(لبرل جمہوریت اور عالمگیرت کے خلاف بحران(عمر ابراہیم

Print Friendly, PDF & Email

عالمی منظرنامے میں چین کا معاشی ایجنڈا آگے بڑھ رہا ہے۔ تہذیب اور معاشرے پراسلام کا رنگ غالب آرہا ہے۔ جبکہ مغرب کا عالمگیر ایجنڈا سکڑ رہا ہے۔ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ اب عالمگیریت کا مغربی خواب چکناچور ہورہا ہے۔ لبرل جمہوریت جارہی ہے۔۔۔ قوم پرست سیاست کہیں آچکی ہے، کہیں آرہی ہے۔
سب سے پہلے لبرل جمہوریت پر امریکی دانشور فرید زکریا کا اظہارِ افسوس، عالمگیریت کے ایجنڈے کا انجام اور اسباب، اور پھر اسلامی عالمگیریت کے خلاف مغرب کی مہم پر ایک نظر۔۔۔ مضمون کا مدعا آجائے گا۔
اقبال نے محض جمہوریت کو ایک ایسا طرزِ سیاست کہا تھا، جس میں بندوں کوگنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔ بات آج اور آگے نکل چکی۔ لبرل جمہوریت بالکل بے وزن ہوچکی۔ اس طرزِ سیاست میں اب نہ شمار رہا نہ معیار۔ مقدس جمہوریت کی اندھا دھند چاہت آج انسانوں کو خطرات کے ہولناک مظاہر تک لے آئی ہے۔
کہیں جمہوریت شمار کادھوکا ہے، کہیں یہ معیار کا دھوکا ہے۔ امریکہ کا حالیہ الیکشن لبرل جمہوریت کا کھلا اظہار ثابت ہوا۔ یہ سراسر دھوکا ہے۔ اس ضمن میں دو وضاحتیں لازم ہیں۔ ایک یہ کہ ہلیری کلنٹن صفر اعشاریہ صفر صفر ٹرمپ سے بہتر یا مختلف نہیں۔ دوسرا یہ کہ بادشاہت یا آمریت ہرگز جمہوریت کا مطلوب یا مناسب متبادل نہیں۔ بہرکیف، متبادل یا اصلاح شدہ سیاسی نظام کا تعارف اور اطلاق دنیا کی ضرورت بن چکا ہے۔
فرانسس فوکویاما کی مانند فرید زکریا دھیرے دھیرے لبرل ازم، عالمگیریت، آزاد منڈی جیسے نظریات اُلٹ پلٹ رہے ہیں۔ لبرل جمہوریت کی غیر مساویانہ سیاست سے سامنا ہوچکا ہے۔ انتخابات سے پہلے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر تبرے بھیجے جارہے تھے، مگر اب صدمہ کم ہورہا ہے۔ یہ اندازہ بھی ہورہا ہے کہ فرانسس فوکویاما کی مانند فرید زکریا ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کے محض آلہ کار ہی ہیں، منصوبہ ساز نہیں۔ مختصر یہ کہ فرید زکریا تازہ مضمون Sorry, President Trump. I agree with you میں صدر ٹرمپ کی ٹیکس اصلاحات، انفرااسٹرکچر، سرمایہ کاری، ڈی ریگولیشن اور سول سروس اصلاحات سے اتفاق ظاہر کررہے ہیں۔ مگر ایک سوال انہیں پریشان کررہا ہے، کہ آیا ٹرمپ کی نظر میں فرید زکریا یا اس جیسے کسی دانشورکی رائے اہم ہے بھی یا نہیں؟
آگے چل کر وہ لبرل جمہوریت کی رحلت پرگویا نوحہ کناں ہیں۔ لکھتے ہیں: ’’فوکس نیوز کا میزبان جو وائٹ ہاؤس کا غیر اعلانیہ ترجمان بن چکا ہے، وہ ’’میڈیا کو لاپروا اورنااہل کروڑپتی افراد کا ٹولہ‘‘ قرار دیتا ہے، ایک ایسا ٹولہ جو اکثر امریکیوں کے فیصلے کو حقارت سے دیکھتا ہے۔ اس نکتے پرکوئی اعتراض اٹھا سکتا ہے کہ ٹرمپ کے مقابلے میں ہلیری کلنٹن کو تیس لاکھ زیادہ ووٹ پڑے۔ مجھے نہیں پتا اکثریت کے لیے کیا پیمانہ ہونا چاہیے۔ اگر پیداواری لحاظ سے دیکھا جائے، بروکنگ انسٹی ٹیوشن بتاتا ہے کہ ہلیری کلنٹن کی حمایتی پانچ سو کاؤنٹیز 64 فیصد جی ڈی پی مہیا کرتی ہیں، جبکہ ٹرمپ کی حمایتی چھبیس سو کاؤنٹیز محض 36 فیصد جی ڈی پی کا سبب ہیں۔ کسی بھی معاشی زاویے سے جائزہ لے لیجیے، ہلیری کی حمایتی ریاستیں شمار و معیار میں آگے ہیں۔ 1990ء سے2009ء تک ہلیری کلنٹن کی ریاستوں نے اخراجات سے 2.4کھرب ڈالر زیادہ ٹیکس دیے ہیں، جبکہ ٹرمپ کی ریاستوں نے 1.3 کھرب ڈالر زائد کے اخراجات کیے۔ یہ اعداد وشمار اور معیارِ رائے شماری لبرل جمہوریت کو بے نقاب کررہی ہے۔
یہ سب غیر ارادی نہیں۔ ارادہ عالمی اسٹیبلشمنٹ سے آیا ہے، یہ قوم پرست سیاست کا فروغ چاہتی ہے۔ اس کی چند سادہ سی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ مغرب کی تہذیب میں عالمگیریت کی اہلیت نہیں۔ دوسری وجہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کو مغرب کی عالمگیریت مطلوب نہیں۔ تیسری وجہ عالمی تہذیب کا تصور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے لیے سوہانِ روح ہے۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کون ہے؟ اورکیوں عالمگیر انسانی تہذیب کے امکان سے خوفزدہ ہے؟ پہلے سوال کا جواب ہے عالم صہیون: یعنی عالمی اداروں پر قابض مافیا، سپرپاورز سیاست کے سرمایہ کار، اور یہودی لابیزکے منظم اور مستحکم نیٹ ورکس۔
دوسرے سوال کے جواب میں ’’بی بی سی ‘‘اردو سے ایک خبرکفایت کرے گی۔ خبرکی سرخی ہے ’’فرانس میں بھی بنیادپرست اسلام اور عالمگیریت کے خلاف لہر‘‘۔ خبرکا منتخب متن کہتا ہے: ’’فرانس کی انتہائی دائیں بازو کی رہنما ماری لی پین نے صدارتی انتخابات کے لیے اپنا انتخابی منشور جاری کرتے ہوئے ’گلوبلائزیشن‘ اور’بنیادپرست اسلام‘ پر حملہ کیا ہے۔ نیشنل فرنٹ کی امیدوار نے فرانس کے مشرقی شہر لیون میں اپنے حامیوں سے کہا کہ ’’گلوبلائزیشن دھیرے دھیرے مختلف برادریوں کا گلا گھونٹ رہی ہے‘‘۔ انھوں نے لیون میں اتوار کو کہا: ’’لوگ بیدار ہورہے ہیں۔ وہ بریگزٹ دیکھ رہے ہیں۔ وہ ٹرمپ کو دیکھ رہے ہیں اور خود سے کہہ رہے ہیں کہ انھیں ووٹ دینا چاہیے‘‘۔ ان کا کہنا ہے کہ گلوبلائزیشن کا مطلب ’’غلاموں کی بنائی ہوئی مصنوعات کی بے روزگاروں کو فروخت‘‘ ہے۔ نیشنل فرنٹ کے مطابق اس کا حل ’’مقامی سطح پر ہونے والے انقلاب میں مضمر ہے جو ہوشیاری سے کیے جانے والے تحفظ اور معاشی حب الوطنی کے رہنما اصولوں کے تحت ہو‘‘۔ اسی ہفتے لوو میوزیم کے باہر ہونے والے چاقو کے حملے کا ذکر کرتے ہوئے لی پین نے ’بنیاد پرست اسلام‘ کے خطرے سے متنبہ کیا۔ انھوں نے ’بنیاد پرست اسلام کے تحت‘ فرانس کی ایک ایسی تصویر دکھائی جہاں خواتین کے ’کیفے میں جانے یا اسکرٹ پہننے پر پابندی ہوگی‘۔ فرانس میں تقریباً پچاس لاکھ مسلم آباد ہیں‘ جو مغربی یورپ کے کسی بھی ملک میں اقلیتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔‘‘
اس خبر سے یہ خبرمل رہی ہے کہ عالمگیریت کا مغربی ورژن پرانا ہورہا ہے، اور اسلامی تہذیب کی عالمگیریت کا امکان روشن تر ہوتا جارہا ہے۔
عالمی اسٹیبلشمنٹ عالمگیریت سے دہشت زدہ ہے، یعنی اسلامی تہذیب کے غلبے سے خائف ہے، مطلب عالمگیر انسانی تہذیب سے خوفزدہ ہے۔ لہٰذا، وہ عالمگیر انسانی تہذیب کا ہر امکان فنا کردینا چاہتی ہے، خواہ وہ محض انسانی عالمگیریت کا نعرہ ہی کیوں نہ ہو۔
انسانوں کی دنیا زیادہ سے زیادہ شناختوں میں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے، یہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے مفاد میں ہے۔ انسانی تہذیب کے انہدام ہی میں عالمی اسٹیبلشمنٹ کا استحکام ہے۔
سچ مگر یہ ہے کہ انسانی عالمگیر تہذیب کا امکان روشن ہے۔ دنیا ایک گاؤں بن چکی ہے۔ یہ گاؤں عنقریب ایک گھر تک سمٹ جائے گا، طواف کا انسانی دائرہ مکمل ہوجائے گا، ہزار سجدے ایک سجدے میں گرجائیں گے۔
nn

Share this: