(خٰبر پختون خواہ میں شمولیتوں کا موسم (عالمگیر آفریدی

Print Friendly, PDF & Email

دبئی میں سابق صدرِ پاکستان جنرل (ر) پرویزمشرف کے ساتھ بعض سیاسی رہنماؤں کی ملاقاتوں کے بعد پاکستان کی اندرونی سیاست میں ایک ارتعاش سا پیدا ہوا ہے۔ سردست ان ملاقاتوں کی نہ تو اندرونی کہانیاں سامنے آئی ہیں نہ ان کے مقاصد واضح ہوئے ہیں۔ لیکن تجزیہ نگار اندازے لگا رہے ہیں اور مستقبل کے سیاسی نقشوں میں رنگ آمیزی کررہے ہیں۔ اگرچہ پرویزمشرف کے ساتھ اپنے سابقہ تعلق اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے دبئی جانے والے اکثر سیاست دان ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں، لیکن اِس بار یہ ملاقاتیں زیادہ تواتر سے اور مخصوص ملکی حالات میں ہوئی ہیں اس لیے ان کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
جنرل (ر) پرویزمشرف کے ساتھ سب سے اہم ملاقات پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اورپاکستان مسلم لیگ پگاڑا کے سربراہ پیر صاحب پگاڑا شریف نے کی ہے، اور اس کی بازگشت تاحال سنائی دے رہی ہے، اور اس پس منظر میں اس سے قبل اور بعد میں ہونے والی ملاقاتوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
ان دونوں ملاقاتوں کے بارے میں تینوں جماعتوں کے روایتی بیانات کے سوا کوئی ٹھوس چیز سامنے نہیں آسکی۔ لیکن بیشتر تجزیہ نگاروں نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ ان ملاقاتوں کے دو واضح مقاصد ہیں، (1) مسلم لیگوں کا اتحاد، اور (2) موجودہ حکومت کے خلاف مؤثر اپوزیشن کی تشکیل۔ مسلم لیگ (ق) اور پگاڑا گروپ دونوں متذکرہ بالا مقصد کے حصول کے لیے پرویز مشرف کی خدمات حاصل کرنا چاہتے ہیں جو دراصل اسٹیبلشمنٹ کی حمایت ہوگی۔ ان رہنماؤں کا خیال ہے کہ فوج کا ادارہ اب بھی پرویزمشرف کے ساتھ ہے اور اپنے تحفظات کی وجہ سے اس اتحاد کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ یہ اتحاد ملکی ہی نہیں، اس وقت عالمی ضرورت بھی ہے۔ اگر مسلم لیگوں کے اتحاد کی بات آگے بڑھتی ہے تو بہت جلد عوامی مسلم لیگ کی سربراہ شیخ رشید احمد اور مسلم لیگ (ضیاء) کے سربراہ اعجازالحق پرویزمشرف سے ملاقات کرسکتے ہیں۔ شیخ رشید تو اس کام کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، لیکن اعجازالحق کے لیے جو اس حکومت کے اتحادی ہیں، یہ فیصلہ ذرا مشکل ہوگا۔ لیکن اپنے سابقہ فوجی پس منظر کی وجہ سے وہ بھی اس طرف آسکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ چاروں مسلم لیگی دھڑے اکٹھے بھی ہوجائیں تو موجودہ وفاقی حکومت کا کیا بگاڑلیں گے؟ نہ ان کے پاس پارلیمنٹ میں کوئی بڑی تعداد موجود ہے اور نہ عوام میں مؤثر پذیرائی۔ تاہم ان کا اتحاد اپوزیشن کو مضبوط ضرور کردے گا اور اسٹیبلشمنٹ کے ان کی پشت پر آکھڑے ہونے سے (جس کی امید کی جارہی ہے) یہ کوئی فیصلہ کن کردار ادا کرسکے گا۔ چنانچہ مسلم لیگ (ن) نے اس خدشے کو بھانپ لیا ہے۔ لاہور اور ہری پور میں اس کے ورکرز کنونشن میں بڑی سخت زبان استعمال کی گئی ہے، اور اس کام کے لیے پرویز رشید بھی متحرک ہوئے ہیں۔ ہری پور میں خواجہ سعد رفیق نے یہاں تک کہا ہے کہ ہمیں ہٹانے کی کوشش کی گئی تو مزاحمت کریں گے۔ یہ بات انہوں نے بلاوجہ نہیں کہی۔ خود نوازشریف، شہبازشریف اور حمزہ شہباز بھی عوامی جلسوں میں سخت زبان استعمال کررہے ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ پگاڑا مشرف ملاقات کا مقصد سندھ حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرنا ہے۔
پرویزمشرف، چودھری شجاعت، پیر پگاڑا ملاقات کے بعد ڈاکٹر عشرت العباد نے بھی پرویزمشرف سے ملاقات کی ہے اور سابق صدر زرداری کی ملاقات کی بھی افواہیں گردش کررہی
(باقی صفحہ 41 پر)
ہیں۔ ساتھ ہی ایم کیو ایم کے پیدائشی جیالے سلیم شہزاد کی اچانک وطن واپسی، گرفتاری، ایم کیو ایم لندن کا ان کی آمد پر اظہار برہمی اور ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کی بظاہر بڑھتی ہوئی مقبولیت اور مصطفی کمال کی جانب سے میئر کراچی کی حمایت کرنا بلاوجہ نہیں ہے۔ یہ سیاسی کھچڑی کیا رنگ دکھائے گی اس کا اندازہ آنے والے چند دنوں میں ہوجائے گا کہ یہ محض سیاسی تفریح ثابت ہوتی ہیں یا کوئی ٹھوس نتائج بھی پیدا کرتی ہیں۔ یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ خود پرویزمشرف نے بھی ایک بار پھر وطن واپسی کی بات کی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) نے اپنی توپوں کا رخ ایک بار پھر ڈاکٹر طاہرالقادری کی جانب کردیا ہے۔ یہ سب کچھ بلاوجہ نہیں ہے۔ پاناما لیکس کے فیصلے اور ڈان لیکس کی رپورٹ کے بعد صورت حال زیادہ واضح ہوتی نظر آرہی ہے۔

خیبر پختون خوا میں شدید برفباری اور طویل وقفے کے بعد ہونے والی بارشوں سے سردی میں ہونے والے اضافے کے برعکس صوبے کے سیاسی درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔عام انتخابات میں ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ ہونے کے باوجود صوبے کی تقریباً تمام قابل ذکر سیاسی جماعتیں صوبے کے طول وعرض میں اپنے مسل دکھانے کی ریہرسل کر رہی ہیں۔ویسے تو تمام جماعتیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن اے این پی،مسلم لیگ(ن) اور جماعت اسلامی نے جلسے ‘ جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں کے برعکس شمولیتوں کے نام پر جو سیاسی ہلچل پیدا کی ہوئی ہیں اس کو سیاسی قائدین اور ورکرز کے علاوہ عام حلقے بھی دلچسپی اور شوق سے دیکھ رہے ہیں۔ ماضی کی نظریاتی سیاست کے برعکس ان دنوں تمام تر سیاست چونکہ ذاتی اور گروہی مفادات کے گرد گھوم رہی ہے اس لیے موجودہ فرسودہ انتخابی نظام کی موجودگی میں کسی فرشتہ صفت اور پرہیز گار امیدوار کی کامیابی کی توقع رکھنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے اس لیے آنے والے انتخابی دنگل میں کامیابی کے لیے ہر جماعت کو ایسے امیدواروں کی پیٹھ پر ہاتھ رکھنا پڑے گا جن کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہوں گے اور جو انتخابات میں بہتر نتائج دینے کی پوزیشن میں ہوگا۔ ان دنوں صسوبے میں ویسے تو سوائے پیپلز پارٹی کے تمام ہی سیاسی جماعتیں متحرک ہیں لیکن نئے چہروں کی شمولیتوں کے لحاظ سے اے این پی،مسلم لیگ(ن) اور جماعت اسلامی میں جو مقابلہ جاری ہے اس سے اکثر سیاسی مبصرین یہی نتائج اخذ کر رہے ہیں کہ آنے والے عام انتخابات میں اصل معرکہ ان ہی تین جماعتوں کے درمیان متوقع ہے۔ویسے تو شمولیتوں کا یہ سلسلہ پچھلے سال ہی شروع ہو گیاتھا لیکن نئے سال کے آغاز پر اس مہم میں جو تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے اس نے عام انتخابات کی قربت کا سماں باندھ دیا ہے۔ مسلم لیگ(ن) نے چند ماہ پہلے شمولیتوں کے اس سلسلے کا آغاز تخت بائی مردان میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آذاد ممبر صوبائی اسمبلی جمشید خان مہمند کی شمولیت سے کر کے جو بڑا بریک تھرو کیا تھا اس سلسلے کو مزید تقویت وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواپرویز خٹک کے آبائی ضلع کے سابق ممبر صوبائی اسمبلی طارق حمید خٹک کے مسلم لیگ(ن) میں شمولیت سے ملی تھی۔ اسی اثناء متنی پشاور اور سوات میں شمولیتی جلسوں کے علاوہ چارسدہ میں پی ٹی آئی کے سابق صوبائی نائب صدر طاہرخان کی مسلم لیگ(ن) میں شمولیت سے پی ٹی آئی کی صفوں میں یقیناً کافی ہلچل مچی ہوئی ہے۔مسلم لیگ(ن)کے مرکزی نائب صدر امیر مقام جن کا اصل ہدف جہاں پارٹی کی صوبائی صدارت حاصل کرنا ہے وہاں ان پھرتیوں کایک اور اہم مقصد اپنے آپ کو مستقبل کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے دیگر امیدواران پر برتر اور اہلتر ثابت کرنا ہے۔ وہ اپنی مرکزی قیادت کو خوش کرنے کے لیے یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ عمران خان جہاں جلسہ کریں گے وہ وہاں ان سے بڑا جلسہ کرکے جواب دیں گے۔امیر مقام بلا شبہ ان دنوں کسی بھی جماعت کے صوبائی رہنما سے زیادہ متحرک ہیں لیکن ان کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں مسلم لیگ(ن) کے نظریاتی عہدیداران اور کارکنان نے اب تک دل تسلیم نہیں کیا ہے جس کا تمام تر نقصان اگر ایک جانب ان کی جماعت کو اٹھانا پڑ رہا ہے تو دوسری طرف اس کا خمیازہ کسی نہ کسی موقع پر کسی نہ کسی صورت میں خود ان کو بھی بھگتنا پڑے گا‘جس کی تازہ مثال جہاں مسلم لیگ(ن) کے صوبائی صدر پیر صابر شاہ کے آبائی علاقے ہری پور میں ہونے والے عوامی طاقت کے مظاہرے سے امیر مقام کا غائب رہنا ہے وہاں اس جلسے میں مسلم لیگ(ن) کے نظریاتی اور میاں نواز شریف کے مخلص اور وفادار سمجھے جانے والے ساتھیوں خواجہ سعد رفیق، ڈاکٹر کرمانی اور پرویز رشید کی شرکت تھی جبکہ امیر مقام نے اب تک جتنے بھی سیاسی قوت کے مظاہرے کیے ہیں ان میں متذکرہ مرکزی راہنماؤں سمیت کسی بھی نمایاں مرکزی راہنما نے شرکت کرناگوارہ نہیں کیا ہے‘ جس سے پارٹی میں امیر مقام کی حیثیت اور ان پر مرکزی قائدین کے اعتماد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔دوسری جانب امیر مقام چونکہ ایک فعال سیاسی راہنماہیں لہٰذا وہ نہ صرف میڈیا میں زندہ رہنے کے گروں سے بخوبی واقف ہیں بلکہ وہ اپنے مرکزی قائد وزیر اعظم میاں نوا ز شریف کی پی ٹی آئی کے حوالے سے موجودہ حساسیت کے بھی نبض شناس ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی توپوں کا زیادہ تر رخ پی ٹی آئی کے سربراہ عمرا ن خان اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی جانب رہتا ہے جب کہ وہ چن چن کر پی ٹی آئی کے ناراض ارکان کو جس طرح ہانک کر مسلم لیگ(ن) میں شامل کر رہے ہیں اس ہدف اور مہم کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ وہ میاں نواز شریف کی نظروں میں رہتے ہوئے ان کی ہمدردیاں اورسرپرستی سمیٹنا چاہتے ہیں۔جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں شمولیتوں کے اس موسم سے لطف اندوز ہونے میں اے این پی بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے اہم راہنما اور سابقہ ضلع ناظم نوشہرہ داؤد خٹک کی اے این پی میں شمولیت کے بعد اب چند دن پہلے پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی راہنما ارباب مجیب الرحمٰن اور پیپلز پارٹی کے ڈویژنل راہنما اشفاق خلیل کی اے این پی میں شمولیت اور پیپلز پارٹی کے سابقہ وفاقی وزیر ڈاکٹرارباب عالمگیر خلیل اور ان کی اہلیہ عاصمہ عالمگیر کی شمولیت کی افواہوں کے تناظر میں کہاجا سکتا ہے کہ اے این پی بھی ان دنوں 2013کے انتخابات میں عبرت ناک شکست کے صدمے سے نکلتے ہوئے فرنٹ فٹ پرکھیلنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔
شمولیتوں کے اس موسم بہار میں جماعت اسلامی بھی بھی نہ صرف کافی سرگرم نظر آ رہی ہے بلکہ اس کی صوبائی قیادت میں تبدیلی کے بعد پہلی دفعہ دوسری جماعتوں کے بھاری بھرکم افراد کو بہتر انتخابی نتائج کی امید پرشمولیتوں کا روائیتی سیاسی کلچر متعارف کرانے کا تجربہ بھی کیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ اس ضمن میں جماعت اسلامی جہاں بونیر میں قومی وطن پارٹی کے سابق ممبر قومی اسمبلی شیر اکبر خان اور کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے وائس چیئرمین وارث خان آفریدی کی شمولیت کے کامیاب تجربات کر چکی ہے وہاں ماضی میں اسلامک فرنٹ اور ہری پور سے راجہ فیصل زمان،دیر پائین سے ڈاکٹر ذاکراللہ اور لکی مروت سے انور حیات خان کی شمولیت کے تلخ تجربات کے نتائج بھی بھگت چکی ہے۔جماعت اسلامی میں گزشتہ دنوں باجوڑ ایجنسی میں سابق گورنر خیبر پختون خوا شوکت اللہ خان کے قریبی عزیز عبدالمتین خان اور کرک میں معروف سماجی اور کاروباری شخصیت شبیر احمد کی شمولیتوں کے بعدمسلم لیگ(ق) کے صوبائی صدر انتخاب خان چمکنی کی شمولیت کو ایک بڑا بریک تھرو قرار دیا جا رہاہے لیکن اس حوالے سے یہ حقیقت اپنی جگہ عیاں ہے کہ انتخاب چمکنی کا نہ تو کوئی حلقہ انتخاب ہے اور نہ ہی وہ کوئی خاص ووٹ بینک رکھتے ہیں۔اسی طرح وہ جس جماعت سے راہیں جدا کر کے جماعت اسلامی میں شامل ہوئے ہیں پشاور تو کجا پورے صوبے بشمول ہزارہ ڈویژن میں بھی عملاً اس کا کوئی وجود نہیں ہے البتہ جماعت اسلامی کے نظریاتی اور دعوتی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات یقیناً خوش آئندہ ہے کہ ماضی کی ایک بڑی جماعت کے صوبائی صدر، ایک پیشہ ور وکیل اور اچھی شہرت کی حامل شخصیت جماعت اسلامی میں شامل ہوگئی ہے‘ جس کا انتخاب چمکنی کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کو بھی مقامی سطح پر یقیناً کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور ہوگا۔
شمولیتوں کے اس موسم میں پی ٹی آئی بھی پیچھے رہنے کے لیے تیار نہیں ہے گو کہ چار سالہ حکومت کے بعدکسی بھی برسراقتدار جماعت کے لیے اپنے اقتدار کے آخری سال خیبر پختون خوا جیسے صوبے جہاں ہر انتخاب میں ووٹر نئے چہروں کو منتخب کرنے کا ٹریک ریکارڈ رکھتے ہیں میں نئے پنچھیوں کو شامل کرنا یقیناً جان جوکھوں کا کام ہے لیکن پی ٹی آئی اپنی مقبولیت کا گراف خیبر پختون خوا میں چونکہ کسی حد تک برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے اس لیے اس کی جانب ووٹرز کے ساتھ ساتھ بعض سیاسی قائدین کے رجوع کا سلسلہ بھی ہنوز جاری ہے جس کا تازہ ثبوت پیپلز پارٹی کے راہنما اور سابق ٹاؤن ون کے ناظم شوکت مہمند کی پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان ہے۔اسی طرح جمعیت (ف) اب تک تو شمولیتی مہم میں کوئی بڑی سرگرمی دکھانے میں ناکام رہی ہے البتہ اپریل میں عالمی اجتماع کی تیاریوں کے ذریعے وہ اپنے حق میں جو سیاسی فضاء بنارہی ہے‘ اس کی یہ پیش رفت اس کی سیاسی قد کاٹھ میں کسی نہ کسی حد تک اضافے کا باعث یقیناً بنے گی۔
اس تمام تر منظر نامے میں اگر کوئی جماعت نظر نہیں آ رہی ہے یا پھر جو جماعت سب سے زیادہ متاثر نظر آ رہی ہے اور جس میں ہرجماعت حصہ بقدر جثہ نقب لگاتے ہوئے اپنا حصہ وصول کر رہی ہے وہ پیپلز پارٹی ہے‘ جس پر پیپلز پارٹی کی قیادت یقیناً پریشانی بلکہ تشویش میں بھی مبتلا ہوگی۔ اشفاق خان خلیل اور شوکت مہمند کے جانے کے بعد اور ڈاکٹر ارباب عالمگیر خلیل اور ان کی اہلیہ کی ممکنہ پرواز کے بعد یہ اطلاعات بھی زیر گردش ہیں کہ اس کے پشاور سے تعلق رکھنے ایک سابقہ صوبائی صدر بھی عنقریب یہاں سے اڑان بھرکر جماعت اسلامی میں شامل ہونے والے ہیں۔ان اطلاعات میں کس حد تک صداقت ہے اس کی تصدیق آنے والا وقت ہی کرسکتا ہے ۔اگر یہ افواہیں سچ ثابت ہو جاتی ہیں تو پیپلز پارٹی کے لیے صوبے میں بالعموم اور پشاور میں بالخصوص یہ ایک بہت بڑا دھچکہ ہوگا جس کے بعدپیپلز پارٹی کے لیے یہاں سنبھلنا یقیناً ایک انتہائی مشکل مرحلہ ہوگا۔
nn

Share this: