کراچی: مصنوعی سیاسی بندوبست؟

Print Friendly, PDF & Email

کراچی کے شہری ایک لمبے عرصے سے اذیت اور کرب کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ اسٹریٹ کرائمز، ٹارگٹ کلنگ، تباہ حال انفرا اسٹرکچر کی اذیت۔۔۔ تکلیف ہے کہ بڑھتی جارہی ہے، کینسر ہے کہ پھیلتا ہی چلا جارہا ہے۔ لگتا ہے بیماری کچھ ہے اور علاج کچھ ہورہا ہے جس کے بارے میں شاعر نے کہا تھا:
مریضِ عشق پر رحمت خدا کی
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
دوسری طرف ٹریفک کے شور میں شہر کراچی کی سیاست میں پراسرار خاموشی اور سکوت طاری ہے۔ ایم کیو ایم اور اسٹیبلشمنٹ میں کس قسم کے معاملات طے ہونے والے ہیں یا ہوچکے ہیں اس کا کراچی شہر کی سیاست اور اس کے مستقبل سے گہرا تعلق ہے، کیونکہ آج جس تباہ حال کراچی کو ہم دیکھ رہے ہیں اس کی وجہ ایم کیو ایم اور اسٹیبلشمنٹ کا گٹھ جوڑ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم کی حد سے تجاوز کرجانے والی دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کو شہرِ قائد کے باسی بعض حوالوں سے عارضی قرار دے رہے ہیں، لوگوں کا اعتماد اور امید ماند پڑی ہے، اور تجزیہ نگاروں کی اس بات میں بھی وزن ہے کہ کراچی میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن اقتصادی راہ داری منصوبے کے پس منظر میں عارضی بندوبست ہے، کیونکہ سی پیک میں کراچی کی اہمیت کلیدی ہے اور سی پیک منصوبے کی کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ بھی کراچی کی صورت حال سے جڑا ہوا ہے۔ کراچی دنیا کے گنجان ترین شہروں میں سے ایک ہے، جس کی موجودہ آبادی (محتاط اندازے کے مطابق) تقریباً دو کروڑ 51 لاکھ ہے، جو کہ ٹوکیو، نئی دہلی، ممبئی، نیویارک، میکسیکو سٹی، منیلا اور جکارتہ سے زیادہ ہے۔ اس وقت شہر کا ٹریفک کا نظام ابتری کا شکار ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی اشد ضرورت ہے۔ سرکاری سروے کے مطابق شہر میں یومیہ سفر کرنے والوں کی تعداد 7 لاکھ سے زائد ہے، 24 فیصد لوگ پبلک ٹرانسپورٹ، 19 فیصد موٹر سائیکل، 1.7 فیصد کنٹریکٹ کیریر، 21 فیصد ذاتی گاڑیوں اور 8 فیصد لوگ پک اینڈ ڈراپ کے ذریعے سفر کرتے ہیں، ان 7 لاکھ لوگوں کے لیے 6 ہزار سے زائد بسیں تقریباً 300 روٹس پر چلتی ہیں، ان میں سے 85 فیصد بسیں پرانی اور ناقص ہیں۔ یوں شہر کے 42 فیصد مسافروں کا بوجھ پبلک ٹرانسپورٹ کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جو کہ ضرورت کے مطابق دستیاب نہیں ہے۔ اس مسئلے کا حل بڑی بسیں، ماس ٹرانزٹ سسٹم اور کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی اور نجی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی ہے۔کراچی سرکلر ریلوے پہلی بار 1964ء میں شروع کی گئی تھی اور 1984ء تک یہ ٹرانسپورٹ کا مؤثر ذریعہ بنی رہا۔ اس کے بعد سرمایہ کاری نہ ہونے اور حکومتی عدم دلچسپی کے باعث اس کی حالت ابتر ہوتی گئی اور بالآخر اسے 1999ء میں بند کرنا پڑا، جس کے باعث کراچی کے باسی ایک بڑی سہولت سے محروم ہوگئے تھے۔ یہ منصوبے بھی سی پیک کا اب حصہ ہیں۔ اسی طرح کیٹی بندر منصوبے سے کراچی کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ چین میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ میں دھابیجی اسپیشل اکنامک زون قائم کیا جائے گا، اس سے بھی کراچی مستفید ہوگا کیونکہ یہ کراچی سے 55 کلومیٹر کے فاصلے پر سی پیک این 5 یا ایم 9 کے مشرق میں واقع ہے۔ اس کے علاوہ کراچی تا حیدرآباد (136 کلومیٹر) ایم نائن موٹر وے منصوبہ بھی سی پیک کا اہم حصہ ہے، یہ منصوبہ پاکستان موٹر وے نیٹ ورک کا حصہ ہے جس کے تحت یہ اہم شاہراہ کراچی، حیدرآباد، سکھر اور ملتان سے ہوتی ہوئی لاہور تک جائے گی، جس کے ایک حصے کا عجلت میں افتتاح وزیراعظم کرچکے ہیں۔ سی پیک منصوبوں کے علاوہ سندھ حکومت چین کی متعدد کمپنیوں کے ساتھ مفاہمت کی کئی یادداشتوں پر بھی دستخط کرچکی ہے، جس کے تحت چینی کمپنیاں سندھ میں مزید 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی، اس سرمایہ کاری کا ایک اہم شعبہ پانی کا ایک بہت بڑا منصوبہ ہوگا جوکہ کراچی کی آئندہ 50 سال کی پانی کی ضرورت پوری کردے گا، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے 390 ملین گیلن پانی روزانہ کراچی کو فراہم کیا جاسکے گا، اس کے علاوہ دیگر منصوبوں میں ونڈ پاور، کوڑے سے بجلی بنانے کے منصوبے، بایو ماس کے ذریعے بجلی کی پیداوار، ہائیڈرو پاور، پرانے بجلی گھروں کی ازسرنو تعمیر، بجلی کے گرڈ اسٹیشنوں کی تعمیر اور اسمارٹ سٹی منصوبہ شامل ہیں۔
ان منصوبوں کی کامیابی کا انحصار کراچی کی امن وامان کی صورت حال کے ساتھ مستقبل کی سیاسی صورت حال سے بھی ہے۔ اگر ان ترقیاتی منصوبوں کو سنجیدگی، خلوص اور شفافیت سے آگے بڑھایا جائے تو سندھ اور کراچی کے عوام کی تقدیر بدل سکتی ہے اور اس صوبے کے دل کراچی کی روشنیاں ایک بار پھر لوٹائی جاسکتی ہیں، لیکن اس کی کامیابی کے لیے جس پُرامن اور جرائم سے پاک ماحول کی ضرورت ہے اس کے حصول میں ہماری ریاست تاحال ناکام نظر آرہی ہے۔ اگرچہ دہشت گردوں کے خلاف جاری ٹارگٹڈ آپریشن سے شہر پر مثبت اثرات پڑے ہیں، لیکن مکمل امن قائم کرنے میں ریاستی ادارے تاحال ناکام ہیں۔کراچی میں جرائم ہیں کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔ قتل و غارت کی تعداد میں کمی تو ہوئی ہے لیکن ختم نہیں ہوئی، اسٹریٹ کرائمز نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑے ہے،کراچی میں ڈاکوؤں نے سکہ جمالیا ہے، صورت حال اتنی سنگین ہوچکی ہے کہ ہر موڑ پر گویا ایک ڈاکو شہریوں کا انتظار کررہا ہے، اور اس صورت حال پر ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر نے انوکھی منطق پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں اسٹریٹ کرائمز اتنے بھی نہیں جتنے میڈیا بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے، میڈیا کا ایجنڈا ہے کہ اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں بڑھا چڑھا کر پیش کی جائیں۔ جبکہ صورت حال یہ ہے کہ کراچی میں ہر گھنٹے میں اسٹریٹ کرائم کی 6 وارداتیں رپورٹ ہورہی ہیں، حالانکہ اسٹریٹ کرائم میں موبائل فون چھیننے اور چوری کی 90 فیصد وارداتیں رپورٹ ہی نہیں کرائی جاتیں۔ سی پی ایل سی کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق صرف جنوری کے دوران 31 افراد قتل کیے گئے۔ اگر تناسب دیکھا جائے تو ہر روز ایک شخص اپنی جان کی بازی ہارا، 2622 افراد موبائل فون سے محروم ہوئے، 143 شہری گاڑیوں، 1848 افراد سے موٹرسائیکلیں چوری اور چھین لی گئیں، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے واقعات بھی جاری ہیں، چائنا کٹنگ آج بھی ہورہی ہے بس کردار تبدیل ہوگئے ہیں۔کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بھی شہر بھر میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ مؤثر طریقے اور نتیجہ خیز حکمت عملی وضع کرکے اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں پر قابو پانے کے لیے اقدامات کریں۔ چیمبر آف کامرس کے مطابق اگرچہ 2013ء میں شروع ہونے والے کراچی آپریشن کے نتیجے میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا، بھتہ خوری اور دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی، لیکن اسٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہی دیکھا گیا۔ شہر کے ہر حصے میں نقدی، موبائل فون، موٹرسائیکلیں، کاریں اور دیگر قیمتی اشیا چھیننے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ شہریوں کو نہ صرف رات کے اندھیرے بلکہ دن کی روشنی میں بھی بعض مصروف سڑکوں پر لوٹ لیا جاتا ہے۔ چیمبر آف کامرس کے صدرکا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کے خوف سے شہری خریداری کم سے کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ کاروباری اداروں خصوصاً دکانداروں کو سیکورٹی کے اخراجات کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ بات باعث تشویش ہے کہ شہر کے 60 مقامات کے انتہائی غیر محفوظ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں ہر روز بلا تعطل ڈکیتی کے واقعات پیش آتے ہیں۔کراچی میں اسٹریٹ کرائمز میں اضافے نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوال اٹھا دیے ہیں ۔ کراچی ریاستی اداروں کے کنٹرول میں کیوں نہیں آرہا ہے؟کیا ادارے اس صورت حال کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے یا ایسا کرنا نہیں چاہتے؟ کیا اسٹیبلشمنٹ کراچی کے مستقبل کے لیے کوئی نیا منصوبہ رکھتی ہے جس کا تعلق ایم کیو ایم (الطاف)، ایم کیو ایم پاکستان، پی ایس پی اور سلیم شہزاد جیسے کرداروں سے ہم یہ سمجھتے ہیں کراچی کا مسئلہ اتنا سادہ بھی نہیں جس طرح اس کو حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہاں کے دہشت گردوں کو ’’اپنے کنٹرول‘‘ میں کرلو باقی سب ٹھیک ہوجائے گا، اور اتنا پیچیدہ بھی نہیں ہے کہ حل ہی نہ ہوسکے۔ کیونکہ کراچی میں ابتری اور بربادی کے طویل سفر کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟ ایم کیو ایم کی دہشت گردی کس کی سرپرستی میں رہی اور اس عفریت کو کراچی کے عوام پر مسلط کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ ان سوالات کے جواب کون دے گا؟کراچی اس وقت جہاں امریکہ کی سرپرستی میں سی آئی اے، را، موساد میں گھرا ہوا ہے اور یہ مقامی دہشت گردوں کے ساتھ کراچی کی صورت حال کو ٹھیک نہیں ہونے دے رہے ہیں، وہیں کراچی میں مصنوعی سیاسی بندوبست کی کوشش ہورہی ہے تا کہ کراچی میں حقیقی سیاسی قوت کی بحالی ممکن نہ ہوسکے۔کراچی میں دہشت گردی، اسٹریٹ کرائم سے نجات اور سی پیک کی کامیابی مطلوب ہے تو حقیقی امن قائم کرنا ہے تواس کے لیے حقیقی سیاسی قوتوں کو راستہ دینا ہو گا۔ لیکن یہاں عملی طور پر تو یہ ہوا ہے کہ چھاپوں میں ہزاروں دہشت گردوں کو پکڑنے، ان کے ساتھ بڑی تعداد میں اسلحہ پکڑے جانے کی خبریں تو خوب زور و شور سے چلتی ہیں لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے یہ صرف دعویٰ تھا، جس کی مثال عزیز آبادکے ایک گھر میں پانی کے ٹینک کے اندر سے پکڑے جانے والے اسلحے اور گولہ بارود کی ہے۔ اس کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے ادارے بڑی تعداد میں نوجوانوں کو گھروں سے اٹھاتے ہیں، ان کے گھر والوں سے بڑی رقم وصول ہوجائے تو چھوڑ دیتے ہیں ورنہ جھوٹے مقدمات میں اندر ڈال دیتے ہیں۔ اب تک کراچی آپریشن کے مثبت اثرات کی جو تصویر بن رہی تھی وہ پھر خراب ہورہی ہے جس کی وجہ صرف یہی ہے کہ کراچی کا مصنوعی حل تلاش کرنے کی کوشش سے خرابیاں مزید بڑھ رہی ہیں۔

Share this: