وفاقی محتسب پاکستان کی تین سالہ کارگردگی

Print Friendly, PDF & Email

عبدالصمد تاجیؔ
تنزلی کے اس دور میں جہاں بڑے بڑے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشانات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، وہاں ایک ادارہ ایسا بھی ہے جس کی کارکردگی سے عوام کو کچھ ریلیف مل رہا ہے، ادارے سے وابستہ ذمہ دار افسران اپنی فرض شناسی سے حتی المقدور مہنگائی اور مسائل میں گھرے عوام کو کچھ ریلیف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ اپنے مسائل لے کر وفاقی محتسب کے اسلام آباد، لاہور، پشاور، کراچی، کوئٹہ کے علاوہ سکھر، حیدرآباد، حب، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، بہاولپور، ڈیرہ اسماعیل خان اور سوات کے علاقائی دفاتر سے رجوع کررہے ہیں۔ یہ ادارہ جو 1983ء میں قائم ہوا تھا اس کی کارکردگی گزشتہ تین برسوں میں نمایاں ہوئی ہے اوراِن تین برسوں کے دوران تین لاکھ سات ہزار سات سو پچھتر لوگوں کو فوری انصاف مہیا کیا گیا۔ صرف کراچی میں چالیس ہزار سے زائد فیصلے کیے گئے، اور اب اس تعداد میں آئندہ دنوں میں مزید اضافے کی توقع ہے، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ 90 فیصد سے زائد شکایات کا ازالہ پہلی ہی سماعت پر ہوجاتا ہے جہاں شکایت کنندہ اور متعلقہ محکمے کے درمیان باہمی افہام و تفہیم سے مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔ اس ادارے کی خدمات پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی اپنے توصیفی ریمارکس میں کہا کہ ’’آپ نے ایک سال میں 94 ہزار شکایات نمٹائیں، یہ دوسرے اداروں کے لیے قابلِ تقلید ہے۔‘‘ موجودہ وفاقی محتسب محمد سلمان فاروقی کے عہدہ سنبھالنے کے بعد اس ادارے کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوا، اور گزشتہ برس انہیں ایشیا کی اومبڈسمین ایسوسی ایشن کا صدر منتخب کیا گیا۔ یہ اعزاز پاکستان میں صرف انہی کو حاصل ہے۔ آپ کے دور میں کئی اصلاحات بھی ہوئیں، مثلاً شکایات کے ازالے کے لیے 60دن، نظرثانی کی اپیل کے لیے 45 دن، اور صدرِ پاکستان کے پاس اپیل کو 90 دن میں نمٹانے کا وقت متعین کیا گیا۔ اس سے قبل بعض شکایات کے فیصلوں میں چھ ماہ سے کئی سال تک لگ جاتے تھے۔
2016ء میں Swift disposal of Complaints کے نام سے ایک نظام متعارف کرایا گیا جس کے تحت وفاقی محتسب کے افسران ملک کے 133 اضلاع اور 511 تحصیلوں میں خود جاکر عوام کو ان کے گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنے لگے اور اس نظام کے تحت ہر شکایت کا ازالہ صرف 25دن میں کیا گیا جو بڑی خوش آئند بات ہے۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے شکایات کمشنر مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر ون ونڈو قائم کیے گئے جہاں مسافروں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے بارہ سرکاری اداروں کے ذمہ داران چوبیس گھنٹے موجود رہتے ہیں، نیز بیرونِ ملک پاکستانیوں سے متعلق چالیس اداروں میں شکایات افسران مقرر کیے گئے تاکہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی شکایات کا بھی 45 دن میں ازالہ ہوسکے۔ پاکستان کی صنعت و تجارت سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے بھی فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے دفتر میں سہولتی ڈیسک قائم کیا گیا، نیز وفاقی دارالحکومت اور چاروں صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں پانچ شکایات کمشنر مقرر کیے گئے تاکہ وہ تاجروں کی شکایات کی وہیں سماعت کرکے فیصلے کرسکیں۔ وفاقی محتسب کی تاریخ میں پہلی بار تفتیشی افسران کا انتخاب اخبارات میں اشتہارات دے کر کیا گیا اور ایک بیرونی سلیکشن کمیشن نے ان کا انتخاب کیا۔ تفتیشی افسران کے لیے ریٹائرڈ سیکرٹریز اور ایڈیشنل سیکرٹریز کا شفاف طریقے سے انتخاب کیا گیا تاکہ وہ متعلقہ اداروں کے ساتھ باہمی افہام و تفہیم سے شکایات کا فوری ازالہ کرسکیں۔ اس کی وجہ سے کیے گئے فیصلوں پر تیزی سے عمل ہورہا ہے اور اس کے ثمرات دکھائی دیتے ہیں۔ اب سپریم کورٹ نے اس ادارے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وفاقی اداروں، جیلوں اور تھانوں میں بدانتظامی کے اسباب اور وہاں کے نظام کی اصلاح کے لیے تجاویز دے۔
کراچی کے اخبارات اور میڈیا گواہ ہے کہ اس ادارے نے سندھ اور بالخصوص کراچی کے شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ کے الیکٹرک کے خلاف گزشتہ تین برسوں میں چالیس ہزار شکایات کا ازالہ کیا گیا۔ کراچی میں شکایات کنندگان کے مسائل حل کرنے میں جن افسران نے نمایاں خدمات انجام دیں ان میں سینئر ایڈوائزر سراج شمس الدین اور انیس الدین احمد، جبکہ ایڈوائزر یاسمین سعود، فرزانہ جبیں، شجاعت عباس، محمد اسحق لاشاری، محمد یامین، جبکہ کنسلٹنٹ نیر مظفر اور UDC محمد انوار اور قائم مقام پبلک ریلیشنز آفیسر حیدر علی حیدرنمایاں ہیں۔ آفس کا عملہ لوگوں سے خوش اخلاقی سے پیش آتا ہے جس کا تجربہ راقم کو کئی بار ہوا۔
چند دن پہلے وفاقی محتسب محمد سلمان فاروقی نے کراچی کے مرکزی آفس میں صحافیوں کو مدعو کیا اور اپنے ادارے کی تین سالہ کارکردگی پیش کی۔ اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے تفصیلی طور پر ملک میں قائم اپنے ادارے کے
دفاتر کا جائزہ پیش کیا اور بالخصوص کراچی کے حوالے سے بتایا کہ سب سے زیادہ شکایات کے الیکٹرک کے خلاف موصول ہوئیں۔ اس کے ساتھ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، نادرا، پاسپورٹ، اے جی پی آر، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، ای او بی آئی، پاکستان پوسٹ آفس، پاکستان ریلویز، سوئی سدرن گیس کمپنی سمیت دیگر دیگر ایجنسیوں کے خلاف بھی درخواستیں موصول ہوئیں۔ کے الیکٹرک کے خلاف 2016ء میں 18304‘ نادرا کے خلاف 1745، پاسپورٹ کے خلاف 50، اے جی پی آر کے خلاف 38، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے خلاف 17، ای او بی آئی کے خلاف 107، پاکستان پوسٹ آفس کے خلاف 76، پاکستان ریلویز کے خلاف 80، سوئی سدرن گیس کے خلاف 364، اور دیگر اداروں کے خلاف 1167 شکایات موصول ہوئیں، اور ہم نے گزشتہ تین برسوں کے درمیان 3 لاکھ 7 ہزار 775 شکایات کا ازالہ کیا۔ جبکہ غیر روایتی طریقہ کار کے تحت 46 ہزار 6سو57شکایات نمٹائی گئیں، اور گزشتہ سال 2016ء میں 94 ہزار سے زائد شکایات نمٹائیں جو اس ادارے کی 34 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ ہیں، انہوں نے بتایا کہ ہمارے ملک میں 25 لاکھ پنشنرز ہیں جو بہت مشکلات کا شکار تھے، ان کو پنشن صرف نیشنل بینک سے ملتی تھی جہاں لمبی لمبی قطاروں میں بزرگ مرد و خواتین کئی کئی دن تک دھکے کھاتے تھے، ایک ریلوے ملازم اور ایک اور بزرگ پنشن کے حصول میں بینک کے سامنے دم توڑ گئے، چنانچہ ہمارے اقدامات سے اب تمام بینکوں میں یہ سہولت حاصل ہے اور پنشن کی رقم اکاؤنٹ میں آتے ہی انہیں SMS موصول ہوجاتا ہے۔ ہم نے بچوں اور ان کی طرف سے حکومتی اداروں کی زیادتی کے خلاف شکایات درج کرنے کے لیے خصوصی ٹیلی فون 1056 قائم کیا ہے، ان شکایات کے ازالے کے لیے ملک بھر میں تیرہ کمیٹیاں قائم کی ہیں جن کے سربراہوں کو ’’محتسب‘‘ کے اختیارات دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں دس کروڑ بچے ہیں مگر بچوں کا محتسب نہیں، جبکہ دنیا میں بنگلہ دیش سمیت 44 ممالک میں بچوں کے محتسب کام کررہے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے یقین دلایا ہے کہ وہ بچوں کے محتسب کی تقرری کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
اس موقع پر سراج شمس الدین، انیس الدین احمد، یاسمین سعود، فرزانہ جبیں، شجاعت عباس، محمد اسحق لاشاری، محمد یاسمین و دیگر کو تعریفی ایوارڈ بھی دے گئے۔ کانفرنس میں پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے نمائندے بڑی تعداد میں موجود تھے، جب کہ ان کے اعزاز میں عصرانے کا انتظام کیا گیا۔

Share this: