آرزو

Print Friendly, PDF & Email

انسان کی سب سے بڑی آرزو یہ ہے کہ اسے بہت سے انسان پہچان لیں، اس کے خیال میں شریک ہوں، اس کی صفات کی تعریف کریں، اس کے تشخص کا ادراک کریں، اس کے الفاظ کی قدر کریں، اس کے چہرے کو مشتاق نگاہوں سے دیکھیں، اس کا انتظار کریں، اسے آنسوؤں کے ساتھ الوداع کریں اور اس کی زندگی کو مقدس مانیں، اور مرنے پر اس کے جنازے میں شامل ہوں اور اس کے جانے کے بعد اس کے دن منائے جائیں۔
اس کی یادیں زندہ رہیں۔ اس کے بعد کچھ بھی نہ ہو سوائے اس کی یاد کے۔۔۔ اور۔۔۔ یہی آرزو، بربادی اور تباہی کا باعث ہے، ظلم کا پیش خیمہ ہے۔ انسان اپنی آرزو کے حصول میں یہ بھول جاتا ہے کہ دوسرے انسان بھی آرزو رکھتے ہیں۔ ایسی ہی آرزو، بالکل ایسی۔ وہ بھی تشخص کی پہچان چاہتے ہیں۔ جلسہ گاہ میں سامعین اپنا مقام رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ نہ ہوں تو کوئی مقرر پیدا ہی نہ ہو۔ گرمئ بازار دکاندار کے دم سے نہیں، خریدار کی مرہونِ منت ہے۔
انسان کی آرزو اسے نیکی اور بدی کے راستے دکھاتی ہے۔ تکمیلِ آرزو کے مراحل بڑے کٹھن ہیں۔ خوش رہنے کی آرزو غم سے آشنا کراتی ہے۔ حاصل کی آرزو محرومیوں کے دامن سے وابستہ کرتی ہے۔ جینے کی آرزو موت کے شکنجے میں لاتی ہے۔
آرزو کا سفر مرگِ آرزو تک ہے۔ جو حاصل ہوگیا، اس کی تمنا ختم ہوجاتی ہے، اور جو نہ حاصل ہوسکے وہ ایک حسرتِ ناتمام بن کر دم توڑتی ہے۔
آرزو کا مسافر رکتا نہیں۔ وہ چلتا رہتا ہے۔ اگر اسے کسی ایسی ہستی سے تعارف ہوجائے جو اس کو اس کی آرزو کا چہرہ دکھا کر اسے آرزو سے بے آرزو کردے، تو یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔
آرزوکا طویل سلسلہ انسان کے لیے عذاب سے کم نہیں۔
آرزو کا فسانہ کبھی مکمل نہیں ہوسکتا۔ کبھی آغاز رہ جاتا ہے، کبھی انجام رہ جاتا ہے۔
[واصف علی واصف/ دل دریا سمندر۔ صفحہ نمبر 74۔75]
حکومت
اقبال نے خود فرمایا ہے کہ یہ شعر سر راس مسعود مرحوم کے مکان ریاض بھوپال میں لکھے گئے۔
ہے مریدوں کو تو حق بات گوارا لیکن
شیخ و ملاّ کو بری لگتی ہے درویش کی بات
قوم کے ہاتھ سے جاتا ہے متاعِ کردار
بحث میں آتا ہے جب فلسفۂ ذات و صفات!
گرچہ اس دیر کہن کا ہے یہ دستور قدیم
کہ نہیں میکدہ و ساقی و مینا کو ثبات!
قسمت بادہ مگر حق ہے اسی ملت کا
انگبیں جس کے جوانوں کو ہے تلخاب حیات!
دیر کہن: لفظی معنی پرانا بت خانہ، مراد دنیا۔ انگبیں: شہد۔ تلخاب: کڑوا پانی۔ زہر۔
1۔ مرید تو سچی بات کسی نہ کسی طور سن ہی لیتے ہیں، لیکن شیخ اور ملاّ کو درویش کی بات بری لگتی ہے۔ یعنی جو کچھ میں کہتا ہوں، وہ عام لوگوں کو تو برا نہیں لگتا، مگر صوفیوں اور عالموں کو میری باتیں چبھتی ہیں۔
2۔ حق یہ ہے کہ جب ذات و صفات کے متعلق موشگافیاں شروع ہوجاتی ہیں تو پھر قوم عمل کا سرمایہ کھو بیٹھتی ہے۔ قوتِ عمل اُسی وقت تک باقی رہتی ہے جب قوم کے سامنے صرف وہ مسائل پیش ہوتے رہیں جن کا تعلق اُس کے مقاصد ہو اور جو اُس میں عمل کی سرگرمی کو تیز رکھیں۔ جب ایسی بحثیں شروع ہوجائیں، جن سے بے سود الجھنوں کے سوا کچھ نہ نکل سکے تو قوم میں افسردگی پیدا ہوجاتی ہے اور اس میں بلند کارناموں کے لیے جوش و خروش باقی نہیں رہتا۔
ذات و صفات سے مراد ہے باری تعالیٰ کی ذات و صفات۔ یعنی ذات کی حقیقت کیا ہے؟ صفات کا ذات سے کیا تعلق ہے؟ صفات کو غیر ذات سمجھا جائے یا عین ذات؟ اس قسم کے متعدد مسائل ہیں جو فلسفیوں نے پیش کررکھے ہیں۔ اسلامی تعلیم یہ ہے کہ اس قسم کے مسئلوں پر غور کرنے کے بجائے مسلمان کو خدا کی نشانیوں پر غور کرنا چاہیے، جو کائنات میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ ان سے ایمان اور قوتِ عمل میں پختگی آتی ہے۔
3۔ اگرچہ اس دنیا کا یہ دستور قدیم زمانے سے چلا آتا ہے کہ یہاں شراب خانہ ہو یا شراب پلانے والا، یا شراب کی صراحی، غرض کوئی بھی چیز قائم رہنے والی نہیں۔ یعنی اس دنیا کی ہر چیز آنی و فانی ہے۔
4۔ تاہم اقبال مندی کے مے خانے سے شراب لینے کا حق اسی قوم کو ہے، جس کے جوان زندگی کے زہر کو شہد سمجھیں، یعنی جتنی تلخیاں، پریشانیاں، مصیبتیں اور آفتیں انہیں پیش آئیں، وہ سب خوشی خوشی جھیل لی جائیں، لیکن مقاصد سے منہ نہ موڑا جائے۔

Share this: