تربیت

Print Friendly, PDF & Email

اس نظم میں بتایا گیا ہے کہ تعلیم الگ شے ہے اور تربیت الگ۔
زندگی کچھ اور شے ہے، علم ہے کچھ اور شے
زندگی سوزِ جگر ہے، علم ہے سوزِ دماغ
علم میں دولت بھی ہے، قدرت بھی ہے لذت بھی ہے
ایک مشکل ہے کہ ہاتھ آتا نہیں اپنا سراغ
اہلِ دانش عام ہیں، کمیاب ہیں اہلِ نظر
کیا تعجب ہے کہ خالی رہ گیا تیرا ایاغ!
شیخ مکتب کے طریقوں سے کشاد دل کہاں
کس طرح کبریت سے روشن ہو بجلی کا چراغ!
ایاغ: پیالہ۔ کبریت: لفظی معنی گندھک۔ آج کل عربی اور فارسی میں دیاسلائی کو بھی کہتے ہیں، جس کے سرے پر گندھک لگا دی جاتی ہے تا کہ رگڑ کر اسے جلایا جا سکے۔
1۔ زندگی کے طور طریقے اور چیز ہیں، علم کچھ اور ہے۔ زندگی صحیح طریق پر بسر کرنے کے لیے جگر میں سوز اور تپش پیدا ہونی چاہیے۔ علم کا سوز صرف دماغ تک محدود رہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ دماغ کا سوز زندگی کی منزلوں میں کام نہیں دے سکتا اور وہاں دل و جگر کے سوز کے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا۔
2۔ علم سے دولت بھی ملتی ہے، اقتدار بھی حاصل ہوسکتا ہے، اور اس میں مگن رہنے والے کو دلچسپی اور لذت بھی حاصل ہوتی ہے، لیکن ایک مصیبت ہے اور وہ یہ کہ تنہا علم سے اپنی حقیقت کا کھوج نہیں لگایا جا سکتا۔
3۔ علم والے لوگ ہر جگہ مل جاتے ہیں لیکن اہلِ نظر بہت کم ہیں۔ پھر اس پر حیرانی کیوں ہو کہ تیرا پیالہ فیض کی شراب سے خالی رہ گیا؟ یعنی کوئی اہلِ نظر تجھے نہ مل سکا جو صحیح تربیت دے کر زندگی کے آداب سکھا دیتا۔
4۔ آج کل کی درسگاہوں کے استادوں نے جو طریقے اختیار کررکھتے ہیں، ان سے دل کیوں کر روشن ہوسکتے ہیں؟ کیا دیا سلائی سے بھی بجلی کے چراغ کبھی جلے ہیں؟
مراد یہ ہے کہ دیا سلائی سے چراغ جلانے کا طریقہ پرانا ہے۔ وہ طریقہ بجلی کے چراغوں پر استعمال نہیں ہوسکتا جو آج کل رائج ہیں۔ انہیں روشن کرنے کے لیے تو بجلی کی رو درکار ہے۔ اسی کا بندوبست ہونا چاہیے۔
متاثر کے معنی ہیں اثر قبول کرنا، یعنی کسی کی شخصیت اور کردار کا اثر قبول کرنا۔ ہم، آپ بھی کسی نہ کسی سے متاثر ہوتے ہیں۔ کسی مقرر کی تقریر سے، کسی صاحبِ قلم کی تحریر سے، کسی کتاب سے، کسی کی ایمان داری سے۔۔۔ اور ایسی ہی بہت سے باتوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ متاثر ہونے یا اثر قبول کرنے کا مطلب کیا ہے؟ کیا ہم جس سے متاثر ہوئے ہیں اس کی تعریف کریں، یا اثر قبول کرنے کا کچھ تقاضا بھی ہے؟ ایک عملی مثال سے اس کو اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ محمد مسلم ایڈیٹر دعوت ’’مردِ آہن‘‘ کہے جاتے تھے۔ وہ کسی کی بات کسی مضبوط دلیل کے بغیر نہیں مانتے تھے بلکہ اپنی بات ٹھوس استدلال سے منوا لیتے تھے۔ وہ اپنے ایک مضمون میں مولانا ابواللیث صاحب سے متاثر ہونے کا حال لکھتے ہیں: ’’میں ایک بار صبح بھوپال سے دہلی پہنچا۔ اسٹیشن سے سیدھا مرکز جماعت اسلامی ہند (چتلی قبر دہلی) گیا۔ ایک صاحب کے ذریعے مولانا سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ مولانا کو جیسے ہی معلوم ہوا انہوں نے اسی وقت بلایا۔ میں پہنچا تو دیکھا کہ مولانا ناشتا کررہے ہیں۔ مجھ سے فرمایا ’’آئیے مسلم صاحب، اول طعام بعدہٗ کلام‘‘ یعنی پہلے ناشتا کرلیں پھر باتیں کریں گے۔ مولانا کے ناشتے میں باسی روٹیاں اور رات کی بچی ہوئی آلو کی ترکاری تھی۔ مسلم صاحب نے دعوے کے ساتھ لکھا ہے کہ میں نے یزیدی دسترخوان بھی دیکھے ہیں اور بایزیدی بھی، لیکن مولانا کے یہاں اچانک پہنچا اور یہ بایزیدی دستر خوان پر فوقیت رکھنے والا دسترخوان دیکھا تو دنگ رہ گیا۔ جماعت اسلامی کا امیر اور یہ ناشتا؟ خیر، میں نے ناشتا کیا۔ اس کے بعد مولانا سے بات کرنے سے پہلے ’’استقبالیہ‘‘ میں گیا اور وہاں سے فارم امیدوار لے کر پُر کیا اور صاحبِ استقبالیہ کو دے کر مولانا کی خدمت میں گیا۔ اب مولانا دفتر میں آچکے تھے۔ باتیں شروع ہوئیں۔ موضوع گفتگو یہ تھا کہ ہندوستان میں غلبۂ اسلام کی کامیابی کا حل کیا ہے؟ مولانا نے فرمایا ’’انتم الاعلون ان کنتم مومنین‘‘ اسی وقت میری درخواستِ رکنیت مولانا کے سامنے آئی۔ مولانا نے اس پر لکھا کہ یہ درخواست فوراً امیر حلقہ بھوپال کے پاس بھیج دی جائے‘‘۔ درخواست قیم جماعت اسلامی جناب محمد یوسف صاحب کے پاس بھیج دی۔
’’آپ سمجھے متاثر ہونے کا تقاضا؟‘‘ اگر سمجھ گئے ہیں تو پھر میں آپ سے گزارش کروں گا کہ محض تعریف کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ اثر قبول کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ آپ وہی کرنے لگیں جس بات سے آپ متاثر ہوئے۔ یہی وہ نسخہ کیمیا ہے جس کے استعمال سے خود ہمارے اندر انقلاب آسکتا ہے اور دوسروں کو بھی اپیل کرسکتا ہے۔ اس سلسلے میں مَیں نے بہت سے مثبت اور منفی واقعات پڑھے بھی اور مشاہدہ بھی کیے ہیں، ان میں چند اس امید پر عرض کررہا ہوں شاید کہ اتر جائے کسی دل میں میری بات۔ امام اعظم ابوحنیفہؒ کے سوانح حیات میں دو سطروں کا ایک واقعہ ہے۔ امام صاحب برسات کے دنوں میں کہیں جارہے تھے، راستے میں ایک جگہ پھسلن تھی۔ ایک نوجوان جلدی جلدی قدم اٹھاتا جارہا تھا۔ امام صاحب نے ٹوکا ’’عزیزم سنبھل کر، ورنہ گر پڑو گے‘‘۔ نوجوان نے مڑ کر دیکھا، پہچانا، عرض کی ’’محترم میرے گرنے سے کچھ نہ ہوگا، زیادہ سے زیادہ مجھے چوٹ آجائے گی۔ آپ محتاط رہیں آپ گرے تو ہزاروں گرجائیں گے‘‘۔ امام صاحب کہتے ہیں کہ اس نوجوان کی بات سے میں متاثر ہوا کہ بہت ہی سوچ بچار کے بعد فتویٰ دیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ فتویٰ صحیح ہو۔ امام احمد بن حنبلؒ ایک ڈاکو کے لیے ہر نماز میں گڑگڑا کر بخشش کی دعا کرتے تھے۔ فرزندِ ارجمند جو خود بھی بہت بڑے عالم تھے پوچھا ’’ابا جان! آپ اس ڈاکو کے لیے اس قدر دعائیں کیوں کرتے ہیں؟‘‘ فرمایا ’’اے فرزند! جب میں خلق قرآن کے سلسلے میں قید ہوکر جارہا تھا اُس ڈاکو نے میرے پاس آکر کہا ’’امام صاحب میں اکیس ڈاکے ڈال چکا ہوں، ہر بار سخت سے سخت سزائیں بھگتیں مگر اپنے غلط عمل پر اٹل رہا۔ آپ حق پر ہیں۔ اٹل رہیے گا‘‘۔ اُس کی اس بات نے مجھے اتنی استقامت بخشی کہ میرے اتنی زور سے کوڑے مارے جاتے تھے کہ بدن کا گوشت ادھڑ ادھڑ کر گرتا تھا، لیکن میں ہر کوڑے پر کہتا تھا ’’قرآن سے دلیل لاؤ ورنہ جان دے دوں گا مگر اپنی بات پر اٹل رہوں گا‘‘۔ بیٹے! کیا وہ ڈاکو میری دعاؤں کا مستحق نہیں؟‘‘
(مائل خیر آبادی)

Share this: