(مردم شماری 2017ء (ڈاکٹر سید نواز الہدیٰ

Print Friendly, PDF & Email

مردم شماری 2017ء
اعدادوشمار کا معیار اور تحفظات کی یلغار
ڈاکٹر سید نواز الہدیٰ
عمران خان
مردم شماری صرف لوگوں کی تعداد یا آبادی بتانے کا کام نہیں کرتی، بلکہ لوگوں سے منسلک دوسرے افعال کا انتہائی قریب سے جائزہ لیتی ہے اور ان کی مختلف اشاریے کے تحت ایک نظام میں حدبندی کرکے عوام الناس کے سامنے پیش کرتی ہے۔ مردم شماری کے اعداد و شمار کے حصول کا ایک مخصوص طریقہ ہے جس کے مطابق ملک میں ایک دن کا انتخاب کیا جاتا ہے جیسے کہ پاکستان کی چھٹی مردم شماری کے لیے 15 مارچ 2017ء کو صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ اس دوران ملک بھر میں موجود شمار کنندہ گھر گھر جاکر لوگوں سے معلومات جمع کریں گے۔
مردم شماری کے ذریعے حاصل شدہ اعداد و شمار پر محقق اور تجزیہ کار اپنی ضرورت کے تحت تحقیق و تجزیہ کرتے ہیں اور ملک میں معاشی اور معاشرتی تبدیلیوں اور ختم یا پیدا ہونے والے کسی رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مزید برآں مردم شماری سے حاصل کردہ اعداد و شمار ملک میں مختلف یونٹوں کی سطح پر عوام الناس کے معیارِ زندگی کے مطالعے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس طرح مختلف معاشی، معاشرتی اور سماجی نظریے وجود میں آتے ہیں جو تہذیب و ثقافت کے ارتقاء میں معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں، جس پر تحقیق کاروں کو ایم۔فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں تفویض کی جاتی ہیں۔ اس حوالے سے کثیر تعداد میں تحقیقی پرچہ جات اور مقالے گوگل پر تلاش کیے جاسکتے ہیں۔
مردم شماری کا طریقہ کار
’’ادارۂ مردم شماری ‘‘سب سے پہلے بلاکوں کی تقسیم کرتا ہے۔ مردم شماری ایک بہت بڑی مشق ہوتی ہے جس کے لیے مرحلہ وار کام کا تعین کیا جاتا ہے۔ اس مشق میں کثیر سرمایہ اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد درکار ہوتی ہے جو اس عمل کو مکمل کرتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہوتا ہے کہ یہ پورا عمل قاعدے قرینے سے بروئے کار لایا جائے۔ بلاکس بنانے کا بنیادی مقصد شمار کنندہ کے کام کی تقسیم اور اخراجات کا تخمینہ لگانا ہوتا ہے۔ مزید برآں اس عمل سے چھوٹے سے چھوٹا یونٹ بنانا بھی مقصود ہوتا ہے، تاکہ مردم شماری سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے تخمینے میں آسانی ہو اور معیارِ زندگی کا موازنہ بہتر طریقے سے کیا جاسکے، تاکہ عوام الناس کے مسائل کے حل کے لیے عمدہ منصوبہ بندی کی جاسکے۔
ادارۂ مردم شماری شہری علاقوں میں 200 سے 250 گھروں، اور دیہی علاقوں میں 150 سے 200 گھروں کی تعداد کے حساب سے بلاک تقسیم کرتا ہے۔ گھروں کی یہ تعداد رہائش پذیر خاندانوں کی تعداد پر متعین کی جاتی ہے، مثلاً کسی علاقے کی ایک گلی میں 20 گھر ہیں تو ہر گھر کو ایک گھر تصور کیا جائے گا، اور اگر ہر گھر میں منزلیں ہیں اور ان منزلوں میں الگ الگ خاندان رہتے ہیں تو ان منزلوں کو بھی الگ گھر تصور کیا جائے گا۔ لیکن ان منزلوں میں ایک ہی خاندان کے لوگ آباد ہیں تو انہیں ایک گھر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس عمل کی تکمیل کے بعد شمار کنندہ کے کام کے بوجھ کا تعین کیا جاتا ہے کہ اگر ایک گھر سے ڈیٹا حاصل کرنے کا عمل 20 منٹ میں مکمل ہوتا ہے تو پورے بلاک کو مکمل کرنے میں کتنا وقت صرف ہوگا۔ جیسے فرض کریں ایک شمار کنندہ ایک گھر کے ڈیٹا کے حصول میں 20 منٹ صرف کرتا ہے تو ایک دن کے کام کے اوقات میں وہ 21 گھروں کو مکمل کرپائے گا، اور اس کے بلاک میں گھروں کی تعداد 250 ہو تو اس کے کام کو مکمل کرنے کا دورانیہ12 دنوں پر محیط ہوگا۔ اس طرح اس کے معاوضے کا تعین بھی کیا جائے گا۔
ہمارے یہاں یہ خیال عام پایا جاتا ہے کہ بلاکس کی تعداد میں اضافے سے آبادی میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔ حالانکہ اس تصور کی نفی بلاکس کی تشکیل میں صراحت کے ساتھ ہوتی ہے۔ غیر ریاستی عناصر یا ریاستی سیاسی پارٹی کی مداخلت سے من پسند بلاکس کی تشکیل سے صرف مقامی حکومتو ں کی حد بندی میں جزوی فائدہ ہوسکتا ہے جب بلاک خالصتاً برادری یا خاص زبان والے افراد پر مشتمل ہو، اور بلاکس کی ہیئت زگ زیگ کرکے ان کے درمیان جغرافیائی تعلق جوڑا جائے تو اس طرح وارڈ یا یونین کمیٹی/ کونسل کی سیٹ ڈیزائن کی جاسکتی ہے، اس کے سوا کوئی دوسرا فائدہ نظر نہیں آتا۔ بلاکس کے اپنی معیاری حدوں سے باہر نکلنے یا کم ہونے سے شمار کنندہ کو کام کے بوجھ میں کمی یا زیادتی کا سامنا ہوتا ہے اور ادارہ مردم شماری کے اخراجات میں اضافہ یا کمی مشاہدے میں آسکتی ہے۔ مزید برآں ضلعی انتظامیہ اس سلسلے میں زیادہ مسائل کا شکار نظرآتی ہے کیونکہ شمار کنندہ کا انتظام اُس کے ذمے ہوتا ہے۔
پاکستان کی چھٹی مردم شماری 2008ء میں متوقع تھی جس کے لیے بلاکس کی حلقہ بندی کا کام 2007ء میں مکمل کیا گیا، مگر مردم شماری کا اعلان نہیں کیا گیا۔ 2011ء میں مردم شماری کے اعلان کے بعد ان ہی بلاکس کو استعمال کیا گیا جو 2007ء کی حد بندی میں تکمیل کو پہنچے تھے، حالانکہ ان بلاکس کو مزید اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت تھی۔2011ء کی مردم شماری کے پہلے مرحلے خانہ شماری میں ادارۂ مردم شماری کی نااہلی کے سبب زبردست بے قاعدگیاں منظرعام پر آئیں جن کی وجہ سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا، اور اُس وقت کی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اسے تسلیم کروانے سے دست بردار ہوگئی، اور اس طرح قوم کے کم وبیش چار ارب روپے برباد ہوگئے۔ ادارۂ شماریات نے 2015ء میں دوبارہ ان بلاکس کو اپ ڈیٹکروایا، مگر غلط طریقہ کار اختیار کرنے کے باعث بلاکس کی تشکیل پر تنقید اور تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔
مردم شماری کے ڈیٹا کے معیار کے حوالے سے مختلف سوالات اٹھائے جارہے ہیں جن میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ شمار کنندہ جب کسی گھر پر پہنچے گا اور گھر کے سربراہ سے افراد کے کوائف مانگے گا تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ سربراہ افراد کی صحیح تعداد بتائے؟ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے گھر کے افراد کی تعداد زیادہ بتادے۔ کیونکہ شمارکنندہ کو گھر کا سربراہ یا گھر کی نمائندگی کرنے والا جتنے فرد بتائے گا وہ اسے لکھنے کا پابند ہوگا۔ اس طرح ایک ایسا ملک جہاں بسنے والے لوگ گروہوں میں تقسیم ہوں، اور ہر گروہ دوسرے گروہ پر عدم اعتماد کرتا ہو، وہاں کیوں کہ یہ یقین کیا جاسکے گا کہ آبادی کے شمار میں کوئی دھاندلی نہیں کی گئی! دوسری بات آبادی کے شمار میں اس شرط کا عائد ہونا ہے کہ ہر خاندان سے کسی بھی ایک شخص کا شناختی کارڈ دیکھا جائے گا، اور جو خاندان شناختی کارڈ پیش کرنے میں ناکام رہے گا اُس کا اندراج نہیں کیا جائے گا۔ اس حوالے سے بھی لوگوں کے تحفظات بڑے شدید انداز میں سامنے آرہے ہیں کہ مردم شماری کا مقصد سرزمین پر موجود لوگوں کا شمار اور ان کے معیارِ زندگی کا ڈیٹا مرتب کرنا ہوتا ہے تاکہ حکومتی اداروں کو بہتر منصوبہ بندی میں مدد مل سکے۔ اگر شناختی کارڈ نہ رکھنے والے افراد کا اندراج نہ کیا گیا تو آبادی کو وسائل کی تقسیم میں مشکلات کا سامنا رہے گا۔ لہٰذا بہتر ہے کہ ایسے افراد کو بطور غیر پاکستانی درج کرلیا جائے، کیونکہ یہ افراد بھی جملہ ضروریاتِ زندگی کا استعمال کرتے ہیں اور معاشرے کا حصہ ہیں۔ اگر کوئی خاندان اس حوالے سے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہے کہ اس کا اندراج بطور غیر پاکستانی کیا گیا ہے جو غلط ہے، تو اسے انصاف مل سکے۔ لہٰذا اس امر کی ضرورت ہے کہ ایسے بلاکس کو عوام الناس کے سامنے مردم شماری کے عمل کے مرحلوں کی تکمیل کے بعد پیش کردیا جائے تاکہ کسی بھی گروہ کو اس حوالے سے اپنے اعتراضات داخل کرنے کا موقع مل سکے۔
مختلف حلقوں کی جانب سے اس بات پر خدشے کا اظہار کرنا کہ شمار کنندہ جب کسی گھر سے فرد کا قومی شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد اس گھر کے سرپرست سے گھر میں رہنے والے دوسرے افراد کی تعداد معلوم کرے گا اور اس ضمن میں سرپرست کی جانب سے بتائی جانے والی تعداد شمار کنندہ کے لیے حتمی ہوگی تو اس بات کا کیسے یقین کیا جائے کہ سرپرست کی جانب سے بتائی جانے والی تعداد حتمی ہے اور اس میں کسی قسم کا ردوبدل نہیں کیا گیا؟ محکمہ مردم شماری اس بات کا جواب دینے سے قاصر ہے اور یہ دلاسہ دیتا ہے کہ نادرا کی Family Tree سے مردم شماری کے ڈیٹا کی تصدیق کی جائے گی۔ حالانکہ نادرا کا ڈیٹا قومی شناختی کارڈ (18 سال زائد افراد) کی Coverage تو 90 فیصد سے زائد رکھتا ہے مگر اٹھارہ سال سے کم عمر والے افراد کے ڈیٹا کے حصول میں کمی کا سامنا ہے، اور یہ کمی شہروں کی نسبت دیہی علاقوں میں کہیں زیادہ ہے۔ مزید برآں اگر نادرا کا ڈیٹا عوام الناس کا مکمل احاطہ کرتا تو ملک کی آبادی کی گنتی اس ڈیٹا سے ہی ممکن ہوجاتی۔
اس ضمن میں حکومت کو ایسی قانون سازی کی ضرورت ہے جس کے تحتغلط ڈیٹا فراہم کرانے اور کرنے والے اشخاص کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے، جس میں بھاری جرمانے کے علاوہ کم سے کم چھے مہینے قید کی سزا ہو۔ اسے چیک کرنے کے لیے ادارۂ مردم شماری ایک ایسی ٹیم کے ساتھ Random Survey کرے جس نے پہلے مردم شماری کے عمل میں حصہ نہ لیا ہو۔ اس طرح بہت حد تک ڈیٹا کا معیار واضح ہوجائے گا اور پاکستان میں آباد گروہوں کو مردم شماری سے متعلق اطمینان حاصل ہوسکے گا، اور ان کے درمیان بداعتمادی کی فضا میں کمی آئے گی جس کے نتیجے میں شاید ایک قومی سوچ پروان چڑھے اور ہمیں پاکستان میں بھی پاکستانی قوم نظر آسکے۔
پاکستان میں مردم شماری کا معیار 1951ء کی پہلی مردم شماری کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر حالت میں نظر نہیں آتا۔ عوام الناس کے معیارِ زندگی کے حوالے سے تیار کیا گیا سوالنامہ جسے فارم 2A کہا جاتا ہے، آج کے حالات کے تجزیے کے حوالے سے خاطر خواہ اثر نہیں رکھتا۔ 1998ء کی مردم شماری کے ڈیٹا میں بعض بڑی غلطیاں پائی گئی تھیں، مثلاً کُل گھروں کی تعداد اور گھرانوں کی تعداد ایک بتائی گئی جوکہ ممکن ہی نہیں ہوسکتی، کیونکہ مردم شماری کی اپنی تعریف بتاتی ہے کہ گھروں کی گنتی Structures کی بنیاد پر کی جاتی ہے، جبکہ گھرانہ ایک گھر میں رہتے ہوئے الگ باورچی خانہ استعمال کرنے والے کنبے پر مشتمل ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ ممکن ہی نہیں کہ گھروں کی تعداد اور گھرانوں کی تعداد یکساں ہو۔ اس ضمن میں خاندان اور گھرانے کی تعریف نادرا کی جانب سے بہت بہتر کی گئی ہے جس کے مطابق ایک شادی شدہ جوڑا جن کے بچے ہوں، وہ خاندان کہلاتا ہے، اور جیسے ہی ان بچوں کی شادی ہوجاتی ہے تو نادرا انہیں الگ گھرانے کا کوڈ دے دیتا ہے۔ اس طرح بہت بہتر طریقے سے ڈیٹا ترتیب پا جاتا ہے کہ ایک گھر میں کتنے گھرانے ہیں اور یہ گھرانے کتنے کمروں میں آباد ہیں۔ ادارہ برائے مردم شماری اگر اپنے سوالنامے میں بھی گھر اور گھرانے کی تعریف نادرا کی طرح رکھتا تو ڈیٹا کے معیار میں اضافہ ہوتا۔
عوام الناس کے معیارِ زندگی کے حوالے سے ڈیٹا Sample Survey کے ذریعے مرتب کیا جاتا ہے، جس میں کُل بلاکس کا ساڑھے سات فیصد Random بلاکس پر مشتمل ہوتا ہے۔ مردم شماری دس سال میں ایک دفعہ کی جاتی ہے، مگر افسوس ایک معیاری ڈیٹا کے حصول میں اب بھی ناکام ہے۔ Sample Survey ان جگہوں پر کامیاب رہتے ہیں جہاں عوام الناس کا بنیادی ڈیٹا پہلے سے موجود ہو۔ جیسے افرادی قوت کو دیکھنے والی وزارت اُن تمام افراد کا جو صنعتوں سے وابستہ ہوں یا ذاتی کاروبار کرتے ہوں، ڈیٹا اپ ڈیٹ رکھتی ہو۔ محکمہ تعلیم تعلیمی سند رکھنے والے افراد کے ڈیٹا کا خاص ریکارڈ رکھتا ہو۔ اور وزارتِ صحت ملک کے ہر مریض اور معذور افراد کا ڈیٹا باقاعدگی سے مرتب کرتی ہو۔ نقل مکانی کرنے والے افراد کے کوائف دستیاب ہوں۔ مزید اُن تمام لوگوں کے ریکارڈ کا یونٹ بھی مردم شماری والے بلاک ہوں توکسی حد تک یہ Sample Surveys کامیاب ہوں۔ مگر جہاں وزارتیں اپنے کام کے امور سے غافل ہوں وہاں صرف Sample Surveys کی بنیاد پر معیارِ زندگی کا احاطہ دھوکے سے کم نہیں۔ 1998ء کی مردم شماری میں ضلع شرقی میں معذور افراد کی تعداد 10فیصد کے قریب آئی تھی، یعنی 100 میں سے 10 افراد معذور تھے۔ معلوم ہوا کہ ڈیٹا Sample Survey کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا اور تفصیلی ڈیٹا کی مد میں خالی لفافے بھیجے گئے تھے۔ فاٹا کی سینسس رپورٹ میں Single age group populationکے جدول میں صرف مردوں کا ڈیٹا دکھایا گیا، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ FATA کی خواتین کا ڈیٹاصحیح عمل سے حاصل نہیں کیا گیا تھا، کیونکہ سینسس (Census)رپورٹ میں ڈیٹا کی اشاعت صرف اعداد پر ہوتی ہے، کسی کا نام یا رشتہ نہیں بتایا جاتا۔ اگر خواتین کی صحیح تعداد معلوم ہوتی تو لازماً Single age group کا ڈیٹا بھی ترتیب پاتا۔ لہٰذا خواتین کی آبادی کی صرف مجموعی تعداد ملنا مشکوک ڈیٹا کی نمائندگی کرتا ہے۔
کچھ حلقے اس بات پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کررہے ہیں کہ مردم شماری کے عمل میں پاک فوج کا کردار تو شمار کنندہ کے تحفظ کے لیے ہے مگر فوجی اہلکار کی جانب سے مردم شماری کا الگ ڈیٹا کیوں بھرا جارہا ہے، کیونکہ اس طرح تو فوجی اہلکار محافظ کے
(باقی صفحہ 47پر)
بجائے اضافی شمار کنندہ بن جائے گا اور اس اہلکار کو بھی تحفظ کی ضرورت ہوگی، جس کے لیے رینجرز اور پولیس کے اہلکار بھی مردم شماری کے عمل میں مصروف ہوجائیں گے، اور اس طرح عوام الناس لٹیروں کے رحم وکرم پر ہوں گے اور بالخصوص کراچی کے شہری۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر فوج سے بھی ڈیٹا جمع کروانا مقصود تھا تو شمار کنندہ صرف فوجی اہلکار کو بنادیا جاتا۔ اس طرح فوجی خدمات کی مد میں 6 یا ساڑھے 6 ارب روپے میں ہی مردم شماری مکمل ہوجاتی اور سویلین شمار کنندگان کو دینے کے لیے اضافی رقوم کا بوجھ (تقریباً6ارب روپے) نہ پڑتا اور بجٹ خسارے میں کچھ کمی ہوجاتی۔
یہاں اس بات کا ذکر بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ مردم شماری کرانے کی سب سے بہتر صلاحیت جغرافیہ دانوں میں ہوتی ہے، کیونکہ مردم شماری کی بنیاد نقشوں کی تیاری سے تشکیل پاتی ہے، بلکہ ہر وہ ڈیٹا جسے جمع کرنے کے لیے زمینی حلقے استعمال ہوں اس ڈیٹا کو Geospatial ڈیٹا کہا جاتا ہے اور مردم شماری کا ڈیٹا مکمل طور پر جغرافیائی حدود کے پس منظر میں مرتب کیا جاتا ہے۔ مگر افسوس ادارۂ شماریات جس کے تحت مردم شماری کا شعبہ کام کرتا ہے، کا کوئی گورننگ کونسل / باڈی کا رکن جغرافیہ دان نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اس ادارے کا Survey Census and کا رکن بھی ایک ریٹائرڈ شخص ہے جو F.B.S کا سابقہ ملازم ہے اور جغرافیائی معاملات سے نابلد ہے۔
وہ حضرات جو مردم شماری کے ڈیٹا پر اپنے معاشی یا معاشرتی تجزیے کرتے ہیں، Demographer کہلاتے ہیں۔ اور یہ اشخاص کسی بھی مضمون سے تعلق رکھ سکتے ہیں اور عمدہ تجزیہ کار بھی ہوسکتے ہیں، مگر مردم شماری کی مشق سے ان کا کوئی تعلق نہیں بنتا۔ مگر پاکستان میں کسی چیز کے ماہر ہونے کا سب سے اہم معیار بیرونِ ملک کی جامعہ کی ڈگری اور حکومتی حلقوں کے قریب ہونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اداروں کے کام میں Perfection نہیں جس کی وجہ سے تنازعات گھر کیے بیٹھے ہیں۔

Share this: