(قبائلی علاقوں کا صوبہ خیبر پختونخواہ میں انضمام کا فیصلہ(عالمگیر آفریدی

Print Friendly, PDF & Email

وفاقی کابینہ کی جانب سے طویل انتظار کے بعد فاٹا اصلاحات کی اصولی منظوری دینے کے بعد بظاہر تو قبائل اپنی زندگی کا ایک بڑا اور دیرینہ سنگِ میل عبور کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، لیکن تادمِ تحریر فاٹا کی مجوزہ اصلاحات کے حوالے سے جو تفاصیل سامنے آئی ہیں اور ان پر مختلف جماعتوں کی جانب سے جو ملا جلا ردعمل سامنے آرہا ہے اُس سے قبائل کے نقطہ نظر سے ان اصلاحات نے نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن جیسی صورت حال اختیار کرلی ہے۔ یعنی اگر قبائل وفاقی کابینہ کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور بعد میں ان پر یہ عقدہ کھلتا ہے کہ ان کے ساتھ اصلاحات کے نام پر دھوکا ہوا ہے تو ان کے جذبات کا مجروح ہونا اور ان کی خواہشات کا خون ہونا فطری ہوگا۔دراصل وفاقی کابینہ نے جن اصلاحات کی منظوری دی ہے اور اس ضمن میں اب تک جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان میں چونکہ کئی حوالوں سے ابہامات پائے جاتے ہیں اس لیے کوئی بھی حلقہ ان اصلاحات کے حوالے سے کوئی حتمی رائے قائم کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتا۔
کابینہ نے جن اصلاحات کی منظوری دی ہے اور اس حوالے سے اب تک ذرائع ابلاغ میں جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ فاٹا کے خیبر پختون خوا میں انضمام کا اصولی فیصلہ تو کردیا گیا ہے البتہ انضمام کا عمل پانچ سال کے طویل اور صبر آزما دورانیے میں مکمل کیا جائے گا۔ یعنی یہ ایک بتدریج اور سست رفتار عمل ہوگا۔ فاٹا کی خیبر پختون خوا اسمبلی میں نمائندگی کی منظوری بھی دی گئی ہے لیکن واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ اس منظوری میں یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا یہ نمائندگی 2018ء کے عام انتخابات میں دی جائے گی یا پھر اس فیصلے کا اطلاق 2023ء کے عام انتخابات پر ہوگا۔ وفاقی کابینہ کی پاس کردہ سفارشات میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرۂ کار فاٹا تک بڑھانے کا ذکر تو موجود ہے لیکن یہ بات واضح نہیں ہے کہ نچلی سطح کے قانونی معاملات اور عوام تک انصاف کی سہل رسائی کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ اسی طرح وفاقی کابینہ کا این ایف سی ایوارڈ سے فاٹا کے لیے تین فیصد حصہ مختص کرنے کا فیصلہ تو حوصلہ افزا ہے لیکن یہ سوال جواب طلب ہے کہ جب فاٹا انتظامی اور قانونی طور پر خیبر پختون خوا میں ضم ہوجائے گا تب فاٹا کے لیے این ایف سی ایوارڈ سے حاصل شدہ تین فیصد وسائل کن بنیادوں اور کس طریقہ کار اور فارمولے کے تحت قبائلی علاقوں پر خرچ ہوں گے۔ کابینہ کے مذکورہ فیصلے میں فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ازسرنو تشکیل کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے کیا میکنزم اختیار کیا جائے گا۔ قبائلی علاقوں میں جو بلدیاتی انتخابات 2018ء کے عام انتخابات سے پہلے منعقد ہونا تھے وہ چونکہ قبائلی علاقوں کے مخصوص حالات، آئی ڈی پیز، انفرااسٹرکچر کی عدم بحالی اور دہشت گردی کے ممکنہ واقعات کے باعث اب تک ممکن نہیں ہوسکے ہیں، اس لیے ان کے متعلق کہا گیا ہے کہ اب یہ بلدیاتی الیکشن 2018ء کے عام انتخابات کے بعد منعقد ہوں گے کیونکہ اگلے ایک سال کے دوران بلدیاتی انتخابات کے لیے تمام ضروری لوازمات طے کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کون سا ادارہ کرے گا اور بلدیاتی اداروں کو بلدیاتی امور نمٹانے کے لیے وسائل کون مہیا کرے گا، نیز بلدیاتی حلقے کس بنیاد پر وضع کیے جائیں گے، اور اس صورت حال میں جب ابھی فاٹا کا صوبے میں انضمام کا عمل پوری طرح شروع بھی نہیں ہوا ہوگا تو ایک صوبے میں دو طرح کے بلدیاتی نظام کیوں کر لاگو ہوسکیں گے؟
بلدیاتی اداروں کے قیام میں اتنی جلدی کا نہ تو کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی ان کی ایسی کوئی فوری ضرورت ہے۔ لہٰذا اگر جلدبازی میں قبائلی علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کروائے گئے تو ان کا فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہوگا۔ قرائن سے یوں لگ رہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان محض قبائل کو خوش کرنے کی غرض سے کیا گیا ہے، کیونکہ اس حوالے سے عملاً حالات انتہائی ناسازگار ہیں جس سے حکومتی اداروں کی قبائل کے ساتھ غیر سنجیدگی اور مذاق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
فاٹا اصلاحات کا یہ پہلو خوش آئند ہے کہ قبائلی علاقوں میں بیس ہزار نوجوانوں کو لیویز میں بھرتی کیا جائے گا اور ایف سی کو مزید جدید اور مؤثر بنانے کے لیے اس کے نئے ونگ قائم کیے جائیں گے۔ فاٹا اصلاحات کے اعلان میں یہ فیصلہ بھی شامل ہے کہ فاٹا میں ملازمت کرنے والے ملازمین کو خصوصی مراعات دیتے ہوئے انہیں 20 فیصد اضافی تنخواہ دی جائے گی۔ فاٹا کو سی پیک سے منسلک کرنے کا اعلان بھی بظاہر خوش آئند ہے، لیکن یہ بھی اب تک چونکہ محض ایک اعلان ہے اور ہمارے ہاں اس طرح کے اعلانات کی کیا وقعت اور حیثیت ہوتی ہے اس سے بھی ہر کوئی بخوبی واقف ہے۔
فاٹا اصلاحات کے حوالے سے یہ بات حیران کن ہے کہ مجوزہ اصلاحات پر عمل درآمد اور نگرانی کے لیے ایک نیا اور الگ ڈائریکٹوریٹ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پہلے سے موجود کئی اداروں مثلاً سیفران، گورنر سیکریٹریٹ، فاٹا سیکریٹریٹ، وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ اور سول سیکریٹریٹ خیبرپختون خوا جیسے اداروں کی موجودگی میں ایک نئے ڈائریکٹوریٹ کا قیام پہلے سے منہ زور اور کرپشن کے لیے بدنام سول بیوروکریسی کو کرپشن اور من مانی کا ایک اور پلیٹ فارم مہیا کرنے کے مترادف ہوگا۔
وزیراعظم میاں نوازشریف کا فاٹا اصلاحات کے موقع پر کابینہ سے اپنے خطاب میں یہ کہنا تھا کہ قومی وسائل پر فاٹا کے عوام کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا دوسرے صوبوں کے عوام کا۔ اور قومی آمدنی سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا کو ان کا حصہ ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ قبائلی عوام کو بھی پاکستانیت کے قومی دھارے میں لایا جائے جس سے ان کی سال ہا سال سے جاری محرومیوں کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان پر ہر پاکستانی کا حق ہے اور کم ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقوں کے عوام کو ترقی کے ہر ممکن مواقع ضرور ملنے چاہئیں جبکہ ہمیں پیچھے رہ جانے والے علاقوں اور عوام پرخاص توجہ دینا ہوگی۔
فاٹا اصلاحات سے متعلق جو صورتِ حال اب تک سامنے آئی ہے وہ نہ صرف یہ کہ خاصی پیچیدہ ہے بلکہ اس سے فاٹا اصلاحات میں دلچسپی رکھنے والے اور خاص کر فاٹا کو خیبر پختون خوا میں ضم کرنے کی متمنی قوتوں اور قبائل کا وہ مزا یقیناًکرکرا ہوگیا ہے جس کی آس وہ فاٹا اصلاحات اور انضمام کے حوالے سے واضح اور دوٹوک فیصلے کی صورت میں لگائے ہوئے تھے۔ اس طرح وہ حلقے جو فاٹا انضمام کے خلاف تھے انہوں نے بھی اصلاحات کے حالیہ فیصلے کو نہ صرف مسترد کردیا ہے بلکہ مولانا فضل الرحمن نے تو وزیراعظم نوازشریف پر بداعتمادی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے اس سلسلے میں احتجاج کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس صورت حال سے یوں لگتا ہے کہ حکومت جو پہلے ہی
(باقی صفحہ 41پر)
اصلاحات اور خاص کر انضمام کے حوالے سے کنفیوژن کا شکارتھی، اُس نے اس فیصلے کے ذریعے فاٹا انضمام کے حامی اور مخالف طبقات کے دباؤ کے پیش نظر بظاہر درمیان کا راستہ اختیار کیا ہے، لیکن اس فیصلے اور حکمت عملی سے اگر کسی کا سب سے زیادہ نقصان ہوگا تو وہ کوئی اور نہیں خود ایک کروڑ قبائل ہوں گے۔ فاٹا اصلاحات کے حوالے سے یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ حکومت رواج ایکٹ کے نام پر قانون کے جس نئے مسودے کو منظور کرتے ہوئے قبائل کے گلے کا طوق بنانا چاہتی ہے اس پر بھی قبائل کی غالب اکثریت کی جانب سے اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں اور ان کا استدلال ہے کہ رواج ایکٹ دراصل ایف سی آر ہی کا چربہ اور پرانی شراب کو نئی بوتل میں نئے نام کے برانڈ کے ساتھ پیش کرنے کے مترادف ہے۔ ان حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت کو فی الفور ان تمام اعتراضات کا نہ صرف کھل کر واضح جواب دینا چاہیے بلکہ قبائل کے صبر اور ان کی برداشت کا مزید امتحان لینے اور اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کے سابقوں لاحقوں کے بجائے کھل کر فاٹا کے خیبر پختون خوا میں انضمام کا فیصلہ کرنے کے علاوہ اس عمل کی تکمیل کے لیے درکار مالی وسائل دے کر باقی تمام معاملات صوبائی حکومت کے حوالے کردینے چاہئیں۔ صوبائی حکومت میں اتنی استعداد یقیناًہے کہ وہ اس معاملے کو بخوبی سنبھال سکتی ہے جس کا اظہار وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا پرویزخٹک نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں بھی کردیا ہے۔

Share this: