔
’’ہر یوروپین پیدائشی فاتح ہے اور ہر ہندوستانی سرکاری گواہ یا اقراری ملزم۔ اس طرح کے گواہ اس مصنف کی مانند ہوتے ہیں جو نازیبا خیالات و جذبات کا اظہار کرتا ہے لیکن اس بنا پر قابل مواخذہ قرار نہیں دیا جاتا بلکہ لائق تحسین سمجھا جاتا ہے کہ اس نے حقیقت کی ترجمانی کی یا ہندوستان اور ہندوستانیوں کی توہین! سرکاری گواہ کے بارے میں تو آپ جانتے ہوں گے اکثر وہ ایسا مجرم ہوتا ہے جس کے بیان پر دوسرے سزا پاتے ہیں اور خود وہ رہائی پاتا ہے!‘‘ (’’گواہ‘‘۔ ص۲۴)
’’ڈاکٹر صاحب کلوروفارم یا بے ہوشی کی دوا سنگھانے کے قائل نہ تھے۔ کہتے تھے بھئی کلوروفارم میں جھگڑا ہی جھگڑا ہے۔ اوّل تو حاکم لوگ اس کا حساب مانگتے مانگتے ناک میں دم کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اُس کا اثر بعد میں ایسا خراب پڑتا ہے اور متلی اور سردرد کی وہ شکایت پیدا ہوتی ہے کہ گنوار ڈاکٹر کو گدھا سمجھنے لگتے ہیں اور اُن کو انگریزی دوا سے نفرت اورعداوت ہو جاتی ہے۔ ایک دفعہ ایک دیہات میں، میں نے کلوروفارم استعمال کرایا تھا۔ مریض بے ہوش ہوا تو اُس کے رشتے داروں نے ڈنڈا سنبھالا۔ کہنے لگے تو نے چاچا کی جان لے لی۔ بڑی مشکل سے میری جان بچی‘‘۔ (’’دیہاتی ڈاکٹر‘‘۔ ص۴۳)
’’چارپائی اور مذہب ہم ہندوستانیوں کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ہم اسی پر پیدا ہوتے ہیں اور یہیں سے مدرسے، آفس، جیل خانے، کونسل یا آخرت کا راستہ لیتے ہیں‘‘۔ (’’چار پائی‘‘۔ ص۷۹)
’’پنشن اور پاسبان نے غالبؔ کی زندگی تلخ کردی تھی اور غالبؔ کے پرستاروں نے ہماری۔ ایک صاحب فرماتے ہیں غالبؔ قومی شاعر تھے، دوسرے کہتے ہیں حیوانِ ظریف تھے، تیسرے کا قول ہے مُلہمِ غیب تھے، چوتھے کا فیصلہ ہے فلسفی تھے، پانچویں کا کہنا ہے مہمل تھے‘‘۔ (’’پاسبان‘‘۔ ص۸۷)
’’ڈاکٹر نہ ہوں تو موت آسان اور زندگی دلچسپ ہو جائے‘‘۔ (’’اگر ڈاکٹر نہ ہوتے‘‘۔ ص۱۳۲)
nn

Share this: