(شیطانی وسوسہ(سید سلیمان ندوی

Print Friendly, PDF & Email

ایک نیازمند کثرت سے ذکرِ الٰہی کرتا رہتا تھا۔ حتیٰ کہ ایک دن اس پُرخلوص ذکر سے اُس کے لب شیریں ہوگئے۔۔۔ شیطان نے اسے وسوسے میں مبتلا کردیا: بے فائدہ ذکر کی کثرت کررہا ہے، تُو اللہ اللہ کرتا رہتا ہے جب کہ اللہ کی طرف سے لبیک کی آواز ایک بار بھی نہیں آئی اور نہ ہی اللہ کی طرف سے کوئی جواب ملتا ہے، پھر یک طرفہ محبت کی پینگ بڑھانے سے کیا فائدہ! یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تیرا ذکرِ الٰہی اللہ کے ہاں مقبول نہیں۔۔۔ شیطان کی ان پُرفریب باتوں سے صوفی نے ذکر کرنا چھوڑ دیا۔ شکستہ دل اور افسردہ ہوکر سو گیا۔ آنکھ سو گئی اور قسمت جاگ گئی۔
عالمِ خواب میں دیکھا کہ حضرت خضر علیہ السلام تشریف لائے اور انہوں نے دریافت کیا کہ ذکرِ الٰہی سے غفلت کیوں؟ اے نیک بخت! تُو نے ذکرِ حق کیوں چھوڑ دیا؟ آخر تُو اس ذکرِ پاک سے پشیمان کیوں ہوگیا ہے۔۔۔؟ اس نے کہا: بارگاہِ الٰہی سے مجھے کوئی جواب ہی نہیں ملتا۔ اس سے دل میں خیال آیا کہ میرا ذکر قبول ہی نہیں ہورہا ہے۔
حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا ’’تمہارے لیے اللہ عزوجل نے پیغام پھیجا ہے کہ تمہارا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہونا اور دوسرا تمہارا پہلی دفعہ اللہ کہنا قبول ہوتا ہے تب دوسری بار تمہیں اللہ کہنے کی توفیق ملتی ہے، اور تمہارے دل میں یہ سوزو گداز ہے اور میری چاہت، محبت اور تڑپ ہے۔ یہی تمہارے ذکر کی قبولیت کی نشانی ہے۔ اے بندے! میری محبت میں تیری یہ تدبیریں اور محنتیں سب ہماری طرف سے جذب و کشش کا ہی عکس ہیں۔ اے بندے! تیرا خوف اور میری ذات سے تیرا عشق میرا ہی انعام ہے اور میری ہی مہربانی و محبت کی کشش ہے کہ تیری ہر بار یااللہ کی پکار میں میرا لبیک شامل ہوتا ہے۔
تمہارے ذکر کی قبولیت کی نشانی یہی ہے کہ تمہیں ذکرِ حق میں مشغول کردیا ہے۔
جان جاھل زین دعا جز دور نیست
زانکہ یا رب گفتش دستور نیست
ایک جاہل اور غافل ذکرِ حق اور دعا مانگنے کی توفیق سے محروم رہتا ہے۔
اللہ عزوجل کے ذکر کا اجر خود اس ذکر میں ہی پوشیدہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے ذکر کی اور یاد کی توفیق اسی کو عطا کرتے ہیں جس سے خوش ہوتے ہیں اور یہی اس کی قبولیت کی دلیل ہے۔
درسِ حیات: نیکی کرنے کی توفیق بھی اللہ ہی دیتا ہے۔ شیطان ہر دم اس کوشش میں رہتا ہے کہ کسی طرح انسان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے باز آجائے۔
جب اسکندریہ فتح ہوا تو سالارِ لشکر عمرو بن العاصؓ نے معاویہؓ بن خدیج کو قاصد بناکر مدینہ بھیجا اور کہا کہ جس قدر جلدی جا سکتے ہو، جاؤ اور امیرالمومنین کو مژدۂ فتح سناؤ۔ حضرت معاویہؓ ٹھیک دوپہر کے وقت مدینے میں داخل ہوئے اور اس خیال سے کہ آرام کا وقت ہے، امیرالمومنین کے گھر نہیں گئے بلکہ مسجد نبویؐ کا رخ کیا۔ راستے میں امیرالمومنین کی لونڈی ملی، اس نے حضرت عمرؓ کو جاکر اطلاع دی کہ اسکندریہ سے قاصد آیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ جاؤ فوراً قاصد کو یہاں بلا لاؤ۔ لونڈی نے جاکر قاصد سے کہا کہ تم کو امیرالمومنین بلاتے ہیں۔ لیکن حضرت عمرؓ حالات جاننے کی جلدی میں قاصد کے آنے کا انتظار بھی نہ کر پائے بلکہ خود چادر سنبھال کر چلنے کے لیے تیار ہوئے، اسی وقت معاویہؓ آگئے۔ حضرت عمرؓ نے فتح کا حال سنا تو زمین پر گر پڑے۔ سجدہ ریز ہوکر خدا کا شکر ادا کیا۔ منادی کرکے تمام لوگوں کو مسجد میں جمع کیا۔ حضرت معاویہؓ نے فتح کے حالات بیان کیے۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ ان کو اپنے گھر لائے، کھانا کھلایا۔ کھانے سے فراغت کے بعد امیرالمومنین نے پوچھا کہ تم مدینے میں داخل ہوکر سیدھے میرے پاس کیوں نہ چلے آئے؟ حضرت معاویہؓ نے جواب دیا: چونکہ یہ آرام کا وقت ہے اس لیے میں نے خیال کیا کہ شاید آپ سوئے ہوں اور میری وجہ سے آپ کے آرام میں خلل واقع ہو۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ نے فرمایا: ’’افسوس تم میرے بارے میں یہ خیال رکھتے ہو (اگر میں دن کو سویا کروں) تو خلافت کا بار کون سنبھالے گا۔‘‘

قومِ ابراہیم علیہ السلام
حضرت نوح علیہ السلام کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام پہلے نبی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی عالمگیر دعوت پھیلانے کے لیے مقرر کیا تھا۔ انہوں نے پہلے خود عراق سے مصر تک اور شام و فلسطین سے ریگستانِ عرب کے مختلف گوشوں تک گشت لگا کر اللہ کی اطاعت اور فرماں برداری کی طرف لوگوں کو دعوت دی۔ شرقِ اردن میں حضرت لوط علیہ السلام، شام و فلسطین میں حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بھیجا، پھر اللہ کے حکم سے مکہ میں اللہ کا وہ گھر تعمیر کیا جس کا نام کعبہ ہے۔
جدید تحقیقات سے وہ شہر جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے، دریافت ہوگیا۔ اس کا نام ’اُر‘ تھا اور یہ دوہزار سال قبلِ مسیح میں آباد تھا۔ یہ جس ریاست کا صدر مقام تھا اس کی حدود موجودہ عراق سے شمال میں کچھ کم اور مغرب میں کچھ زیادہ تھیں۔ حضرت ابراہیمؑ کے زمانے میں جو شاہی خاندان اُر کا حکمراں تھا اس کے بانی کا نام نمّو تھا جو عربی میں نمرود ہوگیا۔ یہ قوم مشرک اور بت پرست تھی۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اعلان کیا کہ میں صرف ایک رب العالمین ہی کو خدا اور معبود مانتا ہوں اور اس کے سوا سب کی خدائی اور ربوبیت کا منکر ہوں تو نمرود کے حکم سے ان کو آگ میں پھینک دیا گیا، لیکن اللہ کے حکم سے آگ ٹھنڈی ہوئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کوئی نقصان نہ پہنچا۔ قومِ ابراہیم دنیا سے مٹ گئی اور ایسی مٹی کہ اس کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ کسی کو بقا نصیب ہوئی تو حضرت ابراہیمؑ اور آپ کے فرزندوں اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام کی اولاد ہی کو ہوئی۔
(سیرتِ سرورِ عالم۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ )
آئیڈیل لائف
بہتر سے بہتر فلسفہ، عمدہ سے عمدہ تعلیم، اچھی سے اچھی ہدایت زندگی نہیں پا سکتی اور کامیاب نہیں ہوسکتی اگر اس کے پیچھے کوئی ایسی شخصیت اس کی حامل اور عامل قائم نہیں ہے جو ہماری توجہ، محبت اور عظمت کا مرکز ہو۔
کسی انسانی سیرت کے دائمی نمونۂ عمل بننے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے صحیفۂ حیات کے تمام حصے ہمارے سامنے ہوں۔ جس سیرت کا عملی حصہ سامنے نہ ہو اس کو ’’آئیڈیل لائف‘‘ اور قابلِ تقلید زندگی کا خطاب نہیں دیا جا سکتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا کوئی لمحہ پردے میں نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ طاہرہ، اوصافِ عالیہ اور آدابِ فاضلہ کے بیان اور تفصیل سے احادیث کی تمام کتابیں معمور ہیں۔ ایک انسان کی زندگی کے جس قدر پہلو ہوسکتے ہیں وہ سب محفوظ اور مذکور ہیں۔
ہمارے محدثین کرام نے اپنے پیغمبر کے متعلق صحیح اور غلط سارا مواد سب کے سامنے رکھ دیا ہے اور ان دونوں کے درمیان فرق بتا دیا ہے۔
(سید سلیمان ندوی)

Share this: