روح مطمئنہ

Print Friendly, PDF & Email

میرے محترم بزرگ حضرت عبدالعزیز عرفی ایڈووکیٹ مرحوم کے صاحبزادے ذکاء العزیز کے توسط سے دو تین برس قبل قاضی ماجد علی سے شرفِ نیاز حاصل ہوا۔ آپ اُس وقت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے منصب پر فائز تھے اور اپنی سادگی اور قناعت پسندی سے صاف ستھرے افسران میں شمار ہوتے تھے۔ اُن دنوں انہوں نے اپنے مشاہدات، تجربات اور گزارشات قلمبند کیے اور ’’ہوکیوں فطرت میں چنگیزی‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع کیے، جس کا ایک نسخہ اس بے ہنر کو بھی عطا کیا۔ اس کتاب کی علمی، ادبی حلقوں میں بڑی پذیرائی ہوئی اور ایک سال میں ہی اس کے تین ایڈیشن شائع ہوئے۔
اپنے مشاہدات، تجربات اور گزارشات سے انہوں نے نہ صرف اپنے قارئین کو متاثر کیا بلکہ خود بھی ان سے استفادہ کیا اور اصلاحِ احوال کے لیے خود کو وقف کرنے کے عزم کا عملی اظہار یوں کیا کہ اپنے منصب سے استعفیٰ دے کر نہایت اطمینان سے تصنیف و تالیف میں مشغول ہوگئے، اور یہی اطمینان ’’روحِ مطؤنہ‘‘ کی صورت میں آج قارئین کے سامنے موجود ہے۔ بابا ذہین شاہ تاجی نے فرمایا تھا:
دل کی ہر دھڑکن پیامِ دوست ہوجاتی ہے کیا
گفتگو اپنی کلامِ دوست ہوجاتی ہے کیا
آج قاضی ماجد علی کی گفتگو سے کلامِ دوست کی خوشبو آپ بھی محسوس کریں گے:
’’کتاب لکھنے کی تیاری میں اور لکھنے کے دوران راقم الحروف کی مختلف مقامات پر جو کیفیت ہوتی رہی اور جو رقت طاری ہوتی تھی، بیان نہیں کی جاسکتی۔ کعبہ شریف اور روضہ مبارک صلی اللہ علیہ وسلم پر کم از کم پانچ بار حاضری ہوئی۔ رقت بھی طاری ہوئی، آنسو بھی آنکھ سے جاری ہوئے، لیکن اس کتاب کے لکھنے کے بعد یہ کیفیت ہے اور ایسی تڑپ پیدا ہوگئی ہے کہ اب جب کعبہ شریف اور روضۂ مبارک صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری کا شرف حاصل ہو تو یہ کیفیت ہو کہ دیکھنے والے کہیں
ترے در پر تڑپتے کس کو دیکھا
کہ ہر دیوار سکتے میں کھڑی ہے
روٹری کلب کہکشاں کے عرفان قریشی نے کراچی جم خانہ لائبریری کمیٹی کے تعاون سے قاضی صاحب کی دو کتابوں ’’ہو کیوں فطرت میں چنگیزی‘‘ (تیسرا ایڈیشن) اور ’’روحِ مطؤنہ‘‘ کی تقریبِ رونمائی کا اہتمام بڑے باوقار انداز میں کیا۔ معروف علمی شخصیت آغا مسعود حسین نے نظامت فرمائی، تلاوتِ کلام پاک اور نعتِ مبارکہ پڑھنے کی سعادت قاری عبدالمعز نے حاصل کی، جبکہ خیرمقدمی کلمات ڈاکٹر نفیس نے ادا کیے، جامعہ کراچی کے پروفیسر محمد احمد قادری نے اپنے تفصیلی اظہارِ خیال میں کہا کہ فلسفۂ روح دنیا کے مختلف مذاہب میں موجود ہے، ہمارے ہاں حضرت ابن عباسؓ نے سب سے پہلے روح کے متعلق لکھا اور 70 مقامات بتائے، ’’روحِ مطؤنہ‘‘ میں قاضی صاحب نے شعوری فلسفے کے ساتھ آگہی سے ہمیں بتایا کہ معاشرے میں ہمیں کیسے زندہ رہنا ہے، محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں منتخب کرلیا ہے اور ان سے یہ کتاب لکھوائی ہے جس پر لکھے جانے کی آج بہت ضرورت ہے۔
ڈاکٹر عبید احمد خان نے کہا کہ قاضی صاحب نے یہ کتاب لکھ کر ہمیں خواب سے جگانے کی کوشش کی ہے۔ ان پر اللہ پاک کا بڑا خاص کرم ہوا ہے۔ اس سے قبل امام غزالیؒ ، مجدد الف ثانیؒ نے بھی روح کی خوبیوں پر بات کی۔ انہوں نے حضرت عمر فاروقؓ کا دریائے نیل سے متعلق واقعہ بھی سنایا اورکہا کہ اس سے پتا چلتا ہے کہ نباتات اور جمادات بھی روح مطؤنۂ کا حکم مانتے ہیں۔ آپ نے کتاب کے مختلف ابواب پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ روح جسم سے استفادہ کرتی ہے اور جسم روح سے، اور یہ کتاب ہمیں اُس جہاں کی تیاری میں مدد کرتی ہے جہاں ہم کو ہمیشہ رہنا ہے۔ علامہ جلال الدین نوری نے بطور تمہید طویل گفتگو کے بعد کہا کہ قاضی صاحب نے آسان زبان میں کتاب تحریر کرکے بڑا کام کیا ہے۔ اس موضوع پر بڑے بڑے علماء کرام نے اظہارِ خیال فرمایا ہے لیکن جس سادگی سے آپ نے اس گتھی کو سلجھایا ہے وہ بہت اہم ہے، اس کتاب کے آخری حصے میں آپ نے جو درودِ پاک شامل کیے ہیں وہ بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں اور ان کو علیحدہ چھپوا کر تقسیم کرانا بھی ضروری ہے۔
صاحبِ کتاب قاضی ماجد علی نے بتایا کہ مجھے یہ تڑپ تھی کہ میں نے وہ کچھ نہیں کیا جو مجھے کرنا چاہیے تھا، یہ کتاب اسی تڑپ کا اظہار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب وہ یکسوئی سے تصنیف و تالیف پر توجہ دیں گے اور اپنی اور اپنے حلقۂ اثر کی اصلاحِ احوال کے لیے خود کو مصروف رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس زندگی کو اصل زندگی نہ سمجھیں، بلکہ اصل زندگی وہ ہے جہاں روح مطمئن ہے۔ آغا مسعود حسین وقتاً فوقتاً اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے، انہوں نے کہا کہ بے یقینی کے دور میں یہ بہت بڑا کام ہے جو اللہ نے قاضی صاحب سے لیا ہے۔ صدرِ محفل چیف جسٹس ریٹائرڈ فیڈرل شریعت کورٹ آغا رفیق احمد خان نے کہا کہ علما کی صحبت میں بیٹھ کر بڑا سکون ملتا ہے، آج اتنی بڑی تعداد میں لوگ یہاں بیٹھ کر علما کی صحبت سے فیض حاصل کررہے ہیں جو بڑی بات ہے، قاضی صاحب عدالتوں میں بھی صاف ستھرے کردار کے مالک رہے ہیں اور حق گوئی ان کا شعار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج وہ بہت دکھی ہیں، دشمن نے سندھ میں صوفیہ کی سرزمین پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں بیشتر انسانی جانیں شہید ہوئیں۔ انہوں نے پاک فوج کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے اس سانحے پر لوگوں کی بڑی مدد کی۔
تقریب میں بڑی تعداد میں لوگوں کے ساتھ معروف روحانی اسکالر، پچیس سے زائد کتابوں کے مصنف کے ایم خالد، ڈاکٹر اکرام الحق شوقؔ ، ایڈیشنل آئی جی پولیس ظفر احمد فاروقی، میونسپل کمشنر سید محمودشاہ، جسٹس ریٹائرڈ محمود عالم رضوی، سابق جج فاروق احمد چنا، سابق ڈائریکٹر جنر ل نیب احمد نواز پیرزادہ، رام پرکاش سیکرٹری لا سندھ، مظفرمہدی نیب، کورٹ کی جج منور سلطانہ، المرکز قادریہ کے ضیا العزیز، ذکاالعزیز، امجد صدیقی، فیاض ہاشمی، مجید رحمانی، سلیم آذر، رفعت طاہر، انیس قریشی، ابوبکر صمدانی، دی میسج کے ابصار احمد، بیرسٹر دانش قاضی و دیگر معروف اربابِ حل و عقد نے شرکت کی۔ اس موقع پر موجود حاضرین نے اسٹال پر سے تمام کتب بھی خرید لیں جو بڑی بات ہے۔ مہمانوں کے لیے پُرتکلف عشایئے کا بھی اہتمام کیا گیا۔ nn

Share this: