(جو ہمارے غیر کی مشابہت کرے وہ ہم سے نہیں(روفیسر عبدالحمید ڈار

Print Friendly, PDF & Email

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے ہر شعبے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جامع ہدایات دی گئی ہیں۔ اللہ کی ان ہدایات پر عمل پیرا ہونے سے ایک ایسا مہذب و متمدن معاشرہ وجود میں لایا جا سکتا ہے جہاں انسان امن و سکون کے ساتھ زندگی بسر کرسکتا ہے اور اپنی خداداد قابلیتوں کو صحیح خطوط پر نشوونما دے کر ترقی و کمال کے اعلیٰ مدارج تک پہنچ سکتا ہے۔ اس دین میں عقائد و عبادات، آداب و اطوار اور اخلاق و معاملات کی صورت گری بہت محکم بنیادوں پر کی گئی ہے اور ان میں کوئی سقم یا رخنہ باقی نہیں رہنے دیا گیا۔ ان ہی جامع ہدایات کی بنا پر امتِ مسلمہ کو خیرِ امت کا خطاب دیا گیا ہے۔ یعنی بھلائی اور خیر کے خزانے اب اس امت کے پاس ہیں۔ یہ دنیا کو کچھ دینے کے لیے برپاکی گئی ہے، نہ کہ دوسروں سے کچھ لینے اور مانگنے کے لیے۔ ان ہدایات کا منبع و سرچشمہ اللہ کی آخری کتاب قرآن پاک اور اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
انسانی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ جس فرد نے اس ضابطۂ حیات کو اپنایا وہ زندگی میں سرخرو ہوا، اور جس قوم نے اسے اپنا دستور العمل بنایا وہ دنیا میں خوشحالی اور استحکام سے ہمکنار ہوئی اور دوسری اقوام پر اسے غلبہ و اقتدار حاصل ہوا۔ اور جس قوم نے اس سے عملاً کنارہ کشی کرلی یا جزوی طور پر اس کے ساتھ چمٹی رہی وہ کثرتِ تعداد کے باوجود ذلت و زوال سے دوچار ہوئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس حقیقت سے بخوبی آشنا تھے، اس لیے وہ اس بات کو سخت ناپسند فرماتے تھے کہ مسلمان کسی معاملے میں بھی کفار و مشرکین کے ساتھ مشابہت رکھیں۔ کیونکہ یہ چیز اہلِ ایمان کو اٹھانے والی نہیں بلکہ قعرِ مذلت میں گرانے والی ہے۔ اس سے امتِ مسلمہ کی وحدت و یگانگت جو کہ اس کی اصل قوتِ متحرکہ ہے، برقرار نہیں رہ سکتی۔ اس بارے میں آپؐ جس قدر حساس تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہودو نصاریٰ کے ساتھ جو معاملات از قسم عبادات وغیرہ مشترک تھے ان میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی انفرادیت اور امتیاز کو قائم رکھنا ضروری سمجھا۔ یہود 10 محرم کا روزہ رکھتے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسلمان بھی اس کا اہتمام فرماتے تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ ایمان کو ہدایت فرمائی کہ وہ 10 محرم کے ساتھ نویں یا گیارہویں محرم کا بھی روزہ رکھیں تاکہ یہود کے ساتھ مشابہت نہ رہے۔ یہود اور نصاریٰ روزہ دیر سے افطار کرتے ہیں۔ آپؐ نے اس بارے میں تعجیل کی تلقین کی اور فرمایا کہ جب تک اہلِ ایمان روزہ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے (یعنی سورج کے غروب ہونے کے ساتھ ہی روزہ افطار کرلیں گے) تو اُس وقت تک وہ بھلائی کے ساتھ رہیں گے۔ (مشکوٰۃ۔1886/3۔ بحوالہ بخاری، مسلم)
مزید فرمایاکہ ’’سحری کھایا کرو، سحری کھانے میں برکت ہے‘‘۔ (مشکوٰۃ۔ بحوالہ بخاری و مسلم)
’’ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزوں کا فرق سحری کھانا ہے‘‘۔ (مشکوٰۃ۔ بحوالہ بخاری، مسلم)
حضرت اُم مسلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنوں میں زیادہ تر ہفتہ اور اتوار کا روزہ رکھتے اور فرماتے کہ یہ دو دن مشرکوں کی عید کے دن ہیں، میں ان کی مخالفت کرنا پسند کرتا ہوں‘‘۔ (مشکوٰۃ۔ بحوالہ مسند احمد)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مشرکین کی مخالفت کرو، مونچھیں اچھی طرح تراش ڈالو اور داڑھیوں کو چھوڑے رکھو‘‘۔ (بدعات کا شرعی پوسٹ مارٹم (اردو) از شیخ احمد بن حجر، بحوالہ بخاری و مسلم)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہود کی مخالفت کرو کیونکہ وہ لوگ جوتے اور موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے۔ (تم جوتے اور موزے پہن کر نماز پڑھو)‘‘۔ (ابوداؤد۔ راوی شداد بن اوسؓ)
کفار اور مشرکین کی سی شکل و صورت، وضع و قطع، تراش خراش، رسم و رواج، رہن سہن کے طریقوں اور تقریبات و تفریحات کے انداز اپنا لینے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت نفرت تھی۔ کیونکہ اس سے اسلام اور مسلمان کی شناخت اور تشخص ختم ہوجاتا ہے۔ انفرادی سطح پر اس سے اپنے نظریۂ حیات کے بارے میں احساسِ کمتری کا اظہار ہوتا ہے، اور اگر یہ روش اجتماعی شکل اختیار کرلے تو اس سے مسلمانوں کی امتیازی شان اور قومی خودی جو ان کی قوتِ محرکہ اور استقلال کا سرچشمہ ہے مُردہ ہوجاتی ہے اور وہ اغیار کی تہذیب و تمدن سے مرعوب و مغلوب ہوکر دائمی زبوں حالی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ گزشتہ چند صدیوں سے ہم بحیثیت امت اسی المیے سے دوچار ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و تنبیہات اور اسلامی طرزِ زندگی سے روگردانی اور ہر شعبۂ حیات میں کفار و مشرکین کے تشبہ اور ان کے آداب و اطوار میں اپنے آپ کو رنگ لینے کے نتیجے میں ہم ہر کہیں بے وزن اور بے وقعت ہوکر رہ گئے ہیں۔ یہ تو اس دنیا میں تشبہ بالکفار کے ثمرات ہیں اور آخرت میں تشبہ کے مریضوں کا حال اس سے بھی بدتر ہوگا۔
’’جو شخص کسی قوم کے مشابہ بن کر رہے گا وہ اسی کا فرد سمجھا جائے گا۔‘‘ (احمد و ابوداؤد) اور روزِ محشر وہ اسی میں سے اٹھایا جائے گا۔ (العیاذ باللہ)

Share this: