(بلوچستان :مردم شماری کا تنازع(اخوند زادہ جلال نور زئی

Print Friendly, PDF & Email

بلوچستان میں مردم شماری کے معاملے پر سیاسی ماحول گرم ہے۔ لگتا ایسا ہے کہ وفاقی حکومت مردم شماری کے تناظر میں بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کے اعتراضات اور تحفظات کو چنداں اہمیت نہیں دے رہی، اس ضمن میں وفاق کی جانب سے کوئی وضاحت اب تک سامنے نہیں آئی ہے کہ افغان مہاجرین کا کیا کیا جائے گا۔ جنہوں نے پاکستانی دستاویزات حاصل کر رکھی ہیں،لگتا ایسا ہے کہ وفاقی حکومت سمجھتی ہے کہ افغان باشندوں کا اندراج بحیثیت افغان مہاجر کے ہوا ہے اور جب ان کے پاکستان میں قیام کی مدت پوری ہوگی تو انہیں اپنے ملک باعزت طریقے سے بھیج دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نواب زہری بھی کہہ چکے ہیں کہ مردم شماری بہرصورت ہوگی۔ وزیراعلیٰ تو یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ ’’جس جماعت کی اسمبلی میں ایک نشست بھی ہے وہ کس طرح مردم شماری کی مخالفت کرسکتی ہے!‘‘ انہوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ ’’افغان مہاجرین کی بڑی تعداد واپس جا چکی ہے‘‘۔ نواب زہری بلوچستان نیشنل پارٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’’جب 1998ء میں ان کی حکومت تھی تو اُس وقت مردم شماری ہوئی حالانکہ اُس وقت بلوچستان میں لاکھوں افغان مہاجرین رہائش پذیر تھے۔‘‘ (24جنوری 2017ء)
نواب ثناء اللہ زہری اس وقت اگرچہ مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ہیں مگر اُن کی سیاسی شناخت ایک بلوچ قوم پرست سیاست دان کی ہے۔ زندگی کا ایک بڑا حصہ وہ بلوچ قوم پرست سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہے ہیں اور بڑی بڑی ذمہ داریوں پر فائز رہے ہیں، بلکہ اپنی ایک الگ نیشنلسٹ جماعت کی قیادت بھی کرچکے ہیں۔ جماعت نیشنل پارٹی بھی مردم شماری پر معترض ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی اور دیگر بااثر بلوچ سیاسی وقبائلی عمائدین آئندہ ہونے والی مردم شماری کو بلوچ عوام کے ساتھ زیادتی سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں قیام پذیر ہیں اور بلوچستان میں پانچ یا چھے لاکھ افغانوں نے غیر قانونی طور پر شہریت حاصل کررکھی ہے۔ بلوچ سیاسی جماعتوں اور شخصیات کی کوشش ہے کہ کم از کم بلوچستان کے اندر یہ عمل ملتوی کردیا جائے۔ مگر اس تناظر میں کوئی مؤثر سیاسی احتجاج دکھائی نہیں دے رہاہے‘ تاہم بلوچستان نیشنل پارٹی نے 8 جنوری کو مردم شماری کے التواء کے لیے عدالتوں سے رجوع کرلیا، یعنی سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دے دی ہے اور بلوچستان ہائی کورٹ میں بھی پٹیشن دائر کردی ہے۔ ہائی کورٹ نے درخواست سماعت کے لیے منظور بھی کرلی ہے۔
ادھر مردم شماری کی تیاریاں جاری ہیں۔ چیف شماریات 2جنوری کو تفصیلات بیان کرچکے ہیں جس کے مطابق مردم شماری کا پہلا مرحلہ15مارچ سے بیک وقت چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں شروع ہوگا اور بلوچستان پہلے مرحلے میں شامل ہے۔ دوسرے مرحلے کا آغاز25 اپریل سے ہوگا۔ مردم شماری میں پاک فوج کے دو لاکھ جوان حصہ لیں گے جس کی منظوری آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ دے چکے ہیں۔ مزید برآں ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ اِس بار فنڈز کی فراہمی کے لیے صوبائی چیف سیکریٹریز پر عدم اعتماد کیا گیا ہے، چنانچہ فنڈز براہِ راست ڈپٹی کمشنرز اور پولیٹکل ایجنٹس کو فراہم کیے جائیں گے جس کے لیے تمام متعلقہ افسران سے تفصیلات طلب کرلی گئی ہیں۔ یعنی یہ کہ متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور پولیٹکل ایجنٹس اپنے قومی شناختی کارڈز کی کاپی، آفیشل بینک اکاؤنٹس، برانچ کوڈ، پتا اور دیگر تفصیلات اے جی پی آر کو بھیج دیں۔ ممکن ہے بلوچ جماعتیں کوئی مؤثر تحریک چلانے میں کامیاب نہ ہوں، البتہ مردم شماری کا موضوع صوبے کی بلوچ پشتون جماعتوں کے درمیان چپقلش کا باعث بن سکتا ہے۔ اس طرح یہ سیاسی جنگ عام لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
27 دسمبر 2016ء کو بلوچستان نیشنل پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کی صدارت سردار اختر مینگل نے کی۔ اس اجلاس کے ایجنڈے میں افغان مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری شامل تھی۔ اور یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ مختلف بلوچ علاقوں جیسے کوہلو، ڈیرہ بگٹی، جھالاوان، مکران اور خاران سے بوجہ آپریشن اور شورش لاکھوں بلوچ دوسرے علاقوں میں نقل مکانی کرچکے ہیں۔ بی این پی کا یہ بھی کہنا ہے کہ 60 فیصد بلوچوں کو ابھی تک قومی شناختی کارڈز کا اجراء نہیں ہوسکا ہے، اور یہ وہ تمام زمینی حقائق ہیں جن کی بنیاد پر بلوچ عوام کو اپنی سرزمین پر ہی اقلیت میں تبدیل کرنے کی پالیسی پر عمل ہورہا ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کی جماعت کو افغان مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری قبول نہیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ مزید کہتے ہیں کہ نیشنل پارٹی حالیہ مردم شماری کو انتہائی حساس قومی معاملہ سمجھتی ہے اور اس مسئلے پر ازحد سنجیدہ ہے، حالیہ مردم شماری بلوچ قوم کے لیے موت و زیست کا معاملہ ہے اور تمام بلوچ سیاسی جماعتوں اور بلوچ قیادت کی دہلیز پر دستک دیں گے اور گزارش کریں گے کہ اس قومی معاملے پر متفقہ و مشترکہ قومی حکمت عملی اپنائی جائے۔ بقول ڈاکٹر عبدالمالک کے، وہ بہ حیثیت وزیراعلیٰ تین مرتبہ سی سی آئی کی میٹنگ میں مردم شماری کی مخالفت کرچکے ہیں اور آج بھی افغان مہاجرین سمیت تمام غیر ملکیوں کی موجودگی میں نیشنل پارٹی مردم شماری قبول نہیں کرے گی، اور اس معاملے پر سپریم کورٹ تک جائیں گے۔ (20دسمبر2016ء)
محمود خان اچکزئی نے کچھ عرصہ قبل افغانیوں کو شہریت دینے کا مطالبہ کردیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سرحد سے اٹک تک پشتونوں کے لیے الگ صوبہ بنایا جائے۔ نیشنل پارٹی کے صدر میر حاصل بزنجو نے اس پر تبصرہ کیا کہ یہ مطالبہ اپنے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ہم صرف پاکستانیوں کی مردم شماری چاہتے ہیں، کیونکہ ملک میں غیر ملکیوں کی موجودگی کے باعث شفاف مردم شماری ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچ عوام غیر ملکیوں کو نکالنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی بارہا یہ مؤقف دہرا چکی ہے کہ مہر گڑھ کا نو ہزار سالہ تہذیب و تمدن بلوچوں کا ورثہ ہے۔ بولان اور سیوی (سبی) کے میدانوں پر ہزاروں سال تک بلوچ حکمرانی کرتے رہے ہیں۔ یہ تاریخی سرزمین بلوچوں کا مسکن رہی ہے۔ انگریز سامراج نے کوئٹہ کے معاہدے خان آف قلات خان خدائے داد خان سے کیے، کسی اور سے نہیں، اور کوئٹہ کا قلعہ اس معاہدے کی زندہ مثال ہے۔ اگر حکمران جماعت (پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی) بلوچستان میں مطمئن نہیں تو صوبائی اسمبلی سے قرارداد منظور کرائے۔ پشتون علاقوں پر محیط متحدہ افغانیہ، پشتونستان یا جنوبی پشتون خوا جو بھی بنانا چاہتے ہیں، بنالیں۔ کوئٹہ سمیت بلوچ تاریخی علاقوں کا دفاع اوّلین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ متحدہ افغانیہ بناکر یا میانوالی پنجاب میں چالیس لاکھ افغان مہاجرین کو آباد کرکے پاکستان سے ان کے لیے شہریت، شناختی کارڈ حاصل کیے جائیں اور مردم شماری کا حصہ بنائیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ ‘‘(25دسمبر2016ء)
یعنی ایک تنازع پشتون خوا میپ اور بلوچ قوم پرستوں کے درمیان کوئٹہ اور سبی کی ملکیت کا بھی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی مردم شماری کے حق میں ہے اور افغان مہاجرین کے خلاف واویلا پر اعتراض کرتی ہے۔ اے این پی نے 12 سے 22 فروری تک عوامی رابطہ مہم کا اعلان کردیا ہے۔ اس مہم کے ذریعے عوام میں مردم شماری کی اہمیت کا شعور اجاگر کیا جائے گا۔ پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر تعلیم نے یوں اظہار خیال کیا کہ ’’مردم شماری کے خلاف واویلا کرنے والے ماضی کی بوگس مردم شماریوں کے ذریعے مسلط عددی اکثریت بچانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ مردم شماری کی آڑ میں کوئٹہ اور سبی کی تاریخ مسخ کرنا ناقابلِ برداشت عمل ہے۔ انگریز دور میں 5 مردم شماریاں ہوئیں جن میں پشتون اور بلوچ علاقوں کی مردم شماری کے بارے میں مکمل تفصیل تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے پشتون علاقوں کی مردم شماری بین الاقوامی معیار اور ضابطوں کے مطابق کی گئی تھی اور بلوچ علاقوں کی مردم شماری مبالغہ آرائی اور بلوچ سرداروں، نوابوں کی منشاء کے مطابق غیر معیاری طریقوں سے کی گئی، اور ساتھ یہ لکھا گیا تھا کہ صوبے کے پشتون علاقوں کی مردم شماری میں مبالغہ آرائی بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ اس طرح ماضی کی مردم شماریوں میں مبالغے کی بنیاد پر عددی اکثریت آج کے کمپیوٹرائزڈ دور میں شاید ممکن نہیں، اس لیے وہ عناصر جنہوں نے ملک اور صوبے میں غلط مردم شماری کے ذریعے عددی اکثریت بنائی تھی، آج کے کمپیوٹرائزڈ دور میں خطرے سے دوچار ہوتے نظر آرہے ہیں، اور مردم شماری کی آڑ میں کوئٹہ اور سبی کی تاریخ مسخ کرنا اور من گھڑت کہانیاں بنانا قابلِ گرفت عمل ہے۔ پشتون قوم کسی بھی غیر ملکی کے مردم شماری میں اندراج کی مخالف ہے۔ افغان مہاجرین کی واضح اکثریت افغانستان جاچکی ہے اور جو موجود ہیں ان کا اندراج اقوام متحدہ نادرا کے ذریعے کرچکی ہے۔‘‘(22دسمبر2016ء)
یاد رہے کہ 1998ء کی مردم شماری کے خلاف پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی نے زبردست احتجاج کیا تھا۔ اس کا مؤقف تھاکہ سردار اختر مینگل کی حکومت مردم شماری پر اثرانداز ہورہی ہے اور پشتون آبادی کو کم کرنے کی منصوبہ بندی کرچکی ہے۔ اس احتجاج کے باعث پشتون علاقوں میں یہ عمل شدید متاثر ہوا۔ بڑی آبادی کا اندراج نہ ہوسکا جس کا پشتون عوام کو نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ آج بلوچ جماعتیں معترض ہیں اور پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی مردم شماری بہرصورت کرانے کے مطالبے پرقائم ہے۔
nn

Share this: