طُوطی عرب میں نہیں پایا جاتا

Print Friendly, PDF & Email

گزشتہ شمارے (27 جنوری تا 2 فروری) میں ہم نے ’’کلکاری‘‘ کا مطلب بچے کا خوش ہوکر آوازیں نکالنا لکھا تھا۔ اس پر اردو کے ایک ادیب، کئی کتابوں کے مصنف اور ایک مؤقر جریدے ’رابطہ‘ کے سابق مدیر جناب کلیم چغتائی نے گرفت کی ہے کہ کئی لغات کو کھنگالا (لغات کے نام بھی دیے ہیں) ان تمام نے کلکاری کو (انسان کے) بچے کے بجائے بندر کے چیخنے سے منسوب کیا ہے یا پھر اس سے مراد زور سے چیخنا لیا ہے۔ البتہ ان سب لغات نے ’’قلقاری‘‘ کا مطلب بے زبان بچوں کی آواز کے ساتھ ہنسی بیان کیا ہے۔ کلیم چغتائی کے خیال میں ہوسکتا ہے کہ بچہ اگر کلکاری مارے تو وہ بندر کے چیخنے کی سی آواز محسوس ہوتی ہو، اور قلقاری مارے تو لگے کہ انسان کا بچہ کھلکھلا رہا ہے۔
لغت میں ہم نے بھی کلکاری کا مطلب بندر کی چیخ پڑھا تھا اور یہ صحیح ہے، لیکن کبھی اس کا استعمال نہیں دیکھا کہ بندر کلکاریاں مار رہا ہے۔ ہم نے جس شعر کا حوالہ دیا تھا اُس میں بھی ’’کلکاریاں بھرنا‘‘ کا اشارہ بچے کی طرف تھا۔ گو کہ بندر ہو یا انسان کا بچہ، کلکاریاں (یا قلقاریاں) مارتا ہے، بھرتا نہیں۔ اس توجہ اور تصحیح کا شکریہ۔ بندر خوف کے عالم میں چیختے ہیں۔ اس کو کلکاریاں سمجھنا کچھ دشوار ہے، لیکن لغات کا فیصلہ سر آنکھوں پر۔ بندر عموماً خوخیاتے ہیں لیکن دوسرے کو ڈرانے کے لیے۔
روزنامہ ایکسپریس میں سہیل احمد صدیقی بھی ’’زبان فہمی‘‘ کے عنوان سے دلچسپ اور معلوماتی مضامین لکھ رہے ہیں۔ ان کے ایک کالم مورخہ 23 دسمبر سے ہمیں بھی یہ علم ہوا کہ ’’ماخذ کی جمع مآخذ ہے‘‘۔
اب تک تو ہمارے ٹی وی چینلز خودکُشی (کاف پر پیش) کو خودکَشی کہتے آرہے تھے، اب نہ صرف چینلز پر بلکہ باہمی مجادلے میں مبتلا کچھ سرکاری دانشور فریقِ مخالف پر ’’کردار کَشی‘‘ کا الزام تواتر سے لگا رہے ہیں۔ ارے بھائی، کَش کا مطلب تو کھینچنا ہے جیسے سگرٹ کا کش کھینچنا یا رسّہ کشی، کشاکشی وغیرہ۔ اور کُش کا مطلب ہے قتل کرنے والا، مار ڈالنے والا جیسے محسن کُش۔ یہ فارسی کا لفظ ہے اور کشتن کا امر۔ دوسری طرف کَش (کاف بالفتح) کشیدن کا امر ہے، کھینچنے والا جیسے محنت کش۔ کشمکش کا مطلب ہے کھینچا تانی، فتنہ و فساد، لڑائی جھگڑا۔ مرزا غالب کا شعر ہے:
جاتی ہے کشمکش کہیں اندوہ درد کی
دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا
اسی قبیل کا ایک اور لفظ ہے ’’کُشا‘‘۔ کھولنے والا، فراخ کرنے والا۔ جیسے مشکل کشا، دل کشا وغیرہ۔ اہلِ علم جانتے ہیں کہ فارسی میں کسی لفظ سے پہلے میم لگاکر نفی بنا لی جاتی ہے جیسے مکش، مشو، مُکشا۔ فارسی کا ایک مصرع ہے ’’فتنہ انگیز مشو، کاکل مشکیں مکشا‘‘۔ ہندی میں نفی بنانے کے لیے شروع میں الف لگا دیتے ہیں جیسے جیت سے اجیت۔ لیکن یہ کلیے ہر جگہ استعمال نہیں ہوتے۔
کچھ لوگ اپنے بچوں کا نام رکھنے میں بڑی بے احتیاطی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات مضحکہ خیز نام رکھ دیے جاتے ہیں۔ 29 جنوری کو سنڈے میگزین میں بچوں کی تصویریں چھپی ہیں، ان میں سے ایک بچی کا نام ’’مائدہ‘‘ ہے۔ بعض لوگ قرآن کریم سے یہ کام بھی لینے لگے ہیں۔ مصحف کھولا اور جو نام سامنے آیا اسے متبرک سمجھ کر بچے یا بچی کا نام رکھ دیا۔ قرآن کریم کی ایک سورت کا نام ’’المائدہ‘‘ ہے، لیکن کسی سے پوچھ تو لیا ہوتا کہ مائدہ کا مطلب کیا ہے؟ مائدہ تو دسترخوان کو کہتے ہیں۔ سورہ مائدہ میں بھی انہی معنوں میں آیا ہے۔ ’’اے عیسیٰؑ ابن مریم، کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان (مائدہ) اتار سکتا ہے‘‘ (112)۔ اب کیا یہ بچی مائدہ بڑی ہوکر اس دسترخوانی نام پر شرمندہ نہیں ہوا کرے گی؟ قرآن کریم میں تو ’’بحیرہ‘‘ کا لفظ بھی آیا ہے، وہ بھی رکھ لیں۔ ایک بچی کا نام ’’انعمت‘‘ ہے۔ بطور نام یہ بالکل غلط ہے۔ رکھنا تھا تو انعم رکھ لیا ہوتا۔ انعمت کا مطلب تو ’’تُو نے انعام کیا‘‘ بنتا ہے۔ کیا پتا کوئی صِراط نام رکھ لے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ’’اولاد کا حق ہے والدین پر کہ ان کا اچھا نام رکھیں اور اچھی تربیت کریں‘‘۔
5 فروری کو کشمیری بھائیوں سے یکجہتی کا دن منایا گیا۔ ایک سے زیادہ چینلز پر کہا جارہا تھا ’’یوم یکجہتی کشمیر کا دن‘‘۔ اسلام آباد سے برخوردار عمار نے اطلاع دی کہ یکم فروری کو ایک ٹی وی پر پروگرام کے شرکاء کے بارے میں بتایا جارہا تھا ’’شرکاء کے چہرے ٹمٹمانے لگے‘‘۔ ٹمٹماتے ہوئے شرکاء کیسے لگ رہے ہوں گے۔ غالباً اینکر کے ذہن میں ’’تمتمانے‘‘ ہوگا جسے لغو سمجھ کر ٹمٹما دیا۔
سوچا ہوگا بھلا ’’تمتمانے‘‘ کیا ہوا۔ اب اگر چراغ ٹمٹما سکتے ہیں تو بعض چہرے بھی چراغ تو ہوتے ہیں۔ اس سے کم درجے کے ہوں تو انہیں چاند سے تشبیہ دے دی جاتی ہے جیسے ’’چاند چہرہ، ستارہ آنکھیں‘‘۔
3 فروری کے کالم میں ہم نے لکھا تھا کہ توتی کا املا اہلِ عرب نے طوطی کرلیا ہے۔
سمندر پار سے محترم عبدالمتین منیری نے لکھا ہے کہ ’’ہمیں عربی لغت میں یہ لفظ نہیں ملا، اطلاعاً عرض ہے‘‘۔ بھائی منیری، طوطی بڑا نازک سا پرندہ ہوتا ہے، وہ عرب کے صحرا میں کہاں ٹھیرا ہوگا، اڑ گیا ہوگا۔ یا پھر باز اور عقاب نے نہیں چھوڑا ہوگا۔ عربی لغت میں طوطی نہیں ہوگا لیکن ہماری معلومات کا منبع یا ماخذ اردو لغات ہیں۔ نوراللغات میں یہ درج ہے۔ وارث سرہندی کی علمی اردو لغت نے طوطی کو فارسی قرار دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس کا معنی طوطا قرار دے دیا ہے۔ حالانکہ طوطی سے تو کئی محاورے منسوب ہیں۔ ایک ترکیب ’’طوطئ شکّر مقال‘‘ ہے۔ اب طوطا تو شکر مقال ہونے سے رہا۔ استاد ذوقؔ کا لقب ’’طوطئ ہند‘‘ تھا۔ بہرحال منیری صاحب کا شکریہ۔ نوراللغات کے مرتب مولوی نورالحسن نیّر کب کے مرحوم ہوچکے۔ اب ان کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔ نیّر پر یاد آیا، اخبارات میں اس نام کو عموماً نیئر (ی پر ہمزہ) لکھا جارہا ہے۔ اس طرح تو نیّر کا مطلب ہی خبط ہوجاتا ہے۔ نیّر کا مطلب ہے نہایت روشن، چمکدار۔ عربی کا لفظ ہے۔ اصطلاحاً چاند کو نیّر اصغر اور سورج کو نیّراعظم کہا جاتا ہے۔ بھارت کے ایک صحافی ’’کلدیپ نیّر‘‘ ہیں جن کو کچھ اخبارات یا تو نیئر لکھ دیتے ہیں یا اس سے بڑھ کر نائر۔ حالانکہ نائر ذات جنوبی ہند میں ہوتی ہے جب کہ کلدیپ نیّر کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ نائر لکھنے والے گمان کرتے ہیں کہ ایک ہندو کا عربی نام کیسے ہوسکتا ہے! حالانکہ متعدد ہندو شعرا کا تخلص یا تو عربی ہے یا فارسی۔ مثلاً فراق گورکھپوری، جوش ملسیانی، راجندر سنگھ بیدی سحر، پنڈت گلزار وغیرہ۔
ابھی یہ خامہ فرسائی ہو ہی رہی تھی کہ کلیم چغتائی نے پھر یاد کرلیا۔ ۔ لکھتے ہیں ’’غالباً کالم کی طوالت کی وجہ سے آپ نے ’’کترن‘‘ نکال پھینکی۔ اچھا ہوتا کہ آپ ’’بیونت‘‘ کا تلفظ بھی بتا دیتے۔ لغت نے بتایا کہ بیونت سے مراد بھی تراش، قطع و برید، کفایت شعاری کا طریقہ، موقع اور ڈھب لیا جاتا ہے۔ ’’کتر‘‘ کے ساتھ مل کر شاید یہ دوآتشہ ہوجاتا ہے۔ ویسے یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ ’’بیونت‘‘ کو مولوی نورالحسن نیّر صاحب نے مونث باندھا ہے اور مولوی سید احمد دہلوی نے فرہنگِ آصفیہ میں مذکر قرار دیا ہے۔ البتہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ’’کتر‘‘ اور ’’بیونت‘‘ مل کر مونث ہوجاتے ہیں!
شاید نوجوان قارئین (اور قاریات) کو کتر بیونت سے کوئی خاص دلچسپی نہ ہو۔ ممکن ہے وہ آپ کو مشورہ دیں کہ سیدھے سیدھے پیسے مار لینا کیوں نہیں کہہ دیتے؟!!‘‘
بیونتنا خالص زنانہ کام ہے، یا کبھی ہوتا تھا۔ کلیم چغتائی کو بیونت کے تلفظ کی کیا پڑگئی۔ بہرحال بَیُونْت میں حرف اول بالفتح اور دوم پر پیش، جب کہ ت ساکن ہے۔ اس کا کوئی قافیہ یا وزن ذہن میں نہیں ہے۔ ایسے ہی کام چلا لیں۔
آج کل مردم شماری کا چرچا ہے۔ لیکن برقی ذرائع ابلاغ پر اسے عموماً مردَم کہا جارہا ہے یعنی دال بالفتح۔ جب کہ مردم کی دال پر پیش ہے۔ ہوسکتا ہے کسی کے خیال میں پیش لگانے سے دُم ہوجائے جس میں ذم کا پہلو نکل آئے۔ بہرحال مردَم ہو یا مردُم، دال دونوں میں ہے، دیکھیں کون سی گلتی ہے۔
ہمارے خیال میں ’’کی بجائے‘‘ کی جگہ ’’کے بجائے‘‘ صحیح ہے۔ ماہرین لسانیات فیصلہ دیں۔ عرصہ پہلے ایک استاد نے بتایا تھا کہ الٹ کر دیکھ لیا کریں یعنی ’’بجائے اس کے‘‘۔ اس سے بات واضح ہوجائے گی۔ کچھ الفاط ایسے ہیں جنہیں ہم گفتگو میں بلا تکلف استعمال کرتے ہیں اور لکھتے بھی ہیں۔ ان کا مفہوم واضح ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی لغوی معانی بھی دیکھ لیا کریں۔ (یہ مشورہ اپنے صحافی بھائیوں کو ہے) مثلاً کبھی سوچا کہ یہ ’’لُب لُباب‘‘ کیا ہے۔ ذرا سوچیے، ہم مزید ایسے الفاظ ڈھونڈتے ہیں۔
nn

Share this: