(کردار کے غازی (مولانا سرادج الدین ندوی

Print Friendly, PDF & Email

جب اسکندریہ فتح ہوا تو سالارِ لشکر عمروؓ بن العاص نے معاویہؓ بن خدیج کو قاصد بناکر مدینہ بھیجا اور کہاکہ جس قدر جلدی جا سکتے ہو، جاؤ اور امیرالمومنین کو مژدۂ فتح سناؤ۔ حضرت معاویہؓ ٹھیک دوپہر کے وقت مدینے میں داخل ہوئے اور اس خیال سے کہ آرام کا وقت ہے، امیرالمومنین کے گھر نہیں گئے بلکہ مسجد نبویؐ کا رخ کیا۔ راستے میں امیرالمومنین کی لونڈی ملی، اس نے حضرت عمرؓ کو جاکر اطلاع دی کہ اسکندریہ سے قاصد آیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ جاؤ فوراً قاصد کو یہاں بلالاؤ۔ لونڈی نے جاکر قاصد سے کہا کہ تم کو امیرالمومنین بلاتے ہیں۔ لیکن حضرت عمرؓ حالات جاننے کی جلدی میں قاصد کے آنے کا انتظار بھی نہ کرپائے بلکہ خود چادر سنبھال کر چلنے کے لیے تیار ہوئے۔ اسی وقت معاویہؓ آگئے۔ حضرت عمرؓ نے فتح کا حال سنا تو زمین پر گر پڑے۔ سجدہ ریز ہوکر خدا کا شکر ادا کیا۔ منادی کرکے تمام لوگوں کو مسجد میں جمع کیا۔ حضرت معاویہؓ نے فتح کے حالات بیان کیے۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ ان کو اپنے گھر لائے، کھانا کھلایا۔ کھانے سے فراغت کے بعد امیرالمومنین نے پوچھا کہ تم مدینے میں داخل ہوکر سیدھے میرے پاس کیوں نہ چلے آئے؟ حضرت معاویہؓ نے جواب دیا: چونکہ یہ آرام کا وقت ہے اس لیے میں نے خیال کیا کہ شاید آپ سوئے ہوں اور میری وجہ سے آپ کے آرام میں خلل واقع ہو۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا: ’’افسوس تم میرے بارے میں یہ خیال رکھتے ہو (اگر میں دن کو سویا کروں) تو خلافت کا بار کون سنبھالے گا۔
حافظ شیرازی
* ہم غرور کے جام سے مست ہیں اور اس کا نام ہم نے ہوشیاری رکھ لیا ہے۔
* رفتگانِ طریقت کو دیکھ کر آدھے جو سے بھی قبائے اطلس و دیبا کو نہیں خریدتے، ان کو اس سے ہزار بیزاری ہے۔
* توکل کے آستانہ پر تو پہنچا جا سکتا ہے لیکن آخرت کی سروری (سرداری) کے آسمان پر عروج کرنا بڑا مشکل کام ہے۔
* کچھ نہ کچھ عیب سب میں ہوتے ہیں، فرق یہ ہے کہ عقلمند اپنے عیب خود محسوس کرلیتا ہے، دنیا نہیں محسوس کرتی۔ بے وقوف اپنے عیب خود نہیں محسوس کرتا، دنیا محسوس کرتی ہے۔
* جو مہربانی کرنے والے کو کمینہ سمجھتا ہے اس سے زیادہ کمینہ کوئی دوسرا نہیں۔
* زمانہ کتابوں سے بہتر معلم ہے۔
* جو بات کسی کو دینے میں ہے وہ لینے میں نہیں۔
* اللہ کے نافرمان کا انجام بہت خوفناک ہے۔
[اقوالِ زریں کا انسائیکلوپیڈیا/ نذیر انبالوی (ایم۔اے)]
موت سے کس کو رُستگاری ہے
موت برحق ہے۔ جب موت کا فرشتہ آئے گا تو شبنم کی طرح تمہارا وجود بھی باقی نہ رہے گا۔ اگر تم محل یا مضبوط قلعے میں بھی ہو گے تو موت وہاں بھی پہنچے گی اور کوئی نہ بچا سکے گا۔ اے عزیز! موت تمہارا پیچھا کررہی ہے۔ جب کوچ کا نقارہ بجے گا تو موت سے کسی کو رُستگاری نہ ہوگی۔ اس لیے اے عزیز! توبہ کرلو۔ توبہ اشکِ ندامت ہے۔ اس سے جہنم کے شعلے بجھ سکتے ہیں۔ نیک و بد کی شناخت کرو۔ جب صیادِ اجل تمہارا چراغ گل کرے گا اُس وقت سے ڈرو اور آخرت کی تیاری کرو۔ اتنے گناہ نہ کرو کہ زمین بھی تمہیں قبول نہ کرے۔ تم جو شب و روز دنیا کے بکھیڑوں میں مصروف ہو، ہوسِ زن و جواہر کو کم کرو۔ کیا تمہیں معلوم ہے صبح سویرے سحر خیز پرندے تمہیں خوابِ غفلت سے جگاتے ہیں۔ میں نے گڈریے سے پوچھا جو صبح سویرے شبانی میں بکریاں چرا رہا تھا کہ اے گڈریے! کیا تُو نے خدا کو دیکھا ہے؟ تو اس نے کہا کہ وہ تمہارے دل میں رہتا ہے، وہیں تلاش کرو۔ شب بیداری اللہ کی رضا کے لیے اہم ہے۔ راست روی اختیار کرو۔ اگر اپنی اصلاح چاہتے ہو تو خود پسندی چھوڑ کر خدا پسندی اختیار کرو۔ چرخ نیلی فام کے نیچے قدم بڑھاؤ، منزل خودبخود قدم چومے گی۔ خوش خلقی اختیار کرو۔ خودستائی نہ کرو۔ اگر توحید کی سمجھ اور عرفان چاہتے ہو تو یقین محکم رکھو اور نیک راہ اختیار کرو۔ اے لوگو! ڈرو اُس دن سے جب تمہارے ہاتھوں میں تمہارے اعمال نامے دیئے جائیں گے۔ جس کے اعمال اچھے ہوں گے وہ سرخ رو ہوگا۔
اے نوجوان! جب موت تجھے اپنے دامن میں لے لے گی، تو تیری زندگی کا بے ثمر درخت جڑ سے اکھڑ جائے گا۔
[از: پروفیسر ڈاکٹر وقار احمد رضوی]

Share this: