مطالعتی سفرنامہ

Print Friendly, PDF & Email

شاہنواز فاروقی
میرے مطالعے کی ابتدا ’’سمعی علم‘‘ سے ہوئی۔ میری ابتدائی پرورش ننہیال میں ہوئی۔ میرے بڑے ماموں سید نفیس حسن حافظ قرآن تھے اور وہ چلتے پھرتے قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہتے تھے۔ میرے چھوٹے ماموں سید انیس حسن روزے نماز کے پابند تھے اور وہ ہر وقت ورد کرتے رہتے تھے۔ ہمارے گھر میں ہر وقت مذہب سے متعلق باتیں ہوتی رہتی تھیں۔ ان باتوں کا محور خدا کی ذات تھی۔ اللہ بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، وہ ہمارا خالق ہے، مالک ہے، ہم اس کی طرف سے آئے ہیں اور بالآخر اسی کی طرف لوٹ جائیں گے۔ میری عمر اس وقت چار پانچ سال تھی، ان باتوں میں جس بات کا میرے دل و دماغ پر سب سے زیادہ اثر ہوا وہ یہ تھی کہ اللہ بہت ہی بڑا ہے۔ ایک روز میں اپنی خالہ رئیسہ خاتون کے ساتھ ڈاکٹر کے یہاں سے آرہا تھا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ سامنے سے اللہ میاں چلے آرہے ہیں۔ میرے پورے وجود پر ہیبت، حیرت اور مسرت کی ملی جلی کیفیات طاری ہوگئیں۔ میں ڈر کر اپنی خالہ کے برقعے کے پیچھے چھپنے لگا۔ خالہ نے یہ دیکھا تو پوچھا:
’’کیا بات ہے؟‘‘
میں نے کہا ’’سامنے سے اللہ میاں آرہے ہیں۔‘‘ خالہ نے سامنے دیکھا تو ہنسنے لگیں۔ کہنے لگیں کہ اللہ میاں تھوڑی ہیں، یہ تو میاں محبوب ہیں۔ میاں محبوب ایک ریٹائرڈ ہیڈ کانسٹیبل تھے۔ ان کا قد سات فٹ سے بڑا تھا، وہ ہمارے محلے سے کچھ فاصلے پر رہتے تھے۔ مگر میں نے اس روز اُن کو پہلی بار دیکھا تھا اور چوں کہ وہ انتہائی طویل قامت تھے اس لیے میرے ننھے سے ذہن نے انہیں دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کرلیا کہ ہو نہ ہو یہی اللہ میاں ہیں۔ خدا سے متعلق سمعی مطالعے کا یہ پہلا بڑا نتیجہ تھا اور یہ نتیجہ میرے گھر میں عرصے تک اپنی گونج پیدا کرتا رہا۔ میرے گھر والے اکثر اس واقعے کا ذکر کرکے لطف اندوز ہوتے۔ اس واقعے سے مجھے یہ تو معلوم ہوگیا کہ ہم خدا کو نہیں دیکھ سکتے، مگر اس کے باوجود خدا کی بڑائی کا احساس میرے شعور پر حاوی رہا۔ میں اکثر خدا کے بارے میں سوچتا رہتا۔ خدا سے متعلق میرے سمعی علم کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا بہت کم عمری میں میری ذہنی اور جذباتی زندگی کا محور و مرکز بن گیا۔
میرے سمعی مطالعے کا ایک پہلو یہ تھا کہ میرے بڑے ماموں اور بڑی ممانی کہانیوں کی دکان تھے۔ انہیں بادشاہوں، پریوں اور جانوروں کی درجنوں کہانیاں یاد تھیں۔ چناں چہ عشا کے بعد میں ان میں سے کسی ایک کو پکڑ لیتا اور پھر رات گئے تک کہانیوں کا دور چلتا رہتا۔ میرے بڑے ماموں کو قصہ چہار درویش سے گہری دلچسپی تھی۔ چناں چہ وہ اکثر رات کا کھانا کھانے کے بعد اپنی بیٹی سے قصہ چہار درویش پڑھ کر سنانے کے لیے کہتے۔ ہمارا خاندان جمع ہوجاتا اور ایک ڈیڑھ گھنٹے تک قصہ چہار درویش کی اجتماعی سماعت کا سلسلہ جاری رہتا۔
میرے باقاعدہ اور باضابطہ مطالعے کی ابتدا آٹھ سال کی عمر میں ہوئی۔ اُس وقت میں تیسری جماعت کا طالب علم تھا۔ میری خالہ رئیسہ خاتون نے جنہوں نے میری ابتدائی پرورش کی اور جنہیں میں امی کہتا تھا، مجھے سات آٹھ قصص الانبیاء خرید کر دے دیے۔ ان میں سے چار قصوں نے میرے شعور اور شخصیت پر اتنے گہرے اثرات مرتب کیے کہ اگر میں سو سال بھی زندہ رہوں گا تو یہ اثرات میرے ساتھ ہوں گے۔ ان قصوں میں ایک قصہ صبرِ ایوبؑ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا ایوبؑ کو آزمایا اور انہیں صبر کی علامت بنادیا۔ میں اس قصے کو پڑھتا جاتا تھا اور روتا جاتا تھا۔ روتا جاتا تھا اور پڑھتا جاتا تھا۔ اس قصے کا سب سے غم ناک واقعہ یہ تھا کہ جب سیدنا ایوبؑ پر پے در پے آزمائشیں آئیں تو ان کے خاندان والے تک پرائے ہوگئے۔ ایک روز سیدنا ایوبؑ کے بھائی ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے ایوب تجھ پر پڑنے والی مسلسل افتادوں سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ تجھ سے کچھ بہت بڑے گناہ ہوگئے ہیں اور ان کی پاداش میں تجھ پر مصیبتیں نازل ہورہی ہیں۔ سیدنا ایوبؑ پیغمبر تھے مگر اپنے بھائیوں کے منہ سے یہ بات سن کر رو دیے۔ میں یہ واقعہ پڑھتا تو میری ہچکی بندھ جاتی۔ میں نے صبرِ ایوبؑ پچاس ساٹھ مرتبہ پڑھی ہوگی۔ صبرِ ایوبؑ کے اس مطالعے نے صبر اور ضبط کو میری روح میں اُتار دیا۔ یہ صبر و ضبط بعد کی زندگی میں میرے بہت کام آیا۔ یہ صبر نہ ہوتا تو زندگی کی مشکلیں میرے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتی تھیں۔ دوسرا قصہ جس نے میرے پورے وجود کو متاثر کیا وہ اصحابِ کہف کا تھا۔
اصحابِ کہف کفر اور شرک کے طوفان میں ایمان کی علامت تھے۔ ان کی خدا پرستی اور ان سے خدا کی محبت رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔ یوں تو اصحابِ کہف کا پورا قصہ ہی غیر معمولی ہے، مگر اس قصے کا وہ حصہ مجھ پر رقت طاری کردیتا تھا جب اصحاب کہف کا ایک کردار یملیخا غار میں نیند سے بیدار ہونے کے بعد بستی میں کھانا لینے جاتا ہے اور اس الزام میں پکڑا جاتا ہے کہ اس نے کسی مدفون خزانے پر ہاتھ صاف کیا ہے۔ یملینی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اور اس کے ساتھی 309 سال سوکر اُٹھے ہیں۔ یملیخا کو قاضی کی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔ قاضی نے یملیخا سے پوچھا کہ کیا تم اس شہر میں اپنے گھر کو پہچانتے ہو؟ یملیخا اس سوال کا جواب اثبات میں دیتا ہے لیکن یملیخا شہر میں اپنا گھر ڈھونڈنے نکلتا ہے تو 309 سال میں شہر یکسر بدل چکا ہے۔ وہ کبھی ایک گلی میں جاتا ہے، کبھی دوسری گلی میں۔ لڑکوں کا ایک ہجوم اس کے ساتھ ہے۔ یملیخا حیران و پریشان پورے شہر کی خاک چھان رہا ہے۔ یہ صورت حال دیکھ کر رحمتِ خداوندی جوش میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے یملیخا کی رہنمائی کے لیے ایک فرشتہ بھیجا۔ فرشتے کی آمد سے پہلے تک یملیخا کا جو حال تھا میں آٹھ نو سال کی عمر میں پڑھتا تو میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہوجاتے تھے۔ میں نے اصحابِ کہف بھی درجنوں بار پڑھی۔ اس کتاب کو پڑھ کر میں نے جانا کہ خدا کی محبت اور خدا کی عنایت کیا ہوتی ہے۔ اصحابِ کہف، انبیاء و مرسلین میں سے نہ تھے۔ وہ عام لوگ تھے، مگر ان کی خدا پرستی ایسی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں رہتی دنیا تک کے لیے ایک نمونہ اور ایک مثال بنادیا۔ یہاں تک کہ اصحابِ کہف کے کتے کا ذکر بھی اصحابِ کہف کے ساتھ ہوتا ہے۔
قصص الانبیاء میں سیدنا نوحؑ ، سیدنا ابراہیمؑ اور سیدنا موسیٰؑ کے قصے بھی متاثر کن تھے۔ مگر آٹھ سال کی عمر میں سیدنا یوسفؑ کا قصہ داستانِ یوسف بار بار میرا دامنِ دل اپنی طرف کھینچتا تھا۔ ایسا کیوں تھا، اس کا اندازہ مجھے بہت بعد میں یہ جان کر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسفؑ اور زلیخا کے قصے کو خود احسن القصص قرار دیا ہے۔ داستانِ یوسفؑ کا ایک پہلو یہ ہے کہ سیدنا یوسفؑ نبی بھی ہیں اور دنیا کے جمیل ترین انسان بھی، مگر اس کے باوجود وہ بازارِ مصر میں ایک غلام کی حیثیت سے فروخت ہوگئے۔ ان کی بولی لگانے والوں میں ایک ایسی بڑھیا بھی شامل تھی جس کی پونجی کاتے ہوئے تھوڑے سے سوت کے سوا کچھ نہ تھی۔ داستانِ یوسفؑ کا ایک زاویہ زلیخا کا وہ خواب تھا جو خود خدا نے زلیخا کو دکھایا اور جس کی وجہ سے زلیخا سیدنا یوسفؑ کی عاشق بنی، مگر اس خواب کا مفہوم کیا ہے؟ اس سوال کا جواب ایک شعر میں یہ ہے:
حرمتِ دامنِ یوسف کے سوا کچھ بھی نہیں
لوگ پھرتے ہیں جسے دامِ زلیخا کہتے
داستانِ یوسف کا ایک دل گداز پہلو سیدنا یوسفؑ سے سیدنا یعقوبؑ کی محبت ہے۔ آپؑ سیدنا یوسفؑ کے غم میں اتنا روئے کہ بینائی جاتی رہی۔ داستانِ یوسف میں ایک ایسی بات ہے کہ اس داستان نے ہماری غزل کی روایت سے بہترین شعر کہلوائے ہیں۔ مثلاً
بھاگ اِن بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی
بیچ ہی ڈالیں جو یہ یوسف سا برادر ہووے
۔۔۔۔۔۔
سب رقیبوں سے ہیں ناخوش پر زنانِ مصر سے
ہے زلیخا خوش کہ محو ماہِ کنعاں ہوگئیں
۔۔۔۔۔۔
طلسم خوابِ زلیخا و دامِ بردہ فروش
ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں
قصص الانبیاء کے سلسلے کی ایک کتاب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق تھی۔ اس کا عنوان تھا ’’معراجِ رسولؐ‘‘۔ یہ ڈھائی تین سوصفحات کی کتاب تھی۔ اس میں کچھ سیرتِ طیبہؐ کا بیان تھا، لیکن کتاب کا زیادہ تر حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ معراج سے متعلق تھا۔ یہ کتاب بھی میں نے پہلی بار آٹھ سال کی عمر میں پڑھی اور کتاب پڑھ کر مجھ پر ایسی حیرت و اشتیاق طاری ہوا کہ جو برسوں میرے ساتھ رہا۔ یہاں تک کہ اس کتاب کا اثر آج بھی میں اپنے قلب پر محسوس کرتا ہوں۔ اس کتاب کا اثر یہ ہوا کہ میں نے آٹھ برس کی عمر میں ایک خواب دیکھا کہ میرا پورا وجود آسمان کی طرف اُٹھ رہا ہے، بالکل اس طرح جس طرح ایک راکٹ، میزائل، خلائی شٹل فضا میں بلند ہوتی ہے۔ یہ سفر کچھ دیر جاری رہا، مگر پھر کسی نامعلوم قوت نے میرے اس سفر کو روک دیا اور میں فضا سے زمین پر گرنے لگا۔ میں نے یہ خواب پہلی بار آٹھ سال کی عمر میں دیکھا۔ اُس وقت میں اپنی خالہ کے پاس سوتا تھا۔ وہ سخت سردی کے دن تھے لیکن زمین پر گرتے ہی میری آنکھ کھلی تو میرا پورا جسم پسینے میں شرابور تھا۔ ابتدا میں یہ خواب مجھے سردیوں کے موسم میں آتا تھا، مگر پھر موسم کی کوئی تخصیص نہ رہی۔ یہ خواب مجھے آٹھ سال تک مسلسل آتا رہا۔ خواب کی ابتدا میں مجھے اس تجربے کا ٹھیک ٹھیک اندازہ نہ تھا کہ یہ کیا ہے، مگر جب خواب تواتر سے آتا رہا تو میں نے محسوس کیا کہ خواب کے عالم میں میری روح جسم سے نکل کر فضا میں بلند ہوتی ہے اور پھر کوئی قوت اسے میرے جسم کی طرف لوٹا دیتی ہے۔ روح کے جسم میں واپس آنے کا تجربہ اتنا زندہ محسوس ہوتا کہ میں روح کے کمرے کی دیوار یا دروازے سے گزرنے کو بھی محسوس کرتا اور جسم میں واپسی کو بھی۔ آٹھ سال تک مسلسل آنے کے بعد یہ خواب آنا بند ہوگیا اور آج تک یہ خواب میں نے پھر نہیں دیکھا۔ یہ خواب ایک کتاب کے مطالعے اور مفہوم کو جذب کرنے کا حاصل تھا۔ میرا مذہبی شعور، میرا مذہبی احساس اور میرا مذہبی تناظر جو بھی ہے، قصص الانبیاء کو آٹھ سال کی عمر میں پڑھنے، سمجھنے اور جذب کرنے کا حاصل ہے۔ ہماری مذہبی تحریکیں کہتی ہیں کہ ہمیں قرآن سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ اور وہ غلط نہیں کہتیں۔ قرآن ہماری تہذیب کا مرکز و محور ہے۔ لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک زندہ اور چلتا پھرتا قرآن تھے۔ مطلب یہ کہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی پر سیرتِ طیبہؐ کے مطالعے کا جیسا اثر ہوسکتا ہے ویسا اثر صرف قرآن پاک کے مطالعے کا نہیں ہوسکتا۔ اپنے مطالعے اور تجربے کی بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ ایک ارب ساٹھ کروڑ مسلمانوں کو انبیاء و مرسلین اور صحابہ کرام کی سیرتیں پڑھانے کی ضرورت ہے۔ ان سیرتوں کو ہمارے ہر درجے کے نصاب، ہمارے اخبارات و جرائد، ریڈیو اور ٹیلی وژن سے نشر ہونے والے ابلاغی مواد کا حصہ ہونا چاہیے۔ انسان کا مشاہدہ اور انسان کا ٹھوس تجربہ انسان کو جس طرح بدل سکتا ہے کوئی اور چیز آدمی کو اس طرح نہیں بدل سکتی۔
مولانا مودودیؒ کی کتب میری زندگی میں ایک دھماکے کی طرح وارد ہوئیں۔ میرے والد ایوب احمد فاروقی مرحوم پاکستان ہجرت سے قبل دہلی میں جماعت اسلامی ہند کے رکن تھے۔ مگر مجھ پر میری ننہیال کا اثر تھا اور میری ننہیال علمائے دیوبند کے زیراثر تھی۔ میری خالہ جنہوں نے مجھے گود لے کر پالا اگرچہ میرے والد کا بہت احترام کرتی تھیں، مگر جب مذہبی معاملات کا ذکر آتا تو وہ ہنس کر کہتیں کہ تمہارے ابا تو ’’مودودیے‘‘ ہیں۔ اس رویّے نے میرے ذہن میں مولانا مودودی کے تاثر کو بری طرح مجروح کردیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں اُس وقت نویں جماعت کا طالب علم تھا اور میں اپنی بڑی بہن شاہین فاروقی کے سامنے مولانا مودودی کی برائی کررہا تھا۔ میری بڑی بہن اس وقت کراچی کے ڈاؤ میڈیکل کالج میں اسلامی جمعیت طالبات کی کارکن تھی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم نے مولانا مودودی کو پڑھا بھی ہے یا یونہی مولانا کے خلاف گفتگو کررہے ہو؟ میں نے اُس وقت تک مولانا کی کوئی کتاب نہیں پڑھی تھی، چناں چہ میں نے اعتراف کیا کہ میں نے مولانا کا مطالعہ نہیں کیا ہے۔یہ سن کر انہوں نے مولانا کی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میرے حوالے کردی۔ اس کتاب کے خلاف میں اپنے ننہیال میں کئی بار گفتگوئیں سن چکا تھا۔ بہرحال! میں نے ’’خلافت و ملوکیت‘‘ کا مطالعہ شروع کیا اور اسے دو دن میں پڑھ ڈالا۔ مجھے یہ کتاب غیر معمولی محسوس ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کتاب میں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ خلافت ملوکیت میں کس طرح تبدیل ہوئی؟ یہ ہماری تاریخ کا اہم سوال ہے اور مولانا سے پہلے کسی عالم اور دانش ور نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ مفکرین اور دانش وروں کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ زندگی کے بنیادی سوالات کے جواب تلاش کریں۔ مجھے اب خلافت و ملوکیت کی بنیادی دلیل سے اتفاق نہیں، مگر اس کے باوجود میں ’’خلافت و ملوکیت‘‘ کو ایک بڑی کتاب سمجھتا ہوں۔ ’’خلافت و ملوکیت‘‘ کے مطالعے کے بعد مولانا کی فکر اور ان کی تصانیف کے خلاف میرے تعصبات تحلیل ہوگئے اور میں نے مولانا کی کئی اہم کتب کو پڑھنے، سمجھنے اور جذب کرنے کی کوشش کی۔ مجھے مولانا کی جو کتب بہت پسند آئیں ان کے نام یہ ہیں: تنقیحات، تفہیمات، اسلامی تہذیب کے اصول و مبادی، قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں، دینیات، پردہ، خطبات، الجہاد فی الاسلام۔ مولانا کی معرکہ آراء تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ میں نے لفظ بہ لفظ پڑھی ہے۔ یہ تفسیر مولانا کے مجموعی علم کا نچوڑ ہے۔ مجھے عربی سے اردو میں ترجمہ کی جانے والی سب سے اہم تفسیر ثناء اللہ پانی پتی کی ’’تفسیر مظہری‘‘ لگتی ہے۔ اس تفسیرکا کمال یہ ہے کہ صاحبِ تفسیر نے قرآن پاک کو قرآن، احادیث اور صحابہ کرام کے اقوال کی مدد سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے اور اس میں تاویل کا عنصر کم ہے۔ اردو کی دوسری عظیم تفسیر مولانا کی تفہیم القرآن ہے۔ اس تفسیر کا کمال یہ ہے کہ یہ دین کو ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر سامنے لاتی ہے۔ اسلام کے ضابطۂ حیات کا تصور تو تفسیر مظہری میں بھی موجود ہے مگر اس تفسیر کا نقص یہ ہے کہ اس میں عصر کا شعور موجود نہیں۔ مولانا مودودی کی تفسیر کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے دامن میں ماضی ہی کو نہیں، عصر کو بھی سمیٹے ہوئے ہے۔ مفتی شفیع کی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ آٹھ جلدوں پر مشتمل ہے اور یہ تفسیر بھی میں نے لفظ بہ لفظ پڑھی ہے۔ یہ تفسیر روایتی شعور کی گہرائی اور گیرائی کو ہمارے سامنے لاتی ہے۔ سیرتِ طیبہ پر شبلی کی کتاب اردو کی عظیم ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ سیرتِ طیبہ پر اتنی عمدہ کتاب شاید ہی دنیا کی کسی زبان میں لکھی گئی ہو۔ اس کتاب کی صرف ایک بات مجھے پسند نہیں اور وہ یہ کہ اس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کی تعداد کے حوالے سے ایک معذرت خواہی موجود ہے جس کا کوئی جواز ہی نہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر اللہ تعالیٰ نے سو بیویوں کی اجازت دی ہوتی تب بھی آپؐ سردار الانبیاء، خاتم النبیین اور باعثِ تخلیقِ کائنات ہوتے۔
آئیے اب کچھ شعر و ادب اور ادبی شخصیات کا ذکر ہوجائے۔
میری شخصیت پر سب سے زیادہ اثر میری خالہ رئیسہ خاتون مرحومہ، چھوٹے ماموں سید انیس حسن مرحوم اور بڑے ماموں سید نفیس حسن مرحوم کا ہے۔ مجھے اپنے مذہب، اپنی تاریخ، اپنی تہذیب، اُمتِ مسلمہ، پاکستان اور انسانوں سے جتنی محبت ہے وہ انہی کی وجہ سے ہے۔ ان تمام دائروں میں یہی لوگ میری Inspiration ہیں۔ شعر و ادب میں میری ایک Inspiration سلیم احمد ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم سلیم احمد کی تحریروں کا ذکر کریں، اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ متاثر ہونے یا کسی سے Inspire ہونے کا مطلب کیا ہے؟ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ Inspiration کا مطلب کسی کی نقل یا تقلید ہے۔ ایسا نہیں ہے، Inspiration کا مطلب ہے کسی کے وفورِ تخلیق کو پہچاننا، اسے سمجھنا، اسے اپنے اندر جذب کرنا، اس سے لطف اندوز ہونا اور اس سے اپنے وفورِ تخلیق کو بیدار اور توانا کرنا۔
میں سلیم احمد سے آگاہ نہیں تھا، لیکن ہمارے یہاں روزنامہ جسارت آتا تھا، سلیم احمد جسارت میں ’’روبرو‘‘ کے عنوان کے تحت ہفتہ وار کالم لکھا کرتے تھے۔ میں نے نویں جماعت میں اُن کے کالم پڑھنے شروع کیے تو مجھے احساس ہوا کہ ان کے کالموں کے عنوانات بہت مختلف ہیں، ان کی فکری سطح دوسرے کالم نگاروں کے کالموں کی سطح سے زیادہ بلند ہے، اور ان کا اسلوب منفرد ہے۔ چناں چہ میں سلیم احمد کے کالموں کا قاری بن گیا۔ سلیم احمد کے کالموں کا یہ مطالعہ مجھے ان کی تنقید اور شاعری تک لے گیا۔ سلیم احمد کی سب سے اچھی تنقیدی کتاب ’’نئی نظم پورا آدمی‘‘ ہے۔ یوں تو اس کتاب کے تمام ہی مضامین غیر معمولی ہیں مگر کتاب کا پہلا مضمون یعنی ’’نئی نظم پورا آدمی‘‘ معرکہ آراء ہے۔ اردو تنقید میں عسکری صاحب کے چند مضامین کو چھوڑ کر اس سطح کا تنقیدی مضمون کہیں موجود نہیں۔ اس مضمون کا لب لباب یہ ہے کہ انسان ماں کے پیٹ سے تو پورا ہی پیدا ہوتا ہے مگر پھر اپنے وجود کے کسی جزو میں منحصر ہوکر اس کو کُل بنا لیتا ہے اور اس طرح ادھورا ہوجاتا ہے۔ اس ادھورے آدمی کو سلیم احمد کسری آدمی کہتے ہیں۔ انہوں نے اردو کے بڑے نظم نگاروں کے یہاں اس کسری آدمی کو تلاش کرکے دکھایا ہے اور پورے آدمی کی تہذیبی معنویت پر گفتگو کی ہے۔ سلیم احمد نے غالب، اقبال اور محمد حسن عسکری پر بھی الگ الگ کتابیں لکھی ہیں۔ ان کتابوں میں تینوں شخصیات کے ایسے پہلو اُجاگر ہوتے ہیں جو اردو تنقید میں کہیں اور دستیاب نہیں۔
غالب کے بارے میں سلیم احمد کا خیال یہ ہے کہ ان کا بنیادی مسئلہ انا ہے اور انہوں نے اپنی بڑی انا سے بڑا آرٹ پیدا کرکے دکھایا ہے۔ اقبال کے بارے میں سلیم احمد کی دریافت یہ ہے کہ ان کا مسئلہ نہ خودی ہے نہ مومن، بلکہ ان کا مسئلہ موت ہے۔ سلیم احمد کے نزدیک محمد حسن عسکری کی بنیادی کشمکش یہ ہے کہ وہ انسان ہیں اور انسان سے آدمی بننا چاہتے ہیں۔ آپ سلیم احمد سے اختلاف کرسکتے ہیں لیکن ان نکات پر انہوں نے ایسی گفتگو کی ہے جو عام قاری کو نہیں، بہت پڑھے لکھے قاری کو بھی مبہوت کرسکتی ہے۔
جدید اردو شاعروں میں بڑی شاعری کا امکان دو شاعروں میں تھا۔ ایک عزیز حامد مدنی اور دوسرے سلیم احمد۔ سلیم احمد اپنی شاعری کے بارے میں ایک طرح کی معذرت خواہی کا شکار رہے، لیکن ان کی شاعری ان کی تنقید سے زیادہ تخلیقی اور گہری ہے۔ سلیم احمد کا پہلا مجموعہ ’’بیاض‘‘ ہے۔ ’’بیاض‘‘ جدید غزل کی شاعری میں سب سے بڑے شاعرانہ تجربے کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے کہ سلیم احمد نے اس مجموعے میں اردو غزل کی کلاسیکیت کو دریافت کرنے کی کوشش کی۔ یہ اتنا بڑا کام تھا کہ کوئی دوسرا جدید شاعر اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ سلیم احمد کی شاعری کا دوسرا مجموعہ ’’اکائی‘‘ ہے۔ اس مجموعے کی غزلیں زیادہ جاندار نہیں ہیں مگر اس مجموعے میں شامل ثلاثی اور قطعات غیر معمولی ہیں۔ سلیم احمد کا تیسرا مجموعہ ’’چراغِ نیم شب‘‘ جدید اردو غزل کے اہم ترین مجموعوں میں سے ایک ہے۔ ’’مشرق‘‘ سلیم احمد کا چوتھا اور آخری مجموعہ ہے۔ اس مجموعے کی نظم ’’مشرق ہار گیا‘‘ اردو نظم کی تاریخ میں اپنی طرح کی واحد نظم ہے۔
سلیم احمد، محمد حسن عسکری کے شاگرد تھے، چناں چہ سلیم احمد کی کتابوں سے بات عسکری صاحب کی کتابوں تک پہنچی۔ عسکری صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ ان کی ہر کتاب قاری کو یہ بتاتی ہے کہ عسکری صاحب اردو کے سب سے بڑے نقاد ہیں۔ انہوں نے جن موضوعات پر لکھا اردو تنقید آج بھی ان کا تصور نہیں کرسکتی۔ عسکری صاحب کا مطالعہ قاموسی یا Encyclopedic تھا، لیکن عسکری صاحب کی تفہیم ایسی ہے کہ ایسی تفہیم اردو تنقید میں کہیں اور موجود نہیں۔ عسکری صاحب نے کسی ایک موضوع پر نہیں، جس موضوع پر لکھا قلم توڑ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ عسکری صاحب نے جتنے اہم لکھنے والوں کو متاثر کیا اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔ مولانا مودودی، عسکری اور سلیم احمد میں مَیں نے دو چیزیں مشترک پائیں۔ ایک یہ کہ تینوں نے اپنے علم کے بجائے اپنی تفہیم لکھی ہے۔ دوسری چیز یہ کہ جو شخص توجہ سے مولانا مودودی، عسکری صاحب اور سلیم احمد کو پڑھ لیتا ہے، وہ خود سوچنے سمجھنے اور لکھنے کی اہلیت کا حامل ہوجاتا ہے۔
اردو فکشن میں میرا مطالعہ منشی پریم چند سے شروع ہوا۔ اُس وقت میری عمر دس سال تھی۔ ہمارے گھر میں منشی پریم چند کے افسانوں کا ایک مجموعہ موجود تھا۔ اس مجموعے کے تین افسانے غیر معمولی تھے۔ یعنی ’’عیدگاہ‘‘، ’’کفن‘‘ اور ’’پُوس کی رات‘‘۔ یہ افسانے آج بھی میرے پسندیدہ افسانوں میں شامل ہیں۔ ’’عیدگاہ‘‘ مسلم تہذیب سے پریم چند کے حد درجہ متاثر ہونے کی بیّن مثال ہے اور اس افسانے میں پریم چند نے ایک ایسے مسلم بچے کا کردار تخلیق کیا ہے جسے آپ ایک بار پڑھ کر کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔ اردو افسانہ نگاروں میں مجھے غلام عباس اور منٹو بھی بہت پسند ہیں، لیکن اردو کا سب سے بڑا افسانہ نگار بلاشبہ راجندر سنگھ بیدی ہے۔ بیدی نے منٹو کے مقابلے پر کم لکھا ہے لیکن اس کے یہاں منٹو کی طرح بھرتی کے افسانے نہیں پائے جاتے۔ کسی نے بیدی کو اردو کا چیخوف کہا ہے۔ اگرچہ اس بات میں مبالغہ موجود ہے مگر اس مبالغے کے بغیر بیدی کی تعریف کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ منٹو ہمارے مذہبی طبقات میں بدنام ہے لیکن اس کی وجہ منٹو کی مبینہ ’’جنس زدگی‘‘ نہیں بلکہ مذہبی طبقات کی ادب اور اس کے طریقہ کار سے عدم واقفیت ہے۔ منٹو کے دو بدنام زمانہ افسانے ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ اور ’’کھول دو‘‘ مَیں نے عمر کے مختلف حصوں میں بار بار پڑھے ہیں اور مجھے ہمیشہ ان میں ایک گہری اخلاقی اور نفسیاتی جہت نظر آئی ہے۔
اردو ادب کا کوئی باشعور قاری اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ قرۃ العین حیدر اردو کی سب سے بڑی ناول نگار ہیں۔ قرۃ العین حیدر کے تین ناول یعنی ’’آگ کا دریا‘‘، ’’آخرِ شب کے ہمسفر‘‘ اور ’’گردشِ رنگِ چمن‘‘ غیر معمولی ہیں۔ تاریخ ایک خشک سمندر ہے لیکن قرۃ العین حیدر کے فن نے تاریخ کو رومانس بنادیا ہے۔ انہیں بڑی شخصیتوں کی گیلری اور بڑی تہذیبوں کے قلعے تعمیر کرنے میں کمال حاصل ہے۔ ان کے ناولوں میں تاریخ متحجر ہوگئی ہے، مگر ان کے ناول پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے ایک عظیم الشان ناول لکھا ہے اور ان کے مختلف ناول اس عظیم الشان ناول کے مختلف ابواب ہیں۔ بظاہر قرۃ العین حیدر کے ناولوں میں مختلف انسانی کرداروں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، لیکن درحقیقت ان کے ناولوں کا مرکزی کردار کوئی انسان نہیں بلکہ وقت ہے۔ وقت قرۃ العین حیدر کے ناولوں کا ہیرو بھی ہے اور ولن بھی۔ وقت ہی بڑی بڑی شخصیتوں، بڑے بڑے خیالوں اور بڑی بڑی تہذیبوں کو جنم دیتا ہے اور پھر وقت ہی ان سب کو فنا کے گھاٹ اُتار دیتا ہے۔ قرۃ العین حیدر کا ہر ناول اقبال کے الفاظ میں صرف ایک ہی بات کہتا نظر آتا ہے:
اوّل و آخر فنا باطن و ظاہر فنا
نقشِ کہن ہو کہ نو منزلِ آخر فنا
مگر اقبال کے یہاں عشق ایک ایسی قوت ہے جو موت پر بھی غالب آجاتی ہے۔ قرۃ العین، اقبال سے متاثر ہیں مگر وہ عشق کے شعور سے محروم ہیں۔ چناں چہ قرۃ العین کا عظیم الشان فن ہمیں کسی بڑے تصور یا بڑے معنی تک نہیں پہنچاتا۔ ناصر کاظمی نے جوشؔ کے بارے میں کہا تھا کہ وہ ہاتھی پر بیٹھ کر چڑیا کا شکار کرنے نکلتے ہیں۔ یعنی جوشؔ کی لفظیات، تراکیب اور استعاروں کی گھن گرج غیر معمولی ہوتی ہے مگر ان کے اکثر شعروں میں معنی چھوٹے سے ہوتے ہیں۔ قرۃ العین حیدر جوشؔ سے کئی سو گنا بڑی فنکار ہیں مگر ان کا معاملہ بھی اس حوالے سے زیادہ مختلف نہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ قرۃ العین حیدر کا کوئی نظریۂ حیات نہیں ہے۔ وہ نہ قدیم ہیں، نہ جدید۔ اس کے باوجود اُن کے ناولوں کو بار بار پڑھا جاسکتا ہے۔ قرۃ العین حیدر ہمارے عزیز دوست طیب زیدی کی رشتے کی نانی تھیں۔ ایک بار وہ کراچی آئیں تو طیب زیدی کے توسط سے ان سے طویل ملاقات ہوئی۔ ہمیں یہ ملاقات زیادہ خوشگوار نہ لگی۔ ہم نے ان سے کہا کہ آپ کے یہاں تاریخ کا Linear تصور پایا جاتا ہے، یعنی آپ سمجھتی ہیں کہ تاریخ ایک خطِ مستقیم میں مسلسل آگے کی سمت حرکت کررہی ہے، حالاں کہ اسلام کا تصورِ تاریخ دائروی یا Cyclic ہے۔ کہنے لگیں کہ جی نہیں، اسلام کا تصورِ تاریخ Linear ہے، البتہ ہندو ازم کا تصورِ تاریخ دائروی یا Cyclicہے۔ ان کی یہ بات غلط تھی اور ہم اس پر حیران ہوئے کہ وہ اسلام کی تاریخ کے اصولِ حرکت کا درست تصور نہیں رکھتیں۔ ہم نے ان سے کہا کہ آپ کے ناولوں کا اختتام مایوسی پر ہوتا ہے اور ایک طرح کی بے معنویت قاری کو گرفت میں لے لیتی ہے۔ کہنے لگیں کہ زندگی میں خوشی سے زیادہ غم ہیں اور معنی سے زیادہ بے معنویت ہے۔ ان کے اس تبصرے پر بھی بحث کی گنجائش تھی مگر ہم ان سے بحث کرنے نہیں گئے تھے۔
اردو میں قرۃ العین حیدر کی سطح کے ناول تو بہت لکھے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود کئی ناولوں کو بہترین قرار دیا جاسکتا ہے۔ ان میں عبداللہ حسین کا ناول ’’اُداس نسلیں‘‘، بانو قدسیہ کا ناول ’’راجہ گدھ‘‘، جمیلہ ہاشمی کا ناول ’’دشتِ سوس‘‘ اور انیس ناگی کا ناول ’’دیوار کے پیچھے‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ لیکن مجھے جس ناول نگار نے قرۃ العین حیدر سے بھی زیادہ متاثر کیا وہ روسی ناول نگار دوستو وسکی ہے۔ بلاشبہ دوستووسکی دنیا کا سب سے بڑا ناول نگار ہے۔ اُس کے حوالے سے کہی گئی اِس بات میں رتی برابر بھی مبالغہ نہیں کہ انسانی نفسیات کی غواصی کا ایک عہد شیکسپیئر پر اور دوسرا عہد دوستو وسکی پر ختم ہوا۔ دوستو وسکی کے ناول پڑھ کر خیال آتا ہے کہ دوستو وسکی انسانوں کی روح، ان کے قلب، ان کے نفس اور ان کے ذہن میں بیٹھ کر ناول لکھتا ہے۔ میں نے اس کے چار بڑے ناول یعنی ذلتوں کے مارے لوگ، ایڈیٹ، جرم اور سزا اور کراما زوف برادران پڑھے ہیں۔ دوستو وسکی کے ناول میں نے یونیورسٹی کے زمانے میں پڑھے اور یہ ناول مجھے اتنے اہم محسوس ہوئے تھے کہ جب میں دوستو وسکی کا کوئی ناول شروع کرتا تھا تو پھر ناول کے اختتام سے پہلے یونیورسٹی نہیں جاتا تھا۔ مجھے دوستو وسکی کے تمام ناول بے انتہا پسند ہیں مگر اس کے جس ناول نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ’’ایڈیٹ‘‘ ہے۔ ایڈیٹ ایک مثالی انسان یا Ideal Man کی کہانی ہے۔ اگرچہ یہ کہانی پرنس مشی گن یا الیوشیا کی کہانی ہے، مگر اپنے اختتام تک آتے آتے پوری مغربی تہذیب کی واردات بن گئی ہے۔ پرنس مشی گن ایک نیک فطرت اور نیک سیرت انسان ہے۔ اس کا دل ہر طرح کے چھل کپٹ سے پاک ہے۔ وہ نہ کسی سے حسد کرتا ہے، نہ کسی سے نفرت کرتا ہے۔ وہ سب کا بھلا چاہتا ہے۔ اس کا دل اتنا شفاف ہے کہ وہ پلک جھپکتے میں دوسروں کے خیالات پڑھ لیتا ہے۔ مگر دوستو وسکی نے اپنے مثالی انسان کو نفسیاتی ہسپتال سے نمودار ہوتے دکھایا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ دوستو وسکی کے نزدیک مغربی یا عیسائی تہذیب اتنی بیمار ہوچکی ہے کہ اس کے دائرے میں مثالی انسان عام ماحول سے نمودار نہیں ہوسکتا۔ پرنس مشی گن کچھ سال لوگوں کے درمیان رہتا ہے، وہ انہیں متاثر کرتا ہے، لیکن معاشرہ اتنا خراب ہوچکا ہے کہ دوستو وسکی کا مثالی انسان اپنی نفسیاتی اور ذہنی صحت برقرار نہیں رکھ پاتا اور دوبارہ ذہنی نفسیاتی امراض کے ہسپتال پہنچ جاتا ہے۔ دوستو وسکی کے اس کردار کے انجام کا مفہوم یہ ہے کہ مغربی تہذیب اس درجہ عدم توازن کا شکار ہے کہ اوّل تو اس میں کوئی اچھا انسان پیدا نہیں ہوسکتا، اور ہوجائے تو وہ زیادہ دیر تک نارمل نہیں رہ سکتا۔ دوستو وسکی کے ناول ایڈیٹ پر بھارت میں ’’یُگ پُرش‘‘ کے نام سے ایک اچھی فلم بھی بنی ہے۔ دوستو وسکی کے ناولوں سے بھی ایک گہری مایوسی اور اداسی پیدا ہوتی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ یورپ میں نوجوان، دوستو وسکی کے ناول پڑھ کر خودکشی کرلیا کرتے تھے، مگر دوستو وسکی کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے ناولوں میں مختلف کرداروں کو بڑے خیال، بڑا تجربہ اور بڑے معنی کو بسر کرتے ہوئے ضرور دکھاتا ہے۔ مجھے ٹالسٹائی کا ناول ’’اینا کرینینا‘‘، اور فلوبیئرکا ناول ’’مادام بواری‘‘ بھی بہت پسند ہیں۔ ’’مادام بواری‘‘ مغربی تہذیب اور مغربی کلچر کی ہلاکت آفرینی کو سامنے لاتا ہے۔ مادام بواری ایک عام عورت تھی مگر فرانس کے زوال آمادہ کلچر نے اسے حقیقت سے کاٹ کر تصورات یا Fantasy کی دنیا میں قید کردیا۔ اور وہ ایک کے بعد دوسرے انحراف کا شکار ہوکر اندر سے کھوکھلی ہوتی چلی گئی، یہاں تک کہ وہ اپنی زندگی کی بے معنویت اور اتھلے پن سے عاجز آکر خودکشی کرلیتی ہے۔
امام غزالی ہماری تہذیب اور تاریخ کی عظیم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ ان کی دو معرکہ آراء کتب یعنی ’’المنقذ من الضلال‘‘ اور ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ میں نے یونیورسٹی کے زمانے میں پڑھیں۔ ’’المنقذ‘‘ غزالی کی خودنوشت ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ غزالی کے لیے حق کی تلاش اتنی اہم تھی کہ غزالی آٹھ دس سال کے لیے بستر سے لگ گئے، اور جب ان پر حق آشکار ہوگیا تو انہوں نے اُس زمانے کی واحد یونیورسٹی کی وائس چانسلری بھی چھوڑ دی، اُن ہزاروں شاگردوں کو بھی ترک کردیا جو ان کا درس سننے آتے تھے، انہوں نے حکمرانوں کی قربت اور اس قربت سے میسر آنے والی آسائشوں کو بھی خیرباد کہہ دیا۔ مغرب کے بعض دانش ور غزالی کو شک یا Doubt کے سلسلے میں ڈیکارٹ کا ’’استاد‘‘ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن غزالی نے اپنی خودنوشت میں صاف لکھا ہے کہ اسلام کے بنیادی عقائد پر انہیں کبھی شک لاحق نہیں ہوا۔ انہیں شک لاحق ہوا تو اپنے زمانے میں موجود دین کی تعبیرات پر۔ ’’تہافتہ الفلاسفہ‘‘ فلسفے کی عظیم ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ یہ کتاب آپ کو بتاتی ہے کہ یونانی فکر کا چیلنج کیا تھا اور غزالی نے اس کا جواب کیسے فراہم کیا۔ شاہ ولی اللہ ہماری تاریخ کے عظیم ترین مجددین میں سے ایک ہیں۔ ان کی سب سے اہم تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ ہے۔ یہ تصنیف اردو میں دو ضخیم جلدوں میں ترجمہ ہوچکی ہے۔ اس کتاب کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں عقائد و احکامات کی معنویت پر گفتگو کی گئی ہے۔ مثلاً شاہ ولی اللہ نے بتایا ہے کہ یہ جو ہم نماز کی نیت کرتے ہوئے دونوں ہاتھ فضا میں بلند کرتے ہیں تو اس کی معنویت یہ ہے کہ ایک ہاتھ اُٹھا کر ہم اعلان کرتے ہیں کہ اے خدا ہم نے تیری محبت اور رضا کے لیے دنیا ترک کردی۔ ہم دوسرا ہاتھ اٹھاتے ہیں تو ہم اعلان کرتے ہیں کہ اے خدا ہم نے تیری رضا کے لیے عقبیٰ بھی چھوڑ دی‘‘۔ شاہ صاحب نے لکھا ہے کہ جب خدا کسی شخص کو اپنا محبوب بنالیتا ہے تو وہ سب سے پہلے اس کی اطلاع اپنے مقرب فرشتوں کے حلقے کو دیتا ہے۔ اس حلقے کے فرشتے یہ بات آسمان کے فرشتوں کو بتاتے ہیں۔ آسمان کے فرشتے یہ اطلاع ان فرشتوں کو دے دیتے ہیں جن کا زمین پر آنا جانا ہوتا ہے۔ زمین پر آنے جانے والے فرشتے یہ بات بے شمار انسانوں کے قلوب پر القا کردیتے ہیں اور اس طرح خدا کا محبوب انسانوں میں بھی مشہور ہو جاتا ہے۔ شاہ صاحب نے حجۃ اللہ البالغہ میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ولیوں کو مرنے کے بعد ان فرشتوں میں شامل کردیتا ہے جو اہل زمین سے رابطے میں رہتے ہیں۔ اس طرح انتقال کے بعد بھی اولیا کا تعلق اہل زمین کے ساتھ برقرار رہتا ہے۔
اردو شاعری میں چار شاعر ایسے ہیں جنہیں آپ ساری زندگی پڑھ سکتے ہیں۔ یعنی میر، غالب، اکبر الٰہ آبادی اور اقبال۔ میر کی پوری کلیات کا مطالعہ دشوار ہے چناں چہ میں نے میر کی کلیات سے زیادہ ان کے انتخابات پڑھنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں عسکری اور ناصر کاظمی کے انتخابات اہم ہیں۔ تاہم میر کا سب سے مختصر اور سب سے اچھا انتخاب محب عارفی کا ہے۔ اس انتخاب میں انہوں نے میر کے تین سو بڑے شعر منتخب کیے ہیں۔ محب عارفی صاحب نے لکھا ہے کہ میں پچاس سال تک غالب کو اردو کا سب سے بڑا شاعر سمجھتا رہالیکن میر کے مطالعے نے مجھے اپنی پچاس سالہ رائے سے رجوع کرنے پر مجبور کردیا اور اب میں میر کو غالب سے بڑا شاعر سمجھتا ہوں۔ لیکن میر کی عظمت کیا ہے؟ میر کی عظمت کے تین پہلو ہیں۔ میر کی عظمت کا ایک پہلو یہ ہے کہ میر زندگی کی کلیّت کو جس طرح بیان کرتا ہے کوئی اور شاعر زندگی کی کلیّت کو اس طرح بیان نہیں کرتا۔ میر کی عظمت کا دوسرا پہلو غزل کی روایت عشقیہ تجربے کے بیان کی روایت ہے اور یہ عشقیہ تجربے کو بیان کرنے والا سب سے بڑا شاعر ہے۔ میر کی عظمت کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ میر نے اس وقت بڑی شاعری کی جب اردو زبان کی شاعری میں بڑے خیال اور بڑے تجربے کو بیان کرنے کے لیے کوئی سانچہ موجود نہ تھا۔ میر کو اپنی عظمت کے اس پہلو کا خود بھی ادراک تھا۔ چناں چہ انہوں نے کہا ہے:
ریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہے
معتقد کون نہیں میرؔ کی استادی کا
لوگ کہتے ہیں کہ سرسید ہماری ملی تاریخ کے پہلے جدیدیے یا Modernist ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہماری ملی تاریخ کا پہلا جدیدیہ غالب ہے۔ اس نے اپنی شاعری میں روایتی مذہبی شعور کا مذاق اُڑایا ہے۔ عشق کا مضحکہ اُڑانے کی کوشش کی ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ غالب نے اپنے انحرافات سے بھی بڑی شاعری پیدا کرکے دکھائی ہے۔ عسکری صاحب کہتے ہیں کہ غالب کا اصولِ حرکت دنیا ہے۔ سلیم احمد کہتے ہیں کہ غالب کا مسئلہ انا ہے۔ یہ دونوں باتیں درست ہیں مگر غالب کی دنیا پرستی اور انا دونوں اسے بڑا آرٹ تخلیق کرنے سے نہیں روکتیں۔
اقبال کا تخلیقی وقار ایسا ہے کہ اقبال کی شاعری مردے کو زندہ کرسکتی ہے۔ پانی میں آگ لگا سکتی ہے، ماضی کی قوت اور شکوہ سے ایک نیا مستقبل تخلیق کرسکتی ہے، میں نے میر اور اقبال کو یونیورسٹی کے زمانے میں پڑھنا شروع کیا، اور ان دونوں شاعروں کو میرے شعور اور احساس نے جس طرح جذب کیا اردو کے کسی اور شاعر کو اس طرح جذب نہیں کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ میر اور اقبال میرے شاعرانہ مزاج کے دو ستون یا دو Pole بن گئے۔ میر کے غم اور اقبال کی آرزو کا ایک جگہ جمع ہونا محال ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میر کا غم یا افسردگی بھی گہری ہے اور اقبال کی آرزو بھی عمیق ہے۔ چناں چہ ان میں سے ایک چیز کسی شعور یا احساس میں راسخ ہو جائے تو دوسرے کے لیے جگہ ہی باقی نہیں رہتی لیکن اقبال جس آرزو کے علم بردار ہیں وہ آٹھ دس سال کی عمر سے میرے ساتھ تھی اور قصص الانبیاء کے حوالے سے دکھ کا تجربہ بھی اسی عمر میں میرے اندر جذب ہوچکا تھا، چناں چہ میرے شعور اور احساس میں ایسا ناممکن کام ممکن ہوگیا۔ اس حوالے سے میرا ایک شعر ہے۔
میرے سخن کا حال نہ پوچھ
میر کے پہلو میں اقبال
اکبر الٰہ آبادی کا تخلیقی جوہر اقبال کی سطح کا ہے۔ اقبال خود اس حقیقت سے آگاہ تھے چناں چہ انہوں نے اکبر کے انتقال پر ان کے فرزند کے نام جو خط ارسال کیا اس میں لکھا کہ آپ کے والد اتنے بڑے شاعر تھے کہ پورے ایشیا میں ان کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔ لیکن ایشیا کیا دوسرے براعظموں میں بھی کوئی ایسا ثانی موجود نہیں جس کی شاعری کا خمیر دو تہذیبوں کے پیکار اور تصادم سے اُٹھا ہو۔ اکبر کی عظمت کا ایک زاویہ یہ ہے کہ برصغیر کی ملت اسلامیہ نے جو جنگ میدان کارزار میں ہار دی تھی اکبر نے وہ جنگ اپنی شاعری میں جیت کر دکھادی ہے۔ انہوں نے اسلام اور جدید مغرب کی الٰہیات کا موازنہ کیا ہے اور اسلامی الٰہیات کی فوقیت ثابت کی ہے۔ انہوں نے اسلام اور مغرب کے تصورِ علم کا موازنہ کیا ہے اور اسلام کے تصور علم کی برتری ثابت کی ہے۔ انہوں نے اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کے مظاہر کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کیا ہے اور اسلام کے مظاہر کے ترانے گا کر دکھائے ہیں۔ لیکن چوں کہ اکبر کی شاعری ظریفانہ ہے اس لیے عام لوگ اسے ہنسنے ہنسانے کی چیز سمجھتے ہیں لیکن اکبر کی شاعری اقبال کی شاعری سے کم سنجیدہ نہیں۔
یہاں اردو کی دو اور اہم کتابوں کا ذکر ناگزیر ہے۔ ایک کتاب ہے سرسید اور حالی کا نظریۂ فطرت، سرسید اور حالی کی فکر فطرت کے مذہبی تصور پر کھڑی ہوئی ہے، مذکورہ کتاب ڈاکٹر ظفر حشن کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے۔ یہ مقالہ انہوں نے محمد حسن عسکری کی نگرانی میں تحریر کیا۔ مگر اس کتاب پر عسکری صاحب کی چھاپ اتنی گہری ہے کہ بعض لوگ اس کتاب کو عسکری صاحب ہی کی کتاب کہتے ہیں۔ لیکن یہ اہم بات نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس کتاب میں سرسید اور حالی کے تصور فطرت کا وسیع تناظر میں جائزہ لیا گیا ہے۔ مثلاً اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی، چینی، ہندو اور عیسائی تہذیب میں فطرت کا کیا تصور ہے؟ اس کے ساتھ اس کتاب میں مثالوں سے واضح کیا گیا ہے کہ جدید مغرب کا تصور فطرت، روایتی تہذیبوں کے تصور فطرت کے مقابلے پر کتنا غلط، کتنا محدود اور کتنا سطحی ہے۔ اس تجزیے سے سرسید اور حالی کی فکر معمولی اور حقیر بن کر سامنے آجاتی ہے اور سرسید اور حالی کی ساری علمیت زیر و زبر ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہ کتاب اتنی غیر معمولی ہے کہ اس موضوع پر اردو کیا انگریزی میں بھی ایسی کتاب موجود نہیں۔
کلچر عہدِ حاضر کا ایک اہم موضوع ہے لیکن یہ موضوع جتنا اہم ہے اس کی تفہیم اتنی ہی ناقص ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ڈاکٹر جمیل جالبی کی تصنیف ’’پاکستانی کلچر اردو میں‘‘ کلچر بالخصوص پاکستانی کلچر کے حوالے سے اہم کتاب ہے، بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اردو میں پاکستانی کلچر پر اس سے اچھی کتاب موجود نہیں۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ کلچر کی تعریف کیا ہے؟ پاکستانی کلچر کے مسائل کیا ہیں؟ کلچر کی عدم تفہیم ہماری تخلیقی صلاحیتوں کو کس طرح متاثر کررہی ہے؟
آنند کمارا سوامی 20 ویں صدی میں روایتی آرٹ کے سب سے بڑے ماہر تھے۔ ان کا تعلق سری لنکا سے تھا۔ وہ ڈیڑھ درجن سے زیادہ زبانیں جانتے تھے۔ ان کی ہر کتاب خیال انگیز ہے مگر مجھے ان کی تصنیف “Figure Of Speech Or Figure Of Thought” انتہائی غیر معمولی محسوس ہوئی۔ اس کتاب میں “Figure Of Speech Or Figure Of Thought” کے عنوان سے موجود مضمون روایتی ادب کے موضوع پر لکھا گیا ایک شاہکار مضمون ہے۔ اس مضمون کا بنیادی خیال یہ ہے کہ انسان کا تشخص شعور سے متعین ہوتا ہے، احساس یا Feelings سے نہیں۔ آنند کمارا سوامی کے بقول Feelings کی سطح پر انسان، حیوانات اور پرندوں میں کوئی فرق نہیں۔ چناں چہ روایتی آرٹ یا روایتی ادب، شعور کا حاصل ہے، احساسات کا حاصل نہیں۔ اس سلسلے میں آنند کمارا سوامی نے افلاطون سے لے کر جدید عہد تک کے کئی اہم حوالے پیش کیے ہیں۔ آنند کمارا سوامی کے اس مضمون کا اثر سلیم احمد نے بھی قبول کیا ہے، چناں چہ انہوں نے اپنے شعری مجموعے بیاض کے دیباچے میں کہا ہے کہ میں شاعری کو شعور کی اولاد سمجھتا ہوں۔ سلیم احمد نے اس سلسلے میں صرف اعلان ہی نہیں کیا، ان کا شاعری مجموعہ بیاض ’’شعورکی اولاد‘‘ کا ایک بڑا ثبوت ہے۔
پی ڈی او سپینسکیP.D OUSPENSKY روس کے ممتاز دانش وروں میں سے ایک تھے۔ 1950ء، 1960ء اور 1970ء کی دہائیوں میں اس کی شہرت عالمی سطح پر ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ اس کی تصنیف Fourth Way عمدہ کتاب ہے، اس کی کتاب A New Model Of The Universe اور اس کی مشہور زمانہ تصنیف In Search Of The Miraculous کو میں نے جستہ جستہ پڑھا ہے۔ اوسپینسکی انسان کے داخلی ارتقا کا قائل ہے اور اس پر بہت زور دیتا ہے۔ اس نے انسان کے داخلی ارتقا کے سات درجے بتائے ہیں۔ اس کے بقول داخلی ارتقا کے تیسرے درجے تک تمام انسان صرف ایک مشین ہوتے ہیں، مشین پن سے نجات کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنا مشین ہونا تسلیم کرے۔ یہ تسلیم کرنے کے بعد حقیقی معنوں میں انسان کے داخلی ارتقا کا آغاز ہوتا ہے۔ اوسپینسکی کے نزدیک داخلی ارتقا کا ہر مرحلہ ایک نئے انسان کو ہمارے سامنے لاتا ہے۔ یہاں تک کہ انسان ساتویں درجے پر پہنچ جاتا ہے۔ اس درجے پر پہنچ کر انسان مکمل طور پر خود شناس ہو جاتا ہے۔ اس درجے پر انسان کو جو علم حاصل ہوتا ہے وہ کبھی شعور سے محو نہیں ہوتا۔ سلیم احمد اوسپینسکی کے اس تصور سے متاثر تھے اور انہوں نے اپنی کتاب ’’محمد حسن عسکری، آدمی یا انسان‘‘ میں اسی تصور کی بنیاد پر عسکری صاحب کی شخصیت کا تجزیہ کیا ہے اور عسکری کو ساتویں درجے کا آدمی یا Man No 7 قرار دیا ہے۔
میری خبر سے دلچسپی کا آغاز پانچ چھے سال کی عمر میں ہوگیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میری ننہیال کو جہاں میری ابتدائی پرورش ہوئی اُمت مسلمہ بالخصوص پاکستان کے ماضی، حال اور مستقبل سے عشق کی سطح پر دلچسپی تھی۔ ہمارے گھر میں پاکستان کا ذِکر اس محبت سے ہوتا کہ مجھے لگتا کہ مسلمانوں کے مقدس مقامات صرف تین ہیں۔ مکہ، مدینہ اور پاکستان۔ میرے بڑے ماموں سید نفیس حسن مرحوم صرف حافظ تھے اور انہوں نے اسکول، کالج میں باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی مگر ان کو اُمت مسلمہ اور پاکستان کی سیاست سے گہری دلچسپی تھی۔ اس دلچسپی کا نتیجہ یہ تھا کہ ہمارے گھر میں روزانہ ریڈیو سے تین بلیٹن سنے جاتے، پہلا بلیٹن بی بی سی کی اردو سروس کے پروگرام سیربین کی صورت میں ہوتا، اس کے کچھ دیر بعد ریڈیو پاکستان سے آٹھ بجے کی خبریں سنی جاتیں، یہ کام ہونے کے بعد بڑے ماموں کہتے، ہاں بھائی اب دیکھ بھارت کا ریڈیو اسٹیشن آکاش وانی کیا بکواس کررہا ہے، بڑے ماموں کے ساتھ مجھ سمیت پورا گھر ریڈیو سے خبریں سنتا، میرے بڑے ماموں صرف ریڈیو کی خبروں پر اکتفا نہیں کرتے تھے، وہ دو تین ہفت روزہ اخبارات بھی منگواتے تھے۔ وہ اخبار خود نہیں پڑھتے تھے، گھر کا کوئی اور فرد انہیں اخبار پڑھ کر سناتا۔ اس صورتِ حال کی وجہ سے مجھے بارہ تیرہ سال کی عمر میں پاکستان، ہندوستان اور اُمت مسلمہ کے عمومی سیاسی حالات کا کچھ نہ کچھ علم ہوگیا تھا۔ میں نے اپنی سیاسی معلومات کا اظہار اپنے محلے کے دوستوں میں کرنا شروع کیا تو اس کی اطلاع محلے میں موجود ’’بزرگوں‘‘ کے اس گروپ کو بھی ہوگئی جو کسی نہ کسی شخص کو پکڑ کر اس سے اجتماعی طور پر اخبار سُنا کرتا تھا۔ چناں چہ اس گروپ کے لوگوں کو کوئی شخص نہ ملتا تو وہ مجھے اخبار پڑھنے کے لیے بلالیتے اور میں ایک ڈیڑھ گھنٹے تک انہیں اخبار سناتا رہتا۔ اس عمل سے میری زبان و بیان بھی بہتر ہوگیا اور میری معلومات، علم اور سیاسی حالات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت میں بھی خاطر خواہ ترقی ہوئی۔ میرے والد صاحب دو اخبارات خریدتے تھے۔ روزنامہ جسارت اور ڈیلی ڈان۔ نویں جماعت سے میں نے یہ دونوں اخبارات پڑھنے شروع کیے، لیکن انٹر کے پہلے سال تک پہنچتے پہنچتے میری اخبار بینی کا شوق اتنا بڑھا کہ میں روز نارتھ ناظم آباد میں موجود تیموریہ لائبریری جانے لگا۔ لائبریری میں جسارت اور ڈان کے سوا کئی اخبارات و رسائل کا مطالعہ کرتا۔ یہ 1983ء کا زمانہ تھا۔ جسارت اس وقت ایک شاندار اخبار تھا۔ اس میں کئی اہم لکھنے والے موجود تھے مگر مجھے سلیم احمد اور خامہ بگوش کے کالم سب سے زیادہ پسند تھے۔ ایم اے کرنے کے بعد میں روزنامہ جسارت اور پی ٹی وی کراچی کے شعبہ خبر سے وابستہ ہوگیا۔ پی ٹی وی میں کام زیادہ نہیں تھا۔ چناں چہ میں وہاں فارغ وقت میں دو کام کرتا، میں اخبار پڑھتا اور جسارت کے لیے کالم اور اداریہ لکھتا۔ اس زمانے میں میں روزانہ دس سے بارہ اخبارات پڑھتا تھا۔ ان اخبارات میں روزنامہ جسارت، روزنامہ جنگ، روزنامہ نوائے وقت، ڈان، دی مسلم، دی نیشن، اسٹار، ڈیلی نیوز، خبریں، عوام اور آغاز شامل تھے۔ ہفت روزہ تکبیر، ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل اور ہفت روزہ زندگی بھی میں باقاعدگی سے پڑھتا تھا۔ انگریزی کے تین بین الاقوامی جریدے ’’ٹائم‘‘،’’ نیوزویک اور’’ دی اکنامسٹ‘‘ مجھے جسارت سے فراہم ہوتے تھے۔ اخبارات، رسائل و جرائد کا یہ مطالعہ چودہ سال جاری رہا۔ اس زمانے میں میرے پاس اتنی معلومات ہوتی تھیں کہ مجھے پوری دنیا اپنی جیب میں پڑی ہوئی محسوس ہوتی تھی، چناں چہ ان چودہ برسوں میں میں نے روزنامہ جسارت میں ہر ماہ چالیس سے پینتالیس کالم تحریر کیے۔ اتنا لکھنے کے باوجود بھی میرے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ باقی رہ جاتا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ سکون کے ساتھ کمرے میں بیٹھ کر مطالعہ کرتے ہیں مگر میں نے کراچی کی بسوں، منی بسوں اور کوچوں میں بیٹھ کر درجنوں کتابیں اور رسائل و جرائد کے سیکڑوں مضامین پڑھے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ میرے مطالعے کی مکمل تصویر نہیں ہے۔ یہ میرے مطالعے کا ایک اجتماعی خاکہ ہے۔ درجنوں مفکرین، دانش وروں، فلسفیوں، شاعروں، ادیبوں اور ان کی تصانیف کا ذِکر ہونے سے رہ گیا۔ امام غزالی نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص تین دن تک مطالعہ نہ کرے تو اس کا ذہن مر جاتا ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ اس مرونی کے آثار مطالعے کی عدم موجودگی کے پہلے دن ہی سے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ لیکن یہاں کہنے کی اصل بات یہ نہیں ہے، یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ غزالی کا قول پوری دنیا بالخصوص اُمت مسلمہ کے لیے ایک آئینہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اُمت مسلمہ تمام انبیاء کی وارث ہے اور انبیاء کا ورثہ تقوے اور علم کے سوا کچھ نہیں۔

Share this: