(پنجاب میں آپریشن رد الفساد(حامد ریاض ڈوگر

Print Friendly, PDF & Email

طویل عرصے سے مطالبہ کیا جارہا تھا کہ پنجاب میں بھی دہشت گردوں کے خلاف بڑا آپریشن اور رینجرز کی کارروائیاں کی جائیں، مگر حکومت اسے مسلسل ٹالتی چلی آرہی تھی۔ دہشت گردی کی تازہ لہر خصوصاً 13 فروری کو صوبائی دارالحکومت کی اہم ترین شاہراہ کے اہم ترین فیصل چوک میں خودکش حملے کے بعد پنجاب میں آپریشن کے مطالبے میں شدت آگئی اور حزب اختلاف کی بعض جماعتوں نے اس ضمن میں دباؤ خاصا بڑھا دیا۔ حکومت نے اس دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ ایک جانب فوج نے آپریشن ’’ردالفساد‘‘ کا آغاز کیا، تو دوسری جانب حکومت نے بعض شرائط کے ساتھ رینجرز کو پنجاب میں کارروائیوں کی اجازت دے دی، اس کے ساتھ ساتھ صوبے کی پولیس نے بڑے پیمانے پر تلاشیوں اور مشکوک افراد کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کردیا۔
فیصل چوک لاہور کے خودکش دھماکے کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ حملہ آور کا تعلق افغانستان سے تھا جب کہ لاہور میں اُس کے سہولت کار انوالحق کا تعلق باجوڑ سے ہے جو بہت عرصے سے لاہور کے لنڈا بازار میں کاروبار کررہا ہے۔ اس تحقیقات کا نتیجہ کہہ لیجیے یا قانون نافذ کرنے والے اداروں اور رائے عامہ کے عمومی تاثر کی بنیاد پر آپریشن کچھ ایسا رخ اختیار کرگیا کہ گرفتار اور مشکوک قرار پانے والے افراد کا ایک بڑا حصہ قبائلی علاقوں، صوبۂ خیبر یا افغانستان سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل تھا۔ اسی دوران مبینہ طور پر ایک سرکلر بھی انتظامیہ کی جانب سے جاری کیا گیا جس میں لوگوں کو اپنے اردگرد فاٹا سے تعلق رکھنے والے یا پختون دکھائی دینے والے مشکوک افراد پر نظر رکھنے اور کسی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس اور انتظامیہ کو دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔
اس میں شک نہیں کہ ملک کا آئین اور قانون ملک کے تمام شہریوں کو کسی بھی جگہ رہنے اور کاروبار کرنے کا یکساں حق دیتا ہے، اور پنجاب میں دوسرے صوبوں خصوصاً صوبۂ خیبر اور فاٹا کے رہائشیوں کی ایک کثیر تعداد سالہا سال سے اپنے روزگار اور کاروبار کے سلسلے میں نہ صرف آباد ہے بلکہ اس کے مقامی آبادی سے نہایت دوستانہ اور برادرانہ تعلقات ہیں اور انہیں کبھی یہاں علاقائی یا نسلی تعصب کا سامنا کرنا نہیں پڑا، بلکہ یہاں انہیں ہمیشہ محبت، اخوت اور خیرسگالی کے جذبات ہی سے سابقہ پیش آیا ہے۔ اس میں بھی دو رائے نہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف تازہ کارروائی، جس کا مطالبہ خود حزب اختلاف کی جماعتوں نے زور شور سے کیا تھا، کے دوران یقیناًفاٹا اور صوبہ خیبر سے تعلق رکھنے والے بعض بھائیوں کو پولیس، انتظامیہ یا رینجرز کے غلط اور ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہوگا جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ طرزعمل ہمارے پختون بھائیوں ہی کے ساتھ نہیں، انہیں جب بھی موقع ملتا ہے وہ پنجابی، پختون، بلوچی یا سندھی کا لحاظ کیے بغیر اپنے ’’شکار‘‘ سے یہی سلوک کرتے ہیں اور کارروائی دکھانے اور مال کمانے کے لیے گناہ گار و بے گناہ کی تمیز روا رکھے بغیر اپنے شکار پر جھپٹتے ہیں، جس کی ایک مثال حالیہ آپریشن اور اس سے پہلے سے جاری مشکوک افراد کے خلاف کارروائیوں کی زد میں آنے والے وہ افراد ہیں جو دینی رجحان رکھتے ہیں یا جن کی ڈاڑھیاں سنتِ رسولؐ کی اتباع میں طویل ہیں، یا جو کبھی جہادِ افغانستان یا جہادِ کشمیر کا حصہ رہے ہیں۔ خصوصاً وہ لوگ جن کا مدارس سے بھی کوئی تعلق ہے یا کبھی رہا ہے اُن سب کو پولیس نے اندھا دھند ’’فورتھ شیڈول‘‘ میں شامل کرکے طرح طرح کی پابندیوں اور جکڑ بندیوں میں ڈال دیا ہے، اور آئے روز تھانوں میں طلب کرکے تنگ کیا جاتا ہے۔ تاہم اسے ’’فاٹا‘‘ یا صوبۂ خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں سے کسی بھی قسم کی زیادتی یا ناروا سلوک کا جواز قرار نہیں دیا جا سکتا، عرض صرف اتنی ہے کہ اس قسم کے معاملے کو علاقائیت یا صوبائیت کی بنیاد پر نفرت اور تعصب کے فروغ کا ذریعہ بنایا جانا کسی طرح بھی مناسب نہیں، مگر افسوس کہ عوامی نیشنل پارٹی اور بعض دیگر سیاسی جماعتوں نے اس مسئلے کو اپنے منفی مقاصد کے لیے اچھالا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے اگرچہ اپنے نام میں ’’نیشنل‘‘ کا لفظ شامل کررکھا ہے، مگر اس کی سیاست کا محور ہمیشہ سے ’’پختون‘‘ ہی رہا ہے۔ ایک عرصے تک اس کے قائدین ’’پختونستان‘‘ کا نعرہ بھی لگاتے رہے ہیں، تاہم حالیہ صورتِ حال میں زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ قومی اور ملک گیر کہلانے والی بعض دیگر جماعتوں نے بھی یہ خیال کیے بغیر کہ ان کے طرزعمل سے قومی یکجہتی اور ملکی سالمیت کو کس قدر نقصان پہنچ سکتا ہے، محض سیاسی مفاد حاصل کرنے کو ترجیح دی ہے، چنانچہ وفاق اور پنجاب کی حکمران مسلم لیگ (ن) کے ہی رکن اسمبلی ارباب وسیم نے اے این پی اور جمعیت علماء اسلام کے ارکان کے ساتھ مل کر صوبہ خیبر کی اسمبلی سے ایک قرارداد منظور کرائی ہے۔ میاں نوازشریف یا شہبازشریف جن پر اس نامناسب کارروائی کی ذمہ داری عائد کی جا سکتی ہے، مگر قرارداد میں حکمرانوں کو نہیں بلکہ وفاق پاکستان اور خصوصاً پنجاب کو ہدف بناکر ان کے خلاف نفرت ابھاری گئی ہے، شاید اس لیے کہ یہ دونوں جماعتیں حکمران نواز لیگ کی اتحادی اور ساتھی ہیں، چنانچہ حکمرانوں اور اتحادی حکمران لیگ کے بجائے ’’وحدت ملّی‘‘ پر چوٹ لگائی گئی ہے۔ سرخ پوش رہنما خان عبدالغفار خان کے پوتے اور ولی خان کے فرزندِ ارجمند جناب اسفند یار ولی نے تو صوبہ خیبر سے پنجابیوں کو نکال باہر کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مہاجروں کو شناخت دینے کے چکر میں انہیں سندھیوں، پنجابیوں اور پختونوں سے برسرپیکار رکھنے والے الطاف حسین کے پیٹ میں بھی لندن میں بیٹھے بیٹھے پختونوں کی حمایت میں شدید مروڑ اٹھا ہے اور انہوں نے سات سمندر پار سے نعرۂ مستانہ بلند کیا ہے کہ پشتونوں سے زیادتی ہورہی ہے اور میں ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتا۔ کل تک کے ’’پشتونوں کے قاتل‘‘ کے منہ سے پشتونوں کی حمایت میں یہ بیان معلوم نہیں جناب اسفند یار ولی اور جناب شاہی سید کو کیسا لگا۔۔۔!!!
مغرب اور امریکہ کے فنڈز سے پاکستان میں انسانی حقوق کا پرچم اٹھانے والی ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان نے بھی اس پر فوری اپنا ردعمل جاری کیا ہے اور معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ ٹی وی چینلز پر ان قوتوں کے ترجمان میزبان حضرات نے بھی پشتونوں سے پنجاب میں روا رکھی جانے والی اس زیادتی پر پروگرام کرنے اور قومی وحدت کے منافی اس معاملے کو اچھالنے میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کے سیکولر عناصر نے بھی نام نہاد ظلم و زیادتی کی عکاس بے شمار خودساختہ تصاویر کو ’’اپ لوڈ‘‘ کرکے اپنا فرض بخوبی نبھایا ہے۔ ان عناصر نے پاکستان کی سالمیت اور وحدتِ ملّی کو نقصان پہنچانے کے اس موقع سے خوب خوب فائدہ اٹھایا ہے۔
مقامِ شکر ہے کہ بعض محب وطن حلقوں نے بھی اس موقع پر اپنی ذمہ داری کا احساس کیا ہے۔ چنانچہ مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بلاتاخیر وضاحت کی ہے کہ آپریشن ’’ردالفساد‘‘ میں مشتبہ افراد کی بلاتفریق گرفتاریاں ہورہی ہیں، کسی خاص صوبے کے افراد کے خلاف کارروائیوں کا تاثر درست نہیں ہے۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپریشن ردالفساد کا مقصد ملک بھر میں دہشت گردوں کے ہمدردوں کو ختم کرنا ہے۔ اس نئے آپریشن میں ہی ایک پیغام ہے کہ ہمیں اس فساد کو رد کرنا ہے، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ کریں گے۔ آپریشن کے ذریعے ہی ریاست کی رٹ کو بحال کیا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر آپریشن کامیاب ہوا جب کہ آپریشن ضرب عضب کا مقصد شمالی وزیرستان کی کلیئرنس تھی۔ نیشنل ایکشن پلان پر تمام ادارے کام کررہے ہیں۔ ہمیں پاکستان کے استحکام کو مزید مضبوط کرنا ہے، ہم ملک میں امن واپس لے کر آئیں گے۔
’’فاٹا‘‘ سے تعلق رکھنے والے، جنرل پرویزمشرف کی کابینہ کے رکن اور وزیراعظم نوازشریف کے مشیر انجینئر امیر مقام نے معاملے کو سنبھالنے کی بروقت کوشش کی۔ وہ فاٹا اور صوبہ خیبر کے معززین کا ایک وفد لے کر لاہور پہنچے اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفد سے اپنی گفتگو میں شہبازشریف نے حقیقتِ حال کو واضح کیا کہ ردالفساد آپریشن کسی قوم کے خلاف نہیں، پختون ہمارے بھائی ہیں، تحفظات دور کریں گے، کسی کے ساتھ امتیازی سلوک کا تصور بھی نہیں کرسکتے، بے بنیاد پروپیگنڈا کرنے والے پاکستان کی خدمت نہیں بلکہ پاکستان سے دشمنی کررہے ہیں، پاکستان ہم سب کا ہے اور خیبر پختون خوا، بلوچستان، سندھ، اور پنجاب ایک لڑی میں پروئی ہوئی 4 اکائیاں ہیں۔ چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے بغیر پاکستان کا تصور ناممکن ہے۔ صوبہ پنجاب میں بسنے والے خیبر پختون خوا اور دیگر صوبوں کے لوگ ہمارے بھائی ہیں۔ دہشت گردی کا واقعہ کہیں بھی ہو، پورا پاکستان اس پر افسردہ ہوتا ہے۔
(باقی صفحہ 41پر)
دہشت گردوں کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ کوئی دین۔ دہشت گردوں کی کوئی جغرافیائی شناخت نہیں۔ دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے۔ میں صوبے کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے یقین دلاتا ہوں کہ جو سرچ اور کومبنگ آپریشن ہورہے ہیں وہ کسی ایک قوم کے خلاف نہیں بلکہ ان کا ہدف دہشت گرد اور ان کے سہولت کار ہیں۔ کسی کو سیاست چمکانے کی خاطر تفرقہ پھیلانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ ایسی بات جس سے پاکستان کو نقصان پہنچے، اس کی سخت سرزنش ہونی چاہیے۔
اسی طرح جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بھی اپنی قومی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے صورتِ حال کی اصلاح کے لیے مثبت کردار ادا کرتے ہوئے تین مارچ جمعۃ المبارک کو پنجاب بھر میں مقیم پختون رہنماؤں کا جرگہ جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں طلب کرلیا ہے، جس میں حالیہ آپریشن کے باعث صوبہ خیبر اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے پنجاب میں مقیم بھائیوں کو پیش آمدہ مسائل کا جائزہ لیا جائے گا اور مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے مسائل کے حل کی ٹھوس اور مثبت کوشش کی جائے گی۔ اس ضمن میں اپنے بیان میں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے بالکل درست جانب توجہ دلائی ہے کہ بدامنی کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ قانون کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے اور مرکزی و صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے اپنی حکمت عملی واضح کرنی چاہیے۔
سچی بات یہی ہے کہ اس معاملے کو بگڑنے سے بچانے اور ملک دشمن یا منفی سوچ کے حامل لوگوں کے ہاتھ میں جانے سے بچانے کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر مخصوص وضع قطع کے حامل یا ملک کے کسی خاص حصے سے تعلق رکھنے والے افراد کی اندھا دھند گرفتاریوں سے سختی سے روکا جانا چاہیے تاکہ ملک سے مختلف تعصبات کو ابھارنے والے عناصر کو اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کا موقع نہ مل سکے، جنہوں نے پہلے ہی ہمیں شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی کی فرقہ بندیوں۔۔۔ پنجابی، پختون، سندھی اور بلوچی اور طرح طرح کی کئی دیگر گروہ بندیوں میں تقسیم کررکھا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ نے تو مسلمانوں کو بھائی بھائی اور امتِ مسلمہ قرار دیا ہے۔۔۔ کاش اسلام کا نام لینے والے اسلام کی تعلیمات پر بھی عمل پیرا ہوسکیں۔
علامہ اقبالؒ نے تو ایک صدی قبل ہمیں متوجہ کیا تھا کہ ؂
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
مفکرِ قرآن، مصورِ پاکستان علامہ اقبالؒ نے جابجا اپنے اشعار کے ذریعے اتحادِ امت کے پیغام کو عام کیا ہے۔ چنانچہ ایک اور شعر میں وہ اپنے جذبات کا اظہار یوں کرتے ہیں ؂
یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
یہ تو بتلاؤ کہ مسلمان بھی ہو؟

Share this: