(فٹا انضمام کا مسئلہ(عبدالرحمن وزیر وانا جنوبی وزیرستان)

Print Friendly, PDF & Email

(دوسر ااورآخری حصہ)
فاٹا کے انضمام پرآج کل ذرائع ابلاغ کے کچھ لوگ مبارک بادیں دے رہے ہیں اور بعض سخت تنقیدکررہے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کا نزلہ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی پر گررہا ہے۔ میں حیران ہوں کہ وہ ایک جائز جمہوری بات کہہ رہے ہیں کہ قبائل کے فیصلے چند اشخاص نہ کریں، بلکہ ریفرنڈم کے ذریعے کروڑوں قبائلیوں کی رائے معلوم کریں۔ اگرچہ میرا بھی اُن کے ساتھ جمہوری اختلاف ہے، لیکن پاکستان میں مروج جمہوریت کے مطابق وہ کوئی غلط بات تو نہیں کررہے ہیں۔ میری رائے مردہ جمہوریت کے بجائے زیادہ عظیم جمہوریت کے حق میں ہے۔ اولف کیرو، جو سابقہ صوبہ سرحد کا ریذیڈنٹ ٹو گورنر گزرا ہے، اپنی عظیم کتاب ’دی پٹھان‘ میں لکھتا ہے کہ اگر کسی کو عظیم جمہوریت دیکھنی ہو تو وہ وزیرستان کی اسمبلی کو دیکھے۔ وہ لکھتا ہے کہ ہماری مغربی جمہوریت میں صرف پارلیمنٹرین کو بولنے کی اجازت ہے، جب کہ ان کی اسمبلی میں امیر غریب، چھوٹے بڑے سب کو بولنے کی اجازت ہے۔ جب کسی مسئلے پر بحث کے دوران بات نہیں بنتی تو اسمبلی گروپوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ اولف کیرو کو گروپ کا پتا نہیں تھا، دراصل چھوٹے چھوٹے قبیلے آپس میں مشورے کے لیے اُٹھ جاتے ہیں، جب یہ گروپس واپس آکر بڑی اسمبلی میں بیٹھتے ہیں تو بولنے والے ایک، دو یا تین رہ جاتے ہیں۔ جب وہ جواب دیتے ہیں تو اولف کیرو کے الفاظ میں وہ جواب برطانیہ کا ہوشیار ترین پارلیمنٹرین بھی نہیں دے سکتا۔
میری ذاتی رائے یہی ہے کہ اس مسئلے کو روایتی جمہوری طریقے سے قوم کے سامنے رکھا جائے۔ بڑے جرگے میں بحث کی جائے۔ جب مسئلہ زیادہ حساس ہو تو مشورے کے لیے تمام قبیلے ایک مہلت رکھ کر جرگہ برخاست کرتے ہیں۔ اور سب قبیلوں سے کہا جاتا ہے کہ فلاں تاریخ کو حتمی فیصلے کے ساتھ جرگے میں آجائیں۔ اگر پھر بھی بات نہ بن سکے تو متفقہ طور پر چند سلجھے ہوئے دیانت دار لوگوں کی کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے اور اسے حتمی فیصلے کا اختیار دیا جاتا ہے۔ وہ جو بھی فیصلہ کریں قوم اُس فیصلے سے اکثر انحراف نہیں کرتی۔ البتہ شاذونادر ایسا ہوتا ہے کہ کمیٹی میں سے چند افراد قوم کے مزاج سے اُلٹ فیصلہ کردیں تو قوم بحیثیتِ مجموعی اٹھ کر اُن کے فیصلے سے انکار کردیتی ہے، جس کی مثال 2004ء میں تشکیل شدہ 35 رکنی کمیٹی کے فیصلوں سے قوم کا انکار کرنا ہے۔ اس کے بعد دو دن میں بڑا جرگہ منعقد ہوا اورکمیٹی کو برخاست کردیا گیا۔
مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے سیاسی لیڈروں کو اللہ تعالیٰ نے اتنی بھی بصیرت نہیں دی کہ وہ سیاسی سوجھ بوجھ کے تحت کوئی بہتر فیصلہ کرسکیں۔ کیا ہم سوسال سے بھی زیادہ پیچھے کے دور میں وقت گزار رہے ہیں؟ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کی مخالفت بجا ہے۔ وہ دونوں پشتون لیڈر ہیں۔ قبائلیوں کی نشاۃِ ثانیہ کا ادراک رکھتے ہیں۔ مجھے یہ خطرہ محسوس ہورہا ہے کہ خدانخواستہ ایک غلط فیصلہ قبائل پر تھوپنے سے بڑی بغاوت نہ اُٹھ جائے جس کا ہماری کمزور حکومت بعد میں ازالہ نہ کرسکے گی۔ بعد میں غلطی پر افسوس کرنے سے کیا فائدہ؟ ابھی تو عارضی طور پر بے گھر افراد اپنے اپنے علاقوں میں پہنچے بھی نہیں، اور جو پہنچے ہیں اُن میں سے ہر قبائلی کے گھر کے سامنے ایک فوجی کھڑا ہے۔ مجھے دکھ ہوتا ہے کہ نااہل سیاست دانوں کی وجہ سے ہماری فوج بیک وقت کئی محاذوں میں پھنسی ہوئی ہے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات خراب ہیں، اُدھر انڈیا بھی آئے روز سرحد کی خلاف ورزی کرتا رہتا ہے، کراچی آپریشن ختم نہیں ہوا کہ پنجاب میں بھی فوج کے لیے نیا محاذ کھل گیا۔ ضرب عضب بھی ختم ہونے کا نام نہیں لیتا، اوپر سے قبائلیوں کے گھر کے سامنے بھی ایک ایک فوجی کھڑا کردیا۔ فوج کی بربادی ملک کی بربادی ہے۔ فوج کو اس قسم کے معاملات میں گھسیٹ کر حکومت اپنے پیروں پر کلہاڑی مار رہی ہے۔ اس مروجہ سیاسی گند میں فوج بھی کرپشن کے زہر سے نہ بچ سکے گی۔
1997ء میں جب پہلی بار مولانا نور محمد شہید رکنِ قومی اسمبلی بن کر اسلام آباد آئے تو آپ نے عوام سے ہر جلسے میں FCR کو ختم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اُس کی پاسداری کے سلسلے میں کوششیں شروع کردیں۔ رکن قومی اسمبلی لطیف آفریدی نے جو اعلیٰ پائے کے وکیل ہیں، اُن کا بھرپور ساتھ دیا۔ پہلے مشاورتی اجلاس میں اس سوال نے سنجیدہ طبقے کو پریشان کردیا کہ فرض کریں ہم FCRکو ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو وہ کون سا متبادل قانون ہو جس کے سائے میں ہم بہتر وقت گزار سکیں؟ پہلے آپشن کے طور پر بندوبستی علاقوں میں نافذ قانون کو قبائلی پٹی میں نافذ کرنا اس لیے ممکن دکھائی نہیں دے رہا تھا کہ یہ قانون قبائلی طرزِ معاشرت سے یکسر متصادم ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی قوانین سمیت ہر قانون میں اس بات کو مدنظر رکھا گیا ہے کہ اگر وہ قانون وہاں کی معاشرتی اقدار و روایات کے ساتھ کسی حد تک ہم آہنگ ہو تو باقی رہتا ہے۔ رہے شرعی قوانین، تو اس بارے میں عرض ہے کہ اگر مجموعی طور پر پوری پشتون بیلٹ اور خصوصی طور پر قبائلی طرزِ زندگی کے بنیادی اصولوں پر گہری نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ قبائل کی دین داری اور اسلام کے نام پر مرمٹنے کی ان کی شہرت کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک سراب ہے، حقیقت نہیں۔ پشتون دودھ پینے والے مجنوں ہیں، حقیقی عاشق نہیں۔ اگر کسی علاقے کے لوگ قرآن کی ایک بڑی سورۃ یعنی سورۃ النساء کے عملاً انکاری ہوں، بہن بیٹی کے مہر کو مالِ غنیمت سمجھتے ہوں، میراث کے نام پر عورت کو ایک پائی دینے کو تیار نہ ہوں، بیوہ بھابھی کو دیور اپنی ملکیت سمجھتا ہو، مطلقہ عورت پر مخصوص علاقوں یا قومیتوں میں دوسری شادی نہ کرنے کی پابندی لگائی جاتی ہو، اور اس فیصلے کو علاقے کے معززین اور اصحابِ علم کی ظاہری یا درپردہ آشیرباد باد حاصل ہو، تو وہاں شرعی قانون نافذ کرنے کے لیے زیاد ابن ابی جیسے گورنر اور منتظم کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
اس سنجیدہ مسئلے کو انہی الفاظ میں مولانا نور محمد شہید نے وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 17گریڈ سے لے کر 21گریڈ تک کے چالیس پچاس افسروں کے سامنے ایک اجلاس میں رکھا۔ اِن میں ایاز وزیر موجودہ اینکرپرسن، خمار خان محسود جو وزیراعظم نوازشریف کے سیکرٹری رہ چکے ہیں، اور سنگی مرجان جو اُس وقت کمشنر پشاور تھے، شامل تھے۔ ان افسروں نے مولانا صاحب سے بیک آواز کہہ دیا کہ فی الحال اس مسئلے کو نہ چھیڑیں جب تک اس کا متبادل نہ تلاش کرلیا جائے۔
1980ء سے لے کر آج تک قبائلی پٹی پر بہت سے مشکل حالات آئے، جن کی وجہ سے قبائلی نظم و نسق کا ڈھانچا اور ایف سی آر قانون کی دفعات بری طرح متاثر ہوئیں۔ پرانا جرگہ سسٹم فعال نہ رہ سکا اور پولیٹکل انتظامیہ بھی ہنگامی حالات کی وجہ سے بہت متاثر ہوئی۔ اُن کے اختیارات بھی ہنگامی حالات کی نذر ہوگئے۔ آج حالت یہ ہے کہ وزیرستان میں نہ تو ایف سی آر مؤثر طور پر روبہ عمل ہے اور نہ ہی کسی دوسرے موزوں متبادل قانون کے آثار نظر آرہے ہیں۔ وزیرستان کے ہر سنجیدہ اور باشعور انسان کو اس خلاء کا بخوبی ادراک ہے اور ہرشخص متفکر بھی ہے۔ راقم الحروف بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ایک ہے۔ پچھلی دو دہائیوں سے مجھے یہ خیال پریشان کیے جارہا ہے کہ آخر اس علاقے کا مستقبل کیا ہوگا؟ اور وہ کون سا قانون ہوسکتا ہے جس کے تحت ہر لحاظ سے پسماندہ اور ظلم و ستم کے مارے ہوئے لوگوں، یعنی زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم طبقے کی زندگی کو آرام دہ، منظم اور پُرسکون بنایا جاسکے؟
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جہاں ظلم عام ہو وہاں اللہ تعالیٰ کا قہر نازل ہوتا ہے۔ اگرچہ انسان اس کو دنیاوی اسباب میں سے کسی سبب کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ جہاں انصاف کا بول بالا رہا، وہاں کے لوگوں کو چین نصیب ہوا۔ آج اس قبائلی پٹی میں ظلم کا بازار گرم ہے۔کمزوروں کا حق مارا جارہا ہے۔ طاقتور دن بہ دن ظلم و جبر کے رسیا بنتے جارہے ہیں۔ پھر بھی لوگ یہی اُمید لگائے بیٹھے ہیں کہ علاقے میں مزید قہرِ خداوندی کسی نہ کسی شکل میں ظہور پذیر نہیں ہوگا۔ ایں خیال است و محال است و جنوں!
قابلِ عمل منصوبہ:گرینڈ جرگہ
سو سالہ قانون ایف سی آر میں تبدیلی کا نہ اسمبلی کو اختیار ہے، نہ صدر کو، نہ وزیراعظم کو، اور نہ ہی سپریم کورٹ کو۔ اگر تبدیلی کا اختیار ہے تو صرف گرینڈ جرگہ کو ہے۔ اس لیے اس قانون میں ترمیم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر ایجنسی اور تحصیل میں اہلِ بصیرت، امانت دار اور راست گو افراد کی فہرست بنائی جائے، یا اس مقالے کے آغاز میں جو طریقہ لکھا ہے، اس کے تحت ان لوگوں کی فہرست بناکر گرینڈ جرگہ سے اس کی تائید حاصل کی جائے۔ ان کو مکمل اختیار دیا جائے کہ آئندہ کے لیے یہ افراد جو ترمیم ایف سی آر اور رسم و رواج میں مناسب سمجھیں، کرلیں، ہمیں منظور ہوگا۔ اس جرگہ میں مَلک صاحبان، علماء حضرات، وزیرستان سے تعلق رکھنے والے وکلاء اور قومی عمائدین سر جوڑ کر بیٹھیں، مستقبل کا لائحہ عمل بنائیں اور ایف سی آر اور قبائل کے رسم و رواج کی وہ شقیں جو اسلامی تعلیمات سے یکسر متصادم ہیں، ان میں ترامیم کریں۔
اختیارات:
یہ کونسل قانون سازی میں خودمختار ہوگی، البتہ کسی اہم ضرورت یا مشکل حالات میں پولیٹکل انتظامیہ، قبائلی ملکان، جرگہ اور قوم کے سرکردہ عمائدین کو بھی شریکِ کار کرنے کی مجاز ہوگی۔ ایجنسی کے تمام امور میں یہ کونسل حکومت کو صائب مشورے دے سکے گی۔ جہاں کسی محکمہ کی کارکردگی میں خرابی نظر آئے، یہ کونسل مجاز ہوگی کہ حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کرائے۔
عدلیہ:
قبائلی علاقوں میں باقاعدہ عدالتیں موجود نہیں ہیں۔ ہر تنازعے کے لیے عارضی طور پر جرگہ قائم کرکے فیصلہ سنا دیا جاتا ہے، یا قاضیو ں کے سامنے فریقین دعویٰ دائر کرتے ہیں۔ لیکن بدلتے حالات میں اب وقت کا تقاضا ہے کہ یہاں باقاعدہ طور پر گرینڈ جرگہ کی کونسل خود قاضی عدالتیں اور رواج کی عدالتیں یعنی دو قسم کی عدالتیں قائم کرے۔
1) شرعی عدالت:
یہ عدالت تین سے پانچ دیانت دار قاضیوں پر مشتمل ہو، جن کی تقرری کونسل خود کرے۔ جو لوگ شریعت کورٹ سے فیصلہ کرانا چاہیں وہ یہاں سے کم اخراجات میں مختصر مدت کے اندر انصاف پر مبنی فیصلے حاصل کرسکیں گے۔
2) رواج عدالت:
یہ عدالت علاقے کے مشہور رواجی ثالثان پر مشتمل ہو۔ چونکہ ایسے لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں، اس لیے ان کی ایک فہرست کونسل کے پاس موجود ہونی چاہیے۔ فرض کریں ٹرانسپورٹ سے متعلق تنازع آئے تو ٹرانسپورٹ میں تجربہ رکھنے والے تین یا پانچ افراد کو بلا کر فریقین کے دعوے کے مطابق فیصلے کرائے جائیں۔ اسی طرح کاروباری اور زمینوں اور پہاڑوں کے تنازعات سمجھنے والے لوگوں کے حوالے متعلقہ تنازعات کیے جائیں۔
3) اپیل کا حق:
اگر کوئی فریق فیصلے کے خلاف اپیل کرنا چاہے تو سابقہ منصفان کے علاوہ دو مزید ثالثان شامل کرکے مقدمہ کی ازسرنو سماعت کی جائے۔ فریقین میں سے ہر ایک کو صرف ایک مرتبہ اپیل کا حق ملنا چاہیے۔
4)کونسل کے انتخاب کا طریقہ کار:
کونسل کے انتخاب کا ایک تو مروجہ طریقہ کار ہے۔ اس طریقہ کار پر حکومتِ پاکستان بھی پچھلے ساٹھ سالوں سے عمل پیرا ہے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ عدل و انصاف کے معاملے میں ہمارا ملک ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف جارہا ہے۔ اس طریقہ کار کے نتیجے میں وقتاً وقتاً دیکھنے میں آتا ہے کہ اقتدار نااہل لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ جاتا ہے۔
دوسرا طریقہ اسلامی یا ہانگ کانگ کا طریقہ ہے۔ اس طریقے میں اہلِ بصیرت اور دیانت دار لوگوں کو اختیار دیا جاتا ہے۔ اوپر کونسل کے جس طریقے کا ذکر ہوا ہے اسی کونسل کو مستقل کیا جائے۔ خدانخواستہ کوئی فوت ہوجائے یا بیمار ہوجائے، یا کرپشن ثابت ہو تو کونسل کی اکثریت اسی قبیلے سے دوسرے اہل شخص کو نامزد کردے گی۔ اس طریقے سے کونسل میں باکردار لوگ آتے رہیں گے۔
5)قوتِ نافذہ:
کسی ضابطے اور قانون کو لاگو کرنے والی قوت کو قوتِ نافذہ کہتے ہیں۔ یہ قوت ہر معاشرے میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہوتی ہے۔ مثلاً جنوبی وزیرستان میں تیس چالیس سال پہلے تک، بلکہ کبھی کبھی آج بھی، جب کسی بڑی قوم یا قبیلے کو اپنا فیصلہ قوم پر نافذ کرنا ہو تو ایک مخصوص لشکر تشکیل دیا جاتا ہے جسے مقامی زبان میں ’’چالو یشتی‘‘ یا چالیس رکنی لشکر کہا جاتا ہے۔ نام کے علاوہ اس لشکر کے افراد موقع محل کے مطابق کم یا زیادہ بھی ہوسکتے ہیں۔ کوئی فرد اگر قومی فیصلے ماننے میں ٹال مٹول سے کام لیتا ہو تو لشکر مذکورہ شخص پر جرمانہ کرتا ہے اور بعض اوقات مجرم کا مکان بھی مسمار کیا جاتا ہے، جس کی مثال 2007ء میں وانا سے دہشت گردوں کو نکالتے وقت دنیا بھرکے ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ وہ چالیس رکنی کمیٹی اور چار ہزار ’’چالویشتی‘‘ یعنی قبائلی لشکر پر مشتمل تھی۔ وہ دہشت گرد جنہیں حکومت ضرب عضب کے ذریعے تین سال میں نہ نکال سکی، انہیں اس لشکر نے دو ہفتوں میں اپنے علاقے سے باہر دھکیل دیا۔
لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔ نہ وہ قومی یکجہتی رہی اور نہ لوگوں کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ قومی جرگہ میں پہلے کی طرح بھرپور شرکت کرسکیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ قوم کی 90 فیصد آبادی کا مَلک صاحبان پر کوئی اعتماد نہیں رہا۔ اس لیے آج دیکھنے میں آرہا ہے کہ بہت سے قومی جرگوں اور شرعی ثالثان کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہورہا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ سامنے آرہا ہے کہ فیصلہ گولی کے ذریعے کرنے کا سابقہ رجحان ذہنوں میں انگڑائی لینے لگا ہے۔ یہ مستقبل کے لیے نہایت خطرناک صورت حال ثابت ہوسکتی ہے۔
اب میرے ناقص ذہن میں یہ تجویز آرہی ہے کہ کونسل مختلف قبیلوں سے اہل، صحت مند اور دیانت دار جوانوں کا ایک لشکر چن لے، ان کو باقاعدہ پولیس ٹریننگ دی جائے، اور یہ لشکر ہمہ وقت کونسل یا عدالت کے ماتحت رہے۔ اگر خدانخواستہ یہ لشکر بے بس ہوگیا تو عدالت حسبِ سابق پولیٹکل انتظامیہ سے اختیارات استعمال کرنے کی درخواست کرے گی۔ ظاہر ہے حکومت کی طاقت کے سامنے کوئی نہیں ٹھیر سکے گا۔
6) اخراجات:
کونسل کے ارکان کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات حکومت کے ذمے ہوں گے، خواہ وہ باقاعدہ فنانس سے دینا منظور کرے یا پولیٹکل ایجنٹ کے BF فنڈ سے۔ چونکہ ان کی حیثیت قانون ساز اسمبلی کے اراکین جیسی ہوگی اس لیے ان کے لیے جرگہ ہال یا اسمبلی ہال کا انتظام بھی حکومت کے ذمے ہوگا۔
آخر میں مقتدر حلقوں سے ایک بار پھر گزارش کرنی ہے کہ وانا میں قومی جرگے نے پچھلے نو سال سے مثالی امن قائم کررکھا ہے۔ اگرچہ امن کمیٹی میں کچھ خرابیاں اورکمزوریاں درآئی ہیں، لیکن ان کی اصلاح کی جاسکتی ہے۔ عرض یہ کرنا مقصود ہے کہ ایف سی آر 1893ء میں وانا میں لاگو کرنے کے بعد فاٹا میں نافذ ہوا۔ اب وانا کو ایک ٹیسٹ یونٹ کے طور پر موقع دیا جائے تاکہ ذکر شدہ منصوبے کے تحت ایک نظام قائم کیا جائے، پھر اُسی رواج کے عدالتی نظام میں بتدریج ترامیم کرکے اسے پاکستانی قومی دھارے کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔ بصورتِ دیگر اگر ان کو اعتماد میں لیے بغیر اُن کی مرضی کے خلاف فیصلے تھوپنے کی کوشش کی گئی تو جلد یا بدیر اس کا شدید ردعمل مختلف شکلوں میں سامنے آئے گا۔ پچھلی سو سالہ تاریخ بھی اس کی گواہ ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ فاٹا کے عوام کو اُن کا جمہوری حق دے کر انھیں اپنے فیصلے خود کرنے دیں۔

Share this: