(مسئلہ کشمیر اور پاکستان کے حکمران(سمیع الرحمان ضیاء،منصورہ لاہور

Print Friendly, PDF & Email

کشمیر کو جنت نظیر کہا جاتا ہے، اور یہ کہنا حق بجانب ہے، کیونکہ کشمیر کے جس حصے کو بھی دیکھا جائے، انسان اُس کے سحر میں کھو جاتا ہے۔ مگر گزشتہ69 برسوں سے جنت کا یہ ٹکڑا بھارت کے غاصبانہ قبضے اور ریا ستی دہشت گردی کا شکار ہے۔ برہان مظفروانی کی شہادت کے بعد سے اب تک ڈیڑھ سو سے زائد کشمیری شہید کردیے گئے ہیں، پندرہ سو کے قریب افراد کی بینائی چھین لی گئی جن میں معصوم بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو اجاگر کرنے اور کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 5 فروری کا دن عالمی سطح پر اور بالخصوص پاکستان میں ہر سال بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں بھی دینی وسیاسی جماعتوں کے زیراہتمام ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر پورے جذبے اور عزم کے ساتھ منایاگیا۔ ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے ہاتھوں کی طویل زنجیریں بنائی گئیں۔ریلیاں، جلسے جلوس اور سیمینار منعقد کیے گئے۔ پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کا آغاز 1990ء میں ہوا جب قاضی حسین احمدؒ کی اپیل پرملک بھر میں اہل کشمیر کے ساتھ زبردست اظہارِ یکجہتی کیا گیا۔ ہر سال اس دن کو منانے کا ہمارا مقصد اپنے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ ہم اُن کے دکھ درد میں اُن کے ساتھ ہیں۔ کشمیری صدیوں سے مظالم کا شکار رہے ہیں لیکن انہوں نے اپنے حوصلے اور پختہ عزائم کی وجہ سے کبھی ہمت نہیں ہاری، اور تحریک آزادئ کشمیر کو جاری رکھا۔ تحریک آزادئ کشمیر کب شروع ہوئی، اس کو جاننے کے لیے کشمیر کے پس منظر کو جاننا ضروری ہے۔1586ء میں مغلوں نے کشمیر پر حملہ کیا اور 1752ء تک کشمیر پر مغلوں کی حکومت رہی۔ 1752ء سے لے کر 1819ء تک افغان اس خطے پر مسلط رہے۔ 1819ء سے1846ء تک کشمیر کو سکھوں نے اپنی کالونی بنائے رکھا۔ کشمیری عوام کی تحریک آزادی اُس وقت شروع ہوئی جب انگریزوں نے 16 مارچ 1846ء کو کشمیر کا75 لاکھ روپے نانک شاہی کے عوض ڈوگروں کے ساتھ سودا کیا۔ اس سودے کے بعد ڈوگروں نے کشمیریوں کو 100 سال تک بدترین غلامی اور ظلم وستم کا شکار بنائے رکھا۔ ڈوگروں کے ان مظالم کی وجہ سے ہی کشمیری 13جولائی1931ء کو ڈوگروں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ 22 نوجوانوں نے اپنے سینوں پر گولیاں کھاکر شہادتیں پیش کیں اور 47 زخمی ہوئے۔ یوں تحریک آزادئ کشمیر نے جنم لیا جو تاحال جاری وساری ہے۔ 1947ء میں تقسیم ہندکے صرف چند ماہ بعد ہی بھارت نے بدنیتی دکھائی اور جموں وکشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد جموں و کشمیر میں بھارت نے اپنی فوج اتاردی۔ اب تک بھارتی فوج نے کالے قوانین کے تحت ہزاروں افراد کو اغوا، بیس ہزار سے زائد خواتین کی آبروریزی اور ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کردیا ہے۔ عالمی امن کا پرچار کرنے والے ممالک کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے ظلم و ستم اور غاصبانہ قبضے پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ گزشتہ69 برسوں سے بھارت اپنے مؤقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹا۔ اس کے برعکس حکومتِ پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر کئی بار لچک کا مظاہرہ کرکے اپنے ’’مقدمے‘‘ کو خاصا کمزور کیا ہے۔ بھارت شروع دن سے ’’اٹوٹ انگ‘‘کی رٹ لگا رہاہے اور مقبوضہ کشمیر سے دست بردار ہونے پر تیار نہیں ہے۔ ہماری تمام سیاسی قیادت اور حکمران دوسرے ایشوز پر توبات کرتے ہیں لیکن کشمیرکے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کروانے کے لیے بھارت پر زور نہیں ڈالتے۔ بھارت مسئلہ کشمیر حل کرنے میں سنجیدہ اور مخلص نہیں، کیونکہ1972ء سے لے کر آج تک وہ مذاکرات کا ڈھونگ رچاکر محض ’’وقت گزاری‘‘کررہا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے اربابِ اقتدار نے کشمیر کے مسئلے کو پس پشت ڈالا ہوا ہے۔ کشمیر کے بارے میں بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے خیالات دیکھے جائیں تو انہوں نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا۔ امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے بجا طور پر کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی کبھی بھی حکمرانوں کی ترجیح نہیں بن سکی۔ حکمران جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بڑی بڑی باتیں کرتے اور حکومت پر تنقید کرتے نہیں تھکتے، مگر جب خود حکومت میں آتے ہیں تو تمام وعدے اور دعوے بھول جاتے ہیں اور بھارت کے ساتھ دوستی کی باتیں شروع کردیتے ہیں۔ اقوام متحدہ اگر مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں قراردادوں پر عملدرآمد کروا سکتی ہے تو کشمیر میں کیوں نہیں کرواتی؟ عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کی نزاکت سامنے رکھتے ہوئے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرنی چاہیے اور بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دے۔کشمیری عوام پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں، اس لیے حکومتِ پاکستان کو اپنی’’کشمیر پالیسی‘‘ کا واضح اور دوٹوک اعلان کرنا چاہیے۔ جنرل (ر) پرویزمشرف اور آصف علی زرداری کے سابقہ ادوار میں تحریکِ آزادئ کشمیر کو نظرانداز کرکے مسئلہ کشمیر کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، اس کو بھارت کے پنجۂ استبداد سے نجات دلانے کے لیے خلوصِ دل کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ پاکستان کی ترقی و خوشحالی اسی وقت ممکن ہوسکتی ہے جب کشمیر آزاد ہوکر پاکستان کا حصہ بنے اور جنوبی ایشیا سے بھارتی و امریکی مداخلت کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔

Share this: