دہشت گردی کی تازہ لہر اور اقتصادی تعاون تنظیم کا اجلاس

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان میں دہشت گردی کی نئی خوفناک لہر آگئی ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نئے نام سے ایک اور فوجی آپریشن شروع ہوگیا ہے، فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے لیے بھی سیاسی اتفاقِ رائے نظریۂ ضرورت بن کر سامنے آگیا ہے۔ اس پس منظر میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں علاقائی و اقتصادی تعاون تنظیم ای سی او کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ایران اور ترکی کے سربراہوں سمیت وسط ایشیا کے تمام ممالک کے سربراہان موجود تھے۔ علاقائی اور عالمی سیاست کی پیچیدہ صورت کا تلخ پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ افغانستان نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی ہے۔ افغانستان کی عدم شرکت کا سبب دونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی ہے۔ اس کشیدگی میں دہشت گردی کی نئی لہر نے اضافہ کیا ہے، کیونکہ پاکستان کی جانب سے شواہد پیش کیے گئے ہیں کہ دہشت گردی کے منصوبہ ساز افغانستان سے آئے ہیں اور ان کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی گئی ہیں، اس مقصد کے لیے افغانستان کی حکومت اور اُس کی انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس نے بھارت اور اُس کی انٹیلی جنس ایجنسی را کو ہر قسم کی سہولتیں فراہم کی ہیں۔ دہشت گردی کی نئی لہر اور اس کے پس منظر میں اس خطے میں واقع مسلمان ملکوں کا اسلام آباد میں سربراہی اجلاس خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اجلاس میں افغانستان کی عدم شرکت کا تعلق اس بات سے ہے کہ افغانستان میں عملاً کوئی آزاد حکومت موجود نہیں ہے۔ عالمی سیاست میں جو تبدیلی واقع ہوئی ہے اس کا سبب افغانستان ہے، جہاں امریکہ اور یورپ، ناٹو کے چالیس ممالک کی فوجوں کے ساتھ قابض ہوگئے۔ اس حملے کے جواز کے طور پر نائن الیون کے پراسرار واقعے کو بہانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی پر قابو پانے والے طاقتور اداروں کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔ اس واقعے کے بارے میں سب سے زیادہ سوالات خود امریکہ میں اٹھائے گئے، لیکن امریکی حکومت، پنٹاگون، وہائٹ ہاؤس اور سی آئی اے سمیت کہیں سے بھی ان سوالات کے جواب نہیں آئے، یہاں تک کہ امریکہ کے مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ نے بھی ان سوالات کو مکمل طور پر نظرانداز کیا۔ اُس وقت کے امریکی صدر جارج بش کی جانب سے یکطرفہ طور پر اعلان کردیا گیا کہ اس واقعے کے منصوبہ ساز افغانستان میں پناہ گزین ہیں، اور اس اعلان کو جواز بناکر دنیا کے سب سے پسماندہ ملک افغانستان پر ڈیزی کٹر طیاروں سے بمباری کردی گئی اور قندوز جیسے سانحات پیش آئے۔ حکومتِ پاکستان پہلے یہ مؤقف اختیار کرتی رہی کہ ہمیں نائن الیون کے ذمے داروں کے شواہد پیش کیے جائیں۔ لیکن ایک ٹیلی فونی دھمکی پر قومی پالیسی میں یوٹرن لے لیا گیا اور پاکستان امریکی وار آن ٹیررکا کارندہ بن گیا۔ امریکی فوج اور سی آئی اے کو حدودِ پاکستان میں کام کرنے کی آزادی دے دی گئی۔ بلیک واٹر جیسی دہشت گرد تنظیموں کو مداخلت کے مواقع مل گئے۔ افغانستان پر امریکہ سمیت مغربی طاقتوں کے قبضے کے بہت سارے مقاصد میں سے ایک مقصد وسط ایشیا کے وسائل بالخصوص توانائی کے وسائل پر قبضہ تھا۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی نئی جنگِ زرگری تھی۔ امریکہ میں اس جنگ کے منصوبہ سازوں میں تیل اور توانائی کی صنعت کے مالکان کو فیصلہ کن حیثیت حاصل تھی۔ لیکن افغان قوم کی مزاحمت اور امریکی فوجی ٹیکنالوجی کی ناکامی نے منظرنامہ تبدیل کردیا ہے۔ امریکہ نے شروع سے اس جنگ میں ناکامی کا ذمے دار پاکستان کو قرار دیا ہے۔ وہ مسلسل یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی پاکستان میں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں دیتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے ایبٹ آباد اور سلالہ جیسے واقعات پیش آئے، جس کے ردعمل میں طویل عرصے تک حکومتِ پاکستان نے افغانستان میں قابض ناٹو فوجوں کی رسد بند رکھی۔ امریکہ مسلسل پاکستانی قوم کو یہ سبق پڑھانا چاہتا تھا کہ قوم دہشت گردی کی جنگ کو اپنی جنگ سمجھے۔ اور اس مقصد کے لیے بلیک واٹر جیسی تنظیموں کی مدد سے دہشت گردی کے واقعات کرائے گئے۔ لاہور میں امریکی ریمنڈ ڈیوس کی دو پاکستانی شہریوں کو قتل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتاری اور واپسی کا واقعہ قوم کی یادداشت سے کبھی محو نہیں ہوسکتا۔ جبکہ بلوچستان سے را کے حاضر سروس افسر کل بھوشن یادیو کی گرفتاری کوئی پرانا واقعہ نہیں ہے۔ اس پس منظر میں اقتصادی تعاون تنظیم کے اسلام آباد اجلاس میں افغانستان کے صدر اور اُن کے ساتھی کی عدم شرکت اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ پاکستان اور عالم اسلام میں استحکام نہیں چاہتا۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی بھی حامد کرزئی کی طرح امریکی کٹھ پتلی صدر ہیں۔ امریکی اور ناٹو فوجوں کے ٹینکوں کے ذریعے حامد کرزئی کو کابل کے تخت پر بٹھایا گیا تھا۔ اس کے بعد انتخابات کا ڈراما رچایا گیا۔ ڈاکٹر اشرف غنی اور عبداللہ‘ عبداللہ جو ایک دوسرے کے حریف تھے ان کے درمیان سمھجوتا امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کرایا اور دونوں کو مشترکہ سربراہ بنوایا گیا۔ اس لیے ڈاکٹر اشرف غنی کا فیصلہ ان کا اپنا فیصلہ نہیں ہے بلکہ امریکی فیصلہ ہے۔ فرق یہ ہے کہ بوجوہ امریکہ اس منظرنامے میں کھل کر سامنے نہیں آرہا ہے اور افغانستان میں اپنی عدم موجودگی کا تاثر دینا چاہتا ہے۔ امریکہ نے اسی لیے کئی مصالح کے پیش نظر بھارت کو افغانستان میں خصوصی کردار دے دیا ہے، اسی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کی لہر میں تیزی آگئی ہے۔ اقتصادی تعاون تنظیم کے تمام ممالک مسلمان ہیں۔ یہ تنظیم وسط ایشیا کو جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے ملانے کا ذریعہ ہے۔ اس مقصد کے لیے افغانستان کی شمولیت ضروری ہے۔ اس خطے میں اقتصادی ترقی کے جو امکانات ہیں اس کے ثمرات کے لیے عالم اسلام کا اتحاد ضروری ہے۔ لیکن اس مقصد کے لیے اقتصادی تعاون تنظیم کے تین ارکان یعنی پاکستان، ترکی اور ایران اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک اپنے آپ کو امریکی کھیل سے آزاد کریں۔

Share this: