(ایپیکس کمیٹی اجلاس(حامد ریاض ڈوگر

Print Friendly, PDF & Email

فروری کے دوسرے عشرے کے آغاز سے دہشت گردی اور تخریب کاری کے پے در پے واقعات کے بعد ریاستی اداروں نے دہشت گردی پر قابو پانے اور ایسے واقعات کے اعادہ کی روک تھام کے لیے کثیرالجہتی اقدامات شروع کردیئے ہیں، کیونکہ کسی ایک علاقے نہیں بلکہ ملک کے چاروں صوبوں میں ایک تسلسل کے ساتھ وارداتیں کرکے پاکستان کے دشمنوں نے ہمیں یہ پیغام دیا تھا کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک تباہ کردینے اور دہشت گردی کی سرکوبی کے دعوے کچھ زیادہ درست نہیں، بلکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ ہمارے دشمنوں نے جہاں چاہا، جس کو چاہا بلا روک ٹوک نشانہ بنایا، اور قبل از وقت انتباہ کے باوجود بھی ان واقعات کو وقوع پذیر ہونے سے روکا نہیں جا سکا۔ چنانچہ دہشت گردی کی اس وبا کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے یہ لازم ہوگیا تھا کہ فوری اور ہمہ جہتی اقدامات عمل میں لائے جائیں۔ اس ضرورت کے پیش نظر اگر ایک جانب طورخم کی پاک افغان سرحد بند کرکے سرحدی علاقے خالی کرائے گئے ہیں اور پاک فوج افغان سرحد کے اندر موجود تخریب کاروں اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ آور ہے تو دوسری جانب ملک کے اندر وسیع پیمانے پر کومبنگ آپریشن جاری ہیں اور مشکوک افراد کو چن چن کر ہلاک کرنے کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ تیسری جانب فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے لیے بھی حکومت سرگرم ہوگئی ہے اور اس مقصد کے لیے آئینی ترمیم پر اتفاقِ رائے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار مختلف سیاسی رہنماؤں اور پارلیمانی قائدین سے رابطوں میں مصروف ہیں۔ عین ممکن ہے کہ ان سطور کی اشاعت تک وہ کوئی اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں کامیاب بھی ہوجائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی اور امن و امان کے ذمہ دار ادارے دہشت گردوں کے ممکنہ اہداف اور عوامی اجتماعات کی جگہوں پر سیکورٹی کے انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کرنے میں مصروف ہیں تاکہ مزید واقعات اور جانی و مالی نقصان کو روکا جا سکے۔
پنجاب میں رینجرز آپریشن کے لیے حکومت پر بہت عرصے سے دباؤ ڈالا جارہا تھا جس میں فیصل چوک لاہور میں ہونے والے 13 فروری کے سانحہ کے بعد بہت زیادہ اضافہ ہوگیا تھا، چنانچہ حکومت نے اس دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں، یا یوں کہیے کہ مخالفین کا منہ بند کرنے کے لیے وہ بعض اقدامات پر آمادہ ہوگئی ہے۔ اس ضمن میں اتوار کو لاہور میں صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعلیٰ شہبازشریف کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں بعض دوررس نتائج کے حامل فیصلے کیے گئے۔
اپیکس کمیٹی کے اس اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے مطابق حکومت نے پنجاب میں رینجرز کو محدود اختیارات دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئین کی دفعہ 215 کے تحت صوبے میں رینجرز پہلے سے موجود ہیں، اب دفعہ 147 کے تحت انہیں صوبے میں چھاپوں اور گرفتاریوں کے اختیارات بھی ہوں گے۔ قبل ازیں 2013ء میں وفاقی کابینہ نے سندھ میں رینجرز کو کراچی میں امن قائم کرنے کے لیے تعینات کیا تھا، لیکن ان کو پولیس کے اختیارات بھی تفویض کیے گئے تھے جس کے تحت ان کا دائرۂ اختیار ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ کے انسداد، امن و امان کے قیام اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کا تھا۔ پنجاب میں جو اختیارات تجویز کیے جا رہے ہیں وہ رینجرز ایکٹ 1989ء اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء کے تحت محدود اختیارات ہوں گے، جب کہ رینجرز انسداد دہشت گردی ڈپارٹمنٹ اور پولیس کے ساتھ مل کر آپریشن کرے گی۔ تاہم اس آپریشن کی براہِ راست نگرانی اپیکس کمیٹی کرے گی۔ اپیکس کمیٹی کے فورم پر پولیس، انسداد دہشت گردی ڈپارٹمنٹ اور رینجرز کے درمیان کسی تنازع کو حل کرنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ رینجرز کے پاس قانونی طور پر اپنے اختیارات کے تحت آپریشن کرنے کا اختیار نہیں ہوگا، تاہم اس میں ابہام اس لیے رہے گا کہ کسی وفاقی ادارے کی فوری نشاندہی پر رینجرز کارروائی کرے گی تو کیا اس کو پہلے پولیس، سی ٹی ڈی سے اجازت حاصل کرنی پڑے گی؟ اس بات کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔
حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کے بیانات، اعتراضات اور مطالبات اپنی جگہ، مگر حقیقت یہ ہے کہ کراچی اور پنجاب کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے، اسی طرح کراچی میں رینجرز آپریشن کی نوعیت بھی پنجاب میں مجوزہ آپریشن سے قطعی مختلف ہے، اس لیے دونوں جگہ آپریشن کا آپس میں تقابل کسی طرح بھی درست نہیں۔
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ دہشت گردی ہی نہیں دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے بھی صوبائی سطح کے بجائے قومی سطح پر پالیسی مرتب کی جائے جس طرح نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا گیا تھا، جس پر مکمل عمل نہ کیے جانے کی شکایات بھی عام ہیں۔ اسی طرح وفاقی اور تمام صوبائی حکومتیں مل کر مشترکہ لائحہ عمل طے کریں جس پر ملک کے تمام حصوں میں پورے خلوص اور نیک نیتی سے عمل کیا جائے۔
nn

Share this: