(مغربی زبانوں کے ماہر علماء علی گڑھ کالج کے قیام سے پہلے(پروفیسر سید محمد سلیم

Print Friendly, PDF & Email

کتاب
:
مصنف
:
پروفیسر سید محمد سلیم
صفحات
:
152 قیمت 200 روپے
ناشر
:
ڈاکٹر تحسین فراقی ناظم مجلسِ ترقی ادب نرسنگھ داس گارڈن 2کلب روڈ لاہور
فون
:
042-99200856-99200857
ای میل
:
majlista2014@gmail.com
مغربی زبانوں کے ماہر علما کی یہ دوسری طبع ہے اور مجلس ترقی ادب سے طبع اول ہے مجھے اچھ طرح یاد ہے پروفیسر سید محمد سلیم صاحب نے جب یہ کتاب دی تو اس کے ساتھ ڈان میں چھپا ہوا انگریزی میں تبصرہ بھی دیا جس میں تبصرہ نگار نے اس کی بہت تعریف و توصیف کی تھی۔ کتاب جلد ہی ختم ہو کر نایاب ہو گئی اب اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب نے مجلس ترقی ادب کے تحت اس قیمتی تحقیق کو طبع کرایا ہے اور یہ ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب کی علم دوستی اور علم پروری کا ثبوت ہے۔
فراقی صاحب تحریر فرماتیہیں:
’’مسلم ثقافت کا دور عروج روشنی اور رواداری کا دور تھا جس میں علم و عرفان کی مہک اکناف عالم میں پھیلی یورپ کی نشاۃ ثانیہ بھی اسی روشنی و رواداری کی محتاج و مرہون منت رہی۔ برعظیم پاک و ہند بھی کئی صدیوں تک علم و دانش کا مرکز رہا حتیٰ کہ زوال کے اندھیروں میں بھی علم و السنہ کی شمعیں مدہم ہی سہی اپنے بابرکت وجود کا حساس دلاتی رہیں۔
پیش نظر کتاب مغربی زبانوں کے ماہر علماء کئی جہتوں سے قابل التفات ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ مغربی استعمار کی آمد سے پہلے یہاں مدارس و مراکز دانش کی خاصی بڑی تعداد موجود تھی۔ صرف بنگال میں اسی ہزار مدارس قائم تھے گویا ہر چار سو کی آبادی پر ایک مدرسہ فراہم تھا۔ انگریز آیا تو اس نے نہ صرف مسلمانوں کے نظام اوقاف کو برباد کر ڈالا جو ان کے نظام تعلیم پر ایک ضرب کاری تھی بلکہ یہ ثابت کرنے کے لیے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ مسلمان تنگ نظر متعصب اور ترقی کے دشمن ہیں اور انگریزی زبان کے مخالف۔ فاضل مصنف کا موقف ہے کہ مسلمانوں نے سرسید اور راجہ موہن رائے سے بھی پہلے انگریزی زبان و علوم کے حق میں آواز بلند کی اور اس ضمن میں میر محمد حسین اور مولوی کرامت علی منگلوری کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ مصنف نے بشپ ہیبر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بقول اس کے مسلمانوں میں انگریزی زبان سیکھنے کا غیر معمولی رجحان موجود ہے۔ مصنف نے اس بیہودہ پراپیگنڈے کی بھی تغلیط کی ہے کہ مسلمان علماء نے انگریزی زبان و علوم کے خلاف کفر کا فتوی دیا تھا۔زیرنظر کتاب ان اصحاب علم و فضل کے ذکر سے عبارت ہے جنہوں نے علی گڑھ کے مدرسۃ العلوم کے قیام سے بھی پہلے مشرقی علوم علوم السنہ کے دوش بدوش مغربی زبانوں اور مغربی علوم و افکار میں دلچسپی لی انہوں نے نہ صرف مغربی علوم کا مطالعہ کیا بلکہ ان کیے تراجم بھی کیے۔بعض نے خود مغربی دنیا کی سیر و سیاحت کی۔ دراصل اس سارے طرز عمل کے پس پشت یہ حقیقت کار فرما تھی کہ علوم و فنون اور زبان و لسان کے باب میں اسلام کا نقطہ نظر آفاقی ہے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عہد مبارک میں حضرت زید بن ثابتؓ کو غیر ملکی زبانیں سیکھنے کا حکم دیا تھا اور انہوں نیے تعمیل ارشاد میں سریانی، آرامی، فارسی اور حبشی زبانیں سیکھیں۔ شاہ عبدالعزیز دہلوی اور مولانا عبدالحئی فرنگی محلی نے انگریزی زبان سیکھنے کے حق میں فتاویٰ دیے۔پیش نظر کتاب آج سے کم و بیش بائیس تئیس سال قبل شائع ہوئی تھی اس کے مصنف پروفیسر محمد سلیم اسلامی علوم و السنۃ کے ممتاز عالم تھے وہ ایک عرصے تک تعلیم اور متعلقات تعلیم پر اپنے رشحات فکر سے اہل پاکستان کو سیراب کرتے رہے ان کی مذکورہ کتاب مختصر ہونے کے باوجود جامع اور اپنے موضوع کے اعتبار سے منفرد اور فکر افروز ہے لہٰذا مجلس ترقی ادب کے ارباب علم نے اسے اشاعت ثانی کے لیے مفید پایا۔ اس میں راہ جانے والی اغلاط کی تصحیح کی اور اسے اپنے اشاعتی منصوبے میں شامل کیا۔ امید واثق ہے کہ اصحاب فکر و دانش اس نقشِ ثانی کو نقشِ اول سے بہتر پائیں گے ادارہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کا ممنون ہے جن کے توسط سے اس کتاب کی اشاعتِ ثانی کے لیے اجازت مرحمت ہوئی۔
کتاب آٹھ ابواب پر مشتمل ہے۔
باب اول: مغربی اقوام کی آمد ہندوستان میں۔ باب دوم: مغل شہنشاہ اور مغرب۔ باب سوم: اہل دکن، مغربی زبان اور مغربی علوم۔ باب چہارم: شمالی ہندوستان جنگ پلاسی تا سقوط دہلی۔ باب پنجم: شمالی ہندوستان سقوطِ دہلی یا خاتمۂ سلطنت۔ باب شششم: سقوط دہلی تا خاتمہ سلطنت (مسلسل) باب ہفتم: خاتمہ سلطنت تا قیام علی گڑھ کالج۔ باب ہشتم: انگریزی عہد حکومت کے علماء اور انگریزی زبان۔
کتاب سفید کاغذ پر خوبصورت طبع ہوئی ہے اور مجلد ہے۔
۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔

Share this: