(غیر حاضر اساتزہ کو برطرف کرنا ہوگا(محمد عامر شیخ

Print Friendly, PDF & Email

سندھ کے سیکریٹری تعلیم جمال مصطفی سید نے کہا کہ غیر حاضر اساتذہ کی تنخواہ بند کرنا اور شوکازجاری کرنا مسئلہ کا حل نہیں ہے‘ ایسے اساتذہ کو ملازمت سے فارغ کرنے سے سندھ میں تعلیم کے شعبہ میں بہتری آئے گی۔ ہم محکمہ تعلیم میں جزا اور سزا کا نظام وضع کررہے ہیں تاہم کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کے لیے صرف محکمہ تعلیم کے افسران کو ہی نہیں بلکہ والدین اور سماجی کارکنوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ فرائیڈے اسپیشل کو انٹرویو میں سیکرٹری تعلیم سندھ جمال مصطفی سید کا کہنا تھا کہ نئی تعلیمی پالیسی وضع کی جارہی ہے اور اس پالیسی میں گھوسٹ اور غائب ٹیچرز کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی ہوگی وہی تعلیم کی خدمت کرنے والے اساتذہ کو توصیفی سرٹیفکیٹ اور ترقی دی جائے گی۔ سیکریٹری تعلیم سندھ جمال مصطفی نے کہاکہ محکمہ تعلیم میں احتساب کی ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں کام جاری ہے انہوں نے کہاکہ جب تک سو دوسو اساتذہ کو جو کہ گھر بیٹھے تنخواہ وصول کررہے ہیں۔ ملازمت سے فارغ کرکے گھر نہیں بھیجا جائے گا محکمہ میں سدھار نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈویژن کی سطح پر اسکولوں کو کھلوانے کے لیے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرپور خاص اور لاڑکانہ ڈویژن میں بڑی تعداد میں اسکول کھلوائے ہیں جبکہ اسکولوں میں چار دیواری ‘ بیت الخلاء ‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ پنکھے اور عمارتوں کی مرمت اور تزئین و آرائش کے علاوہ شجرکاری کی سمت بھی کام کیا جارہا ہے تاکہ اسکول اجاڑ اور ویرانی کی بجائے خوبصورت اور دیدہ زیب نظر آئیں۔ سیکرٹری تعلیم سندھ جمال مصطفی سید نے ایک سوال کے جواب میں فرائیڈے اسپیشل کو بتایا کہ انہوں نے کمشنر حیدر آباد اور کمشنر شہید بے نظیر آباد (نوابشاہ )ڈویژن کی حیثیت سے تعلیم کی بہتری کے لیے کاوشیں کی تھیں اور اس کے اثرات بھی مرتب ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ نوابشاہ میں تعلیمی کانفرنس میں بہترین کارکردگی کی حامل خواتین اور مرد اساتذہ کو سرٹیفکیٹ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی تھیء۔ جبکہ اس کانفرنس میں سندھ کے دانشوروں اور سندھی چینل کے مالکان اور اینکرز کو شریک کرکے سندھ کی تعلیمی صورتحال کے بارے میں فکرمند کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دور کمشنری میں غائب ٹیچرز کے خلاف شوکاز جاری کیے گئے تھے اور تنخواہیں روک لی گئیں تھیں تاہم انہوں نے کہا کہ تجربہ سے ثابت ہو اکہ تنخواہ بند کرنا مسئلہ کا حل نہیں ہے کیونکہ چار چھے ماہ بعد اساتذہ روپیٹ کر تنخواہ جاری کرالیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سو دو سو اساتذہ برطرف ہوکر گھر جائیں گے او ران کے سرپرست افسران بھی کارروائی کا سامنا کریں گے تو آپ دیکھیں گے کہ کس طرح صبح آٹھ بجے اساتذہ اسکولوں میں پہنچتے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بہتر تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے معاشرہ اپاہج ہوجاتا ہے اور معاشرے کو اپاہج ہونے سے بچانے کے لیے صرف محکمہ تعلیم ہی کی نہیں معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے قریبی اسکولوں کو سنبھالیں۔ اور ان کی سرپرستی میں اسی طرح جس طرح وہ اپنے گھر اور معاملات کو دیکھتے ہیں۔ سیکریٹری تعلیم سندھ جمال مصطفی سید نے کہا کہ کمیٹی کی سفارش کے بغیر اسکول کے ایس ایم سی فنڈز جاری نہیں کیے جائیں گے جبکہ ایس ایم سی فنڈز کے ذریعہ کرائے گئے کام کی پڑتال بھی کی جائے گی۔
سیکرٹری تعلیم سندھ جمال مصطفی سید نے کہا کہ صوبہ کے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ضلع میں کالجوں اور اسکولوں کے دورے کرکے اساتذہ اور لیکچرار اور پروفیسروں اور عملہ کی حاضری کو یقینی بنائیں اور رپورٹ ارسال کریں۔ انہوں نے کہاکہ بائیو میٹرک سسٹم کے تحت اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں تاہم انہوں نے کہاکہ بعض اضلاع سے شکایات ملی ہیں کہ بایومیٹرک سسٹم کے مانیٹرنگ آفیسرز کی ملی بھگت سے ڈیوٹی سے غائب اساتذہ ہفتہ‘ پندرہ روزہ اور ماہانہ حاضری دے کر پورے ہفتہ اور ماہانہ کی بنیاد پر انگوٹھے لگا کر خانہ پوری کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ دیگر شکایات ہیں کہ بعض بااثر اساتذہ نے جو کہ کراچی‘ حیدرآباد‘ پنجاب اور بعض بیرون ملک بھی مقیم ہیں ڈیوٹی سے غائب ہیں تاہم ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی انہوں نے کہاکہ اب اس سلسلہ میں کارروائی کی ہدایات جاری کردی گئیں ہیں انہوں نے کہا کہ یہ بھی شکایات ہیں کہ بااثر اساتذہ نے دور دراز علاقوں میں اپنے پسند کے اسکولوں منتخب کرکے باری باری ڈیوٹی کا نظام وضع کرلیا ہے جبکہ انہوں نے کہ اکہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ افسران کی ملی بھگت سے اکثر گرلز اسکولوں پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور چونکہ لیڈری ٹیچرز عموماً ڈیوٹی دیتی ہیں اس لیے خانہ پری کردی جاتی ہے۔ سیکریٹری تعلیم سندھ جمال مصطفی سید نے کہا کہ وہ قوم کبھی ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنا تو کجا شامل ہی نہیں ہوسکتی جس میں تعلیم کی کمی ہو انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں تعلیم کی بہتری کے لیے حکومت سندھ اور ورلڈ بینک فنڈز فراہم کررہا ہے اور میری کوشش ہے کہ سندھ کے شہروں اور دیہات میں سرکاری اسکولوں کو اتنی سہولیات اور تعلیم کے اعلیٰ معیار سے مزین کریں گے کہ غریب اور متوسط طبقے کے بچے کو دولت مند والدین کے بچوں سے تعلیم میں مقابلہ کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر تعلیم سندھ جام مہتاب حسین ڈھرکی دن رات اس بارے میں کوششیں جاری ہیں اور اس کے ثمرات ضرور سامنے آئیں گے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ سندھ کے بچے دیگر صوبوں اور دنیا کی ترقی یافتہ ملکوں کے بچوں سے کم ذہین نہیں اور اس کی مثال یہ ہے ہ دنیا بھر میں سندھ کے اسکولوں سے تعلیم حاصل کرنے والوں نے ملک اور قوم کا نام روشن کیا ہے۔ اور ان شاء اللہ اگر پوری سوسائٹی اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری پوری کرے تو وہ دن دور نہیں جب سندھ کی تعلیم قیام پاکستان سے قبل اور بعد کی سطح پر واپس آجائے اور دیگر صوبوں سے لوگ اپنے بچے سندھ میں تعلیمی اداروں میں بھیجیں۔ nn

Share this: