بچوں کو خوش رکھنا ہے تو انہیں ورزش کا عادی بنائیں

Print Friendly, PDF & Email

ہم جانتے ہیں کہ ورزش کے بالغ افراد پر زبردست فوائد مرتب ہوتے ہیں لیکن اب ایک نئے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ اگر والدین بچوں کو مسرور اور دماغی طور پر تندرست رکھنا چاہتے ہیں تو وہ انہیں ورزش ضرور کرائیں۔ مطالعے سے انکشاف ہوا ہے کہ 6 سے 8 برس تک کے وہ بچے جو ورزش اور کھیل کود میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، دیگر بچوں کے مقابلے میں ڈپریشن اور ذہنی تناؤ سے دور رہتے ہیں۔
ناروے کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (این ٹی این یو) اور سوشل ریسرچ ڈپارٹمنٹ کے تعاون سے کیا گیا یہ مطالعہ پیڈیاٹرکس نامی جرنل میں شائع ہوا ہے۔ ماہرینِِ نفسیات کے مطابق صرف ناروے میں اس وقت 5 فیصد بچے یاسیت اور ڈپریشن کا شکار ہیں جس سے ان کی کارکردگی پر برا اثر پڑرہا ہے۔نفسیات دانوں نے 4 سال تک 6 سے 10 برس کے سینکڑوں بچوں کا جائزہ لیا اور ان میں ورزش اور ڈپریشن کے درمیان تعلق پر غور کیا۔ سروے میں 800 بچوں کا جائزہ اُس وقت شروع کیا گیا جب ان کی عمر 6 برس تھی۔ اس کے فالو اپ کے طور پر 8 سے 10 سال کے 700 بچوں سے بھی دوبارہ معلومات حاصل کی گئیں۔ اس کے علاوہ بچوں کو مسلسل 7 روز تک خاص میٹر پہنائے گئے جو ان میں جسمانی ورزش محسوس کررہے تھے۔ پھر والدین کی موجودگی میں بچوں سے کچھ سوالات کیے گئے اور اس دوران ان کی دماغی کیفیت کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین نے انکشاف کیا کہ جن بچوں نے 6 سال کی عمر میں ورزش کو معمول بنایا تھا اگلے 2 برس بعد بھی ان میں ڈپریشن اور تناؤ کے آثار نہ ملے۔ سروے میں شامل ماہرین کا اعتراف ہے کہ چھوٹی عمر میں ورزش اور جسمانی محنت کرنے والے بچے ڈپریشن سے کئی سال تک دور رہتے ہیں اور تعلیم میں بھی بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔

مصر : 10 برس سے کمر کے بَل سونے سے محروم شخص کا المیہ
مصر کے صوبے المنیا کے گاؤں الاشمونین سے تعلق رکھنے والا راضی عبدالحمید یوسف حقیقی المیے کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے۔ ایک حادثے کے نتیجے میں ریڑھ کی ہڈی کے شدید متاثر ہونے کے بعد وہ 10 برسوں سے اپنی کمر کے بل سونے سے محروم ہے۔
راضی ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی میں بغیر ہیلتھ انشورنس روزانہ کی اجرت پر کام کرتا تھا۔ 10 برس قبل کام سے واپسی کے دوران وہ اپنے ساتھیوں سمیت ٹریفک کے حادثے کا شکار ہوگیا جس کے نتیجے میں اُس کی ریڑھ کی ہڈی میں پانچواں اور بارہواں مہرہ ٹوٹ گیا اور اس کا آدھا جسم مفلوج ہوگیا۔
اس شدید چوٹ کے سبب عمر کی چوتھی دہائی میں زندگی گزارنے والا راضی اپنی کمر کے بل نہیں لیٹ سکتا۔ مستقل طور پر پیٹ کے بل سونے کے نتیجے میں وہ السر کا شکار ہوگیا۔ اب روزانہ کی بنیاد پر اس کے پیٹ کی صفائی کی جاتی ہے جس سے اس کی پریشانی میں اور اضافہ ہوگیا ہے۔ راضی کا کہنا ہے کہ اس چوٹ نے اُسے قضائے حاجت کے لیے اپنی بیٹی کا مکمل سہارا لینے پر مجبور کردیا ہے جو اسے بیت الخلاء لے جاتی ہے اور اس کا پورا جسم صاف کرتی ہے۔ راضی کے مطابق اس نے زرِِ تلافی کی وصولی کے واسطے اپنی کمپنی پر مقدمہ بھی کردیا ہے تاکہ اس حالت کے عوض ہرجانہ حاصل کرسکے جو اب ساری زندگی اس کے ساتھ رہے گی۔

مونگ پھلی کھانے سے یہ امراض آپ پر حملہ نہیں کریں گے
اگر آپ مونگ پھلی شوق سے کھاتے ہیں یا اس کے عاشقوں میں شمار ہوتے ہیں تو یقین جانیے بہت سے جسمانی امراض آپ پر حملہ آور نہیں ہوں گے۔ ان میں سرطان، زہائمر، ذیابیطس اور امراض قلب اہم ترین ہیں۔ یہ بات Egyptian Society of Allergy and Immunology کے رکن ڈاکٹر مجدی بدران نے العربیہ کو بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے سائنسی تحقیقی مطالعوں سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مونگ پھلی ایسے اہم اور بڑے غذائی عناصر سے بھرپور ہوتی ہے جو انسانی جسم کے مدافعتی نظام کی قوت میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہ دل اور خون کی شریانوں کے امراض، زہائمر اور سرطان سے بچاتی ہے اور بڑھاپے کے اثرات کو کم کرتی ہے۔ ڈاکٹر بدران نے باور کرایا کہ مونگ پھلی کا چھلکا اینٹی آکسیڈنٹس کا حامل ہوتا ہے۔ اس کا روغن پروٹین، اینٹی آکسیڈنٹس اور جسم کے لیے اہم معدنیاتی نمکیات سے بھرپور ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مونگ پھلی میں ریشے کی بھی وافر مقدار پائی جاتی ہے جو وزن کم کرنے اور دمے سے تحفظ فراہم کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔
بدران کے مطابق قدرت کا یہ انمول تحفہ اپنے اندر ’’ٹرپٹوفان‘‘ (ایک قسم کا تیزاب جو لحمیات میں پایا جاتا ہے) بھی رکھتا ہے جو جسم میں سیروٹونِن مادہ پیدا کرتا ہے۔ یہ مادہ انسان کو مایوسی اور اعصابی تناؤ کی حالت سے بچا کر مزاج کو نارمل رکھتا ہے۔

دل کے خراب جین کے سبب اچانک موت کا خطرہ
برطانیہ میں ایک رفاہی ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ ملک میں چھ لاکھ سے زیادہ افراد خراب جین کے سبب امراض قلب یا اچانک موت کے خطرے سے دوچار ہیں، اور ان میں سے زیادہ تر اس بات سے لا علم ہیں۔ برطانوی ہارٹ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ پہلے جو اندازہ لگایا گیا تھا اُس سے ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ افراد میں ایسے امراضِ قلب کا خدشہ ہے جس سے اچانک موت واقع ہوسکتی ہے۔
ادارے کے مطابق ورثے میں ملنے والی اس بیماری کے بارے میں اب زیادہ معلومات موجود ہیں۔ ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خراب جین والے افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ ابھی تک اس کی جانچ پوری نہیں ہوسکی ہے۔ ہر ہفتے برطانیہ میں 35 سال یا اس سے کم عمر کے بظاہر 12 صحت مند اشخاص کی اچانک دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوجاتی ہے اور جس کی کوئی وجہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان کا دل کتنا صحت مند تھا یا اس کی کیا حالت تھی اس کی جانچ نہیں کی گئی تھی۔ ادارے کے ڈائریکٹر پروفیسر نیلیش سمانی نے کہا: ’’سچائی یہ ہے کہ برطانیہ میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جنھیں یہ علم نہیں کہ وہ اچانک موت کے خطرے سے دو چار ہیں‘‘۔ انھوں نے کہا: ’’اگر اس مرض کا پتا نہیں چلا اور اس کا علاج نہیں کیا گیا تو یہ مہلک ہوسکتا ہے اور کنبوں کے لیے سوہانِ روح بن سکتا ہے۔‘‘
انھوں نے مزید کہا: ’’ہمیں فوری طور پر اس بیماری کے بارے میں بہتر فہم کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ ہم زیادہ دریافت کرسکیں، نئے علاج تیار کرسکیں اور زیادہ زندگیاں بچا سکیں۔

Share this: