گفتگو

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان کی موجودہ سیاست کے دو بڑے مسئلے ہیں۔ ایک یہ کہ ہماری سیاست کی کوئی اخلاقی بنیاد نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ پاکستان میں نظریاتی سیاست کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ لیکن گہرائی میں جاکر تجزیہ کیا جائے تو پاکستان کی سیاست کا اخلاقی بحران بھی دراصل نظریاتی سیاست کے خاتمے ہی کا شاخسانہ ہے۔ جب تک پاکستان کی سیاست نظریات کے زیراثر تھی اُس وقت تک ہماری سیاست کی اخلاقی صحت بہت اچھی نہ سہی اطمینان بخش ضرور تھی۔ لیکن نظریاتی سیاست کے خاتمے نے ہمیں اس قابل ہی نہیں چھوڑا ہے کہ ہم اپنی سیاست کے اخلاقی بحران کو نظریاتی تناظر میں دیکھ اور بیان کرسکیں۔ چنانچہ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاست میں اگر بدعنوانی ہے تو یہ ایک انفرادی اخلاقی مسئلہ ہے۔ بلاشبہ بدعنوانی ایک انفرادی اخلاقی مسئلہ بھی ہے، لیکن بدعنوانی زندگی کو ایک خاص تناظر میں دیکھنے کا نتیجہ بھی ہے، اور یہی بدعنوانی کے سلسلے میں بنیادی بات ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ عصرِ حاضر میں نظریاتی سیاست کا مفہوم کیا ہے؟
غور کیا جائے تو ایمان بھی ایک نظریہ ہے، اور کفر اور شرک بھی ایک نظریہ ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب انسان ایمان اختیار کرتا ہے تو اس کا اثر پوری زندگی پر پڑتا ہے، کسی اور مذہبی روایت میں ایسا نہ بھی ہوتا ہو تو اسلام کے دائرے میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایمان ایک تناظر ہے، ایسا تناظر جو پوری زندگی کو اصولِ توحید کی روشنی میں دیکھتا، سمجھتا اور بیان کرتا ہے۔ عصر کی زبان میں یہ نظریہ سازی یا Theorization کا عمل ہے۔ ایسا عمل جس کے لیے اعلیٰ ترین ذہنی اور علمی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ اگرچہ کفر بھی پہلے دن سے ایک نظریہ اور ایک تناظر ہے، لیکن عہدِ حاضر میں جدید مغربی تہذیب نے کفر کو ایک بڑا نظریہ، ایک بڑا تناظر اور ایک بڑا نظام بنادیا ہے۔
اگرچہ اسلام کے مکمل ضابطۂ حیات ہونے کا خیال اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے یہاں بھی ملتا ہے، لیکن مولانا مودودیؒ نے اصولِ توحید کی بنیاد پر جس درجے کی نظریہ سازی یا Theorization کی ہے اس کی بیسویں صدی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس نظریہ سازی کے ذریعے مولانا نے امتِ مسلمہ کو یہ بھولی ہوئی بات بھی یاد دلائی کہ لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اظہار صرف نماز، روزے، حج اور زکوٰۃ سے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہماری سیاست، ہماری معیشت، ہماری معاشرت، ہمارے کلچر اور ہمارے آرٹ سے بھی اس اصول کی گواہی مہیا ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں مولانا نے جو علمی مؤقف تخلیق کیا اُس کا کمال یہ ہے کہ مولانا نے اقتدار میں آئے بغیر پوری امتِ مسلمہ کے بیانیے کو بدل کر رکھ دیا۔ مولانا یا ان کی برپا کی ہوئی جماعت اگر اقتدار میں آکر کسی قوم، ملّت یا امت کے بیانیے کو تبدیل کرتی تو یہ زیادہ بڑی بات نہ ہوتی، اس لیے کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ہوتا ہے، یعنی طاقتور کی بات سب ہی مانتے ہیں۔ لیکن مولانا کی نظریاتی قوت اتنی زبردست تھی کہ انہوں نے اقتدار کی مدد کے بغیر محض ایمانی، اخلاقی اور علمی قوت کے ذریعے پوری امت کے بیانیے کو بدل ڈالا۔ اتفاق سے مولانا کے پاس سرمائے اور ذرائع ابلاغ کی قوت بھی نہ تھی، چنانچہ مولانا کا کارنامہ مزید اہم ہوکر سامنے آتا ہے۔ مولانا کا یہ کارنامہ مسلمانوں کی روایت کے عین مطابق تھا۔ مولانا سے بہت پہلے غزالیؒ ، حضرت مجدد الف ثانیؒ اور شاہ ولی اللہؒ بھی یہی کام کرچکے تھے۔
انبیاء و مرسلین کی روایت کو دیکھا جائے تو اس روایت کے دو بنیادی تقاضے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم بتائیں کہ حق کیا ہے اور دوسری یہ کہ ہم یہ بتائیں کہ عہدِ حاضر کا باطل کیا ہے؟ مولانا مودودیؒ نے بیک وقت ان دونوں تقاضوں کو پورا کیا، چنانچہ مولانا کی فکری و علمی زندگی ہی نہیں مولانا کی سیاست بھی نظریاتی سیاست بن گئی۔ اس سیاست میں ایک جانب مولانا نے حق کو آشکار کیا، دوسری جانب انہوں نے سوشلزم اور جدید مغربی تہذیب کو للکارا۔ مولانا مودودیؒ کی شخصیت اور فکر کو نمایاں کرنے کے لیے حریفوں کی گواہی کی رتی برابر بھی ضرورت نہیں، مگر ہمارا شعور اتنا پست ہوچکا ہے کہ ہمیں مولانا کی اہمیت کو نمایاں کرنے کے لیے اس امرکی نشاندہی کی ضرورت محسوس ہورہی ہے کہ علماء اور مذہبی جماعتیں اور بھی تھیں لیکن پاکستان کے بائیں بازو یا سوشلسٹ عناصر نے مذہبی عناصر کے دائرے سے صرف مولانا مودودیؒ اور ان کی جماعت کو ہدفِ تنقید اور ہدفِ ملا مت بنایا۔ اس کی وجہ ظاہر تھی۔
صرف مولانا مودودیؒ کی فکر اور جدوجہد نظریاتی شعور کا مظاہرہ کررہی تھی۔ اس شعور کی بنیاد پر نظریاتی کشمکش کی ایک پوری داستان رقم ہوئی۔ مولانا مودودیؒ کی فکر نے سوشلزم کی تنقید مہیا کی۔ ان کی فکر کے زیراثر سیاست میں سوشلسٹ نظریات کی مزاحمت شروع ہوئی۔ مولانا کی فکر کے زیر اثر اسلامی جمعیت طلبہ نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کو اس کامیابی سے چیلنج کیا کہ بائیں بازو کی تمام طلبہ تنظیمیں متحد ہوکر جمعیت کے مقابلے پر مجبور ہوئیں۔ مولانا کی فکر نے محنت کشوں کے محاذ پر بھی نظریاتی آویزش برپا کی اور پاکستان کے کئی بڑے اور بہت سے چھوٹے اداروں میں سوشلسٹ عناصر کے برج الٹ کر رکھ دیے۔ لیکن جماعت اسلامی، جمعیت یا جماعت اسلامی کی محنت کشوں سے متعلق تنظیم کی اصل قوت ان کا نام یا کام نہیں بلکہ ان کا نظریہ تھا، ان کا نظریاتی شعور تھا۔ اس نظریاتی شعور کی قوت مزاحمت تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہم مولانا مودودیؒ کی نظریہ سازی یا Theorization کے زیراثر قومی، ملّی، امتی، یہاں تک کہ عالمی زندگی کو ایک تناظر میں دیکھ، سمجھ اور بیان کررہے تھے۔ لیکن 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کردیا۔
جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا نے ملک میں برپا نظریاتی کشمکش کو نقصان پہنچایا اور سیاست میں لسانی اور صوبائی عصبیت اور قومی سیاست میں مفاد پرستی کو عام کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو سوشلسٹ، وڈیرے اور شرابی تھے اور وہ اپنی ان چیزوں کو چھپاتے نہیں تھے، مگر بھٹو صاحب کرپٹ نہیں تھے۔ مگر بھٹو صاحب کے بعد پیپلزپارٹی پر وہ وقت بھی آیا کہ بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری مسٹر ٹین پرسنٹ اور مسٹر ہنڈریڈ پرسنٹ کہلائے اور آج پوری پیپلزپارٹی کا یہ حال ہے کہ اس میں بدعنوانی کو سرے سے کوئی برائی ہی نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اس کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ اس میں سیاست اور بدعنوانی لازم و ملزوم ہیں۔ دوسری طرف میاں نوازشریف ہیں۔ ان کی پوری شخصیت طرح طرح کی بدعنوانیوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ پاناما گیٹ تو محض اس کی ایک جھلک ہے۔ اس صورت حال نے ہماری سیاست کو پست مزاج، سطحی اور شخصی بنادیا، اور چند ہی برسوں میں ہماری سیاست کا سارا نظریاتی تشخص ختم ہوگیا۔ مذہبی عناصر نے اس صورتِ حال کو سمجھ کر نہ دیا۔ بلاشبہ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں افغانستان میں بڑا جہادی معرکہ برپا ہوا اور اس معرکے کی ایک نظریاتی جہت تھی۔ لیکن جہاد زندگی کا ایک دائرہ ہے، پوری زندگی نہیں۔ ہم جہاد کو تو نظریاتی تناظر میں دیکھتے رہے لیکن زندگی کے باقی دائروں کو ہم نے نظریاتی تناظر میں دیکھنا، سمجھنا اور بیان کرنا ترک کردیا۔ رہی سہی کسر 1990ء میں سوویت یونین کے خاتمے اور سوشلزم کی تحلیل نے پوری کردی۔ سوشلزم ہمارا پرانا حریف تھا، وہ منظر سے ہٹ گیا تو ہمیں لگا کہ ہمارے پاس اب کوئی ’’نظریاتی کام‘‘ ہی نہیں ہے۔ حالانکہ جدید مغربی تہذیب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ہمارے سامنے تھی اور اس نے سوشلزم کے خاتمے کے ساتھ ہی اسلام اور مسلمانوں کو ہدف بنانا شروع کردیا تھا۔ مغرب کبھی کہہ رہا تھا کہ مسلمان بنیاد پرست ہیں، کبھی کہہ رہا تھا کہ مسلمان انتہا پسند ہیں، کبھی کہہ رہا تھا کہ اصل اسلام صوفی اسلام ہے، سیاسی اسلام حقیقی اسلام نہیں۔ یہاں تک کہ سیموئل ہن ٹنگٹن اور اس کا تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ ہمارے سامنے آگیا۔
یہ ایک نادر موقع تھا کہ ہم اپنی پوری زندگی بالخصوص اپنی فکری و سیاسی زندگی کو نظریاتی بنیادوں پر استوار کرتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ تہذیبوں کا تصادم ہماری فکری روایت میں صدیوں سے موجود تھا۔ تہذیبوں کا تصادم امام غزالیؒ کے زمانے میں بھی برپا تھا اور غزالی کی فکر کا ایک حصہ یونانی فکر کے چیلنج کے جواب سے فراہم ہوا ہے۔ تہذیبوں کا تصادم اکبر الٰہ آبادی کی بے مثال اور عظیم الشان شاعری کا محوری نکتہ ہے۔ تہذیبوں کا تصادم فکرِ اقبال میں بنیادی اور اساسی اہمیت کا حامل ہے۔ مولانا مودودی کی فکر میں بھی تہذیبوں کا تصادم غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں تک کہ مولانا نے کئی مقامات پر خود تہذیبوں کے تصادم کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ ہم نے روزنامہ جسارت میں شائع ہونے والے اپنے کالموں میں اکبر الٰہ آبادی، اقبال اور مولانا مودودی کے یہاں سے تہذیبوں کے تصادم کی شہادتوں کے انبار لگادیے، لیکن احمقوں، جاہلوں اور نفسیاتی مریضوں کے سوا کوئی اس جانب متوجہ نہ ہوا۔ تہذیبوں کے تصادم کے تصور کو عام کرنے کی یہ کوشش کوئی ’’شوق‘‘ نہیں تھی، اس کی پشت پر یہ تصور اور یہ جذبہ تھا کہ ہماری اجتماعی زندگی نظریات کی کشمکش کے محور سے بہت دور چلی گئی ہے اور اسے ازسرنو اس کے اصل خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ اتنی ضرورت کہ یہ ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ اگرہم نے اپنی انفرادی، جماعتی اور اجتماعی زندگی کو ’’نظریاتی‘‘ بنالیا تو ہم بہت دیر تک زندہ رہیں گے، اور اگر ہم اپنی انفرادی، جماعتی اور اجتماعی زندگی کو ’’نظریاتی‘‘ نہ بناسکے تو بہت جلد ہر سطح پر ہماری موت واقع ہوجائے گی، خواہ کوئی اس کا اعتراف اور اعلان کرے یا نہ کرے۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ آخر ہماری زندگی نظریاتی جہت سے کیوں محروم ہوگئی ہے۔۔۔؟
ہمارا مسئلہ یہ تھا کہ ہم سوشلزم کے ساتھ اتنی دیر تک پنجہ آزمائی کرتے رہے کہ سوشلزم کو ہی ’’واحد‘‘ دشمن سمجھ لیا۔ یہ دشمن ختم ہوگیا تو ہم نے ظفر اقبال کے اس شعر کو اپنا پرچم بنالیا ؂
نہ کوئی بات کہنی ہے نہ کوئی کام کرنا ہے
اور اس کے بعد کافی دیر تک آرام کرنا ہے
یہاں اس امر کی نشاندہی بھی ضروری ہے کہ سوشلزم میں ’’نفاق‘‘ کا عنصر کم تھا۔ وہ مذہب کا دشمن تھا اور صاف کہتا تھا کہ میں مذہب کا دشمن ہوں، میں نہ خدا کو مانتا ہوں نہ رسول کا قائل ہوں، نہ میں وحی کو برداشت کرسکتا ہوں، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ مذہب عوام کی افیون ہے۔ چونکہ سوشلزم کھل کر اسلام دشمنی کرتا تھا اس لیے ہم صبح شام سوشلزم مُردہ باد کہتے تھے۔ مگر جدید مغربی تہذیب یا سرمایہ دار تہذیب اعلیٰ درجے کی ’’منافق‘‘ ہے۔ اگرچہ سیکولرازم اور لبرل ازم بھی مذہب دشمن ہے، خدا اور رسالت کا منکر ہے، مگر مغرب سے آنے والی فکر کی ’’ساخت‘‘ ایسی ہے کہ اگر آپ مغرب کی سیاست، معیشت، معاشرت اور تہذیبی مظاہر کو قبول کرلیں تو وہ آپ سے کہتی ہے کہ اس کے بعد تم کسی ان دیکھے خدا کو ماننا چاہو تو مانو، تم بے روح نمازیں پڑھنا چاہو تو پڑھو، بے روح روزے رکھنا چاہو تو رکھو، بے روح حج کرنا چاہو تو کرو، بے روح زکوٰۃ دینا چاہو تو دو۔ جدید مغربی تہذیب کے اس نفاق، ساخت یا حکمت عملی سے ہمیں لگتا ہے کہ جدید مغرب سوشلزم کی طرح مذہب دشمن تھوڑی ہے۔ اور اگر ہے بھی تو اس کی دشمنی ایسی نہیں ہے کہ ہم جس طرح سوشلزم کے خلاف ہر محاذ پر صف آرا تھے اسی طرح امریکہ اور یورپ سے آنے والی فکر کے خلاف بھی صف آرا ہوجائیں۔ اس بات کا ایک بہت ہی ہولناک مفہوم ہے اور وہ یہ کہ ہمارا انفرادی اور اجتماعی شعور باطل کو ’’مخصوص صورت‘‘ میں پہچانتا ہے۔ باطل صورت، نام اور لباس بدل دے تو ہم باطل کو پہچاننے اور اس کی مزاحمت سے گریز یا انکار کردیتے ہیں۔ ہم اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سیکولرازم مذہب کی لاش پر عمارت بناتا ہے اور ہم سے کہتا ہے کہ اب اگر تم اس عمارت میں اسلام زندہ باد کا نعرہ لگانا چاہو تو لگالو۔ تم اس عمارت کی دیواروں پر مذہبی افکار یا افعال کی تصاویر آویزاں کرنا چاہو تو کرو تاکہ تمہیں اطمینان رہے کہ تم مذہبی انسان ہو اور ایک مذہبی فضا میں سانس لے رہے ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیکولر فکر مذہب کو آرائشی شے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی۔ اور ہمارے لیے اسلام کا یہ آرائشی کردار بھی بہت ہے، یا کم از کم ہمیں مذہب کے اس آرائشی کردار سے یہ اطمینان رہتا ہے کہ جدید مغرب اسلام کا دشمن نہیں ہے۔ لیکن ہمارا ایک اور مسئلہ بھی ہے۔
علم، ذہانت اور فہم کے زوال کے باعث ہم انفرادی، جماعتی، اجتماعی اور بین الاقوامی زندگی کو ایک تناظر میں دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے ہیں۔ چنانچہ ہم اس بات پر تو ناراض نہیں ہوتے کہ مغرب ’ا‘ سے ’ے‘ تک اسلام دشمن ہے، لیکن اس بات پر بہت ناراض ہوتے ہیں کہ ہمارے ٹی وی چینلز پر عورتوں کے کپڑے مختصر سے مختصر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ تجزیہ کیا جائے تو اب یہ بات بھی درست نہیں کہ عورت کی عریانی ہمیں پریشان کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ سے روزانہ ایسی درجنوں باتیں عام ہورہی ہیں جو ہمارے دین کے خلاف ہیں مگر پورا معاشرہ جیسے چوہوں کے بلوں میں جاگھسا ہے۔ ایک وقت تھا کہ مولانا مودودیؒ اقتدار میں آئے بغیر پوری امت کا بیانیہ بدل رہے تھے، اور ایک وقت یہ ہے کہ امت کیا قوم کے بیانیے کی تشکیل میں بھی ہمارا کوئی کردار نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ نہ ہم نظریاتی کشمکش کو سمجھتے ہیں، نہ سمجھنا چاہتے ہیں۔ نہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو نظریاتی جہت فراہم کرنے کی کوئی آرزو ہمارے اندر موجود ہے۔
nn

Share this: