(دہشتگردی کے خضؒ اف قومی بایند جواب طلب سوالات(سید وجیہہ حسن

Print Friendly, PDF & Email

ملک میں امن و امان کی صورتِ حال بڑی مشکل سے بحال ہوتی ہے کہ دہشت گردی کے کسی نہ کسی بڑے واقعے کی اطلاع آجاتی ہے اور امن و امان کے حکومتی دعووں کی قلعی عوام کے سامنے کھل جاتی ہے۔ پچھلے دو سال سے زائد عرصے سے پنجاب کے سوا ملک کا ہر صوبہ مختلف آپریشنوں کی زد میں ہے۔ سینکڑوں افراد سزائے موت پاچکے ہیں، لاکھوں افراد بے گھر ہیں اور IDPs بن گئے ہیں، اور کتنے ہی پولیس مقابلوں کی نذر ہوچکے ہیں۔ میڈیا ہو، سیاست دان ہوں یا سول سوسائٹی کے دانشور۔۔۔ ہر ایک دہشت گردی کے خلاف نئے قومی بیانیے پر بغلیں بجاتا نظر آتا ہے، جس کے تحت ملکِ عزیز میں اسلام ایک مجرم کی طرح کٹہرے میں کھڑا ہے۔
زیرنظر مضمون میں ہم نے اس مسئلے کے معاشرتی پہلو پر نظرڈالنے کی کوشش کی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ یہ ہے کہ’’ 1980ء کی دہائی میں ملک پر مسلط فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیا الحق نے افغانستان میں روس کی پیش قدمی روکنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر جہاد کی جو فیکٹریاں لگائی تھیں اور جنہیں بعد میں کشمیر میں بھارت کے خلاف سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا تھا، وہ آج ملک کے لیے ناسور بن گئی ہیں۔ وہ تمام لوگ جو اس دور میں جہاد سے وابستہ ہوئے اور الگ الگ تنظیمیں بناکر کام کرتے رہے، آج ملک میں افغانستان اور بھارت کی طرف سے شروع کی گئی ’’پراکسی وار‘‘ کا حصہ بن گئے ہیں اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ پاکستان ماضی میں جو کارروائیاں افغانستان میں حقانی نیٹ ورک وغیرہ کے ذریعے کرتا رہا تھا اب ایسی ہی کارروائیاں افغان اور بھارتی خفیہ ایجنسیاں ان تمام افراد کے ذریعے کرنے میں مصروف ہیں۔‘‘
اس قومی بیانیے کو سامنے رکھتے ہوئے ہی پچھلے دو ڈھائی سال میں فوجی آپریشن کیے گئے ہیں اور فوجی عدالتوں کے ذریعے سزائیں دی گئی ہیں۔ جبکہ پاکستانی میڈیا، سیاست دان اور سول سوسائٹی بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں اور ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان کوششوں میں ان کی حکومت میں شمولیت، عام معافی کا اعلان، بلوچستان کے لیے خصوصی اقتصادی پیکیج کی منظوری وغیرہ شامل ہیں۔
کراچی میں ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور اے این پی کے دہشت گردوں کے ہاتھوں 8۔9 ہزار شہری محض زرداری حکومت کے پانچ برسوں کے دوران قتل کردیے گئے۔ پبلک پراپرٹی پر زبردستی الاٹمنٹ، بھتا خوری، اغوا برائے تاوان کی ہزاروں وارداتیں اس کے علاوہ تھیں۔ لیکن دہشت گردی کے خلاف اس نئے بیانیے کے نتیجے میں یہ تینوں جماعتیں اس عظیم الشان قتل و غارت گری اور لوٹ مار کے باوجود نہ صرف سیاست میں موجود ہیں بلکہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی تو اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہیں۔ ان پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد اگر کبھی غلطی سے گرفتار ہو بھی جاتے ہیں تو عدالتیں انہیں باعزت شہریوں کی طرح ضمانت پر رہا کردیتی ہیں، بلکہ ان میں سے بیشتر عدم ثبوت کی بنا پر باعزت بری ہوچکے ہیں۔ 12مئی (2007ء) کے قتلِ عام کے مجرم ہوں یا ’’سانحۂ بلدیہ‘‘ کے ذمہ دار۔۔۔ اس نئے بیانیے کے طفیل سب قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔
اس دوران پولیس مقابلوں میں مارے جانے والے ایسے سینکڑوں افراد کا قتل جائز قرار دے دیا گیا ہے جن کے بارے میں یہ اطلاع فراہم کردی گئی کہ ان کا تعلق مذہبی دہشت گردوں سے تھا۔ اسی طرح فوجی عدالتوں میں بھی صرف وہی مقدمات بھیجے گئے جن میں ملزم مذہبی دہشت گردی سے متعلق کیسز میں ماخوذ تھے۔ اس کی وجہ وہ قانون تھا جس میں فوجی عدالتوں کو قائم کرتے ہوئے یہ لکھ دیا گیا تھا کہ اس کے تحت صرف مذہبی دہشت گردوں ہی کا ٹرائل کیا جاسکے گا۔
اگر مسئلہ دشمن کے آلۂ کار (پراکسی) بن کر ملک میں امن و امان کا ایشو پیدا کرنے والوں کا ہوتا تو ایم کیو ایم اور بلوچ نیشنلسٹ بھی اس نئے بیانیے کی زد میں آتے، کہ یہ دونوں ہی کھل کر ملک دشمنوں کو مدد کے لیے پکارتے رہے ہیں، اور ان کے بھارتی خفیہ ایجنسیوں سے رابطے کے ثبوت خود قانون نافذ کرنے والے ادارے قوم کو فراہم کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان دونوں کا لبرل ہونا ہی ان کے گناہ بخشوانے کے لیے کافی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف اس بیانیے میں کئی سوال جواب طلب ہیں اور یہ کچھ حوالوں سے نامکمل بھی ہے۔ مثلاً عالمی و علاقائی سیاست کی معمولی شدبد رکھنے والا بھی یہ بتاسکتا ہے کہ بھارت افغانستان میں امریکی بے ساکھی پر کھڑا ہے۔ اگر امریکہ آج افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا اعلان کردے تو بھارت کو بھی افغانستان سے فوری بوریا بستر لپیٹنا پڑجائے گا۔ اس صورت حال میں پاکستان میں موجود امن و امان کے مسئلے کو بھارت کی طرف سے مداخلت قرار دینا اور کشمیر میں پاکستانی مداخلت کا جوابی اقدام قرار دینا عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ حقیقت میں یہ امریکی ایجنڈا ہے جس کے تحت پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہورہے ہیں تاکہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری سے شروع ہونے والے منصوبے سی پیک کی راہ کھوٹی کی جاسکے۔ لیکن افسوس اس نئے بیانیے کے تخلیق کار خطے میں امریکہ کے اس شکست خوردہ پوزیشن پر پہنچ جانے کے باوجود بھی عوام کو سچ بتانے کے لیے تیار نہیں۔
دہشت گردی کے خلاف اس بیانیے پر عملدرآمد شروع ہوئے دو سال سے زیادہ گزر جانے کے باوجود بھی دہشت گردی کا سلسلہ رکنے میں نہیں آیا ہے۔ یہ حقیقت بجائے خود اس بیانیے کے لیے ایک چیلنج ہے۔
پھر یہ نام نہاد بیانیہ کم از کم دو سوالات کا جواب دینے سے مکمل طور پر قاصر ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان سوالات کی موجودگی میں اس بیانیے کو مستقل عملی دنیا کا حصہ بنائے رکھنے کے اپنے مضمرات ہیں جن سے ملک میں مزید انتشار اور افراتفری پھیلنے کا اندیشہ ہے۔
پہلا سوال یہ ہے کہ آخر 2001ء سے قبل پاکستان میں دہشت گردی کی یہ قسم کیوں موجود نہ تھی جسے ہمارا حکمران طبقہ مذہب سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے؟ حالانکہ بقول اس بیانیے کے، ملک میں وہ تمام عناصر موجود تھے جو آج اس کے ذمہ دار بتائے جاتے ہیں۔ بلکہ ان عناصر کو اُس وقت افغانستان میں موجود مذہبی حکومت کی پشت پناہی بھی حاصل تھی۔ پاکستان میں اس پورے عرصے میں جو اس بیانیے کے مطابق بیس سال کا عرصہ بنتا ہے، اس طرح کی دہشت گردی کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ البتہ جو دہشت گردی ملک میں موجود تھی وہ کراچی کے تہذیب یافتہ دہشت گردوں کے زیر سایہ پھل پھول رہی تھی اور کراچی ہر روز لاشیں اٹھاتا تھا۔
پھر اگر اس بیانیے میں موجود اس بات کو درست تسلیم کرلیا جائے کہ 1980ء کی دہائی میں شروع کیے گئے جہادی فلسفے آج ملک میں موجود دہشت گردی کی اصل وجہ ہیں تو شہید ممتاز قادری کے اس انتہائی اقدام کو کیا نام دیا جائے گا کہ جب انہوں نے اُس وقت کے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے باڈی گارڈ دستے کا رکن ہوتے ہوئے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ شہید ممتاز قادری تو کسی بھی طرح اس جہادی فلسفے سے متعلق نہ تھے جو اس بیانیے کی بنیاد ہے۔ اسی طرح ان کے جنازے میں شریک ہونے والے لاکھوں افراد کی ان سے عقیدت کو یہ بیانیہ بھی Define کرنے سے قاصر ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بیانیے کے تخلیق کار یا تو عوام کی نفسیات، ان کی امنگوں اور خواہشوں سے یکسر نابلد ہیں، یا پھر کسی غیر کے ایجنڈے کے تحت اس بیانیے کی آڑ میں ملک کے عوام پر بزور طاقت سیکولر نظام مسلط کرنا چاہتے ہیں ،جس کو حلق سے نیچے اتارنا عوام کے لیے مشکل ہے اور وہ بار بار ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے بھی صورت حال پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مدرسوں کو نشانہ بنانے کے بجائے مدارس کے طلبہ کے ہاتھوں میں ہتھیار تھمانے والوں اور ان کو گوریلا کارروائیوں کی تربیت دینے والوں کو اس صورت حال کی ذمہ داری قبول کرنا چاہیے۔‘‘
ملک کے معروف تھنک ٹینک ’’پلڈاٹ‘‘ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے ایک تقریب سے خطاب کے دوران عوامی خواہشات اور حکمران طبقے کی اقدار کے فرق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ملک میں موجود خرابیوں کے پیچھے یہ بات مضمر ہے کہ ملک میں ایک عوام کی اقدار ہیں اور ایک خواص کی اقدارہیں، ایک طرف 80۔90 فیصد عوام ہیں جو اپنے مذہب سے، اپنی اقدار سے محبت رکھتے ہیں، تو دوسری طرف ملک کی اشرافیہ کا بیانیہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اشرافیہ کا بیانیہ میڈیا کے ذریعے مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس رویّے سے عوام میں کافی فرسٹریشن ہے اور اس فرسٹریشن کا مظہر ہے امن و امان کی صورت حال۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’عوام کی بڑی اکثریت اسلام کی اقدار پر یقین رکھتی ہے اور وہ جب یہ دیکھتی ہے کہ کھلم کھلا پبلک فورم پر اسلام کا مذاق اڑایا جارہا ہے اور اس کے بارے میں وہ باتیں کہی جارہی ہیں جو کسی بھی مسلمان کے لیے قابلِ برداشت نہیں، تو پھر اس کے نتیجے میں ری ایکشن جنم لیتا ہے۔‘‘
عوام کیا چاہتے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے پچھلے دس بارہ سال میں کیے گئے مختلف قومی سروے دیکھے جاسکتے ہیں۔ عوام نے امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں جنرل پرویزمشرف حکومت کی شمولیت کو کبھی قبول نہیں کیا۔ عوام کی بڑی اکثریت آج بھی امریکہ کو اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ امریکی بھی اب اس بات کو نہیں چھپاتے کہ پاکستان اُن کے لیے اب خطرہ بن چکا ہے۔ لیکن ایک ایٹمی طاقت سے براہِ راست لڑائی کا خطرہ کوئی بھی نہیں مول لے سکتا۔ اس لیے لڑائی ڈپلومیسی کی سطح پر لڑی جارہی ہے یا خفیہ ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنے مقامی آلہ کاروں کے زور پر۔
ایسے میں یہ سوالات ابھر کر سامنے آتے ہیں کہ کیا اس ملک میں کوئی ایسی قوت موجود ہے جو ملک میں جاری ’’امریکی پراکسی وار‘‘ اور ملک میں موجود اس کے حقیقی کارپردازوں کو عوام کے سامنے لاسکے؟ دہشت گردی کے خلاف بیانیے کی اسلام دشمنی کے خلاف عوام کو منظم کرسکے؟ ملک میں دہشت گردی میں ملوث ہر فرد، گروپ یا پارٹی سے نمٹنے کے لیے بلاتفریق ایک ہی حل تجویز کرسکے؟ اور اس پر ملک میں عوامی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا کرکے حکمران طبقے کو اپنی روش تبدیل کرنے پر مجبور کرسکے؟
دہشت گردی کے خلاف اس بیانیے سے متعلق دیگر عوامل بھی ہیں جن کے تحت آج پختون قوم کو بھی Victamize (نشانہ بنایا) کیا جارہا ہے۔ اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں، اس پر گفتگو ان شاء اللہ اگلی نشست میں۔
nn

Share this: