لکڑی سے حاصل ہونے والی توانائی ماحولیات کے لیے ’تباہی‘

Print Friendly, PDF & Email

ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کم مقدار کی حامل بجلی کی پیداوار کے لیے لکڑی کا استعمال ماحول کے درجہ حرارت کو کم کرنے کے بجائے بڑھا رہا ہے۔ اس نئی تحقیق کے مطابق لکڑی اور کاربن ایک دوسرے سے لاتعلق نہیں، اور یہ بھی کہ لکڑی کے جلنے سے کوئلے کی نسبت زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے۔ اس تحقیق کے مصنف کا کہنا ہے کہ بائیوماس کے لیے امداد و تعاون دینے والوں کو فوری طور پر اسے دیکھنا چاہیے۔ درختوں سے حاصل ہونے والی توانائی برطانیہ سمیت بہت سے ممالک میں قابلِ تجدید توانائی کا اہم ذریعہ ہے۔ یورپی حکومتوں پر کاربن کا اخراج کم کرنے کے لیے بہت دباؤ ہے اس لیے وہ لکڑی کے استعمال سے بجلی پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کررہی ہیں۔ تاہم اب اس نئے اندازے سے جو کیتھم ہاؤس میں لگایا گیا ہے، یہ سامنے آیا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خاتمے کے لیے اس پالیسی میں نقص ہے۔ مصنف کے مطابق موجودہ ضوابط لکڑی کے جلنے سے ہونے والے اخراج کو شمار نہیں کرتے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ نئے درخت لگا کر اس کمی کو پورا کرلیا جائے گا۔ ڈنکن براک جو اس رپورٹ کے مصنف ہیں، ماحول سے متعلق پالیسیوں پر کام کرنے والے ایک تجزیہ کار ہیں۔ وہ برطانیہ میں توانائی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق محکمے میں اسپیشل ایڈوائزر کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خیال قابلِ بھروسا نہیں ہے اور اس کی کوئی توجیہ نظر نہیں آتی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ حقیقت کہ جنگلات گزشتہ 20 یا 100 سال کے دوران بڑھے ہیں، کا مطلب ہے کہ انھوں نے اپنے اندر بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اکٹھی کی ہے۔ آپ یہ ظاہر نہیں کرسکتے کہ اگر آپ انھیں کاٹیں گے اور جلائیں گے تو اس کا ماحول پر اثر نہیں ہوگا‘‘۔ ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ماحول سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ضابطوں میں درختوں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو تب ہی شمار کیا جاتا ہے جب انھیں کاٹا جائے۔ اگرچہ امریکہ، کینیڈا اور روس اس طریقہ کار کو استعمال نہیں کرتے، اس لیے اگر ان ملکوں سے لکڑی کے ٹکڑے یورپ لائے جائیں تو پھر ان کے جلنے پر خارج ہونے والی گیس کا اندراج نہیں کیا جاتا۔
سافٹ ڈرنک کا بے تحاشہ استعمال جگر پر چربی کی وجہ قرار
بچوں اور نوجوانوں میں سوڈا مشروبات کا استعمال بڑھتا جارہا ہے اور اب اس سے جگر پر چربی کی مقدار بڑھ سکتی ہے جو آگے چل کر جگر کے کئی امراض کی وجہ بن سکتی ہے۔ ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ میٹھے مشروبات اور سافٹ ڈرنکس کا زیادہ استعمال نوجوانوں اور بچوں کے جگر میں چربی کے اضافے کی وجہ بن سکتا ہے جسے ’’نان الکحل فیٹی لیور ڈیزیز‘‘ (این اے ایف ایل ڈی) کہا جاتا ہے، یعنی جگر پر چربی کی ایسی زیادتی جو شراب نوشی کے بغیر وجود میں آئی ہو۔ اٹلی کے بیمبینو گیسو اسپتال کے سینئر سائنس دان اور ان کے ساتھیوں نے حال ہی میں اپنی تحقیق ایک جرنل ’’ہیماٹولوجی‘‘ میں شائع کرائی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق سافٹ ڈرنکس کا بے تحاشہ استعمال جگر پر لحمیات اور چربی میں اضافہ کرتا ہے، اس سے سوزش اور جگر کا سرطان بھی ہوسکتا ہے۔ ماہرین نے مزید خبردار کیا کہ اگر موٹاپے کے شکار بچے کولڈ ڈرنک کا اندھا دھند استعمال کرنے لگیں تو یہ مسئلہ مزید گمبھیر ہوسکتا ہے۔ مغربی ممالک میں قریباً 10 فیصد بچوں کا وزن زیادہ ہے اور ان میں سے 38 فیصد بچے جگر کے کسی نہ کسی عارضے کا شکار ہیں۔
’2030 ء تک اوسط متوقع عمر 90 کا ہندسہ چھو لے گی‘
ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جنوبی کوریا کی خواتین دنیا میں پہلا گروہ ہوں گی جن کی اوسط متوقع کل عمر 90 سال کو چھو لے گی۔ لندن کے امپیریل کالج اور صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او نے 35 ترقی یافتہ ممالک میں طولِ عمر کا تجزیہ کیا ہے۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کی اوسط متوقع کل عمر بڑھ رہی ہے اور اس کے بعد سے زیادہ تر ممالک میں مردوں اور خواتین کے درمیان طولِ عمر کا فرق کم ہوتا جائے گا۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اس مطالعے سے بزرگوں کی پنشن اور ان کی نگہداشت کے متعلق بڑے چیلنج پر روشنی پڑتی ہے۔پروفیسر ماجد عزتی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’’جنوبی کوریا نے بہت سی چیزیں درست کی ہیں۔ یہ مساوات پر سب سے زیادہ عمل کرنے والا ملک نظر آتا ہے اور اس سے تعلیم اور غذائیت کے شعبے میں لوگوں کو فائدے ہوئے ہیں‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ابھی تک یہ ہائپر ٹینشن یا بلڈ پریشر سے اچھی طرح نمٹنے میں کامیاب رہا ہے اور وہاں موٹاپے کی بیماری کی شرح بھی بہت کم ہے۔ مطالعے کے مطابق یہاں کی خواتین کی اوسط عمر سب سے زیادہ ہوتی تھی لیکن اب جنوبی کوریا اور فرانس کی خواتین کے زیادہ عرصے تک جینے کی بات کہی جا رہی ہے۔ امیر ممالک میں کیے جانے والے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ میں اوسط عمر 2030ء تک سب سے کم ہوگی۔ مردوں کی اوسط عمر 80 اور خواتین کی 83 سال بتائی گئی ہے جو کہ میکسیکو اور کروشیا کی بھی ہے۔ پروفیسر عزتی نے کہا کہ یہ ممالک جنوبی کوریا کا بالکل الٹ ہیں۔ امریکہ میں سماج عدم مساوات کا شکار ہے جس سے کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور یہ واحد ملک ہے جہاں آفاقی ہیلتھ انشورنس ہے۔ یہ پہلا ملک ہے جہاں لوگوں کی لمبائی بڑھنا بند ہوگئی ہے اور اس کا تعلق ابتدائی زندگی میں غذائیت سے ہے۔ اس مطالعے کی خاص بات خواتین اور مردوں کی اوسط عمر کے فرق میں کمی ہے۔ پروفیسر عزتی کہتے ہیں: ’’روایتاً مرد غیر صحت مند زندگی گزارتے ہیں، اس لیے ان کی زندگی کم ہوتی ہے۔ وہ زیادہ شراب اور سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور ٹریفک ایکسیڈنٹ اور قتل و خون میں زیادہ ملوث نظر آتے ہیں۔ اب خواتین اور مردوں کا طرز زندگی ایک طرح کا ہورہا ہے، اس لیے ان کی عمریں بھی قریب آرہی ہیں‘‘۔ اپنی تحقیق کے خلاصے میں پروفیسر عزتی نے کہا ہے کہ جن ممالک میں لوگوں کی عمروں میں بہتری نظر آئی ہے انھوں نے اپنے صحت کے نظام پر زیادہ خرچ کیا ہے اور اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کا ثمر سب تک پہنچے۔

Share this: