(فاٹا اصلاحات کے لیے جماعت اسلامی کا دھرنا(عالمگیر آفریدی

Print Friendly, PDF & Email

گورنر خیبر پختون خوا اقبال ظفر جھگڑا نے جماعت اسلامی فاٹا کے راہنماؤں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وفاقی حکومت 12 مارچ سے پہلے پہلے فاٹا اصلاحات کا اعلان کردے گی اور اس طرح قبائل کو اسلام آباد میں 12 مارچ کے مجوزہ احتجاجی دھرنے میں شرکت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ گورنر نے یہ یقین دہانی جماعت اسلامی فاٹا کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے گورنر ہاؤس میں ملاقات اور مذاکرات کے موقع پر کرائی ہے۔
واضح رہے کہ جماعت اسلامی حلقہ قبائل نے پچھلے دنوں گورنر ہاؤس پشاور کے سامنے تین روزہ احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا تھا اور اسی دھرنے کے سلسلے میں گزشتہ اتوار کے روز مختلف قبائلی ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے قبائل کی ایک بڑی تعداد اس احتجاجی دھرنے میں شریک تھی۔ یہ احتجاج ابھی پوری طرح شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ گورنر اقبال ظفر جھگڑا نے خیبرپختون خوا کی روایات کی لاج رکھتے ہوئے نہ صرف احتجاجی مظاہرین کو ہر ممکن سیکورٹی فراہم کرنے کے خصوصی احکامات جاری کیے بلکہ جماعت اسلامی کے راہنماؤں کوگورنر ہاؤس میں مدعو کرکے ان کے احساسات اور مطالبات وفاقی حکومت تک پہنچانے کی واضح یقین دہانی بھی کرائی۔ انہوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ جماعت اسلامی کے راہنماؤں کو، جنہوں نے باجوڑ سے سابق رکن قومی اسمبلی اور نائب امیر جماعت اسلامی خیبر پختون خوا صاحبزادہ ہارون الرشید اور جماعت اسلامی فاٹا کے امیر حاجی سردار خان، نائب امراء ڈاکٹر سمیع اللہ جان محسود، زرنور آفریدی، حاجی منصف خان مہمند اور جنرل سیکرٹری محمد رفیق آفریدی کی قیادت میں گورنر خیبرپختون خوا سے ملاقات کی، اپنی طرف سے یہ باور کرایا کہ وفاقی حکومت 12مارچ سے پہلے پہلے فاٹا کے اصلاحاتی پیکیج کو وفاقی کابینہ سے منظور کرا لے گی اور اس طرح قبائل کا یہ دیرینہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہوجائے گا۔ گورنر کی یقین دہانی کے بعد جماعت اسلامی نے اپنا احتجاجی دھرنا 12مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر وفاقی حکومت نے 12 مارچ تک فاٹا اصلاحات اور قبائلی علاقوں کو بندوبستی علاقوں میں ضم کرنے کا فیصلہ نہ کیا تو جماعت اسلامی دیگر جماعتوں کے ساتھ فاٹا کے عوام کے مجوزہ احتجاج میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے ہراول دستے کا کردار ادا کرے گی۔ اس موقع پر دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق احمد خان نے کہا کہ جو لوگ ایف سی آر کو برقرار رکھنے کی وکالت کررہے ہیں وہ قبائل کو ایف سی آر کی زنجیروں میں مزید جکڑ کر رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ نہ ملک وقوم اور نہ ہی قبائل کے ساتھ مخلص ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائل کو ایف سی آر کی آڑ میں مزید محکوم اور محروم رکھنا اب کسی بھی حکمران اور ادارے کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ قبائل کی غالب اکثریت اصلاحات اور تبدیلی کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے۔ ایف سی آر جنگل کا قانون ہے جسے فرنگی سامراج نے اپنے مخصوص سامراجی مفادات کے لیے وضع کیا تھا۔ قبائل اتنے ہی محب وطن پاکستانی ہیں جتنے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں رہنے والے شہری پاکستانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات کا معاملہ ’اب یاکبھی نہیں‘ کے اسٹیج میں داخل ہوچکا ہے اور اب کسی کو بھی فاٹا اصلاحات سے راہِ فرار اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
فاٹا اصلاحات کے لیے قبائلی عوام اور مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کی جانب سے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے جو اقدامات اٹھائے جارہے ہیں یہ انہی کا نتیجہ ہے کہ وفاقی حکومت کو شاید نہ چاہتے ہوئے بھی فاٹا اصلاحات کاکڑوا گھونٹ حلق سے اتارنے کی یقین دہانی کروانی پڑرہی ہے۔ فاٹا میں اصلاحات کا مطالبہ ویسے تو بہت پرانا ہے لیکن پچھلے چند ماہ سے اس حوالے سے تمام قبائل اور بالخصوص نوجوانوں میں جو جوش وخروش نظر آرہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ شاید فاٹا اصلاحات کے حوالے سے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب ان سے انحراف یا گلوخلاصی کسی بھی حکومت کے لیے سیاسی خودکشی اور خود قبائل کے لیے زندگی اور موت کی حیثیت اختیار کرچکی ہے اور اس ضمن میں کوئی بھی کوتاہی شاید کسی بڑے ردعمل اور بے چینی کا باعث بننے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
اس حقیقت سے شاید کسی کو بھی اختلاف نہیں ہوگا کہ ماضی میں سوائے اے این پی کے کوئی بھی جماعت کھل کر فاٹا کے خیبر پختون خوا کے ساتھ انضمام کے حق میں نہیں تھی، البتہ فاٹا اصلاحات، ایف سی آر کے خاتمے اور اس نظام کو ظالمانہ، فرسودہ اور ایک سیاہ نظام کے طور پرتقریباً تمام جماعتیں پیش کرتی رہی ہیں۔ اس سلسلے میں اگر کسی جماعت نے زیادہ جارحانہ اور منظم کردار ادا کیا ہے تو وہ یقیناًجماعت اسلامی ہے، جس کے مرکزی قائدین سے لے کر نچلی سطح کے مقامی قائدین اور کارکنان تک کو فاٹا اصلاحات اور ایف سی آر کے خاتمے کے مطالبے کی وجہ سے متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑی ہیں۔اب پہلی دفعہ یہ دیکھنے میں آ رہاہے کہ سوائے جمعیت(ف) کے تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں یک جان ہو کر فاٹا اصلاحات کے لیے میدان میں نکلی ہوئی ہیں۔اسی طرح ماضی میں منتخب ارکانِ قومی اسمبلی اور سینیٹ عموماً فاٹا اصلاحات اور ایف سی آر کے خاتمے کے حوالے سے یا تو غیرجانب داری کو ترجیح دیتے رہے ،یا پھر ان کی جانب سے ان اہم ایشوز پر مصلحت پر مبنی خاموشی اختیار کی جاتی رہی۔ لیکن اب تاریخ کا دھارا اس حد تک بدل چکا ہے کہ خود فاٹا سے منتخب ارکانِ پارلیمنٹ ایف سی آرکے خاتمے اور فاٹا اصلاحات کے ساتھ ساتھ فاٹا کے خیبر پختون خوا کے ساتھ انضمام کے حق میں نہ صرف پارلیمنٹ کی حد تک آواز اٹھا رہے ہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی ان کا یہی مؤقف ہے اور وہ اس ضمن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ منتخب ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے حکومتی آواز میں اپنی آواز شامل کرنے کے بجائے اصلاحات کے ایجنڈے پر جارحانہ طرزعمل اپنانے کا نتیجہ ہے کہ فاٹا سے پہلی دفعہ کسی رکن پارلیمنٹ کو وفاقی کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا ہے، اور شاید تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ قبائلی ارکان پارلیمنٹ حکومت کوسخت موقف اختیار کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف کا کردار ادا کررہے ہیں۔
وفاقی حکومت اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ جو بہت عرصے بعد پہلی دفعہ ایک صفحے پر نظر آ رہے ہیں اور خاص کر ان دونوں اداروں میں فاٹا اصلاحات پر جو ہم آہنگی اور اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سے بہتر موقع اور وقت شاید پھر کبھی نہیں آئے گا جب تمام اسٹیک ہولڈر فاٹا اصلاحات اور فاٹا کے خیبر پختون خوامیں انضمام کے حق میں رائے دے چکے ہیں۔ اس ضمن میں تمام اپوزیشن جماعتوں اور منتخب قبائلی ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے حکومت پر دباؤ بڑھانے اور 12مارچ کے مجوزہ احتجاجی دھرنے کے اعلان سے حکومت کو دیوار پر لکھا پڑھ لینا چاہیے، اور اس کے لیے کسی ایسے غیر مقبول فیصلے سے گریز کرنا بہتر ہوگا جس کے نتیجے میں فاٹا میں بدامنی اور مایوسی کے ایک نئے سلسلے کا آغاز ہو۔
حرفِ آخر یہ کہ فاٹا اصلاحات وقت کا تقاضا اور ضرورت ہے، لہٰذا امید ہے حکومت اس اہم اور تاریخی فیصلے کے حوالے سے مزید کسی تساہل اور حیل وحجت سے کام نہیں لے گی اور حسب وعدہ 12مارچ سے پہلے پہلے فاٹا اصلاحات اور قبائلی علاقوں کے خیبر پختون خوا میں انضمام کا تاریخی فیصلہ کرکے نہ صرف ایک کروڑ قبائلی عوام کے دل جیتنے کی کوشش کرے گی بلکہ مجوزہ اصلاحاتی پیکیج کو منظور کروا کر اپنا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھوانے میں مزید کسی مصلحت سے کام نہیں لے گی۔
nn

Share this: