(جامعہ کراچی سے جامعہ لندن(محمد حمزہ فاروقی

Print Friendly, PDF & Email

کتاب
:
جامعہ کراچی سے جامعہ لندن
مصنف
:
محمد حمزہ فاروقی
صفحات
:
124 قیمت 300 روپے
ناشر
:
ادارہ یادگارِ غالب و غالب لائبریری پوسٹ بکس نمبر 2268۔ ناظم آباد کراچی 74600
فون نمبر
:
021-36686998
یہ وارداتِ علمی جناب محمد حمزہ فاروقی کی ہے جسے حمزہ صاحب نے دلچسپ ادبی پیرائے میں تحریر کیا ہے۔ ڈاکٹر رؤف پاریکھ تحریر فرماتے ہیں:
’’محمد حمزہ فاروقی صاحب کی یہ کتاب ان کی تین تحریروں پر مشتمل ہے۔ ایک کراچی یونیورسٹی میں ان کے چار سالہ دورِ طالب علمی کی دلچسپ اور پرُمزاح یادداشتوں پر مشتمل ہے اور دوسری لندن یونیورسٹی میں حصولِ علم کے لیے صرف کیے گئے دو برسوں کی روداد ہے۔ تیسری انکے مطالعے کے سفر کا بیان ہے۔
فاروقی صاحب کے اندر ایک مزاح نگار چھپا بیٹھا ہے جو موقع بہ موقع (بلکہ بعض اوقات بغیر موقعے کے بھی) باہر آجاتا ہے اور وہ نہایت سنجیدگی سے مزاحیہ اور طنزیہ فقرے بڑی معصومیت سے لکھ کر یوں آگے بڑھ جاتے ہیں گویا کچھ کیا ہی نہ ہو۔ کہیں کہیں تو واوین (inverted commas) کی بھی زحمت نہیں کرتے اور بے چارے سادہ لوح قاری سوچتے رہ جاتے ہیں کہ یہ کیا ہوا۔ ان کی یہ رگ ظرافت علمی اور تاریخی مباحث میں بھی پھڑک اٹھتی ہے اور خاص طورپر کسی ناپسندیدہ شخصیت کا ذکر ہونے پر فاروقی صاحب اس پر چوٹ کیے بغیر رہ نہیں سکتے۔ کبھی کبھی ان سے درخواست کرنی پڑتی ہے کہ ایسے مواقع پر اپنے قلم کو گل کترنے سے باز رکھیے اور یہ موج خرام یار کی سی چال کسی اور تحریر کے لیے بچا رکھیے۔
محمد حمزہ فاروقی صاحب نے اپنی خوش طبعی اور حسِ مزاح کا مظاہرہ اس کتاب میں شامل پہلی تحریر میں تو خوب کیا ہے۔ دوسری بھی دل چسپ ہے لیکن اس میں گل افشانی گفتار کے ساتھ علمیت اورعلمی تذکرے بھی آگئے ہیں۔ خوبصورت فارسی تراکیب سے سجی ان کی اردو پڑھنا آج غلط اردو لکھنے کے اس دور میں ایک خوش گوار تجربہ ہے۔
لیکن زبان اور اسلوب سے قطع نظر، فاروقی صاحب کی علمیت اور تاریخ پر ان کی عمیق نظر سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اقبالیات پر ان بعض کام اس میدان میں ’’اولیات‘‘ کے ضمن میں آتے ہیں۔ غلام رسول مہر پر کام کرنے کی خواہش فاروقی صاحب کے دل میں اس وقت سے چھپی بیٹھی تھی جب وہ لندن میں برعظیم پاک و ہند کی تاریخ پر تحقیق کر رہے تھے۔ بعد میں انہوں نے اس خواہش کو یوں پورا کیا کہ غلام رسول مہر کی شخصیت، زندگی اور آثار پر کئی بھرپور، مستند اور دل چسپ تحقیقی کام کیے۔
سفر نامہ نگاری اور خاکہ نگاری محمد حمزہ فاروقی صاحبکے فن کی ایک اور جہت ہے۔ اس میں ان کی فطری بذلہ سنجی عود کر آتی ہے اور ان اصناف میں بھی انہوں نے قابل قدر اضافے کیے ہیں۔
زیر نظر کتاب میں شامل ان مضامین کی نوعیت یادداشتوں کی سی ہے۔ لیکن درحقیقت یہ ہمارے دور کے اہم سیاسی اور تاریخی واقعات کا بیان بھی ہیں اور ہمارے تعلیمی اداروں کے ماضی اور حال کے قصیدہ گو بھی اور نوحہ خواں بھی۔ جامعہ کراچی کے بعد لندن یونیورسٹی کی علمی فضاؤں کا ذکر کر کے انہوں نے لاشعوری اور شعوری طور پر دونوں کا تقابل بھی پیش کر دیا ہے اور ہماری قومی کوتاہیوں اور کم زوریوں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ ان کا انداز بیان آپ کے دل کو آخر تک لبھائے گا۔
کتاب دلچسپ اور اور قابل مطالعہ ہے۔
سفید کاغذ پر عمدہ طبع ہوئی ہے۔ مجلد ہے۔
nn

Share this: