گلبدین حکمت یار

Print Friendly, PDF & Email

تاریخ، افغانستان کے حوالے سے اس عظیم الشان جدوجہد کو فراموش نہیں کرسکے گی جس کے نتیجے میں عالمی سرخ سامراج نے بدترین شکست کھائی اور اپنا وجود تاریخ کے صفحات اور نقشے سے کھو بیٹھا۔ وہ لمحہ کتنا خوبصورت اور سنہرا تھا جب سرخ استعمار کا جنرل افغان سرزمین سے ناکام اور نامراد لوٹ رہا تھا اور اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، روسی سرحد پر اُس کے اہلِ خانہ کھڑے تھے، اُن کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے جو خوشی کے ہوسکتے ہیں کہ وہ جنرل کو سلامت لوٹتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ تمام سپاہی سرحد پار کرگئے تو یہ آخری جنرل جو لوٹ رہا تھا اُسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اُس کے لوٹنے کے بعد سوویت یونین صرف تاریخ کے صفحات پر رہ جائے گا۔ سوشلسٹ انقلاب کے بانی کا سرخ علَم سرنگوں ہونے والا تھا اور پورے سوویت یونین سے ہتھوڑے اور درانتی کے نشان والا پرچم لپیٹ دیا جانے والا تھا۔ دنیا بھر میں سوشلسٹ یتیم ہورہے تھے اور پاکستان کے سوشلسٹ اور روس نواز قوم پرستوں کو جہاد نے تاریخی صدمہ پہنچایا تھا۔ آج تک اس صدمے کو وہ فراموش نہیں کرسکے ہیں، اور اس کا ردعمل یہ ہوا کہ وہ تمام کے تمام امریکی کیمپ میں پناہ گزین ہوگئے۔
جو اماں ملی تو کہاں ملی
یہ کامیابی اور سوویت یونین کی ناکامی کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا، اس کا ادراک ہونا چاہیے کہ قرآن کا فلسفۂ جہاد مدمقابل قوتوں کو پاش پاش کرتا اور شکست سے دوچار کرتا ہے، اور بڑی بڑی مملکتوں کو سرنگوں کرتا ہے۔ اس جہاد کے نتیجے میں اب امریکہ اور نیٹو ہزیمت اٹھا رہے ہیں اور افغانستان میں طالبان کو شکست نہیں دے سکے۔ اب جاتے جاتے بارک اوباما نے بھی تسلیم کرلیا کہ طالبان کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اب افغانستان میں طالبان اور مخالف سپر پاور آمنے سامنے ہیں اور سوویت یونین کے خلاف جہادی قوت کا رہنما اب پابندی ہٹنے کے بعد اپنے وطن میں آزاد حیثیت سے داخل ہوگا۔ گلبدین حکمت یار کو تاریخ فراموش نہیں کرسکے گی۔ انہوں نے طویل جدوجہد کی۔ ایک طویل سوچ بچار کے بعد گلبدین حکمت یار نے صحیح فیصلہ کیا، صحیح وقت پر کیا اور بہترین شرائط کے ساتھ معاہدہ کیا اور عزت و وقار کے ساتھ حکومت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر اُن کے ساتھی بیٹھے۔ یہ ایک اہم تاریخی موڑ ہے اور آنے والے انتخابات سے پہلے درست فیصلہ ہے۔ اس کے دوررس نتائج نکلیں گے اور مستقبل کا افغانستان اس تاریخی ہیرو کے لیے چشم براہ ہوگا۔ اور افغان عوام کے لیے عبداللہ عبداللہ کے مقابل یا کسی اور لیڈر کے مقابل گلبدین بہترین انتخاب ہوگا۔
گلبدین حکمت یار کو اس دوران کئی تلخ و شیریں لمحات سے گزرنا پڑا۔ دوستوں اور مخالفین کی شناخت بھی انہیں حاصل ہوگئی ہے۔ انہیں اب سب سے اہم مسئلہ جو درپیش ہوگا وہ سعودی عرب اور ایران کی کشمکش ہے۔ اس مسئلے پر انہیں توازن رکھنا ہوگا۔
گلبدین انتہائی ذہین شخص ہیں۔ ان کی شخصیت اور سیاسی رجحان سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے کھلے عام سیاست سے پہلے اپنی شرائط پیش کیں، مذاکراتی ٹیم تشکیل دی، اس کے بعد حکومت سے مذاکرات کے دور چلتے رہے۔ اور اشرف غنی نے بھی دانش مندی کا مظاہرہ کیا اورحامد کرزئی سے ہٹ کر پالیسی تشکیل دی اور کھلے دل سے مذاکرات کی میز پر چلے گئے۔ اب اس معاہدے کے بعد پارلیمنٹ کا راستہ حزب اسلامی کے لیے کھل گیا ہے اور منتشر پارٹی کو دوبارہ منظم کرنے کے بے شمار مواقع حاصل ہوجائیں گے۔ گلبدین حکمت یار کی پارٹی سیاست کے میدان میں اب تیزی سے پیش رفت کرے گی۔
گلبدین حکمت یار کو کوئٹہ میں کئی بار سننے کا موقع ملا ہے۔ وہ پشتو اور فارسی زبان کے شعلہ بیان مقرر ہیں۔ افغانستان میں اس حوالے سے کوئی اُن کا مدمقابل نہیں ہے۔ اور اب انہیں سابقہ مجاہدین تنظیموں کے قائدین سے رابطے کی سہولت حاصل ہوجائے گی جس سے وہ مکمل فائدہ اٹھائیں گے۔ گلبدین حکمت یار نے کوئٹہ میں مولانا عبدالعزیز (مرحوم) کی جامع مسجد چمن پھاٹک میں شعلہ بیانی کے دوران پاکستان کی مقتدر قوتوں کو متوجہ کرتے ہوئے تاریخی جملہ کہا تھا کہ ’’پاکستان کو ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر روسی سامراج کو ہم افغانستان کے پہاڑوں میں روکنے میں ناکام ہوگئے تو پاکستان کے میدان اسے روک نہ سکیں گے۔ ہماری پشتی بانی بہت ضروری ہے۔ میری بات کو دھیان سے سنیں اور جہاد کو معمولی نہ سمجھیں۔‘‘ ان کی یہ تقریر 1982ء کی ہے جب وہ کوئٹہ میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے سالانہ اجتماع سے تعمیرنو ہائی اسکول میں خطاب کررہے تھے۔
تاریخ میں بھی یہ بہت اہم فیصلہ ہے جو اقوام متحدہ نے حزب اسلامی کے قائد کے حوالے سے دیا ہے اور اُن پر سے تمام پابندیاں اٹھالی ہیں جو امریکہ اور نیٹو کے دباؤ پر لگائی گئی تھیں۔ ایسا کیوں کیا گیا، اس پر بھی تجزیہ ہوسکتا ہے جو آئندہ کسی شمارے میں کروں گا۔
فی الحال اس کو صرفِ نظر کرتے ہوئے ہم اپنے موضوع پر رہیں گے۔ اقوام متحدہ نے یہ فیصلہ 4 فروری کو دیا اور اخبارات میں 5 فروری کو شائع ہوا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار پر سے پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں۔ ستمبر میں حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان ایک امن ڈیل طے کی گئی، جس کے بعد کابل نے حکمت یار پر سے عالمی پابندیاں ختم کرنے کا کہا تھا۔ اس معاہدے پر افغانستان کے بعض حلقوں نے تنقید کی تھی۔ اب پابندی ہٹنے کے بعد گلبدین حکمت یار کابل لوٹ سکیں گے۔
ہم اس مؤقف پر ایک سرسری نگاہ ڈالیں جو حزب اسلامی نے اشرف غنی کی حکومت کو پیش کیا تھا۔ حزب اسلامی کا مؤقف بڑا واضح تھا اور اس میں کسی مداہنت سے کام نہیں لیا گیا تھا۔ اس کا آغاز یوں کیا گیا:
’’صدارتی انتخابی مہم کے دوران اشرف غنی نے قوم سے جو وعدے کیے تھے اُن میں سب سے اہم یہ تھا کہ مخالفین کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مصالحت کروں گا۔ جبکہ عبداللہ عبداللہ کا مؤقف یہ تھا کہ پہلے مخالفین کو کمزور کیا جائے پھر ان کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔ انتخابات سے قبل اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ دامن پھیلا کر ہم سے مدد کی بھیک مانگتے رہے، سب کو یقین دہانی کراتے رہے کہ وہ ملک میں خوشحالی لائیں گے، جنگ کو صلح میں ڈھالیں گے، ملک کو آباد کریں گے، افلاس کا خاتمہ کریں گے، قومی امنگوں کی ترجمان حکومت قائم کریں گے۔ موجودہ دو منہ والی حکومت کا کنٹرول امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے ہاتھ میں ہے، اور اس کے بعد وزارتوں کا فیصلہ نہ ہوسکا۔ اس بات کو 6 ماہ گزر گئے۔ اب ہر وزارت کا اختیار امریکی وزیرخارجہ کے ہاتھ میں ہے۔ حال ہی میں ایک تقریب کے دوران ہمارے دونوں حکمران امریکی وزیرخارجہ کے سینے پر میڈل سجا رہے تھے۔ وہ تن کر کھڑا تھا اور یہ دونوں اُس کے سامنے سرجھکائے کھڑے تھے۔ دونوں امیدوار انتخابات میں حزب اسلامی کو اپنا واحد سہارا قرار دیتے رہے اور اپنی حمایت کے لیے کہتے رہے، اور ان کے وعدوں میں سب سے اہم وعدہ حزب اسلامی کو تسلیم کرنا تھا، وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ حزب اسلامی جیسی ایک بڑی جماعت کی تقسیم ملک و قوم کے لیے نقصان دہ ہے۔ اشرف غنی نے کہا کہ حامد کرزئی حزبِ اسلامی کو تقسیم کرنا چاہتے تھے لیکن میں ایسا نہیں کروں گا۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد اشرف غنی نے حزب اسلامی کو ایک ڈرافٹ بھیجا جسے ہم نے کچھ تبدیلیوں کے بعد قبول کرلیا تاکہ اس جنگ کا خاتمہ ہوسکے۔ اس میں سب سے اہم تبدیلی بیرونی قوتوں کی ملک سے واپسی تھی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ معاہدے میں افغانستان سے بیرونی قوتوں کے مکمل اخراج اور ملکی نظام مکمل طور پر افغان عوام کے سپرد ہونے کی شرط لازمی شامل ہو۔ ہمارے خیال میں حالیہ بحران کی شدت اور طوالت کی بڑی وجہ یہی بیرونی قوتیں ہیں۔ افسوس غلام حکومت کا سب سے پہلا بڑا قدم امریکہ کے ہاتھ افغانستان کو فروخت کرنا تھا۔ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ بعض حکومتی ذمہ داران اپنا اقتدار مضبوط ہونے تک بیرونی قوتوں کی موجودگی کو ضروری سمجھتے ہیں اور منتیں کررہے ہیں کہ نہ جائیں۔ ہر افغان شہری یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں بیرونی قوتوں کی موجودگی جنگ کی طوالت کا سبب بنی ہوئی ہے۔ ہم نے حکومت سے امریکہ کے جھنڈے تلے بے اختیار حکومت میں شامل ہونے اور اپنی چادر دوسری روبوٹ حکومت کے کندھوں پر رکھنے کے لیے مذاکرات شروع نہیں کیے تھے۔ اگر ہم ایسا ہی چاہتے اور کرپٹ اور غیروں کے تلوے چاٹنے والی حکومت میں شامل ہونا چاہتے تو سابقہ حکومت میں شامل ہوجاتے۔
اگر مجاہدین افغانستان میں بیرونی طاقتوں کی موجودگی کو قبول کرتے تو 14 سالہ جنگی مشکلات اور مصائب کیوں جھیلتے؟ ہم اپنے پیارے وطن کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہماری تمنا ہے کہ ملکی نظام عوام کی مرضی کے مطابق ہو۔ ہم غیروں کی مرضی کی حکومت نہیں چاہتے۔
اگر واقعی کوئی افغانستان کا عادلانہ اور مستقل حل چاہتا ہے تو ہم بھی اس سے مذاکرات، بات چیت اور صلح کے لیے تیار ہیں۔ اور ان اہداف پر عمل ہونے تک ہم ہتھیار نہیں رکھیں گے۔ ہم ملک میں صرف اسلام کا نفاذ، آزادی، امن و صلح، امن و امان اور حقیقی سلامتی چاہتے ہیں۔‘‘ (15 جنوری 2015ء)
اس مؤقف کو پیش کرنے کے بعد مذاکرات کے کئی دور ہوئے جن میں حزبِ اسلامی اور حکومت کے نمائندے شریک تھے، اور بالآخر حکومت اور حزبِ اسلامی کے درمیان معاہدہ طے پاگیا۔ اس تاریخی معاہدے کا متن 25 نکات پر مشتمل ہے۔ یہ معاہدہ دو حصوں میں تقسیم ہے اور دو باب ہیں۔
باب اول کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس میں چار نکات ہیں اور بنیادی اصول طے کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد باب اول میں ان 4 نکات کے ساتھ 16نکات ہیں، اور باب دوم میں 5نکات طے کیے گئے ہیں۔ یوں کُل 25 نکات پر حزب اسلامی اور حکومت نے معاہدہ پر دستخط کر رکھے ہیں۔
اس معاہدے کے باب اول میں بنیادی اصول کے بعض نکات قرارداد مقاصد اور علما کے 22 نکات ہیں۔ بعض نکات میں مماثلت نظر آتی ہے۔
ملاحظہ ہو باب اول کا پہلا نکتہ: فریقین اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان اور اسلام کے مقدس دین پر مکمل یقین رکھتے ہوئے ہمیشہ اپنے آپ کو اس بات کا پابند سمجھتے ہیں کہ اس دین کے عمدہ اصولوں کی غیر مشروط اطاعت کو نصب العین بنائیں۔
2 ۔ فریقین کا عقیدہ ہے کہ دینی اصول اور رہنمائی ہی تمام قوانین اور ریاستی فیصلوں کی بنیاد ہوں گے، بالکل ایسے ہی جیسے کہ ملک کے اساسی قانون کا سیکشن دوم اور سیکشن سوئم حکم دیتا ہے (کہ اسلام کا پاک دین ہی اسلامی جمہوریہ افغانستان کا دین ہوگا اور افغانستان میں کوئی ایسا قانون نہیں ہوگا جو اسلامی احکامات اور اعتقادات کے خلاف ہو)۔
3 ۔ فریقین اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ افغانستان کے سب باشندے یکساں قانونی حقوق اور ذمہ داریاں رکھتے ہیں۔ قانون ہی ہر مرد و زن کے حقوق و فرائض کا ضامن ہوگا۔ متحدہ افغانستان تمام افغان قوموں کا مشترکہ گھر اور قومی حکومت عوام کا مسلمہ حق ہے جسے وہ براہِ راست یا منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے چلائیں گے۔
-4 اس حالت میں کہ قومی حکومت کا استحکام اور ملک کے وسیع تر مفاد کا حصول دونوں فریقین کا ہدف ہے۔ فریقین کا اپنا اپنا مؤقف ہے کہ حزب اسلامی افغانستان اس معاہدے میں اپنے بنیادی اصولوں کے مطابق پُرزور انداز میں بیرونی افواج کے انخلا کے لیے معقول ٹائم ٹیبل کا مطالبہ کرتی ہے۔
باب اول کا دوسرا حصہ:
-5 اسلامی جمہوریہ افغانستان یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اس معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل، تمام رکن ممالک اور بین الاقوامی اداروں سے سرکاری طور پر اس بات کا تقاضا کرے کہ جنگ کے دائمی اختتام اور مکمل صلح اور امن کے قیام کی خاطر حزبِ اسلامی افغانستان اور اس کے سربراہ اور ارکان پر لگائی ہوئی تمام پابندیاں جلد ختم کی جائیں۔ افغان حکومت اس بات کی پابند ہوگی کہ اس سلسلے میں تمام وسائل بروئے کار لاکر حزبِ اسلامی کے قائد اور ان کے ارکان کے خلاف تمام پابندیاں ختم کرنے کی کوشش کرے۔
6۔ اسلامی جمہوریہ افغانستان اس عہد نامہ پر دستخط کے ساتھ ہی سرکاری طور پر یہ اعلان کرے گا کہ محترم قائد حزب اسلامی افغانستان اور ان کے دیگر اہم ذمہ داران پورے ملک میں جہاں چاہیں ملکی قوانین کے مطابق پوری آزادی کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور حکومت اس امر کی پابند ہوگی کہ اس کام کی تکمیل کے لیے ملک میں ماحول پیدا کرے۔
-7 اسلامی جمہوریہ افغانستان یہ عہد کرتا ہے کہ سرکاری طور پر یہ اعلان کرے کہ وہ اساسی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام سیاسی اور اجتماعی معاملات میں حزب اسلامی افغانستان کی شمولیت کا حق قبول کرے اور اس کے اجراء کے لیے ہر قسم کا تعاون فراہم کرے۔ حزب اسلامی افغانستان کو یہ اجازت ہوگی کہ وہ صدارتی، پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لے اور نمائندگان کا انتخاب کرے۔
8۔ افغان حکومت یہ عہد کرتی ہے کہ سیاسی، سرکاری اور معاشرتی تنظیموں سے مشاورت کے ذریعے الیکشن کمیشن میں مزید بہتری کے لیے شرائط طے کرے گی اور اس سلسلے میں مناسب تجاویز بھی پیش کریگی۔ اسی طرح حکومت پابند ہے کہ حزب اسلامی افغانستان سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی فعال شمولیت کے لیے لائحہ عمل تجویز کرے، نیز حکومت انتخابی اصلاحات کے ضمن میں متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابی نظام تشکیل دے۔ اس نکتے پر مزید تفصیل اور اس پر عمل درآمد‘ مشترکہ ایگزیکٹو کمیٹی اور دونوں ذمہ داران کے مشترکہ اجلاس کو سونپی جارہی ہے۔
-9 افغانستان میں صلح کے قیام اور جنگ آزادی میں محترم گلبدین حکمت یار کی حمایت سے کی گئی کوششوں کو سراہتے ہوئے صدرِ افغانستان خصوصی آردیننس کے ذریعے انہیں خصوصی اعزاز سے نوازیں۔ اس سلسلے میں پروٹوکول کے عہدیداران حزبِ اسلامی کی مشاورت سے سپریم مصالحتی کونسل کی جانب سے متعین کرکے ایوان صدر کو ارسال کریں گے۔
10۔ حزب اسلامی کے سربراہ ملک کے اندر رہائش کے لیے دو‘ تین مناسب جگہوں کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ رہائش گاہ کے مناسب انتظامات، ضروری سیکورٹی کی پلاننگ کے لیے معقول اخراجات کا بندوبست حکومت کے ذمے ہوگا۔ ضروری انتظامات کی تفصیل کا تعین اس معاہدے کے لیے بنائی گئی کمیٹی مشترکہ طور پر کرے گی۔
باقی نکات اگلی قسط میں پیش کیے جائیں گے۔
ہم اس معاہدے کا تجزیہ بھی کریں گے جو امریکی حکومت اور افغانستان کے درمیان ہوا، اور اس پر جناب کرزئی نے دستخط سے انکار کردیا تو سیکریٹری خارجہ امریکہ جان کیری نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر کرزئی نے دستخط نہیں کیے تو ہم اپنی فوج امریکہ سے واپس بلالیں گے۔ پھر یہ کہا کہ آنے والا صدر یہ دستخط کردے گا۔ اور پھر اشرف غنی نے اس معاہدے پر دستخط کردیے۔ یہ اہم معاہدہ ہے، اس کا بھی ساتھ ساتھ آئندہ قسط میں تجزیہ کریں گے تاکہ ہمارے قارئین بین الاقوامی سیاست کے رخ کا بھی اندازہ لگاسکیں ۔ اس لیے کہ ان تمام معاہدات کے اثرات پاکستان پر لازماً پڑیں گے۔
nn

Share this: