(بچوں ایک فرد نہیں ہے (تحریر: جامی چانڈیو

Print Friendly, PDF & Email

ترجمہ: اسامہ تنولی
’’کاوش کی 13 مارچ کی اشاعت میں محکمہ تعلیم میرپورخاص کے آفس سپرنٹنڈنٹ بَچُومَل کے گھر پر چھاپے کی اسٹوری شائع ہوئی ہے جس میں اس کے گھر سے 25کروڑ کے انعامی بانڈز اور دیگر دستاویز کے ساتھ ساتھ اس کے 25 کروڑ روپے مالیت کے دیگر ثبوت بھی ہاتھ آئے ہیں۔ اس سے ایک روز قبل اسی طرح ہالا کے مشتاق شیخ کے بارے میں نیب کی جانب سے اسی نوعیت کی تفصیلات بذریعہ میڈیا ظاہر کی گئی ہیں۔ مشتاق شیخ حیدرآباد میں محکمہ خزانہ (ٹریژری) کا سابق اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر تھا۔ دیکھا جائے تو ’’بَچُو‘‘ اور ’’مشتاق شیخ‘‘ کوئی محض فردِ واحد نہیں ہیں بلکہ دراصل یہ تو ایک مکمل طور پر کرپٹ، لوٹ مار اور عوام دشمنی پر استوار نظام کے معمولی سے کل پرزے ہیں۔ اصل ’’بَچُو‘‘ تو حکومت کی وزارتوں، اعلیٰ انتظامی عہدوں اور دبئی، اسلام آباد بہ شمول راولپنڈی میں براجمان ہیں۔ ’’بچو مل‘‘ اور ’’مشتاق شیخ‘‘ تو اس حکمران طبقے اورکرپٹ نظام کے ’’کماؤ پوت‘‘ ہیں۔ اب تصور کیجیے کہ اگر اس کرپٹ سسٹم کے معمولی کارندوں کے ہاں سے یہ خزانے برآمد ہوئے ہیں تو پھر عوام کا چوبیس گھنٹے معاشی خون چوسنے والے حکمران طبقے کے ہاں کتنے خزانے پوشیدہ ہوں گے! اگر قارون اس دور میں ہوتا تو ان کا کمدار (غلام) ہوتا۔ بھلا کیا آپ نے ساری دنیا میں کہیں اور ایسے محلات جیسے گھر بنے ہوئے دیکھے ہیں جو آپ کو اس ملک میں ڈیفنس ہاؤسنگ اسکیموں اور بڑے بڑے شہروں میں دکھائی دیتے ہیں، اور وڈیروں کے وہ محلات جو ہر چھوٹے شہر اور گوٹھ میں آپ کو اور ہمیں نظر آتے ہیں؟ سارا سندھ گھوم کر دیکھ لیجیے، آپ کو چند خاندانوں کے ایسے محلات نظر آئیں گے اور باقی سارے سندھ میں دُھوڑ(گرد) اڑتی ہوئی دکھائی دے گی۔ کیاا ایک نوکری پیشہ تنخواہ دار طبقہ اتنا خوش حال اور امیر کبیر ہوسکتا ہے جو آپ کو اس ملک اور سندھ میں دکھائی دیتا ہے؟ بھلا حق حلال کی تنخواہوں اور زمینداری سے یہ خزانے اور ملکیت، مال و جائداد حاصل کرنا ممکن ہے جو سندھ اور ملک میں ہمیں ایسے طبقات میں دیکھنے کو ملتی ہیں؟ ان خاندانوں کے بڑے بزرگوں کے آبائی گھر اور مال و جائداد دیکھنے کے لیے چار دہائی پیچھے کی سمت جایا جائے تو کیا سارا سپید و سیاہ واضح ہوکر سامنے نہیں آجائے گا؟ سندھ اور ملک کے زمینداروں اور بیوروکریٹس کے عمدہ اور بڑے گھر تو ہوا کرتے تھے لیکن آج کل کی طرز کے محلات ہرگز نہیں تھے۔ اس لیے آپ کو بذریعہ دھاندلی جمع کردہ اس خزانے کے ٹھوس ثبوت بھلے سے ہاتھ نہ آئیں لیکن یہ بات کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ ان بدعنوان مذکورہ عناصر کے پاس یہ ساری عوام کے ٹیکسوں کی لوٹی گئی اور چھینی گئی جمع کردہ دولت ہے جو انہوں نے محلات، فارم ہاؤسز، کارخانوں، کروڑوں اور اربوں کی گاڑیوں، ملکی اور غیر ملکی بینک اکاؤنٹس وغیرہ کی صورت میں اکٹھی کررکھی ہے۔ بَچُو اور مشتاق شیخ اس پورے کرپٹ نظام کا معمولی سا عکس اور محض ایک جھلک ہیں۔ سوال یہ ہے کہ بَچُو اور مشتاق شیخ تو پکڑے گئے کہ انہیں نیب نے اپنی حراست میں لیا ہے، لیکن کیا وہ دیگر سینکڑوں اصل ’’بَچُو‘‘ بچ رہیں گے جن کا وجود ان کی کرپشن کا ثبوت ہے؟ سندھ کے ٹوٹے پھوٹے راستے، برباد تعلیمی نظام، صحت کا تباہ حال شعبہ اور اہلِ سندھ پر قیامتیں بپا کرنے والا آب پاشی کا شعبہ بجائے خود اس حوالے سے بہت بڑے اور ٹھوس ثبوت کی صورت میں موجود ہیں۔ یہ تسلیم کہ تھوڑی بہت کرپشن تو ساری دنیا ہی میں ہوا کرتی ہے۔ ہاں تیسری دنیا میں قدرے زیادہ ہوتی ہے۔ ہمارے اس ملک اور دیگر صوبوں میں بھی کچھ کم نہیں ہوگی، لیکن سندھ اس کرپٹ، نااہل اور اقربا پروری پر مبنی عوام دشمن کلچر کا بدترین نشانہ بنا ہوا ہے۔ کرپشن یہاں پر ہر دور میں تھی اور پرویزمشرف کے دور میں بھی عروج پر تھی، لیکن 2008ء کے بعد کا ذکر اس لیے زیادہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد ملک میں آئینی اور سیاسی حکومتیں بحال ہوئیں۔ جسے جمہوریت کہا جاتا ہے، وہ جمہوریت جس کے لیے نہ صرف عوام نے جدوجہد کی اور قربانیاں دیں بلکہ خود محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی زندگی کی قربانی دی۔ سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت کو تقریباً 9 برس بیت چکے ہیں۔ اس سارے عرصے میں کسی ایک بھی شعبے میں اصلاح ہوئی؟ کوئی ایک بھی ادارہ بہتر ہوا؟ کوئی ایک ضلع، شہر، تعلقہ یا گوٹھ 21 ویں صدی میں داخل ہوسکا؟ جب جمہوریت کا مطلب محض عوام کے ٹھپے ہوں، حکمرانی کا مطلب صرف بادشاہت ہو، اور اقتدار کا مطلب آنکھیں بند کرکے عوام اور دھرتی کے وسائل کی لوٹ مار اور اپنے شکم دوزخ کو بھرنے تک ہی محدود رہ جائے تو کیا پھر اسے بھی جمہوریت ہی کا نام دیا جائے؟ نام نہاد ’’اشرافیہ‘‘ کے اس رہزن اور خون پینے والے نظام کو اگر جمہوریت کہا گیا تو روسو اور والٹیئر کی ہڈیاں بھی اپنی اپنی قبروں میں تڑپنے پر مجبور ہوجائیں گی۔ جمہوریت کا مطلب اور مقصد ہے فرد کی آزادی۔ کیا ہمارے ہاں رائج اس موجودہ نظام میں ایک عام دیہاتی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے میں سچ مچ آزاد ہے؟ مجبوریوں، ظلم و جبر، وڈیروں کے خوف اور جھوٹے آسروں کی زنجیروں میں اسیر کردہ نہیں ہے؟ جمہوریت کا مطلب ہے برابری۔ کیا ہمارے ہاں معاشی، سماجی، ذہنی، احساساتی اور سیاسی برابری (مساوات) کا کوئی عام فرد تصور بھی کرسکتا ہے؟ جمہوریت کا مطلب ہے انسانی حقوق۔ جس سندھ میں 80 فیصد سے زیادہ لوگ زہریلا پانی پیتے ہوں، بچیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے قتل کردیا جاتا ہو، قابل نوجوان حصولِ روزگار کے لیے دھکے کھاتے پھرتے ہوں، اسکول جانے کی عمر کے 52 فیصد بچے اسکول جانے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں، اور جو اسکول جاتے ہوں وہ بھی معیاری تعلیم سے محروم ہوں بھلا وہاں انسانی حقوق کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے؟جمہوریت کا مطلب قانون کی حکمرانی بھی ہے۔ اگر قانون کی حکمرانی مروج ہوتی تو کیا بَچُو مل اور مشتاق کو یہ جرأت یا ان کی یہ مجال ہوتی کہ وہ اتنی ناجائز دولت اپنے پاس جمع کرسکتے؟ اور کیا اس صورت میں ان کے بڑے بَچُو دبئی، کراچی اور اسلام آباد میں اس قدر اطمینان و سکون اور آرام کے ساتھ قیام پذیر ہوسکتے تھے؟
اس حوالے سے میں آخری بات سندھ کے سماج اور تمام باشعور افراد سے کرنا چاہتا ہوں۔ سندھ نے اس ملک میں جن مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کی ہے ان میں حقیقی جمہوریت، اقوام اور صوبوں کی مساوات پر مبنی وفاق، ایک سیکولر ریاست کے قیام اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مذہبی انتہا پسندوں، نسل پرستی، جاگیردار شاہی اور اس لوٹ مار پر مبنی نظام سے نجات جیسے امور شامل رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جمہوریت کی بظاہر رخصتی اور جمہوریت کے نام پر ’’بَچُو نواز‘‘ لٹیرے اورکرپٹ نظام کی آمد سے یہ سفر اس طرح سے تمام نہیں ہوجاتا۔ یہ مسافت طولانی ہے اور اس سفر کو کبھی تھمنا نہیں چاہیے۔ اہلِ سندھ نے جو جدوجہد آمریتوں کے خلاف کی، سندھ کے عوام کو یہ جدوجہد اب دیگر بڑے معاملات سے جوڑ کر سندھ میں خراب طرزِ حکمرانی، کرپشن، اقربا پروری اور میرٹ کی پامالی، وسائل کی لوٹ مار اور اداروں کے زوال کے خلاف، اور تعلیم اور صحت کے شعبوں کی بحالی اور بنیادی شہری حقوق کے حصول پر مرتکز کرکے ان کے حصول کے لیے بھی سعی کرنی چاہیے۔ آمریتوں کے ادوار میں جدوجہد کے طریقے، محرکات اور حکمت عملیاں مختلف بنیادوں پر استوار ہوتی ہیں اور کہیں زیادہ مزاحمتی بھی۔ جب کہ آئینی اور سیاسی حکومتوں میں ان کے طریقے اور مقاصد مختلف ہوا کرتے ہیں۔ چند دہائیاں قبل سندھ نے اپنی قومی شناخت، زبان (بولی) کے تحفظ اور مجموعی طور پر اپنے وجود کی بقا کے لیے جدوجہد کی تھی۔ سندھ نے یہ مشکل مرحلہ بڑی حد تک عبور کرلیا ہے۔ اب سندھ کے وجود کو لاحق خطرے سے کہیں زیادہ سندھ کے وسائل، اداروں، میرٹ، نژادِنو کے مستقبل، قانون کی حکمرانی اور لوگوں کے بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کو خطرہ درپیش ہے۔ اس لیے ہماری سیاسی پارٹیوں، ادیبوں، صحافیوں اور معاشرے کے تمام قابلِ ذکر اور مؤثر حلقوں کو ان پہلوؤں پر بھی مطلوبہ توجہ مبذول کرنی ہوگی۔ سندھ میں مسائل کا انبار ہے جو خراب حکمرانی کے سبب سے ہیں اور جو حل ہوسکتے ہیں۔ اگر سندھ میں خراب حکمرانی، بدعنوانی، اقربا پروری، میرٹ کی پامالی کا حال یہی رہا تو پھر اگر ہم مرکز سے لڑ کر جتنے بھی وسائل حاصل کریں گے وہ کرپشن اور نااہلی کی اس کانِ نمک کی نذر ہوکر رہ جائیں گے۔ جس طرح سے سندھ کے ایک لائق فرزند شہاب اوستو نے سندھ میں پینے کے پانی کے حوالے سے کیس داخل کیا ہے، بعینہٖ صحت، تعلیم، آب پاشی اور یونیورسٹیوں کے بارے میں بھی کیس داخل کیے جانے چاہئیں، جنہیں اس نااہل اور کرپٹ حکمرانی نے نیم مُردہ کرکے رکھ چھوڑا ہے۔
بَچُو مل اور مشتاق شیخ کے بارے میں تحقیقات نیب نے کی ہیں، لیکن یہ جو سندھ میں وزارتوں، اہم انتظامی عہدوں پر براجمان بڑے بَچُو مل ہیں، اس حوالے سے تحقیقات آخر کون کرے گا؟ شرجیل میمن کا تو رینجرز والوں نے ناطقہ بند کردیا تھا جس کی وجہ سے موصوف بھاگ گئے (اب واپس آگئے ہیں)، دیگر پر ہاتھ کون ڈالے گا؟ میں سمجھتا ہوں کہ سندھ حکومت سے تو اس کی توقع قائم کرنا کارِ عبث ہے۔ کیونکہ یہ موجودہ کرپشن کی گرم بازاری ہی بیرون ملک مقیم کسی ’’بَچُومل‘‘ کی ہے۔ اس لیے میڈم مہتاب اکبر راشدی کی طرح کی کسی رکن اسمبلی کو اس قسم کا بل سندھ اسمبلی میں پیش کرنا چاہیے جس کے تحت سندھ میں کرپشن کے خلاف کوئی شفاف ادارہ اور نظام تشکیل دیا جائے، جہاں فریاد کی جاسکے۔ جہاں کوئی پکار سننے والا ہو۔ جہاں پر کسی نوع کی درست تحقیقات کا طریقہ اپنایا جائے اور جہاں کرپشن، اقربا پروری اور میرٹ کی پامالی کی روک تھام کی جاسکے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ مقامی حکومتوں (بلدیاتی نظام) کے بعد کرپشن کا یہ بازار نچلی سطح تک گرم ہوگا۔ سندھ میں وڈیروں کا طبقہ زرداری صاحب کے ’’فلسفۂ مفاہمت‘‘ کے تحت پوری طرح سے اکٹھا ہوچکا ہے۔ جو چار خاندان باہر بیٹھے ہوئے ہیں وہ بھی آہستہ آہستہ سرکتے ہوئے اسی دیگ میں سے کھانے کو ترجیح دیں گے۔ سندھ میں تھوڑے بہت ایماندار افسران ہیں جو فرض شناس بھی ہیں، لیکن بیشتر اسی کلچر کی پیداوار ہیں۔ اس لیے سندھ کے حکمران طبقے کو فی الحال کوئی بھی خطرہ یا دباؤ محسوس نہیں ہورہا ہے۔ لہٰذا سندھ میں حقیقی حزب مخالف کا کردار تمام اہلِ دانش اور دیگر حلقوں کو ادا کرنا پڑے گا، کیونکہ اس کرپٹ اور عوام دشمن نظام میں ’’بَچُو مل‘‘ کوئی ایک فرد نہیں ہے۔‘‘

Share this: