کہتے ہیں، اور اس میں اجمود

Print Friendly, PDF & Email

گاجر کا تعلق اس نباتاتی خاندان سے ہے جسے Umbelliferaeکہتے ہیں، اور اس میں اجمود اور کرفس (Celery/parsnip)جیسی سبزیاں بھی شامل ہیں۔ گاجر کے حوالے سے ایک انکشاف یہ ہے کہ اسے سبزی کے طور پر کھانا تو بہت بعد میں شروع کیا گیا، پہلے اسے مختلف امراض کے علاج میں بطور جڑی بوٹی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس سبزی میں جہاں شفائی خصوصیات ہیں، وہیں غذائی ضرورتیں پوری کرنے کی خوبیاں بھی قدرت نے اس میں رکھی ہیں۔ انسانی غذا میں وٹامن A کی ایک صورت ’’بیٹاکیروٹین‘‘ کے حصول کا یہ بہترین ذریعہ ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹ جسم کو کینسر سے محفوظ رکھتا ہے۔ گاجر میں وٹامن A, B, C اور ان کے علاوہ معدنیات، فاسفورس، پوٹاشیم اور کیلشیم بھی پائے جاتے ہیں۔ چینی معالج اپنے اُن مریضوں کو جن کا جگر اچھی طرح کام نہ کررہا ہو، گاجر کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
گاجر وٹامن اے کا خزانہ ہے۔کیروٹین نامی مادہ جو وٹامن اے کی ابتدائی شکل ہے،گاجر کے انگریزی نام کیرٹ سے ماخوذ ہے۔ کیروٹین ہمارے جسم میں جاکر جگر کے ذریعے وٹامن اے بن جاتا ہے۔
گاجر زمانۂ قدیم سے آنکھوں کی بینائی کے لیے بہترین تصور کی جاتی ہے۔ یہ نقطہ نظر گاجر کے روزانہ کے استعمال سے منسوب ہے۔ یہ ایک خوش رنگ سبزی ہے جو آنکھوں کے لیے بہترین ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گاجر آپ کی آنکھوں کی صحت برقرار رکھنے اور اس کو بہتر بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں موجود بیٹا کیروٹین جگر کی مدد سے وٹامن A میں تبدیل ہوجاتا ہے، اور وٹامن A آپ کی آنکھوں کے لیے بہت فائدے مند ہے کیونکہ یہ آپ کی آنکھوں کے پٹھوں کو مضبوط بناتا ہے اور گاجر بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہے، اس لیے یہ آنکھوں کی بیماریوں موتیا، اندھا پن اور زیادہ عمر میں ہونے والی آنکھوں کی بیماریوں سے حفاظت کرتی ہے۔
ہم بیمار ہوکر جو رقم معالجین کی فیسوں کی مد میں ادا کرتے ہیں وہی رقم بہتر انداز میں اپنی خوراک پر خرچ کریں تو بہت سی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں۔ شاید اسی لیے ’خوراک سے علاج‘ کی اصطلاح دنیا بھر میں مقبول ہورہی ہے اور اس پر ماہرین نت نئی تحقیقات کررہے ہیں۔ ایک نئی تحقیق میں ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ گاجر کے مناسب استعمال سے انسان بڑھاپے میں نظر کی کمزوری اور اندھے پن سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گاجر میں موجود مخصوص سیاہ مادہ، جو اسے سرخ رنگت دیتا ہے، بڑھتی عمر کے ساتھ نظر کی کمزوری کا خطرہ 40 فیصد تک کم کردیتا ہے۔
گاجر کی کاشت دنیا بھر میں ہوتی ہے اور ہر جگہ یہ بڑے شوق سے کھائی جاتی ہے۔ اس کا شمار بہترین طاقت بخش غذائی اشیاء میں ہوتا ہے۔ خاص طور پر اس میں موجوہ زرد رنگ یعنی بیٹا کیروٹین اس کا بہت اہم جز ہے۔ یہی جسم میں جاکر حیاتین الف میں تبدیل ہوتا ہے اور یہ حیاتین جسم کی قوتِ مدافعت کو مضبوط رکھتا ہے۔ ابالنے کی صورت میں گاجروں کے دو اہم جز، یعنی پوٹاشیم کی مقدار ایک تہائی اور فولاد کی مقدار گھٹ کر نصف رہ جاتی ہے۔ اسی طرح اس کے دوسرے اجزا بھی کم ہوجاتے ہیں، اس لیے گاجر ہمیشہ کچی کھانی چاہیے یا پھر اسے بھاپ پر گلا کر یا پکاکر کھانا چاہیے۔کچی گاجر میں بیٹا کیروٹین کم ہوتی ہے، لیکن پکانے سے اس میں تین گنا اضافہ ہوجاتا ہے اور بہ آسانی ہضم بھی ہوجاتی ہے۔
سبز گاجر پھل کی طرح کچی بھی کھائی جاتی ہے۔ نمک، مرچ لگاکر کھانے سے بڑا لطف آتا ہے۔ غذائیت کے اعتبار سے گاجر میں 88.2 فی صد پانی ہوتا ہے۔ سو گرام گاجر میں 45 حرارے (کیلوریز)، 1.2 گرام پروٹین، 12 گرام کیلشیم، 12000 آئی یو، حیاتین الف (وٹامن اے)، 10.04 ملی گرام الیکاربک ایسڈ، 42 ملی گرام تھایامن اور 0.21 ملی گرام نایاسن پائی جاتی ہے۔
امریکن ڈائٹک ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر واٹسن کے مطابق روزانہ 12800 یونٹ بیٹا کیروٹین کھانی چاہیے، جو کدوکش کی ہوئی گاجروں کی آدھی پیالی سے ہمیں مل جاتی ہے۔ بیٹا کیروٹین کی سب سے اہم خاصیت یہ ہے کہ یہ ایک نہایت مؤثر مانع سرطان ہے۔ جان ہاپکنز یونی ورسٹی کی 1987ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پھیپھڑے کے سرطان کے مریضوں میں اس کی مقدار نمایاں طور پر کم پائی گئی۔ اب یہ کھوج لگایا جارہا ہے کہ کیا اس کی کمی دوسرے قسم کے سرطان کا بھی سبب ہوتی ہے؟ اور کیا اس کا استعمال ان کے تدارک کی مؤثر تدبیر ثابت ہوسکتی ہے؟ اب تک ملنے والی رپورٹوں سے یہی ظاہر ہوا ہے کہ بیٹا کیروٹین ہر قسم کے سرطان کو روکتی ہے۔ گویا گاجر سرطان کے خلاف ایک مؤثر ڈھال ہے۔
گاجر کا روزانہ استعمال بڑی آنت کے کینسر، پھیپھڑوں کے کینسر اور چھاتی کے کینسر جیسی خطرناک بیماریوں کے اثرات کو کم کرتا ہے۔ یہ بات تحقیق سے ثابت ہوئی ہے کہ فیلکیرینول اور فیلکیری دو ایسے مرکبات ہیں جو کینسر سے لڑنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جسم میں داخل ہونے والے انفیکشن کو روکنے کے لیے گاجر کا استعمال بہت فائدے مند ہے۔ گاجر میں وہ قدرتی اجزاء شامل ہیں جو معمولی زخم کے انفیکشن کو روکنے کے لیے قدرتی طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاج کے لیے آپ ایک گاجر کا ٹکڑا لیں، اس کو اُبالیں اور اس کا پیسٹ بناکر زخم پر لگائیں۔
گاجر غذائیت ہی کا سامان نہیں کرتی بلکہ اس سے صحت، فرحت اور توانائی کا سامان بھی فراہم ہوتا ہے۔ اختلاجِ قلب، یعنی دھڑکن اور گھبراہٹ کے لیے گاجروں پر عرقِِ گلاب چھڑک کر رات کو جالی سے ڈھک کر شبنم میں رکھ دیں، صبح اسے کھانے سے بہت فائدہ اور سکون ہوتا ہے۔ اس کی شکر آسانی سے ہضم ہوجاتی ہے۔ گاجر خون بھی صاف کرتی ہے۔ دودھ کے ساتھ اس کا استعمال ایک مؤثر ٹانک ثابت ہوتا ہے اور اس کی کھیر کے استعمال سے زچگی کے دوران ہونے والی چھوت کی شکایات بھی دور ہوجاتی ہیں۔ گاجر کے استعمال سے منی (مادۂ حیات) بنتی اور گاڑھی بھی رہتی ہے۔ شہد میں تیار گاجر کا مربہ قلب کے علاوہ کھانسی اور نزلہ زکام کے لیے بھی مفید ہوتا ہے۔ تازہ گاجروں کے رس میں ان تمام خاصیتوں کے علاوہ السر اور سرطان کا سبب بننے والے مضر اجزا دور کرنے کی خاصیت بھی ہوتی ہے۔ گاجر کا رس جگر سے مضر اجزا خارج کرکے اس کی صحت اور کارکردگی میں اضافہ کردیتا ہے۔ یہ گردوں کی بھی صفائی کرتا ہے۔ جسم میں توانائی اور طاقت بڑھ جاتی ہے۔ گاجر کا ریشہ قبض دور کرتا ہے۔ یہ قبض کے لیے گندم کی بھوسی سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اس سے آنتوں کی سوزش یا جلن بھی دور ہوتی ہے اور تیزابی اثرات ختم ہوجاتے ہیں۔
جو لوگ اپنی جلد کی خوبصورتی کے لیے بازاری پروڈکٹس خریدتے ہیں، گاجر ان کو وہی مدد فراہم کرے گی بنا کسی نقصان کے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ اور وٹامن اے جلد کے لیے بہت فائدے مند ہیں اور جلد کو سورج کی روشنی سے ہونے والے نقصان سے بچاتے ہیں۔ جلد کو تر و تازہ، صحت مند اور خوبصورت بناتے ہیں۔ وٹامن اے خشک جلد کے لیے مؤثر ہے۔ اس کے مزید فوائد یہ ہیں کہ یہ آپ کی جلد کی جھریاں، داغ دھبے دور کرتا ہے اور جلد کو نکھارتا ہے۔ اور مزید یہ کہ آپ اپنی جلد کے لیے اس کا ماسک گھر میں بھی تیار کرسکتے ہیں۔ ایک گاجر لیں، اس کو بھاپ دیں اور پھر کسی برتن میں کوٹیں۔ ایک چمچہ شہد ڈالیں، ایک چمچہ زیتون کا تیل اور ایک چمچہ لیمو کا رس بھی شامل کرلیں۔ ان تمام اجزاء کو ملائیں اور پیسٹ بنا لیں۔ چند منٹ کے لیے اپنے چہرے پر لگائیں یا آہستہ آہستہ اپنے چہرے پر اس کا مساج کریں، یا اس پیسٹ کو پانچ منٹ کے لیے اپنے چہرے پر چھوڑ دیں۔ پانچ منٹ گزر جانے کے بعد چہرہ دھولیں۔
شہیدِ پاکستان حکیم محمد سعید نے اپنی تصنیف ’’مفید غذائیں، دوائیں‘‘ میں لکھا ہے کہ نئی تحقیق نے بھی گاجر کے فوائد کی تصدیق کردی ہے۔ گاجر میں شکر، نشاستہ وغیرہ غذائی اجزا، اور فولاد، چونا، فاسفورس جیسے فائدے بخش نمکیات کے علاوہ حیاتین الف، ب اور ج (وٹامن A.B.C) بھی پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا گاجر بدن کی نشو ونما کرنے اور طاقت بخشنے کے لیے بہت اچھی اور مفید غذا ہے۔ اطبائے کرام کی رائے میں گاجر ایک مفید ترکاری ہے، جو ہر موسم میں ملتی ہے اور امیر و غریب سب یکساں اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ یہ مفرح قلب و دماغ ہے۔اعضائے رئیسہ کو طاقت دیتی ہے۔ گاجر نہ زود ہضم ہوتی ہے اور نہ ثقیل۔ یہ بصارت کی کمزوری کو دور کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کھانسی، دمہ، دردِ سینہ، سنگِ گردہ، مثانے کی خرابیوں اور جگر کی سکڑن کو دور کرتی ہے۔ گاجر کھانے سے گردے اور مثانے کی پتھری ٹوٹ کر پیشاب کے راستے خارج ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں گاجر نسوانی اور مردانہ امراض میں شفا بخش ہے۔ دودھ دینے والے جانور،مثلاً بھینس، گائے، بکری وغیرہ کو اگر گاجر کھلائی جائے تو وہ زیادہ دودھ دینے لگتی ہیں۔
گاجر ایک موسمی ترکاری ہے۔ یہ موسم کے علاوہ بھی ہر سبزی فروش کی دکان کی زینت بنی رہتی ہے۔ ایک گلاس گاجر کا رس مصری کے ساتھ پلانے پر مریض کا یرقان دور ہوجاتا ہے اور خون کی افزائش کے علاوہ چہرے کی رنگت اور تازگی بڑھ جاتی ہے۔ گاجر کے فوائد بے شمار ہیں، مگر بسیار خوری پر یہ نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتی ہے، یعنی ریاح کی تکلیف بڑھاتی ہے۔ لہٰذا گاجر اور اس کے حلوے کو اعتدال کے ساتھ کھانا چاہیے، تاکہ اس سے پورا فائدہ اٹھایا جاسکے۔
علامہ حکیم نجم الغنی گاجر کی صفات و شناخت اور اقسام کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک مزروعہ روئیدگی کی گاؤ دم جڑ ہے۔ اس کی تین قسمیں ہیں، جبکہ صاحبِ رہنمائے عقاقیر فرماتے ہیں کہ یہ ایک قسم کی ترکاری ہے جسے کاشت کیا جاتا ہے اور اس کی جڑ کھانے کے کام آتی ہے۔ ذائقہ میٹھا اور خوشگوار ہوتا ہے۔ حکیم عبدالعزیز خان گاجر کی اقسام کے بارے میں رقم طراز ہیں کہ گاجر ہری اور بستانی دو قسم کی ہوتی ہے۔ بستانی حقیقت اور رنگ کے لحاظ سے کئی اقسام میں منقسم ہے چنانچہ رنگ کے اعتبار سے اس کی چار اقسام ہیں:
(1) سفید مائل: آج بھی اس کی کاشت پوری دنیا میں بالعموم اور پاک و ہند کے علاقے میں بالخصوص ہوتی ہے۔ (2) اودے رنگ کی۔ (3) قدرے سرخ رنگ کی۔ (4) زیادہ سرخ رنگ کی۔ لیکن ان اقسام کا اختلاف محض زمین کے اختلافات پر موقوف ہے۔ چنانچہ ریتیلی زمین کی گاجر سفید ی مائل چکنی اودی، شیریں، اور پہاڑی زمین کی سرخ رنگ کی ہوتی ہے۔ اور ان میں اچھے قسم کی سرخ، کم ریشہ و شیریں اور موسم سرما میں پیدا ہونے والی ہوتی ہے۔ گاجر کی طبیعت گرم و تر پہلے یا دوسرے درجے میں، یا گرم دوسرے درجے میں اور تر پہلے درجے میں۔ جبکہ وید گرمی و سردی میں معتدل جانتے ہیں۔ بضاعت الاطباء میں مذکور ہے کہ اس کی جڑ پہلے درجے میں گر م و تر ہوتی ہے۔
اگر گاجر کھانا چاہیں تو کھانا کھانے کے بعد تر و تازہ، ملائم گاجریں خوب چبا چبا کر کھائیں۔ اس سے دانتوں اورمسوڑھوں کو فائدہ پہنچنے کے علاوہ غذا ہضم کرنے میں بھی مدد ملے گی اور بدن کو غذائیت اور تقویت حاصل ہوگی، اور گاجروں کو پکا کر کھایا جائے تو پکاتے وقت ان کا پانی اسی میں جذب کردینا چاہیے۔ ان کو پکا کر پانی پھینک دینے سے فائدے مند اجزا بے کار چلے جاتے ہیں۔
گاجر دو ہزار سال سے زائد عرصے سے کاشت ہوتی چلی آئی ہے۔ شہنشاہ بابر کے متعلق روایت ہے کہ وہ تلی ہوئی گاجریں بڑے شوق سے کھایا کرتا تھا۔ وید کہتے ہیں کہ گاجر بھوک پیدا کرتی ہے، بواسیر کو مٹاتی ہے۔ کچی گاجر کھانے سے آنتوں کے کیڑے مرتے ہیں۔ بگڑے ہوئے زخموں پر گاجر کا لیپ کرتے ہیں۔
گاجر غریبوں کا سیب ہے۔ یہ جگر کے سدے کھولتی ہے اور جسم کو طاقت دینے میں لاثانی سبزی ہے۔ اسے کھانے سے پیشاب کھل کر آتا ہے۔ گاجر کا حلوہ جسم کو طاقت دیتا ہے اور دل کے مریض کے لیے بے حد مفید ہے۔
گاجر کا جوس اگر پالک کے جوس کے ساتھ ملا کر اور تھوڑا سا لیمو کا رس ملا کر پیا جائے تو قبض کی شکایت دور ہوتی ہے۔ کیونکہ پالک آنتوں کو صاف کرنے میں مدد دیتا ہے۔
گاجر کا جوس اسہال کے مرض میں ایک عمدہ قدرتی علاج ثابت ہوتا ہے۔ یہ پانی کی کمی کو دور کرتا ہے۔ نمکیات کی کمی کو پورا کردیتا ہے اور آنتوں کو سوزش سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس کے استعمال سے بیکٹیریا کی نشوونما رک جاتی ہے اور قے، متلی کی شکایت دور ہوجاتی ہے۔
آدھا کلو گاجروں کو 150ملی لیٹر پانی میں اتنا اُبالیں کہ یہ نرم ہوجائیں۔ پانی کو نتھار لیں اور آدھا کھانے کا چمچ نمک ڈال کر یہ مشروب ہرآدھے گھنٹے بعد مریض کو دیں۔
گاجر ہر قسم کے طفیلی کیڑوں کی دشمن ہے۔ بچوں کے پیٹ سے کیڑے خارج کرنے کے لیے بہت مفید ہے۔ ایک چھوٹا کپ کدوکش کی ہوئی گاجر صبح نہار منہ کھلانا اس سلسلے میں بہت مفید ہے۔ گاجر کو مختلف طریقوں سے کھایا جاتا ہے۔ اسے سلاد کی صورت میں کچا استعمال کرسکتے ہیں۔ اُبال کر بھی مفید ہے۔ بھون کر سالن کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔ اس کا شوربہ اور جوس دنیا بھر میں مشہور ہے۔ سردیوں میں گاجر کا حلوہ طاقت کے حصول اور جسم کو گرم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ گاجر کو کدوکش کرکے دودھ میں پکایا جاتا ہے، جب اچھی طرح پک جائے تو دیسی گھی، بادام، مغز چلغوزہ، اخروٹ، پستہ اور ورق نقرہ لگا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ گاجر کا مربہ سارا سال دستیاب رہتا ہے۔ دل، معدہ اور جگر کو طاقت دیتا ہے۔ خفقان اور اختلاج قلب میں مفید ہے۔ یاد رہے کہ گاجر کا مزاج گرم تر ہوتا ہے۔
گاجر ایسی سبزی ہے جس میں تمام سبزیوں سے زیادہ غذائیت ہے۔ گاجر کا مربہ چاندی کے ورق لگا کر کھانے سے بے حد مقوی اور فرحت بخش بن جاتا ہے۔ بادام کی چند گریاں اور گاجر کے جوس کا ایک گلاس آپ ہر صبح پی لیں تو بے حد طاقتور چیز ہے، مگر سردیوں میں یہ گرم کرکے استعمال کرنا چاہیے۔
گاجرکو مختلف طریقوں سے پکایا اور تیار کیا جاتا ہے۔ مگر ہم آج آپ کو گھر کے ہر فرد کے لیے ملین ڈالر کی دیسی ڈش بتاتے ہیں جس سے دماغی کمزوری، بینائی، دل کی کمزوری، بواسیر، گردے کے امراض اور عام کمزوری میں فائدہ ہوگا۔ گاجر اور چھوٹی میتھی کو عام سبزی کے طریقے سے پکائیے۔ خصوصاً بچوں اور جن کے چشمہ لگا ہوا ہو، ان کو ضرور کھلائیے۔
گاجر توانائی بخش ہے، جسمانی آلائشوں کو باہر نکالتی ہے۔ اس میں شامل کیلشیم جلد، بال اور ہڈیوں کو صحت مند رکھتا ہے۔ بصارت اس کے استعمال سے بہتر رہتی ہے۔ سانس کی تکالیف کے علاج میں مفید ہے۔ جلدی امراض میں بھی فائدہ پہنچاتی ہے۔ غدود کی خرابیوں سے جو بیماریاں ہوتی ہیں ان کی صحت یابی میں مددگار ہوتی ہے۔ اگر کچی گاجر روز کھائی جائے یا اس کا جوس پیا جائے تو ایام کی بے قاعدگی ٹھیک ہوسکتی ہے۔ گاجر میں دافع سوزش اور جراثیم کش خصوصیات بھی ہوتی ہیں۔
nn

Share this: