(آپریشن رد الفساد(سلمان عابد

Print Friendly, PDF & Email

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی ریاست، حکومت اور ادارے دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے میں مخمصہ کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں تواتر سے سیاسی، انتظامی اور عسکری حکمت عملیوں میں واضح فرق اور تضاد نظر آتا ہے۔ ہر بار ہماری سیاسی اور عسکری قیادتیں اپنی اپنی سطح پر مختلف نعروں اور دعووں کے ذریعے قوم کو سبق دیتی ہیں کہ ہم دہشت گردی سے نمٹنے میں سنجیدہ ہیں۔ نئے نام سے نئے آپریشن اچھی بات ہے، لیکن اگر پچھلے عمل کا سیاسی تجزیہ کیے بغیر آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے تو اس میں ایک طرف پچھلی ناکامی کی جھلک ہوتی ہے دوسری طرف نئے نعروں کے ساتھ لوگوں کو خوش کرکے آگے بڑھنے کی سوچ کارفرما نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں ایک طرف مایوسی ہے تو دوسری طرف ایک غیر یقینی کی کیفیت ہے۔ کیونکہ دہشت گردی کا کوئی نیا واقعہ ہمیں پوری طرح جھنجھوڑ دیتا ہے کہ ہم اس جنگ میں کہاں کھڑے ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ جب قومیں داخلی اور خارجی جنگ کو تضاد سے لڑیں گی تو اس میں سے سوائے انتشار کے کچھ برآمد نہیں ہوگا۔ حال ہی میں فوج کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں جس کی صدارت فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی، دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے کے لیے ’’ردالفساد‘‘ کے نام سے اس جنگ کو نیا نام دیا گیا ہے۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے ایک بار پھر ریاست اور حکومت کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے۔ کیونکہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے اس تاثر کی نفی کی کہ ہم نہ صرف دہشت گردی کی جنگ جیت چکے ہیں، بلکہ دہشت گردوں کا خاتمہ بھی ہوگیا ہے۔ ’’ردالفساد‘‘ کے نئے نام سے نئی جنگ کی وجہ بھی یہی تضاد بنا ہے کہ ہم جنگ جیت چکے ہیں۔ حالانکہ اس سے قبل خود فوج کے اندر سے بھی ایسی آوازیں سننے کو ملی تھیں کہ جیسے یہ جنگ جیتی جاچکی ہے۔
ردالفساد کو شروع کرنے کے پیچھے یہ سوچ کارفرما ہے کہ ضربِ عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے تناظر میں جو کچھ بطور ریاست ہمیں کرنا تھا، وہ زیادہ ذمہ داری اور دلجمعی سے نہیں کیا جاسکا۔ آپریشن ردالفساد میں چھ بنیادی نکتوں کو بنیاد بنایا گیا ہے:
(1) نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد۔
(2) بارڈرز سیکورٹی کو یقینی بنانا۔
(3) ملک میں موجود بچے کھچے دہشت گردوں کا خاتمہ۔
(4) اسلحہ کی سیاست اور آتشیں مواد کو ختم کرنا۔
(5) پنجاب میں رینجرز کی مدد سے آپریشن۔
(6) اب تک حاصل کی گئی کامیابیوں کو مزید مستحکم بنانا۔
اس پورے آپریشن کی کامیابی کو یقینی بنانے میں تمام سیکورٹی اداروں سمیت فضائیہ، ائیرفورس اور دیگر سول سروسز کے ادارے شامل ہوں گے۔ یہ باتیں آپریشن ضرب عضب میں بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود تھیں، لیکن شاید اب لگتا ہے کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں، ملک میں2007ء میں سوات میں آپریشن راہِ حق۔۔۔ 2008ء میں باجوڑ ایجنسی میں آپریشن شیر دل۔۔۔2009ء میں جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہِ راست، خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبر ون، ٹو، تھری۔۔۔ 2014ء میں آپریشن ضربِ عضب اور قومی ایکشن پلان۔۔۔ اسی طرح کومبنگ آپریشن سمیت مختلف علاقوں میں آپریشن شامل ہیں۔
وزیراعظم نوازشریف نے ترکی میں دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں ان کی صدارت میں آپریشن ردالفساد اور پنجاب میں رینجرز کی مدد سے آپریشن کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ وزیراعظم کا کہنا بجا، لیکن یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر یہ فیصلہ وزیراعظم کی نگرانی میں ہی ہوا تھا تو اس کا برملا اعلان سیاسی حکومت اور خود وزیراعظم نے کیوں نہیں کیا؟ کیا وجہ ہے کہ اس جنگ کا اعلان فوج کو خود کرنا پڑا ہے؟ اس سے قبل ضرب عضب کے بارے میں بھی وزیراعظم نوازشریف کا یہی دعویٰ تھا، لیکن اُس وقت بھی اس جنگ کا اعلان خود فوج کو ہی کرنا پڑا تھا۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کے معاملے میں اس وقت ہماری سیاسی اور عسکری قیادتوں میں بہت سے امور پر مختلف رائے اور حکمت عملی موجود ہے۔لیکن سیاسی قیادت کے بہت سے تضادات کی وجہ سے فوجی قیادت آگے نظر آتی ہے۔ اس سے لوگوں میں اس سوچ کو بلاوجہ تقویت ملتی ہے کہ فوج بہت سے امور میں مداخلت کرکے سیاسی قیادت پر برتری حاصل کرتی ہے۔ سیاسی قیادت کا مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے امور پر جہاں اس کو آگے نظر آنا چاہیے وہ سیاسی سمجھوتوں کا شکار نظر آتی ہے۔ پنجاب میں رینجرز کی مدد سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے کے فیصلے پر سیاسی قیادت ہیجانی کیفیت کا شکار رہی۔ ان کے بقول پنجاب میں ایسے حالات نہیں کہ یہاں اس طرز کا آپریشن کیا جائے۔ پنجاب میں رینجرز کی مدد سے حالیہ آپریشن کا مسئلہ ہو یا ردالفساد کی ابتدا۔۔۔ اس میں حکومت پر فوج کا دباؤ تھا۔ حکومت کو فوج کے دباؤ کی وجہ سے ہی یہ کڑوی گولی ہضم کرنا پڑی ہے کہ آج پنجاب میں وہ کچھ ہونے جارہا ہے جس کے لیے حکومت کسی بھی طور پر تیار نہیں تھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی فریق دباؤ میں آکر کوئی پالیسی اختیار کرتا ہے تو وہ اس پر عمل بھی نیم دلی سے کرتا ہے، جس کی وجہ سے مطلوبہ نتائج کے حصول میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ ایک مسئلہ فوجی عدالتوں کی توسیع کا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدا میں بہت سی سیاسی جماعتوں نے فوجی عدالتوں کی توسیع کی مخالفت کی۔ یہ مخالفت ایک سطح پر خود حکومت کے حق میں جاتی تھی۔ کیونکہ حکومت میں بھی یہ تاثر موجود ہے کہ فوجی عدالتوں سے حکومت کمزور اور فوج طاقت ور ہوتی ہے۔ ایم کیو ایم اور جے یو آئی تو شدید مخالفت کررہی تھیں، لیکن لاہور اور سیہون شریف کے واقعات نے ایک بار پھر فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کا ماحول پیدا کردیا۔ وہ جماعتیں جو فوجی عدالتوں میں توسیع کی حمایت سے گریز کررہی تھیں انہوں نے بھی ان عدالتوں کی حمایت کی کڑوی گولی ہضم کرلی۔ اب تمام پارلیمانی جماعتوں نے فوجی عدالتوں میں توسیع کی حمایت کردی ہے اور 23 ویں آئینی ترمیم کا بل 6 مارچ کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ جبکہ ابھی تک پیپلز پارٹی نے اس کی حمایت نہیں کی ہے۔ اس نے 4 مارچ کو اپنی اے پی سی طلب کررکھی ہے اور امید ہے وہ بھی اب اس ماحول میں فوجی عدالتوں کی کڑوی گولی ہضم کرنے پر مجبور ہوگی۔
اسی طرح جب پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادتیں اس بات پر متفق ہیں کہ بھارت اور افغانستان پاکستان میں براہِ راست مداخلت کررہے ہیں تو سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا کیا حل تلاش کیا جائے؟ آپریشن ردالفساد میں بھی سرحدوں کو محفوظ بنانے کی بات کی گئی ہے۔ لیکن لگتا ایسا ہے کہ ہم اس مسئلے پر سفارت کاری کے محاذ پر ابہام کا شکار ہیں۔ مثال کے طور پر وزیراعظم نے حالیہ دورۂ ترکی میں بھارت کے حوالے سے دو باتیں کیں: (1) ان کو بھارت سے دوستی کے لیے مینڈیٹ ملا ہے۔ (2) ہم بھارت سے تجارت کرنے کے خواہاں ہیں۔ لیکن بھارت کی پاکستان میں تواتر سے جاری مداخلت پر انہوں نے عالمی میڈیا کے سامنے کوئی بات نہیں کی۔ اس سے قبل جرمنی میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے پروفیسر حافظ محمد سعید پر تو اپنا غصہ نکالا، لیکن وہ بھی بھارت کی پاکستان میں مداخلت کے مسئلے پر خاموش رہے۔ خواجہ آصف کے بیان کا فائدہ بھارت کو ہوا اور اُس کے بقول خواجہ آصف نے بھارتی مؤقف کی تائید کی ہے۔ وزیراعظم اور وزیر دفاع کے خیالات کو اب سفارت کاری کے محاذ پر پرکھا جائے کہ اس کا فائدہ پاکستان کو ہوا ہے یا بھارت کو؟ ہماری موجودہ حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بھارت کے بارے میں جو نرم گوشہ رکھتی ہے اس سے بھارت نے تو ہمیں کوئی فائدہ نہیں دیا البتہ اس نرم مؤقف سے پاکستان کے اندر حکومت پر بھارت نواز ہونے کا الزام ضرور لگا ہے۔ ہمیں یقینی طور پر بھارت سے تعلقات کو بہتر بنانا ہے، لیکن یہ معاملہ برابری کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور یہ تاثر پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان بھارت کے دباؤ میں ہے اور اس کی دوستی کو بھارت میں پاکستان کی کمزوری کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
اسی طرح فوجی قیادت کو بھی سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ دہشت گردی کی جنگ کو نئے نام دینے سے حل نہیں ہوگا، بلکہ اصل مسئلہ قوم کو ایک صفحے پر لانا ہے۔ کیا واقعی ہمارے پاس ضربِ عضب یا نیشنل ایکشن پلان کا کوئی تجزیہ موجود ہے کہ اس میں ہم نے کس حد تک کامیابی حاصل کی اور کہاں ابھی تک ہم مشکلات کا شکار ہیں؟ کیونکہ اگر ہم تجزیہ کیے بغیر نئے نام کے ساتھ آگے بڑھ کر سمجھیں گے کہ ہم مطلوبہ نتائج حاصل کرسکتے ہیں، تو یہ غلط فہمی ہوگی۔ کہا گیا تھا کہ ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کا براہِ راست تعلق کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست سے ہے، لیکن اس پر سمجھوتوں کی سیاست نے ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیا۔ فوجی قیادت بھی یہ سمجھے کہ کوئی بھی بڑی کامیابی تن تنہا نہیں مل سکے گی۔ یہ جو ہمیں دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے کے معاملے میں ابہام نظر آتا ہے یہ سیاسی اور عسکری قیادتوں سمیت کسی بھی طور پر قوم کے حق میں نہیں۔ ہمیں بلاتفریق دہشت گردی کے خلاف یکسو ہونا ہوگا، اسی عمل سے ہماری قومی خودمختاری اور سلامتی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ بہرحال ردالفساد کے نام سے شروع کیا جانے والا آپریشن اب سیاسی اور عسکری قوتوں کا بڑا امتحان ہوگا کہ اب وہ کیا ایسی حکمت عملی اختیار کریں گی جو مطلوبہ نتائج کے حصول میں معاون ثابت ہو۔
nn

Share this: