روحانی بیماری

Print Friendly, PDF & Email

حضرت شعیب علیہ السلام کے زمانے میں ایک آدمی اکثر یہ کہا کہتا رہتا تھا کہ ’’مجھ سے بے شمار گناہ اور جرم سرزد ہوتے رہتے ہیں۔ اللہ کے کرم سے مجھے کچھ نہیں ہوتا‘‘۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے جب اس کی یہ باتیں سنیں تو فرمانے لگے : ’’ارے بیوقوف تو صراطِ مستقیم سے بھٹک گیا ہے۔ تیری مثال اس سیاہ دیگ کی سی ہے۔ جس پر اسی کا رنگ چڑھتا رہتا ہے۔ اسی طرح تیرے اعمال بد نے تیری روح کی پیشانی بے نور کر دی ہے۔ تیرے قلب پر زنگ کی اتنی تہیں چڑھ گئی ہیں کہ تجھے خدا کے بھید دکھائی نہیں دیتے۔ جو بدنصیب گناہ میں آلودہ ہو اور اوپر سے اس پر اصرار کرے تو اس کی عقل پر خاکپڑ جاتی ہے۔ اسے کبھی توبہ کی توفیق نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ اسے گناہ کے کاموں میں لذت ملنے لگتی ہے۔ وہ شخص گمراہ اور بے دین ہو جاتا ہے۔ اس میں حیا اور ندامت کا احساس ہی باقی نہیں رہتا‘‘۔
حضرت شعیب علیہ السلام کی یہ باتیں سن کر اس شخص نے کہا ’’آپ علیہ السلام نے بجا فرمایا لیکن یہ تو بتائیے کہ اگر اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کا مواخذہ کرتا ہے تواس کی علامت کیا ہے‘‘۔
بارگاہِ خداوند سے ارشاد ہوا میں ستار العیوب ہوں۔ البتہ اس کی گرفت کی ایک واضح علامت یہ ہے، یہ نماز، روزے کی پابندی کرتا ہے، زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہے، لمبی لمبی دعائیں بھی مانگتا ہے اور نیک عمل بھی دکھاوے کے لیے کرتا ہے لیکن اس کی روح کو ان عبادتوں اور نیکیوں سے ذرہ برابر بھی لذت نہیں ملتی۔ ظاہر میں اس کی عبادت اور نیکیاں خشوع و خضوع سے لبریز ہیں لیکن باطن میں پاک نہیں۔ اس کو کسی عبادت میں بھی روحانی سکون حاصل نہیں ہوتا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے درخت میں اخروٹ تو ان گنت لگے ہوں۔ مگر ان میں مغز نہ ہو عبادت اور نیکیوں کا پھل پانے کے لیے ذوق درکار ہے۔ جب اس شخص کو اپنے باطن کا پتہ چلا اور اپنی روحانی بیماری معلوم ہوئی تو وہ بہت حیران و پریشان ہوا۔
درس حیات: انسان اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ اس کی بدعملی اور غلط کاری پر اس کی گرفت نہیں ہوتی۔ گرفت کا انداز مختلف قسم کا ہوتا ہے۔
کردار کے غازی
ایک دفعہ اموی خلیفہ منصور نے اپنے وزیر بیع کے ذریعے درہموں کا ایک تھیلا امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر بھیجا۔ ہدیہ جب وزیر نے امام صاحب کی خدمت میں آکر پیش کیا تو آپ نے فرمایا:
’’میں ہرگز اس مال کو ہاتھ نہ لگاؤں گا، خواہ میرا سر ہی، کیوں نہ قلم کر دیا جائے‘‘۔
اسی طرح منصور نے ایک بار اپنے اسی وزیر ربیع کو بہت سے تحفے دے کر حضرت ابن ابی ذنبؒ کے پاس بھیجا۔ جب ربیع پہنچا تو حضرت ابن ابی ذنبؒ نے فرمایا:
میں اس مال کو منصور کے لیے بھی جائز نہیں سمجھتا۔ اپنے لیے تو اس کے حلال سمجھنے کا کوئی سوال پیدا نہں ہوتا‘‘۔
آزادی
ہے کس کی یہ جرات کہ مسلمان کو ٹوکے
حریت افکار کی نعمت ہے خدا داد
چاہے تو کرے کعبے کو آتش کدۂ پارس
چاہے تو کرے اس میں فرنگی صنم آباد!
قرآن کو بازیچہ تاویل بنا کر
چاہے تو خود اک تازہ شریعت کرے ایجاد!
ہے مملکت ہند میں اک طرفہ تماشا
اسلام ہے محبوس، مسلمان ہے آزاد!
1۔ انگریزی عہد میں مسلمان کی آزادی فکر اس پیمانے پر پہنچ چکے ہے کہ کسی بات پر اسے ٹوکنے کا حوصلہ نہیں ہو سکتا۔ وہ فکری آزادی کو اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی ایک نعمت سمجھتا ہے۔
2۔ حالت یہ ہے کہ وہ چاہے تو کعبے کو پارسیوں کا آتش کدہ بنا دے اور چاہے تو اسے یورپ کے بنے ہوئے بتوں سے بھر دے۔
شعر کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کعبے سے مسلمان جو سلوک چاہے کر سکتا ہے۔ یہ بھی مراد ہے کہ اسلام کو چاہے تو تاویل سے پارسیوں کی آسمانی کتاب کے مطابق کر دے۔ چاہے تو اسے یورپی تہذیب اور علوم و فنون کا مرقع بنا دے۔ چونکہ ٹوکنے اور روکنے والا کوئی نہیں، اس لیے ہر مسلمان جو چاہے کر سکتا ہے۔
3۔ آزادی فکر نے اسے یہ بھی حق دے دیا ہے کہ قرآن کو تاویل کا کھلونا بنا دے اور اس سے ایک نئی شریعت پیدا کر لے۔
4۔ غرض ہندوستان کی سرزمین میں ایک عجیب تماشا درپیش ہے۔ یہاں مسلمان آزاد ہے اور اسلام قید۔
حضرت حسن بصریؒ
دوسری صدی کی اصلاحی کوششوں میں حضرت حسن بصریؒ کی شخصیت نمایاں ہے۔ وہ صرف صاحب قال و کمال نہ تھے، صاحب دل اور صاحب حال بھی تھے۔ وہ جو کچھ کہتے تھے، وہ ان کے دل سے نکلتا تھا اس لیے دل پر اثر کرتا تھا۔ امام غزالیؒ نے احیاء العلوم میں لکھا ہے کہ اس پر اتفاق ہے کہ حسن بصریؒ کا کلام انبیاء کے طرز کلام سے بڑی مناسبت رکھتا ہے۔ ایسی مناسبت دوسرے واعظین میں نہیں دیکھی گئی۔ اسی طرح ان کا طرز زندگی صحابہ کرام کے طرز زندگی سے بہت مشابہ تھا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت حسن بصری ؒ میں وہ تمام صلاحیتیں جمع فرما دی تھیں جو اس دور کے مخصوص حالات میں دین کا وقار بڑھانے اور دین کی دعوت کو موثر بنانے کے لیے درکار تھیں۔ حضرت حسن بصری نے ان صلاحیتوں سے پورا پورا کام لیا۔ انہوں نے اپنی تقریروں کے ذریعے دین اور ایمان کی دعوت دی اوراپنی محبت اور عمل سے لوگوں کی تربیت بھی کی۔ (مولانا ابو الحسن علی میاں)
بچے کی تعلیم کی نو اصول
* بچہ فطرتاً نیک ہوتا ہے، سماج میں رہ کر اچھا یا برا بنتا ہے۔
* بچے کو بچہ سمجھ کر تعلیم دینی چاہیے۔
* استاد یا تالیق کو بچے کی فطرت کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
* استاد صرف اسی کو بننا چاہیے جس کے دل میں بچے کی محبت اور معلمی کے پیشے کی عزت ہو۔
* تعلیم کو موثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچے کی فطرت کے مطابق ہو یعنی کتاب پر زور نہ ہو، بچے پر زور ہو۔
* بچے کی عزت کی جائے اور اس کے ساتھ محبت اور ہمدردی کا سلوک کیا جائے۔
* بچے کی ضرورتوں کوپورا کیا جائے نہ کہ اس کی خواہشوں کو۔
پہلے جسم اور حواس کی تربیت کی جائے اور پھر ذہن اور دل کی۔
* جسمانی سزا بالکل نہ دی جائے۔
(مفکرین تعلیم)
[حکمت و دانائی/ رفیع الزماں زبیری]
دی آرٹ آف دی قرآن
واشنگٹن امریکہ کے فریئر اینڈ سیکلر عجائب گھر میں منعقد آرٹ کی ایک نمائش میں قرآن مجید کے قدیم نسخوں اور خطاطی کے نمونوں کو پیش کیا گیا۔ مسلم و غیر مسلم دلدادگان فنون لطیفہ کی جانب سے ان کی زبردست پذیرائی ہو رہی ہے۔ فروری 2017ء تک جاری رہنے والی اس نمائش میں اس حصہ کو ’’دی آرٹ آف دی قرآن‘‘ نام دیا گیا ہے۔ اس میں پیش کیے جانے والے نمونے عراق، افغانستان اور ترکی کے میوزیم آف ٹرکش اینڈ اسلامک آرٹس سے مستعار ہیں اور کچھ اس عجائب گھر کی اپنی ملکیت ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں عثمانی سلاطین اور وزرا کی جانب سے مختلف زمانوں میں مختلف حکمرانوں کو تحفتہً پیش کیے گئے تھے۔ نمائش میں پیش کیے گئے خطاطی کے نمونوں سے خطاطی کے ارتقائی مراحل سے بھی واقفیت ہوتی ہے کہ کس دور میں خطاطی کی کس قسم کو زیادہ فروغ ملا۔ منتظمین نے اس نمائش کا مقصد خطاطی کو خراج تحسین پیش کرنا اور اسے دنیا کے سامنے متعارف کرانا بتایا ہے۔ اس کے علاوہ اس سے مختلف مذہبوں اور تہذیبوں کے مابین ربط و تعلق اور ایک دوسرے سے واقفیت اور قربت کی فضا استوار ہونے میں بھی مدد ملے گی۔
[تسنیم نیوز ایجنسی، امریکہ 25 اکتوبر 2015ء]

Share this: