(چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کی عزت نہ کرنے والا ہم میں سے نہیں ( پروفیسر عبدالحمید ڈار

Print Friendly, PDF & Email

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جو آدمی ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا احترام نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔
[ معارف الحدیث، بحوالہ ترمذی ]
پروفیسر عبدالحمید ڈار
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی رہنمائی کے لیے اسے عطا کیا ہے۔ اس کا مقصد ایک ایسا مہذب اور شائستہ معاشرہ وجود میں لانا ہے جس میں انسان کو جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ حاصل ہو اور وہ امن و سکون کے ساتھ زندگی بسر کرسکے۔ یہ ضابطۂ حیات ہر لحاظ سے جامع اور کامل و اکمل ہے۔ انسانی زندگی خواہ انفرادی ہو یا اجتماعی، کوئی پہلو ایسا نہیں جس کے متعلق اس میں ضروری ہدایات موجود نہ ہوں۔ زیر نظر حدیثِ رسول ؐ بھی معاشرتی زندگی کے ایک پہلو سے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں اِس بات کی طرف رہنمائی کی گئی ہے کہ عمر کے اعتبار سے انسانوں میں جو فرق پایا جاتا ہے وہ ہم سے کس رویّے کا تقاضا کرتا ہے۔ معاشرے میں کچھ افراد عمر میں دوسروں سے بڑے ہوتے ہیں اور کچھ چھوٹے، اس صورت میں بڑوں کو چھوٹوں کے ساتھ رحم اور شفقت کے ساتھ پیش آنا چاہیے، اپنے تجربے اور دانائی سے ان کی رہنمائی کرنی چاہیے اور ان سے اگر کوئی لغزش ہوجائے تو ڈانٹ ڈپٹ اور مارپیٹ کے بجائے عفو و درگزر سے کام لے کر محبت اور پیار کے ساتھ صحیح بات سمجھا دینی چاہیے۔ دوسری طرف چھوٹوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے بڑوں کا ادب اور احترام ملحوظ رکھیں۔ وقتِ ضرورت ان کی مدد اور دستگیری کریں، ان کی فرماں برداری کو اپنا شعار بنائیں اور ان کی سخت سست بات کو بھی دل پر نہ لگائیں بلکہ اس صورت میں وسعتِ ظرف کا مظاہرہ کریں۔
معاشرے کے بڑے اور چھوٹے افراد کے درمیان اس نوعیت کے خوش دلانہ تعلق سے معاشرہ داخلی طور پر مضبوط اور مستحکم ہوگا اور مجرمانہ حرکات کے اکثر دروازے خودبخود بند ہوجائیں گے۔ اس کے برعکس اگر افرادِ معاشرہ نفسانفسی اور انانیت کے مرض میں مبتلا ہوں گے تو پورے معاشرے کا امن و سکون غارت ہوجائے گا، معاشرتی زندگی میں تلخیاں راہ پالیں گی، افراد کے درمیان باہمی رواداری اور خوشگواری کی فضا ختم ہوجائے گی اور معاشرہ انسانوں کے لیے جہنم کدہ بن جائے گا۔ اور وہ مقصد ہی فوت ہوجائے گا جس کی خاطر اللہ رب العزت نے اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے انسانوں کو ایک اعلیٰ و ارفع ضابطۂ حیات یعنی اسلام کا تحفۂ رحمت عنایت فرمایا تھا۔ ظاہر ہے کہ ایسے گھناؤنے اعمال کا ارتکاب کرنے والے انسانوں کا امتِ مسلمہ سے کوئی سروکار نہیں ہوسکتا۔ زیرنظر حدیث کے مطابق جن افرادِ معاشرہ کا دامن ایسے سنگین جرم سے آلودہ ہوگا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدایت یافتہ امتی کہلانے کے مستحق نہیں ہوسکتے۔ اگر ہم اس حدیث میں مذکور وعید سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں ہر حال میں بڑے ہونے کی صورت میں چھوٹوں سے شفقت اور محبت کا برتاؤ کرنا ہوگا، اور چھوٹے ہونے کی صورت میں بڑوں کی عزت و توقیر کرنی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شیطان کی سیاہ کاریوں سے بچائے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ رحمت سے ہر حال میں وابستہ رکھے۔ (آمین)
اس حدیثِ پاک کے مطابق عمل پیرا ہونے والے کو اللہ کے رسولؐ نے بہت بڑی نوید سنائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جو جوان کسی بوڑھے بزرگ کا اُس کے بڑھاپے ہی کی وجہ سے ادب و احترام کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس جوان کے بوڑھے ہونے کے وقت ایسے بندے مقرر کردے گا جو اُس وقت اس کا ادب و احترام کریں گے‘‘۔
[معارف الحدیث، بحوالہ ترمذی، راوی حضرت انسؓ]

Share this: