(پاکستان کا امریکہ نواز دفتر خارجہ (میاں منیر احمد

Print Friendly, PDF & Email

کسی بھی ملک کا دفتر خارجہ اندھا، بہرا ہوتا ہے اور نہ گونگا۔۔۔ لیکن سرتاج عزیز اور طارق فاطمی کا دفتر خارجہ ان تینوں صفات کا حامل ہے۔ یہ حکومت اور قوم کو ہر وقت امریکہ اور دنیا کی دوسری اقوام سے ڈراتا رہتا ہے لیکن ان ملکوں کے سامنے کبھی بھی پاکستان کا مقدمہ پیش نہیں کرسکا۔ دفتر خارجہ کے گونگے پن کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی پاکستان کی عمر ہے۔ ملک میں جمہوری حکومت ہو یا آمرانہ راج۔۔۔ کبھی ہمارے دفتر خارجہ نے قومی مفاد کا دفاع نہیں کیا۔ لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جارحیت ہو یا افغان حکومت کے الزامات۔۔۔ امریکہ کا دباؤ ہو یا نیٹو کا لشکر۔۔۔ ان سب کے سامنے دفتر خارجہ ہمیشہ دفاعی پوزیشن پر رہا۔ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ سب سے بڑی وجہ تو دفتر خارجہ کے بابوؤں کی مفاد پرستی اور ذاتی مستقبل محفوظ بنانے کی دوڑ ہے۔ دفتر خارجہ کے افسروں کی ایک طویل فہرست ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد یورپ یا امریکہ میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ اور جو ملک میں رہ رہے ہیں اُن کی اکثریت ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے کام کرتی ہے۔ طارق فاطمی بھی ان میں سے ایک ہیں۔ جب اس مزاج کے لوگ دفتر خارجہ میں ہوں گے تو قومی مفاد کے دفاع کی ان سے امید رکھنا عبث ہے۔ دفتر خارجہ میں کام کرنے والے لوگوں کا ایک کلب ہے، جس کا اظہار حال ہی میں آزاد کشمیر کے صدر کے منصب پر مسعود خان کی تعیناتی کے بعد سامنے آیا ہے کہ وہ آزاد کشمیر کے پہلے صدر ہیں جو دفتر خارجہ کے ان تمام سابق بیوروکریٹس کو اسائنمنٹس دے رہے ہیں جو یورپ یا امریکہ میں سفارت کار رہے ہوں۔ مستقبل میں ماہرین کے نام پر یہ لوگ کشمیر کا مقدمہ عالمی برادری کے سامنے پیش کرنے بیرونِ ملک جائیں گے۔ ان کی اکثریت انہی لوگوں پر مشتمل ہے جو کبھی بھی کشمیر کی آزادی ’’بذریعہ جہاد‘‘ پالیسی اور حکمت عملی کے حامی نہیں رہے۔ اگر دفتر خارجہ میں اس سوچ کی حامل ٹیم کے ذریعے ہی کشمیر کا مقدمہ لڑا جانا ہے تو پھر ہمیں ہر طرح کی پابندیوں کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ ہمارے سفارت کاروں نے نہ کل کشمیر کا مقدمہ لڑا اور نہ مستقبل میں یہ ہمارا مقدمہ لڑیں گے۔ اسی پس منظر میں حافظ سعید کی نظربندی دیکھی جانی چاہیے۔ یہ فیصلہ بھی امریکہ میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی کی اس انتہائی خوفناک اطلاع پر ہوا کہ اگر نظربندی نہ ہوئی تو پاکستان بھی اُن سات ممالک میں شامل ہوجائے گا جن کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
اس اطلاع کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہمارے سفارت کار اقوام عالم کو مطمئن کرنے کے بجائے اُن کا مقدمہ ہمارے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں جیسے وہ ہمارے نہیں، دنیا کے طاقت ور دارالحکومتوں کے وکیل ہوں۔ جلیل عباس جیلانی کی اطلاع پر ہی کہا گیا ہے کہ حافظ محمد سعید کی نظربندی ایک پالیسی فیصلہ ہے جو ریاستی اداروں نے مل کر قومی مفاد میں کیا ہے، لہٰذا حساس معاملات پر قیاس آرائی نہ کی جائے۔ یہ قیاس آرائیاں ریاستی اداروں کے درمیان فاصلے پیدا کرسکتی ہیں۔ فوجی ترجمان کی طرف سے بروقت وضاحت سے یہ افواہیں یقیناًدم توڑ جائیں گی کہ حکومت نے بیرونی دباؤ پر حافظ سعید کی نظربندی کا فیصلہ کیا۔ میجر جنرل آصف غفورکی پریس بریفنگ سے حکومت اور فوجی قیادت کے شانہ بشانہ ہونے کے تاثر کو تقویت ملی ہے، لیکن حافظ سعید کی نظربندی کے بعد ان کی حمایت اور حکومت کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔ مظاہرہ کرنے والوں کا مؤقف بھی یہی ہے کہ وہ بھی قومی مفاد میں ہی یہ کام کررہے ہیں۔ جماعت الدعوۃ نے عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔ حافظ سعید کی فوج کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہم آہنگی سے ہر کوئی واقف ہے۔ بھارت کی طرف سے حافظ سعید کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔ ان کے خلاف کارروائی بھارت کی خواہش پر نہیں، ثبوتوں پر ہوگی۔ وزیر داخلہ نے حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کی نظربندی، جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کو واچ لسٹ میں ڈالنے کی وجوہات بیان کردی ہیں۔ وفاقی وزارتِ داخلہ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ مجریہ 1997ء، سیکشن 11کے (ای) کے تحت فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور جماعت الدعوۃ کو واچ لسٹ اور سیکنڈ شیڈول میں شامل کرکے متعلقہ نوٹیفکیشن پنجاب حکومت کو بھجوایا، جس کی روشنی میں پنجاب حکومت نے حافظ محمد سعید، عبیداللہ عبید، ظفراقبال، عبدالرحمن عابد اور کاشف نیاز کو نظربند کردیا۔ وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور جماعت الدعوۃ امن اور سیکورٹی کو نقصان پہنچانے کی مرتکب ہورہی تھیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1267 کی خلاف ورزیوں کے ارتکاب جیسی سرگرمیوں میں ملوث پائی گئی ہیں، اسی لیے انسداد دہشت گردی شیڈول کے تحت ان دونوں تنظیموں کو چھے ماہ کے لیے واچ لسٹ میں رکھا گیا ہے اور شیڈول 2 کے تحت اب یہ دونوں تنظیمیں اپنی کوئی بھی سرگرمی حکومت کی مرضی کے بغیر نہیں کرسکتیں۔ نوٹیفکیشن کے تحت ان دونوں تنظیموں کے اکاؤنٹس بھی منجمد ہوجائیں گے۔ جماعت الدعوۃ نے اس حکم نامہ کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بقول نظربندی کا حکم نئی دہلی اور واشنگٹن سے آیا ہے، ان کی نظربندی بین الاقوامی سازشوں کا نتیجہ ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے اور حکومت کے ذمہ دار ذرائع بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ حافظ سعید اور ان کی تنظیموں کے خلاف ایکشن لینے کے معاملے میں حکومت کئی روز تک تذبذب کا شکار رہی۔ وفاقی حکومت میں ایک مضبوط لابی جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی نہیں کرنا چاہتی تھی تاہم واشنگٹن کی جانب سے جماعت الدعوۃ پر پابندی عائد کرنے کے لیے حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالا گیا اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی کی طرف سے حکومت کو پابندی عائد کرنے کا بہت واضح پیغام دیا گیا، جس کے بعد وزیراعظم نوازشریف کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کے کئی اجلاس ہوئے اور بالآخر وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ اس کے باوجود حکومت جماعت الدعوۃ کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور چھے ماہ مکمل ہونے کا انتظار کرے گی۔ وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان کا مؤقف ہے کہ ’’ایسی صورت میں کسی بھی ریاست کو وہ اقدامات اٹھانا پڑتے ہیں جو پہلے نہیں اٹھائے جاسکے تھے‘‘۔ یہ جواز اس لیے بھی ہے کہ حافظ محمد سعید اور جماعت الدعوۃ کے حوالے سے ایسا کوئی عدالتی ریلیف موجود نہیں جس کی بنیاد پر حکومت یہ کہہ کر کارروائی سے گریز کرے کہ حافظ سعید کو ہماری عدالتوں نے آزاد کیا ہے۔ اس تناظر میں اندرونی اور بیرونی دباؤ ہی حافظ محمد سعید کی نظربندی اور ان کی فلاحی تنظیموں کو واچ لسٹ میں رکھ کر ان کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کے حکومتی اقدامات کا محرک بنا ہے۔ ان کی نظربندی پر ملک کی لبرل سیاسی جماعتیں خاموش ہیں، البتہ دینی جماعتوں نے مزاحمت دکھائی ہے۔ لبرل سیاسی جماعتوں کی جانب سے حکومت پر مسلسل تنقید کی جارہی تھی کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا کیونکہ یو این سلامتی کونسل کی واچ لسٹ میں شامل تنظیمیں اور کالعدم قرار پانے والی تنظیموں کے عہدیداران اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حافظ سعید کی نظربندی کا یہ پہلا واقعہ نہیں، انہیں بھارتی لوک سبھا پر 13 دسمبر 2001ء کو ہونے والے حملے کے بعد
(باقی صفحہ 41 پر)
بھارتی دباؤ پر 21 دسمبر 2001ء کو حراست میں لیا گیا تھا اور 31 مارچ 2002ء تک نظربند رکھا گیا، جبکہ 31 اکتوبر 2002ء کو انہیں پھر گھرمیں نظربند کردیا گیا۔ ان کی نظربندی لاہور ہائیکورٹ نے غیر قانونی قرار دی تو جولائی 2006ء میں ممبئی ٹرین حملوں کے بعد ان کے خلاف کارروائی کے لیے پھر بھارتی دباؤ بڑھا۔ چنانچہ اسی سال 9 اگست کو انہیں پھر نظربند کردیا گیا۔ ہائیکورٹ نے ایک بار پھر ان کی نظربندی غیر قانونی قرار دی اور ان کی رہائی ہوئی، مگر ان کی رہائی کے بعد اسی دن انہیں پھر حراست میں لے کر شیخوپورہ ریسٹ ہاؤس میں نظربند کردیا گیا جہاں سے ہائیکورٹ کے حکم پر انہیں 17 اکتوبر 2006ء کو رہائی ملی۔ جب نومبر 2008ء میں ممبئی حملے ہوئے تو بھارت کی طرف سے اقوام متحدہ سے درخواست کی گئی کہ وہ حافظ سعید اور ان کی
(باقی صفحہ 41پر)
جماعت کے خلاف کارروائی کرے۔ اس پر سلامتی کونسل نے جماعت الدعوۃ کا نام واچ لسٹ میں ڈالا تو حافظ سعید کو 11 دسمبر 2008ء کو پھر نظربند کردیا گیا، جبکہ ان کی یہ نظربندی بھی ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دے دی۔ بھارت میں دہشت گردی کی کوئی بھی واردات ہوتی ہے اور کہیں چڑیا بھی پر مارتی ہے تو بھارتی چیخ اٹھتے ہیں۔ مودی نے اپنی حلف برداری کے بعد وزیراعظم نوازشریف سے خیرسگالی ملاقات کے موقع پر دراندازی کے الزامات پر مبنی جوفہرست ان کے حوالے کی تھی اس میں حافظ سعید اور ان کی تنظیم کے خلاف کارروائی کا تقاضا بھی شامل تھا۔ اب ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد تو پاکستان کے لیے اور بھی مشکل صورت حال پیدا ہوگئی ہے کہ ٹرمپ نے دہشت گردی کے حوالے سے مسلم کمیونٹی کو اپنے انتخابی منشور میں نشانے پر رکھا اور اقتدار میں آنے کے بعد متعلقہ مسلم ممالک کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیتے رہے۔ اب انہوں نے سات مسلم ممالک پر امیگریشن کی پابندی عائد کی تو یہ عندیہ بھی دیا جانے لگا کہ پاکستان بھی ان پابندیوں کی زد میں آسکتا ہے، جس کی امریکہ میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی کے حکومت کو بھجوائے گئے پیغام سے بھی تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستان پر ٹرمپ انتظامیہ کا سب سے زیادہ دباؤ حافظ سعید اور ان کی تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے ہی ہے۔ بصورت دیگر اسے پابندیوں والے مسلم ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی دھمکی ملی ہے۔ چنانچہ حکومت کے لیے یہ اقدام مجبوری بن گیا۔ دفترخارجہ کے بابو کہتے ہیں کہ اب چین نے پاکستان کو واضح پیغام بھجوایا ہے کہ اس نے حافظ سعید اور مسعود اظہر کو کنٹرول نہ کیا تو چین کے لیے اب سلامتی کونسل میں پاکستان کا ساتھ دینا مشکل ہوجائے گا۔
nn

Share this: