زمانۂ حاضر کا انسان اسکرین پروف

Print Friendly, PDF & Email

’’عشق نا پید و خرد مے گزدش صورت مار‘‘
عقل کو تابع فرمانِ نظر کر نہ سکا
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا
آج تک فیصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا!
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا
1۔ موجودہ دور کے انسان کی حالت یہ ہے کہ اس کا دل عشقِ حق سے بالکل خالی ہے اور عقل اسے سانپ کی طرح ڈستی چلی جارہی ہے۔ وہ عقل کو اپنی نظر کا فرماں بردار نہ بنا سکا۔ اگر ایسا کرلیتا تو عقل اس کے لیے مصیبت کا باعث نہ بنی رہتی۔
2۔وہ ستاروں کے راستوں کا کھوج لگاتا پھرتا ہے، لیکن اپنے افکار کی دنیا میں اس نے کبھی سفر نہ کیا۔ یعنی ستاروں کی دیکھ بھال میں ساری عمر گزار دی، مگر اپنی حقیقت معلوم کرنے کی کبھی کوشش نہ کی۔
3۔ وہ اپنی حکمت اور دانش کے پیچ و خم میں اس طرح الجھ کر رہ گیا کہ آج تک نفع و نقصان کا بھی فیصلہ نہ کرسکا۔ یعنی اسے یہ بھی معلوم نہ ہوسکا کہ زندگی بسر کرنے کا اچھا طریقہ کیا ہے اور برا کیا؟
4۔ وہ سورج کی کرنوں کو تو قبضے میں لے آیا اور ان سے مختلف کام لینے لگا، لیکن زندگی کی اندھیری رات میں صبح کا اجالا پیدا نہ کرسکا۔

انتخاب: محمود عالم صدیقی

مجھے کچھ شبہ لگتا ہے کہ پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ ایوب خان سیاست میں دلچسپی لے رہے ہیں، انہوں نے کئی بار ایسی جگہوں پر جہاں ان کی بات نوٹ کی جاتی ہے، یہ کہا ہے کہ پاکستان میں سویلین حکومت نہیں چلا سکتے۔ ایوب خان کی یہ سوچ نادانی پر مبنی ہے۔ ان کو معلوم نہیں کہ آج وہ جو کچھ بھی ہیں محض پاکستان کی بدولت ہیں۔ پاکستان کو سویلین نے اپنے خون سے حاصل کیا ہے، میرا یہ خیال ہے کہ اگر پاکستان کی فوج نے کبھی بھی پاکستان کی سیاست میں آنے کی کوشش کی تو اسی دن سے پاکستان کی فوج اور پاکستان کا زوال شروع ہوجائے گا، ملک کے پیچیدہ معاملات فوجی افسر نہیں چلا سکتے۔ ان کی تعلیم و تربیت زندگی کی شاہراہ پر نہیں ہوتی، بلکہ وہ ایک مخصوص ماحول میں سویلین سے دور اپنی ذہنی و جسمانی تربیت پوری کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک دو اور دو چار ہوتے ہیں لیکن سویلین کے ذہن میں دو اور دو کا مطلب کچھ اور ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جس دن پاکستان کی فوج سیاست میں داخل ہوگئی بھارت اس سے پورا پورا فائدہ اٹھائے گا۔ وہ پاکستان کے عوام کی نظروں میں فوج کو بدنام کردے گا، اس صورت میں سویلین اور فوجیوں کے درمیان تصادم ناگزیر ہوگا، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ پاکستان کے ٹوٹنے کا عمل شروع ہوجائے گا۔
میں تو اس تصور سے ہی ڈر جاتا ہوں کہ پاکستان کی فوج سیاست میں ملوث ہو۔ ہوسکتا ہے کہ پنجاب کے بعض جاگیرداروں اور نام نہاد سیاست دانوں کی یہ خواہش ہو کہ فوج کو سیاست میں ملوث کرکے اپنا اُلّو سیدھا کیا جائے، لیکن میں بتادینا چاہتا ہوں کہ جو عناصر فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کی سازش کررہے ہیں وہ نہ تو ملت کے ساتھ مخلص ہیں اور نہ ہی فوج اور ملک کے ساتھ۔ فوج کا کام جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے اور سیاست دانوں کا کام نظریاتی و تہذیبی سرحدوں کی حفاظت۔ ان دونوں کا کام اپنی اپنی جگہ بڑی ذمہ داری اور ایثار کا ہے۔ اگر کسی ایک نے دونوں کام اپنے ذمہ لے لیے تو پھر وہ دونوں کام انجام نہیں دے سکے گا۔
(’’آزادی کی کہانی میری زبانی‘‘۔ سوانح سردار عبدالرب نشتر، تالیف آغا مسعود حسین۔ صفحہ 186۔ 187)

Share this: