(اہل علم کی مطالعاتی زندگی عرفان احمد بھٹی (عبدالرؤف

Print Friendly, PDF & Email

اﷲ کے فضل وکرم سے میری پیدائش ایک دین دار، علمی گھرانے میں ہوئی۔ والد محمد سلیم عبداﷲؒ روایتی دین دار یا مولوی نہیں تھے۔ ان کا تعلق غازی پور سے تھا، اور وہ میرے دادا مرحوم کے ساتھ وہاں سے ہجرت کرکے غیر منقسم ہندوستان کے صوبے سی پی (Central province) کے شہر امراؤتی میں بس گئے تھے۔ یہاں اکثریت ہندوؤں کی تھی۔ مسلمانوں کی آبادی چار فی صد کے لگ بھگ تھی۔ ہندوستان کی زبان مراٹھی تھی، لیکن مسلمان جنوبی ہند/ حیدرآباد دکن جیسی اُردو بولتے تھے۔ تاہم ہمارے گھرانے پر یوپی کی اُردو ہی کے اثرات رہے، اور ہماری اُردو مقامی اُردو سے کچھ مختلف رہی۔ میرے ننھیال کے بزرگ قاضی تھے اور دہلی سے یہاں آکر بس گئے تھے۔
میرے والد نے ابتدائی تعلیم امراؤتی ہی میں حاصل کی، پھر انہوں نے مولوی محمد شفیع مرحوم (اورینٹل کالج لاہور) سے خط کتابت کی اور اُنہیں اس کالج میں داخلہ مل گیا۔ مولوی محمد شفیع صاحب نے کہا کہ سی پی سے آکر یہاں داخلہ لینے والے آپ پہلے طالب علم ہیں۔ وہاں اُنہیں ہاسٹل میں بھی داخلہ دیا گیا۔ وہاں سے والد صاحب نے فارسی میں فاضل کی سند لی۔ امراؤتی میں انہیں نارمل اسکول (ٹیچرز، ٹریننگ اسکول) میں مُعلم ادبیات کی حیثیت سے ملازمت مل گئی۔ انہوں نے اُردو کی درسی کتابیں (’’نئی کتاب‘‘) لکھیں جو نول کشور پریس لکھنؤ سے شائع ہوئیں۔ ان کے علاوہ اُردو کیسے پڑھائیں، اور مختلف موضوعات پرمنتخب قرآنی آیات کا مجموعہ ’’ال۔بینات‘‘ شائع کیا۔ وہ اپنے ادارے کے تعلیمی مُجلے ’’بہارستان‘‘کے مدیر بھی تھے۔ یہاں انہوں نے ’’ادارہ قرآنیہ‘‘ بھی قائم کیا تھا جو قرآنی احکام وآیات سے متعلق ’’ذکریٰ‘‘ کے عنوان سے چھوٹے چھوٹے رسائل بھی شائع کرتا تھا۔ اس ادارے کا ایک کتب خانہ بھی تھا۔
مطالعے کا شوق مجھے والدین سے ورثے میں ملا تھا۔ والد صاحب جن جرائد کو دیکھتے تھے، اُن میں جامعہ(دہلی)، معارف (اعظم گڑھ)، ترجمان القرآن (حیدرآباددکن/لاہور)، ہمایوں (لاہور)، اورینٹل کالج میگزین ( لاہور)، نگار (لکھنؤ)، اور صدق/صدق جدید شامل تھے۔ والدہ صاحبہ اور بڑی بہن کے لیے’’عصمت‘‘ اور ’’تہذیبِ نسواں‘‘ آتے تھے۔ راشد الخیری، ڈپٹی نذیر احمد اور خواجہ حسن نظامی کی تحریروں سے میرا تعارف لڑکپن ہی میں ہوگیا تھا۔ اپنی خالہ جان سے ’’عذرا‘‘(She) اور’’عذرا کی واپسی کی داستانیں‘‘ کئی دن قسطوں میں سنیں۔ نہ صرف گھرکا ماحول مطالعے میں ممد و معاون تھا، بلکہ جن مدارس میں مَیں نے تعلیم پائی، وہاں بھی اچھے کتب خانے دیکھے۔ نارمل اسکول کی لائبریری سے منسلک میرے والد مرحوم کا کمرہ تھا۔ وہاں کتابیں دیکھنے، کھولنے اور اُلٹ پلٹ کرنے پر کوئی پابندی نہ تھی۔ گھر میں بھی والد مرحوم کی اچھی خاصی نجی لائبریری تھی۔ تقسیم کے بعد ہم اس ذخیرے کا ایک مختصر سا حصہ ہی ساتھ لاسکے۔ باقی کتابیں جہاں رکھوائی گئی تھیں کہ حالات بہتر ہوں گے تو منگوا لیں گے، فسادیوں کی لُوٹ مار میں ضائع ہوگئیں۔
مطالعے کا شوق چوں کہ بچپن سے تھا، اس لیے کسی خاص موضوع کو ہدف بناکر نہیں پڑھا، جو کتاب سامنے آئی اُلٹ پلٹ کر دیکھی اور جہاں تک دل چسپی ہوئی، مزا آیا پڑھنے لگے، ورنہ رکھ دی۔ ’’تذکرہ غوثیہ‘‘ سے لے کر ’’الف لیلہ‘‘ تک لڑکپن ہی میں پڑھ ڈالیں (والدہ صاحبہ نے میرے ہاتھ میں ’’الف لیلہ ولیلہ‘‘ دیکھی تو کہا: کہاں سے یہ واہیات کتاب لے آئے ہو؟ ابا مرحوم نے کہا پڑھنے دو۔
مطالعے کے ضمن میں میرا کوئی مخصوص موضوع نہ تھا۔ تاریخ و سوانح سے لے کر دینیات، سیاسیات، ادب (تنقید)، شاعری، ناول، افسانے۔۔۔ غرض ہر طرح کا رطب ویابس پڑھنے کی کوشش کی۔ کچھ سمجھ میں آتا تھا اورکچھ نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پہلے ایم۔ اے کے لیے میں نے ایک بہت ہی معمولی مضمون کے لیے ’’تخصیص‘‘کی۔ فلسفہ مابعد الطبیعیات کے علاوہ اورکون سے علوم ہیں، جنہیں پھلانگنے کی کوشش نہیں کرتا؟
(Philosopher are the spectators of all time and all existence)
ایک طویل علالت کی وجہ سے ’’اُردو ہائی اسکول‘‘ امراؤتی میں آٹھویں جماعت ہی سے میرا رسمی تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا تھا، لیکن پڑھائی کا سلسلہ نہ رُکا۔
قرآن مجید تو گھر پر مولوی صاحب آکر پڑھا جاتے تھے، والد صاحب نے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھایا۔ اُن کا خیال تھاکہ اُردو جاننے والوں کے لیے قرآنی عربی کو سمجھ لینا زیادہ مشکل نہیں۔ عربی زبان کے بہت سے الفاظ جو قرآن مجید میں ہیں، اُسی مفہوم یا ملتے جلتے مفہوم میں اُردو میں بھی مستعمل ہیں (حمد، اﷲ، رب، عالم/عالمین ایسے سینکڑوں الفاظ) تھوڑے ہی الفاظ ایسے ہیں جن سے اُردو داں قطعاً ناآشنا ہوں گے۔
عربی کے تھوڑے سے قواعدِ زبان سے آشنا کرکے کسی طالبِ قرآن کو آسانی سے مضامین و مفاہیمِ قرآن تک لے جایا جاسکتا ہے۔ اس طرح انہوں نے نہ صرف مجھے بلکہ بہت سے شائقین کو قرآن کریم کی تعلیم دی اور اسی اُصول پر ’’مصباح القرآن‘‘ مرتب کی، جو زیر طبع ہے۔ یہ نہ صرف ایک منفرد قرآنی لُغت ہے، بلکہ قرآنی/ عربی گرامر کی ایک ایسی کتاب ہے، جس سے استفادہ کرکے اُردو دان قرآن کے مطالب تک خود آسانی سے پہنچ سکتے ہیں۔ یعنی قرآن کا خود ترجمہ سمجھ اور کرسکتے ہیں۔
تقسیم ملک کے کچھ عرصے بعد ہمیں’’آزاد‘‘ ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آنا پڑا۔ والد صاحب نے وقت سے پہلے ہی پنشن لے لی تھی۔ یہاں ہم اپنے عزیزوں کے ساتھ ایک فلیٹ میں منتقل ہوگئے۔ والد صاحب نے کراچی کے ’’دہلی پنجاب نیشنل ہائی اسکول‘‘ میں میٹرک میں داخل کرادیا۔ یہ ایک نجی تعلیمی ادارہ تھا۔ مالکان جو پڑھے لکھے اور ہمدرد استاد بھی تھے، دہلی سے تعلق رکھتے تھے اور پنجاب میں میٹرک کے طلبہ کو تیار کرتے تھے۔ طلبہ سے اساتذہ کی شفقت و محبت مثالی تھی۔ اسکول میں طلبہ کی نشست فرشی تھی۔ دریاں صاف ستھری ہوتی تھیں۔ اُوپر ٹین کی چھت تھی۔ اسکول میرے گھر سے کوئیپانچ میل دُور ہوگا۔ پیدل جاتے تھے اور راستے میں جیومیٹری کی تھیوریز دُہراتے اور دوسرے سبق یاد کرتے جاتے تھے۔ آج دیکھتا ہوں کہ بچے ایک آدھ کلومیٹرکے لیے بھی بس کے بغیر سفر نہیں کرتے۔
جتنی محنت اور یکسوئی سے پڑھائی کی، شاید پھر نصیب نہ ہوئی۔ لاہور جاکر امتحان دیا۔ اسکول مالکان ساتھ گئے۔ انہوں نے طلبہ کے ٹھیرنے کے لیے ایک اسکول میں انتظام کیا تھا۔ رات کو وہ ’’کوچنگ‘‘ کرتے اور صبح کو ہم طلبہ امتحان دینے جاتے۔ میٹرک میں میری فرسٹ ڈویژن آئی۔ اس میں بڑا دخل مشفق اساتذہ اور اسکول کے منتظمین کا تھا۔ آج چاروں طرف نظر ڈالتا ہوں تو ایسے نجی تعلیمی ادارے نظر نہیں آتے۔ سرکاری اسکول بدنام ہوگئے ہیں کہ ان میں پڑھائی نہیں ہوتی، اساتذہ دل چسپی نہیں لیتے۔ اُنہیں اپنی کوچنگ/ ٹیوشن میں زیادہ دل چسپی ہے، یا اپنا کوئی دوسرا کاروبار ہے جو اُن کے اوقات اور محنت کا بہتر مصرف ہے۔ ہر طرف پرائیویٹ اسکولوں اور کوچنگ سینٹروں کی بھرمار ہے۔ اچھے اور معیاری اسکول غریب توکیا متوسط طبقے کی پہنچ سے بھی دور ہیں۔
میٹرک کے بعد سندھ مسلم کالج کراچی میں داخلہ لیا۔ معاشیات، شہریت اور عربی میرے مضمون تھے۔ یہاں بھی اساتذہ اچھے اور محنتی تھے۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحان بھی جامعہ کراچی لیا کرتی تھی، ابھی ان کے لیے بورڈ وجود میں نہیں آئے تھے۔ انٹر بھی میں نے فرسٹ ڈویژن میں کیا اور پہلی پوزیشن لی۔ اُس زمانے کا ایک واقعہ میرے دل پرنقش ہے۔ ہماری مالی حالت بہت اچھی نہ تھی۔ سال کی 144روپے فیس بھی ایک بڑی رقم محسوس ہوتی تھی۔ کالج میں داخلے کے کچھ دن بعد نوٹس بورڈ پر اطلاع دیکھی کہ فیس کی معافی یا نصف فیس کے لیے درخواست کے فارم دفتر سے لیے جاسکتے ہیں۔ میں نے ایسا فارم لیا، اُسے پُرکیا۔ ایک جگہ والد کے دستخط ہونے تھے۔ ابا مرحوم کے پاس لے گیا۔ پوچھا کاہے کا فارم ہے؟ میں کہا: فیس کی معافی کے لیے درخواست ہے۔ فرمایا: ہم نے تمہیں کالج میں داخل کرایا تو اخراجات کا اندازہ کرلیا تھا۔ ہم فیس معاف نہیں کروائیں گے۔ یہ رقم کسی حقیقی مستحق کے کام آئے گی۔
بی۔ اے میں میرے اختیاری مضامین معاشیات اور فلسفہ تھے۔ فلسفہ میں ایک پرچہ ’’نفسیات‘‘ کا بھی ہوتا تھا جسے پروفیسر فضل الرحمن پڑھاتے تھے۔ وہ عرصے تک انگلستان میں رہے تھے اور سنہرے بالوں اور نیلی آنکھوں سے یورپین معلوم ہوتے تھے۔ سائیکل پرکالج آتے۔ اُس زمانے میں اساتذہ بسوں اور سائیکلوں ہی پر کالج آتے تھے۔ دوسرا پرچہ ’’اخلاقیات‘‘ پروفیسر جمیلہ خاتون پڑھاتی تھیں۔ بعد میں انہوں نے اقبال پر تحقیقی مقالہ لکھا اور پی۔ ایچ۔ ڈی کی سند لی۔ اسلامیات جو لازمی مضمون تھا مولانا یحییٰ ندوی جیسے قابل استاد پڑھاتے تھے۔ یہیں میری ملاقات اور دوستی ظفراسحق انصاری، منظوراحمد، معروف فلسفی سابق ریکٹر انٹرنیشنل اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد، ڈائریکٹر ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد، خورشید احمد معروف اسکالر سینیٹر، خرم جاہ مراد، محمد مسلم سجاد معروف اسکالر، سید محمد ےٰسین اور بہت سے دوستوں سے ہوئی۔ ظفر اسحق کے والد صاحب مولانا ظفر احمد انصاری کے ہاں اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ وہیں ماہرالقادری مرحوم اور بہت سے دوسرے لوگوں سے تعارف ہوا۔ سندھ مسلم کالج ہمارے گھر سے کوئی ڈھائی میل دور تھا۔ پیدل ہی آناجانا رہتا تھا۔
جامعہ کراچی میں ایم۔ اے شعبہ فلسفہ میں داخلہ لیا۔ ڈاکٹر محمد محمود احمد (ایم۔ایم۔احمد) صدر شعبہ تھے۔ اساتذہ میں طیب حسین انصاری معروف فلسفی اور انیس احمدصاحب کے علاوہ مولانا فضل الرحمن (اسلامک مشن) اور فادر ریمنڈ(سینٹ پیٹرکس، نفسیات) سے پڑھنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ جامعہ کراچی کی اپنی کوئی عمارت نہیں تھی۔ پرنس اسٹریٹ، ڈاؤ میڈیکل کالج/ سول ہسپتال کے قریب رنچھوڑ لین کی کچھ متروکہ عمارتوں میں جامعہ کے مختلف شعبے اور دفاتر تھے۔ وائس چانسلر اے۔ بی۔ اے۔ حلیم (ابا حلیم) بھی یہیں بیٹھتے تھے۔ اساتذہ اور انتظامیہ کے افراد میں بڑی سادگی تھی۔ہمارے صدرِ شعبہ تانگے/ گھوڑاگاڑی میں کینٹ اسٹیشن کے قریب اپنی رہائش گاہ سے جامعہ آتے، اور اسی طرح واپسی ہوتی۔ اکثر شیروانی اور ترکی/ رومی ٹوپی میں ہوتے۔ کبھی کبھی سوٹ یا آکسفورڈ کا بلیزر بھی پہن کرآتے۔ وہ وائس چانسلر پروفیسر اے بی اے حلیم کے بھانجے تھے اور دونوں ایک ہی متروکہ (دومنرلہ) عمارت میں رہائش پذیرتھے۔ لیکچرر بننے کے بعد بھی اکثر ڈاکٹر صاحب کے گھر جانا ہوتا تھا۔ گاندھی گارڈن کے قریب جہاں ہمارا فلیٹ تھا، وہاں سے پیدل ہی آمدورفت ہوتی تھی۔ ناظم آباد منتقل ہوگئے تو صدر تک بس میں، اور وہاں سے پیدل اپنے استاد کے گھر جاتے تھے۔
ایم۔ اے کرنے کے فوراً بعد ہی مجھے عثمانیہ کالج میں فلسفہ پڑھانے کے لیے ملازمت مل گئی۔ ایک دن والدہ صاحبہ نے اخبار میں اشتہار دیکھا توکہا: سرکاری کالج میں لیکچررشپ کے لیے درخواست کیوں نہیں دے دیتے؟ میں سندھ کے نظامتِ تعلیم (سعید منزل، بندرروڈ) گیا۔ ڈائریکٹر نظامانی صاحب سے ملا۔ اﷲ انہیں جنت نصیب کرے، بڑی محبت سے ملے اور جلد ہی مجھے تقرری خط مل گیا۔ اُس زمانے میں ’’رسمیات‘‘ نہ ہونے کے برابر تھیں۔ اس طرح گورنمنٹ کالج نواب شاہ میں میری پہلی (سرکاری) تقرری ہوئی۔ اس کے بعد سندھ کے کئی کالجوں میں تدریس کے لیے جانا ہوا۔ میرا مشاہدہ تھا کہ سندھ کے سرکاری کالجوں کے کتب خانے بڑے معیاری ہوتے تھے۔ نہ صرف کتابیں بلکہ ملکی اور غیرملکی جرائدکی خریداری عام بات تھی۔ کتب خانوں کے لیے بڑی رقوم رکھی جاتی تھیں۔ اور انگریزی اور اُردو کتابوں کی خریداری کوئی مسئلہ نہیں تھی۔ بدقسمتی سے یہ بات اب ماضی کی داستان ہے۔
اﷲ کا فضل وکرم ہی ہے کہ میرا بچپن، لڑکپن اور موجودہ عمر کو کتابوں کا ماحول میسر ہوا۔ لڑکپن میں عرب شاعر متنبی کا ایک شعر پڑھا تھا کہ دنیا میں نشست کے لیے برق رفتار گھوڑے کی پیٹھ سے بہترکوئی جگہ نہیں، اور زمانے میں بہترین دوست کتاب ہے۔ مختلف ادوار میں میری پسندیدہ کتابوں میں الف لیلہ، قصر صحرا (عظیم بیگ)، صنوبرکے سائے، میری ناتمام محبت (حجاب امتیاز علی)، فسانہ آزاد (رتن ناتھ سرشار)، واردات، دودھ کی قیمت (منشی پریم چند)، میرے بھی صنم خانے، آگ کا دریا (قراۃ العین حیدر)، Portait of a lady (ہنری جیمز)، آرتھرکائن ڈائل (شرلاک ہومز والے)کی ساری کتابیں، جیمرمچنرکی اور ابن صفی کی ساری کتابیں، ایم اسلم اور نسیم حجازی کے ناول، پطرس بخاری، قدرت اﷲ شہاب، مختار مسعود، ممتاز مفتی، اشفاق احمد کی کہانیاں نوجوانی میں پڑھیں۔ انگریزی رسائل میں Reader’s Digest اور پھر بعد میں News week میرے پسندیدہ رسائل تھے۔ بعد میںEconomist سے تعارف ہوا، اور میرا خیال ہے کہ ہفت روزوں میں یہ بہت اچھا رسالہ ہے۔
میرا زیادہ تر مطالعہ اُردو اور انگریزی زبانوں میں ہے۔ ابتدا میں کچھ کلاسیکی عربی ادب سے شناسائی ضرور تھی۔ اس کے علاوہ فارسی کی بھی کچھ ابتدائی کتابوں کا مطالعہ کیا تھا۔ میرا خیال ہے کہ اچھی اُردوکے لیے عربی اور فارسی سے آشنائی بھی ضروری ہے۔ بدقسمتی سے آج تعلیم کی شاہراہ (mainstream) میں ان دونوں زبانوں سے بے اعتنائی برتی جارہی ہے، لیکن وہ معیاری/ علمی اُردو سے نابلد ہوگئے ہیں، اور نہ صرف یہ کہ وہ پچھلی (بیسویں) صدی کے اُردو علمی ورثے سے محروم ہوتے جارہے ہیں بلکہ اپنی ’’قومی‘‘ سرکاری زبان میں سنجیدہ علمی افکار کے اظہارکے قابل بھی نہیں رہے۔
سنجیدہ ادب میں جن مصنفین اور تحریروں نے مجھے متاثرکیا، ان میں شیخ احمد سرہندی(مکتوبات اوردوسرے رسائل)، شاہ ولی اﷲ کی بعض تحریریں، مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا عبدالماجد دریاآبادی، مولانا جعفر پھلواری، مولوی محمد علی لاہوری (خصوصاً سیرۃ پر اُن کی تصنیف، اُن کی تفسیر کے بعض افکارسے مجھے اختلاف ہے جہاں وہ سرسید اور جدیدیت سے متاثر محسوس ہوتے ہیں)، ڈاکٹرحمیداﷲ (خصوصاً ’’عہدِ نبوی میں نظام حکمرانی‘‘ اور ’’خطباتِ بہاولپور‘‘)، شبلی اور سید سلیمان ندوی کی ’’سیرت النبیؐ‘‘، تفاسیر میں مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی کا ایک منفرد مقام ہے۔ تفہیم القرآن بلاشبہ تفسیری ادب میں ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم ایک طویل دورانیے میں تکمیل پذیر ہونے کی وجہ سے بعض مقامات پر وہ اپنی ابتدائی انقلابی فکر سے ہٹے ہوئے نظرآتے ہیں۔
مطالعہ فلسفہ کے ابتدائی دورمیں، مَیں اقبال کے خطبات سے بھی متاثر تھا۔ لیکن بعد میں زیادہ مطالعہ سے اُن کی’’نثرفکر‘‘کی کمزوریاں بھی نظر آئیں، خصوصاً اُن کے بعض اجتہادات۔ لڑکپن میں دیوان حماسہ، متنبی اور مقامات بدیع الزمان حمدانی اور اس طرح کے عربی ادب کے کچھ حصے پڑھے تھے۔ فارسی میں گلستان بوستان اورکچھ غالب کا کلام (فارسی) آج اقبال کی اصل اسلامی فکر اور اُن کی’’روشن خیالی‘‘کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جب کہ ’’جدید ترکی‘‘کی جمہوریت سے اُن کی اثرپذیری کو بعض لوگ مرعوبیت کا نام بھی دے سکتے ہیں، جب کہ یہ اُن کی حقیقی فکر نہ تھی۔ اپنے شعر میں تو علامہ نصیحت فرماتے ہیں:
گُریز از طرزِجمہوری غلامے پختہ کارے شو
کہ از مغز دو صد خر فکرِ انسانی نمی آید
اس طرح اور بھی کئی باتیں ہیں اور مسائل پر اُن کے اجتہاد نیم پختہ ہی محسوس ہوتے ہیں، تاہم شعر میں اُن کی فکر اکثر ’’الہامی‘‘ محسوس ہوتی ہے، اور خیال ہوتا ہے کہ ’’آفاقی دانش‘‘ جو ایک ماورائی تصور ہے اپنے اظہارکے لیے کسی کو اپنا ذریعہ (medium) بنا لیتی ہے، چاہے وہ شخص اپنی عمومی ذہانت اور زندگی میں اُس معیار، افتاد اور کردارکا نہ ہو جیساکہ وہ اپنے کلام میں نظر آتا ہے۔ بقول غالب
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریرخامہ نوائے سروش ہے
وہ کتابیں جو عموماً میرے بستر پہ ہوتی ہیں،کلیاتِ اقبال اور دیوانِ غالب ہیں۔ ہندوستان میں جہاں ہمارے لیے کتابیں آسانی سے دستیاب نہ تھیں، والد صاحب نے اچھے کاغذ کی ایک مجلد کاپی مجھے دی اور اقبال کی ’’اسرارخودی‘‘۔۔۔ اور فرمایاکہ اس کتاب کو نقل کرلو (فوٹوکاپی اُس زمانے میں نہیں ہوتی تھی)۔ کچھ صفحات ابا نے لکھے اور بیشترمیں نے۔ اس طرح اقبال کے فارسی کلام کی کچھ شدبد لڑکپن ہی میں ہوگئی تھی۔ ’’اسرارِ خودی‘‘ کا والدصاحب نے اُردو میں ترجمہ کیا تھا۔ یہ اور ’’رموزِِ خودی‘‘ دونوں مجھے بے حدپسند ہیں۔ اقبال کی نظموں میں ’’شکوہ‘‘ اور ’’جوابِ شکوہ‘‘، ’’مسجدِقرطبہ‘‘ اور ’’سوز و ساز ‘‘، ’’طلوع اسلام‘‘۔ میرے خیال میں فکروفن کویکجا کرکے دیکھا جائے علامہ اقبال دنیا کے سب سے بڑے شاعر ہیں،کم ازکم اُردواورانگریزی شاعری میں، جس کاکچھ میں نے مطالعہ کیاہے،اس کے حوالے سے۔ یوں غالب، ذوق، داغ اور میر،کی کچھ غزلیں (کلیات میرکودیکھ کر مایوسی ہوئی)۔نئے شعرامیں فیض احمدفیض(جوش کے ہاں الفاظ کاشکوہ اورجادوزیادہ ہے)۔انگریزی شاعری عموماً پھیکی اور طفلانہ محسوس ہوتی ہے۔ شیکسپےئرکے کئی ڈرامے پڑھے لیکن اس کاجولیس سیزر مجھے اچھالگا۔
حالی کی مسدس مدوجزر اسلام کا خاصا حصہ بچپن میں زبانی یاد تھا۔ خصوصاً یہ نعتیہ شعر ’’وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا، مرادیں غریبوں کی بر لانے والا‘‘ میرے خیال میں اُردو کی بہترین نعتیہ شاعری میں شمارکیے جانے کے لائق ہے۔ اپنے فکری تضادات کا اعتراف ہے۔ ایک طرف تو روایتی علماء میں مولانا اشرف علی تھانوی (ان کی ’’ بہشتی زیور‘‘ ہمارے ہاں جہیز میں ضرور دی جاتی تھی، اور میرا خیال تھاکہ اس طرح کی کوئی کتاب یا اس کا کوئی نظرثانی شدہ/ ترمیم شدہ ایڈیشن اب بھی اس مقصدکے لیے کارآمد ہوگا) پسند تھے، اور دوسری طرف سرسید، ابوالکلام آزاد، مولانا مودودی، شبلی نعمانی، سیدسلیمان ندوی،گاندھی جی کی تلاش حق، علی شریعنی(On the sociology of islam Hagerism)، کارل مارکس، میکس ویبرجیسے مفکراورمصنف۔
مفکرین میں مجھے سقراط، افلاطون اورکانٹ نے متاثر کیا۔ سقراط کی زندگی اور تعلیمات (اگر اس میں سے افلاطون کے حشو و زوائد نکال دیے جائیں) پیغمبروں کی سی نظرآتی ہے۔ کانٹ کے فلسفۂ اخلاق کی اسلامی تعلیمات سے کافی مماثلت ہے۔ ان کے علاوہ جارج برکلے کی تصوریت پڑھنے میں مزا آتاتھا۔ اگرچہ میں نے اس کے ’’نتائجیت‘‘ کے فلسفے سے کبھی کلی طور پراتفاق نہیں کیا۔ کارل مارکس اور اینجلزکے فلسفے کی تمام تر جزئیات سے مجھے اتفاق نہیں لیکن میں انہیں عظیم (اورمخلص) فلاسفر میں شمار کرتا ہوں۔ میں نے مارکس کیCapitalکی پہلی جلد اورکئی دوسری تحریریں پڑھیں، اور اُن سے متاثرہوا۔ عصری مفکرین میں سی۔ ڈبلیو۔ ملزکی تحریروں میں گہرائی اورسچائی محسوس کی۔ کمرۂ جماعت میں ایک دفعہ رُشدی کی The Satanic versaکاذکر آیا۔ میں نے نہیں پڑھی تھی۔ ایک طالبہ نے مجھے پڑھنے کو دی۔ غصہ تو کیا آتا، سچ تویہ ہے کہ یہ کتاب مجھ سے پوری پڑھی ہی نہیں گئی۔ نہایت غیر دل چسپ اور غیر معقول لگی۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کی ایک طرح کی شہرت اور’’پذیرائی‘‘کیوں ہوئی۔
جو کتابیں اور تحریریں مجھے اچھی لگتی ہیں، میں چاہتا ہوں کہ دوسرے بھی انہیں پڑھیں۔ اس کے لیے میں اکثر وہ کتابیں، تحریریں اپنے عزیزوں اور حلقۂ احباب میں دیتا ہوں، یا انہیں متعارف کراتا ہوں۔ اگر تحریر چھوٹی ہو تو اس کی تصویری نقل دے دیتا ہوں۔ کتابیں تحفتاً بھی دیتا رہتا ہوں۔ ایک عرصے سے شادی اور خوشی کے دوسرے مواقع پر میں قرآن مجید (خصوصاً مولانا مودودی کی ’’ترجمانی‘‘ کے ساتھ) ہدیہ کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ اب وہCDsبھی تحفے میں دیتا ہوں، جن میں قرأت قرآن مجیدکے ساتھ ساتھ مولانا کی تفسیر’’تفہیم‘‘ ہے۔ میری تعلیم کا آغاز تو ہندوستان میں میرے والدمرحوم کی اُردو اور اسلامیات کی کتابوں سے ہوا تھا، جو اُس وقت وہاں اسکولوں میں مروج تھیں۔ میری خوش قسمتی اور اعزاز تھا کہ پاکستان میں آکر یہاں درسیات کی تدوین اور تالیف میں مَیں نے ان کے ساتھ کچھ کام کیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میں اُن کی فکر اور فہمِ دین اور اسلوبِ زندگی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ شیخ احمد سرہندیؒ سے اُنہی نے مجھے متعارف کرایا تھا، اور اُن کی فکر پرکام کرنے کو آمادہ کیا تھا۔ اُن کے دوست اور میرے بزرگ ڈاکٹرغلام مصطفی خاںؒ نے، مجھے حضرت مجدد کے ’’مکتوبات‘‘کا مشہور امرتسر ایڈیشن اور ان کی کئی فارسی تحریریں دیں۔ کچھ کتابیں اس سلسلے کے ایک اور بزرگ حاجی محمد اعلیٰ نے بھی عنایت کیں۔ میرے دوست خالد اسحق ایڈووکیٹ مرحوم نے مجھے اپنا نہایت قیمتی اور بہت منظم کتب خانہ استعمال کرنے کی کھلی اجازت دی تھی۔ اور میرے لیے ایک گوشہ مخصوص کرادیا تھا جہاں میں نے اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے کی نوک پلک درست کی، اور اسے تکمیل کو پہنچایا۔ خالد اسحق صاحب میرے خیال میں پاکستان یا شاید آج کی دنیا میں خدا بخش لائبریری پٹنہ کے استثنیٰ کے ساتھ جو میں نے نہیں دیکھی، سب سے بڑی نجی لائبریری رکھتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ یہ کتب خانہ کراچی ہی میں رہے اور یہاں لوگ اس سے مستفید ہوں۔ مگر ان کی وفات کے بعد (اُن کے قریبی دوست سعید صاحب کی کوششوں کے علی الرغم) اُن کے بچوں کی مرضی سے کتابوں کا یہ قیمتی ذخیرہ لاہور کے ایک تعلیمی ادارے کی تحویل میں چلاگیا۔
میرے پاس کتابوں کا کوئی بڑا ذخیرہ تو نہیں۔ والد مرحوم کی وہ کتابیں ہیں، جو ہندوستان سے یہاں آسکیں۔ چند سو میری کتابیں ہوں گی۔ ان میں شبلی، سید سلیمان ندوی، مولانا مودودی کی کتابیں، فلسفہ، تاریخ اورمتفرق موضوعات پرکتابیں اور جرائد، دائرہ معارف اسلامیہ جیسی کتابیں شامل ہیں۔ لیکن اب کتابوں کو سنھبالنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔
میں عاریتاً کتابیں صرف ’’معتبر‘‘ لوگوں ہی کو دیتا ہوں۔ تاہم محسوس ہوتا ہے کہ میرے علم و ایما کے بغیر بھی بعض ’’شائقین‘‘ کتابیں لے جاتے ہیں، اور واپس نہیں کرتے۔ اس کا علم اُس وقت ہوتا ہے جب اُس کتاب کی ضرورت پڑتی ہے، اور وہ ’’غائب پائی جاتی‘‘ ہے۔ میری لکھی ہوئی بعض کتابیں بھی اب میرے پاس نہیں۔ ایک اہم کتاب جس کا اب بدل شاید نہ مل سکے ’’تفہیم القرآن‘‘ (مولانا مودودی)کے پہلے ایڈیشن کی وہ پہلی جلد ہے، جس پر خود مولانا مودودیؒ اور پبلشر قمرالدین صاحب کے دستخط تھے، ایک صاحب ’’درس‘‘ کے لیے لے گئے، اور پھر واپس نہ آئی۔
مطالعے کے لیے کوئی مخصوص اوقات نہیں، جب بھی موقع مل جائے اور جو موزوں کتاب دست یاب ہو، پڑھ لیتا ہوں، لیکن رات سونے سے پہلے (بعض اوقات دیر تک) پڑھنے کی عادت ہے۔ دن میں پڑھنے کی نشست عموماً میز، کرسی پر اور رات میں بھی اس طرح یا لیٹ کر مطالعہ کرتا ہوں۔
عام تعلیم یافتہ افرادکے لیے میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ رات میں یا دن کے فرائض میں سے جو وقت وہ نکال سکیں، مطالعے کی عادت ڈالیں۔ اخبارات اور ہنگامی، وقتی تحریروں اور ٹی وی پر زیادہ وقت صرف نہ کریں، اپنے محلے یا سہولت کے مقام پرکوئی کتب خانہ تلاش کریں جہاں کتابیں عاریتاً مل سکتی ہوں۔ پرانی یا اپنی کتاب کو تختۂ مشق نہ بنائیں۔ اس پرکچھ لکھنے یانشان لگانے سے پرہیز کریں۔ میں نے بعض اچھے کتب خانوں کی قیمتی کتابوں کو دیکھا ہے کہ ان میں بعض ’’قارئین‘‘ نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی ہے۔ اپنی قیمتی آراء درج کی ہیں۔ اور بعض ظالموں نے ورق پھاڑ لیے یا بلیڈ سے تراش لیے ہیں۔ یہ بہت افسوس ناک ہے۔ اخبار کا بل کم کرکے کچھ رقم کتابوں پرصرف کریں۔ تفریحی ادب میں پہلے ہمارے کلاسیکی ادب کو پڑھنے کی کوشش کریں۔ ساتھ ہی سنجیدہ علمی تحریروں کے لیے بھی وقت نکالیں۔ ادبِ عالیہ سے غیر محسوس طور پر ہماری فکری رہ نمائی ہوتی ہے، اور بالواسطہ طور پر وہ ہمارے اخلاق و عادات پر اثراندازہوتا ہے۔ ہمارے رویوں کی تراش خراش کرتا ہے، اور اعلیٰ آفاقی اقدار تک سہولت کے راستے لے جاتا ہے۔ جب کہ گھٹیا ’’بازاری ادب‘‘ (فکشن، نثر اور شعر) غیر محسوس طریقے سے ہمیں ’’اسفل‘‘کے گڑھوں میں اُتارتا چلا جاتا ہے، اور اگر اُس کی چاٹ پڑجائے تو پھراس کے اثرات عام زندگی اور رویوں میں بھی نظرآنے لگتے ہیں۔
ایک عام قاری کے لیے ایک زمانے میں انگریزی میں کلاسیکی ادب (اور دوسری کتابیں) ’’پیپربیک‘‘ میں بہت ارزاں مل جاتی تھیں۔ پاکستان میں بھی بعض اشاعتی اداروں نے یہ سلسلہ شروع کیا تھا۔ لیکن محسوس ہوتا ہے کہ اب ایسا نہیں ہورہا۔ اچھی کتابوں کے ارزاں ایڈیشن دست یاب ہوں گے تو طلبہ اورعام لوگوں تک اُن کی رسائی ہوگی۔ اچھے غیرملکی ادب اور سنجیدہ علمی کتابوں کے تراجم کو بھی فروغ دینا چاہیے۔ اس سلسلے میں جاپانی قابل تقلید ہیں۔ وہاں کتابیں نہ صرف ارزاں ہیں بلکہ قابلِ ذکرکتابوں کے تراجم حیرت انگیز سرعت کے ساتھ بازار میں آجاتے ہیں اور دل چسپی رکھنے والے افراد کو غیر ملکی زبانوں سے محرومی کا احساس نہیں ہوتا۔ تقسیم ہند سے پہلے مرحوم حیدرآباد دکن کی ریاست میں سرکاری سرپرستی میں جو دارالترجمہ قائم تھا اُس نے اُردو جاننے والوں کی وہ خدمت کی جس کی نظیر نہیں ملتی۔ افسوس کہ پاکستان کی قومی زبان قرار دینے کے باوجود ہم اس کا عشر عشیر بھی نہ کرسکے۔ جامعہ کراچی کے شعبہ تصنیف و تالیف وترجمہ میں بھی زیادہ کام نہیں ہورہا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ شعوری (غیرشعوری) طور پر ہم اُردو کو ختم کررہے ہیں۔ رسم الخط بدل کر انگریزی حروف میں اُردو لکھی جا رہی ہے۔ درسیات میں اعلیٰ جماعتوں کے لیے اُردو کتابیں دست یاب نہیں۔ انگلش میڈیم اسکولوں کا فروغ ہے۔ اور اُردو صرف بول چال کی زبان بنتی جارہی ہے۔ اچھے تعلیمی اداروں اور جامعات کے بچے اور نوجوان بھی اُردوکی علمی یا شعری زبان کو سمجھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔ (یہ لطیفہ نہیں واقعہ ہے کہ ایک مشہور اعلیٰ تعلیمی ادارے کے ذہین اور صاحبِ ذوق نوجوان کو میں نے ’’بال جبریل‘‘ پڑھنے کے لیے کہا، تو وہ حیران تھا کہ حضرت جبریل کے ’’مُوئے مبارک‘‘ کو ایک کتاب کا عنوان کس طرح بنایا جاسکتا ہے؟
(باقی صفحہ 41پر)
میں کوشش کررہا ہوں کہ اسکولوں اورکالجوں کے طلبہ کے لیے آٹھویں جماعت اور آگے کے لیے کچھ ایسی کتابوں کا انتخاب کروں جو ہر جماعت میں (لازمی اوراختیاری مضامین کی کتابوں کے علاوہ) اُنہیں مہیا کی جائیں اور انہیں لازماً پڑھائی جائیں۔ اس طرح وہ نہ صرف اُردو زبان کے معیاری ادب سے آشنا ہوں گے، بلکہ اُنہیں اپنی اصل ثقافت، زبان اور تہذیب سے بھی موانست ہوگی۔
بدقسمتی سے آج بیشتر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم نوجوان اور اساتذہ بھی اُردو اور اُردو ادب سے اتنے ہی واقف ہیں، جتنا انہوں نے اپنی درسی کتاب میں پڑھ لیا ہے۔ اس کے سوا انہیں نہیں معلوم کہ ڈپٹی نذیراحمدکون تھے اور مرزا فرحت اﷲ بیگ کون؟ پنڈت رتن ناتھ سرشارکون تھے، اور میاں آزاد اور خوجی صاحب کون ہیں؟ نانی عشو کون تھیں اور مرزا ظاہردار بیگ کون؟ اپنے کلاسیکی ادب، اور نتیجتاً ثقافتی ورثے اور اقدار سے کٹ کر جونئی نسل وجود میں آرہی ہے اس کے ناخوشگوار اثرات بظاہر تو کچھ ابھی دیکھنے میں آرہے ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ آئندہ اس کے بڑے نقصان ہوں گے کہ اس طرح ایسی قوم وجود میں آجائے گی جس کی نہ اپنی زبان ہوگی، نہ اپنی ثقافت، نہ اپنا ذخیرۂ اقدار، نہ خیر و شرکے لیے اپنا کوئی پیمانہ۔
قرآن کریم کے علاوہ تین کتابیں کون سی ہوں گی جو میں اپنے پاس رکھنا چاہوں گا؟یہ بہت مشکل سوال ہے۔ ہزاروں خواہشیں (یہاں کتابیں پڑھیے) ایسی کہ ہرخواہش ۔۔۔۔۔۔
بہرحال میرا خیال ہے کہ موطا امام مالک، سیرۃ النبیؐ اور کلیات اقبال (اُردو و فارسی) ایسی تین کتابیں ہوسکتی ہیں۔ ایک کتاب کی اور اجازت ہوجائے!Dailague of plato۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ افلاطون کے بعد بیشتر فلسفہ اسی پر تبصرہ وتنقید ہے۔
***

Share this: