اسکرین پروف

Print Friendly, PDF & Email

یہ ان دنوں کی بات ہے جب سوداگر تجارت کے لیے ایک ملک سے دوسرے ملک جاتے، بلکہ ملکوں ملکوں گھومتے۔ جو کچھ ساتھ لے جاتے وہ بیچ دیتے، اور دوسرے ملکوں سے اپنے ملک کی ضرورت کی چیزیں خرید کر لے آتے۔ ایسا ہی ایک سوداگر اپنے سفر پر روانہ ہونے لگا تو اس نے گھر میں سب سے پوچھا کہ وہ ان کے لیے کیا لائے؟
سب نے اپنی اپنی پسند کی اشیاء بتادیں۔ سوداگر نے پنجرے میں بند اپنے طوطے کی طرف دیکھا اور سوچاکہ کیوں ناں اس سے بھی پوچھ لیا جائے۔ چنانچہ کہا: ’’میاں مٹھو، تمہارے لیے کیا لاؤں؟‘‘
طوطے نے کہا: ’’کچھ نہیں۔۔۔ ہاں، اگر آپ کو وہاں طوطے نظر آئیں تو انہیں میرا سلام کہہ دیں‘‘۔
اس کی بات سن کر سوداگر مسکرایا: ’’اچھا بھئی۔ اگر کہیں طوطوں سے ملاقات ہوئی تو تمہارا سلام کہہ دیں گے‘‘۔
ایک طویل اور نفع بخش سفر اور تجارت کے بعد سوداگر جب واپس آرہا تھا تو جنگل سے گزرتے ہوئے اس کی نظر چند طوطوں پر پڑی جو چہک رہے تھے اور ایک درخت سے دوسرے درخت پر اڑ اڑ کر بیٹھ رہے تھے۔ سوداگر نے بلند آواز سے کہا: ’’سنو بھئی طوطو! میرے گھر میں آپ کا ایک بھائی طوطا پنجرے میں بند ہے۔ اُس نے آپ کو سلام کہا ہے۔ میں آپ کو اُس کا سلام پہنچاتا ہوں‘‘۔
وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ تمام طوطے اس کی طرف خاموشی سے دیکھنے لگے جیسے اس کی بات سن رہے ہوں۔ پھر اچانک ایک طوطا درخت سے نیچے گرا اور تڑپ تڑپ کر مر گیا۔
سوداگر کے لیے یہ سارا منظر بڑا ہی عجیب تھا۔ کئی دن کے بعد جب وہ گھر پہنچا تو اس نے اپنے طوطے کو سارا واقعہ کہہ سنایا۔ پنجرے کے طوطے نے جونہی یہ واقعہ سنا، پنجرے میں ہی گر پڑا۔ سوداگر اور اس کے بیوی بچے پنجرے کے گرد اکٹھے ہوگئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے طوطا تڑپنے لگا اور پھر اس نے دم توڑ دیا۔
سب کو بہت صدمہ ہوا۔ سوداگر نے پنجرا کھولا اور مُردہ طوطے کو اٹھا کر باہر نکالا۔ سب بڑے افسوس کے ساتھ اسے دیکھ رہے تھے۔ لیکن اس موقع پر ایک اور حیرت انگیز بات ہوئی۔ طوطا ایک دم پُھر سے اڑا اور سامنے اونچی دیوار پر جا بیٹھا۔
سوداگر نے کہا: ’’میں نے تمہارا پیغام پہنچایا اور تم نے مجھے دھوکا دیا‘‘۔
طوطے نے کہا: ’’جب آپ نے آزاد طوطوں کو میرا سلام دیا، تو ان میں سے ایک نے اسی طرح گر کر اور تڑپ کر مجھے آزادی حاصل کرنے کا طریقہ بتادیا۔ آپ یقین رکھیں، جب آپ وہاں سے چلے ہوں گے تو وہ طوطا بھی میری طرح اُڑ کر درخت پر جا بیٹھا ہوگا۔ اور اب میں بھی اُن کے پاس جارہا ہوں۔ میرے آزاد بھائیوں نے میرے سلام کے جواب میں جو پیغام مجھے دیا وہ یہی تھا کہ آزادی چاہتے ہو تو مرنا سیکھو‘‘۔
یہ کہہ کر طوطا آزاد فضاؤں میں اڑ گیا۔
[آئین / جنوری 1988ء]

Share this: