(مسئلہ کشمیر اور پاکستان کے حکمران (سمیع الرحمان ضیاء،منصورہ لاہور

Print Friendly, PDF & Email

159ان اللہ شادیزئی کا تجزیہ۔ چند وضاحتیں
امان اللہ شادیزئی کوئٹہ ہی نہیں پاکستان کے نامور صحافی ہیں۔ بلوچستان کے سیاسی حالات کے علاوہ طلبہ تحریکوں پر ان کی خصوصی نظر ہے۔ وہ خود بھی طلبہ تحریکوں کا حصہ رہ چکے ہیں۔ 27 جنوری تا 2 فروری 2017ء کے فرائیڈے اسپیشل میں ان کی تحریر ’’کیا طلبہ یونین بحال ہوگی؟‘‘ شائع ہوئی ہے۔ اس تحریر میں بعض سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے ہیں، تاہم بعض امور کی وضاحت ضروری ہے۔
اس تحریر میں انہوں نے بلاضرورت ضیاء الحق مرحوم پر غصہ اتارا ہے اور ساتھ میں یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ بے نظیر جمہوریت پر یقین رکھتی تھیں۔ بے نظیر کے دونوں ادوار میں پوری اپوزیشن کا الزام ہی یہ تھا کہ وہ جمہوریت کو تباہ کررہی ہیں۔ شادیزئی نے یہ بھی لکھا ہے کہ 1970ء کے انتخابات کے بعد بھٹو صاحب بطور وزیر خارجہ پنجاب یونیورسٹی سے خطاب نہیں کرسکے تھے اور صدر یونین بارک اللہ نے انہیں یونیورسٹی سے نکال باہر کیا تھا۔ یہ بات واقعاتی طور پر غلط ہے۔ بھٹو صاحب 1971ء میں یحییٰ کابینہ میں چند دن کے لیے وزیرخارجہ اور نائب صدر بنے تھے۔ مشرقی پاکستان میں آگ لگی ہوئی تھی اس لیے پنجاب میں خطاب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، نہ وہ پنجاب یونیورسٹی آئے تھے۔ دوسرے بارک اللہ خان مرحوم یقیناًبڑے متحرک اور جرأت مند طالب علم لیڈر تھے مگر وہ کبھی بھی پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر نہیں رہے۔ 1970ء کے بعد تو وہ یونیورسٹی چھوڑ کر لاہور میں وکالت کررہے تھے۔ بھٹو صاحب بطور وزیرخارجہ (ایوبی کابینہ) 1966ء میں پنجاب یونیورسٹی سینیٹ ہال میں خطاب کرچکے تھے جس کا ذکر الطاف حسن قریشی نے اپنے انٹرویو میں کیا ہے۔ وہ 1972ء یا 1973ء میں بھی فیصل آڈیٹوریم پنجاب یونیورسٹی میں دانشوروں سے خطاب کرچکے ہیں، لیکن یہ دعوت پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کی نہیں تھی۔ اس کا انتظام پیپلزپارٹی اور محکمہ اطلاعات نے کیا تھا۔ شادیزئی صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ جہانگیر بدر مرحوم نے جاوید ہاشمی سے اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں شکست کھائی تھی۔ یہ بات بھی درست نہیں ہے۔ جہانگیر بدر نے پہلے حافظ ادریس اور پھر حفیظ خان سے شکست کھائی تھی۔ جاوید ہاشمی سے کبھی ان کا مقابلہ نہیں ہوا۔ یہ چند سطور محض تاریخ کا ریکارڈ درست رکھنے کے لیے لکھی گئی ہیں۔

Share this: