(پانی کا معجزہ(قاضی مظہر الدین طارق

Print Friendly, PDF & Email

طبعی (Physical) خواص:
اس کائنات کا ہر مادہ جب گرم ہوتا ہے تو پھیلتا جاتا ہے، ہلکا اور لطیف ہوتا جاتا ہے، اس کی کثافت (Density) کم ہوتی جاتی ہے۔ اور جب کوئی مادہ سرد ہوتا جاتا ہے تو کثیف سے کثیف تر ہوتا جاتا ہے، بھاری ہوتا جاتا ہے، اس کی کثافت (Density) بڑھتی جاتی ہے۔ پانی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہونا چاہیے تھا، اور بڑی حد تک ایسا ہوتا بھی ہے۔ آبی بخارات سو درجہ سیلسیس (100C) حرارت سے کم ہوکر پانی میں تبدیل ہونے لگتے ہیں، پھر مزید درجۂ حرارت کم ہوتا جاتا ہے، یہ سب مادوں کی طرح ہی عمل کرتا ہے یعنی سرد ہوتا جاتا ہے تو کثیف و بھاری ہوتا جاتا ہے، مگر اچانک یہ عمل چار درجہ سینٹی گریڈ پر پہنچ کر رک جاتا ہے، اگرچہ چار (4C) درجۂ حرارت سے صفر درجے تک پانی پانی ہی رہتا ہے مگر حیرت انگیز طور پر پھر سے لطیف یعنی ہلکا ہونے لگتا ہے یعنی ایک سینٹی مکعب حجم پانی چار سینٹی گریٹ درجہ حرارت پر تو ایک گرام ہوتا ہے مگر اسی حجم کے پانی کا درجہ حرارت کم کیا جائے تو اس کا وزن بھی ایک گرام سے کم ہوجائے گا، پھر صفر (0 C) درجہ سے نیچے پانی منجمد ہو کر برف بن جاتا ہے۔ قابل توجہ یہ ہے کہ چار درجے پر پانی کی کثافت سب سے زیادہ ہوتی ہے، درجۂ حرارت جب چار درجہ سیلسیس سے زیادہ ہوتا جاتا ہے تو بھی کثافت کم ہوتی جاتی ہے۔ جب درجہ حرارت چار درجے سے کم ہوتا ہے توکثافت پھر بھی کم ہوتی جاتی ہے، پھر جب یہ برف میں تبدیل ہوتا ہے تب بھی اس کی کثافت پانی کی کثافت سے کم ہوتی ہے۔ جب کہ باقی سب مادے جب منجمد ہوتے ہیں تو اپنے کسی بھی مائع حالت سے زیادہ کثیف، زیادہ بھاری ہوتے ہیں۔ اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سب بھاری ٹھوس اپنے ہلکے مائع میں ڈوب جاتے ہیں، اس کے مقابلے میں صرف پانی ایسا مادہ ہے جو ٹھوس ہو کر برف تو بن جاتا ہے لیکن کثافت کم ہوجانے یا ہلکا ہونے کی وجہ سے وہ مائع پانی میں ڈوبتا نہیں بلکہ تیرتا رہتا ہے، سمندر میں تیرتے ہوئے برف کے تودے (Ice Bergs) ہر کوئی دیکھ سکتا ہے۔
اگر طبیعاتی قانون (Physical Law) کی یہ خاصیت صرف پانی کے لیے تبدیل نہ کی گئی ہوتی، یہ عام اصول کو توڑ کر خرقِ عادت (Abnormal) اصول نہ بنایا گیا ہوتا یا قانون میں یہ لچک نہ رکھی گئی ہوتی تو سوچیے کیا ہوتا؟ برف پانی میں ڈوبتی جاتی اور پانی اوپر آتا جاتا۔ اوپر آنے والا یہ پانی پھر برف بنتا، پھر یہ برف بھی ڈوب جاتی اور پانی اوپر آجاتا، اس طرح آہستہ آہستہ سارا پانی برف بن جاتا، برف ہی برف۔ زمین پرمائع پانی کا وجود نہ رہ سکتا تھا، تو نہ زمین پر پانی کا چکر قائم ہوتا، نہ زندگی ہوتی، نہ درخت ہوتے، نہ جانور ہوتے، نہ ہم ہوتے۔
مگر اس طبیعاتی قانون میں یہ ذرا سی لیکن غیرمعمولی خرقِ عادت لچک کی وجہ سے ایسا نہ ہوا، بلکہ برف پانی سے ہلکی ہونے کی وجہ سے پانی کی سطح کے اوپر اوپر تیرنے لگی اور اس کے نیچے پانی مائع حالت میں زندگی کی مدد کے لیے موجود رہا، پھر باقی نشیبی زمین پر بھی پانی موجود رہا، یعنی جھیلیں اور سمندر قائم رہے۔
تشکیلِ کائنات اور تخلیقِ حیات کا یہ کام اگر خودبخود ہورہا تھا تو پھر ان سب بے شعور و بے عقل اشیاء میں سے کس کو یہ خیال آیا کہ سارے مادوں سے ہٹ کر صرف پانی کو یہ خصوصیت دی جائے وہ بھی صرف 4 فیصد کی حد تک، لیکن! پھر کسی کو تو یہ معلوم تھا کہ اتنی سی تبدیلی بھی زمین پر زندگی کے لیے کس قدر ضروری ہے!!!
پھر کیا کوئی نہیں ہے جس نے اس کام کو کیا ہو، اور اس میں اس کام کو کرنے کی صلاحیت، اختیار، طاقت اور قدرت ہو؟

Share this: