(شخصیت(ڈاکٹرطاہر مسعود

Print Friendly, PDF & Email

طالب علمی کا زمانہ جو سرگرمیوں کے اعتبار سے نہایت گرم جوش اور مزیدار گزرا، اب بھی یاد آتا ہے۔ آج کل کے طلبہ کو دیکھتا ہوں تو افسوس ہوتا ہے کہ دل اور آنکھیں مستقبل کے خوابوں اور کچھ کر گزرنے کی آرزؤں سے خالی ہیں۔ ہاتھ میں کوئی کتاب تو کیا ہوگی، کندھے سے اکثر لٹکے تھیلے یا بستے میں برش، صابن اور کریم وغیرہ اہتمام سے موجود ہوتے ہیں کہ حسنِ ظاہری کو سنوارنے کے کام آتے ہیں۔ رہا معاملہ حسنِ باطنی کا، تو اس کے معنی بھی نہیں آتے۔ بہ قول منیر نیازی:
منیر حسنِ باطنی کو کوئی پوچھتا نہیں
نگاہِ چشم کھو گئی لباس کی تراش میں
تو جب معاشرہ ہی حسنِ باطنی کو نہ پوچھے تو طلبہ میں بھلا اس کا شعور کہاں سے آئے گا! ایسا نہیں ہے کہ ہمارے زمانے میں طلبہ نورانی صورت ہوتے تھے اور درویشی میں مست رہتے تھے۔ نوجوانی تو ہوتی ہی پہننے، اوڑھنے اور زمانے کے فیشن کو اختیار کرنے کے لیے ہے۔ لیکن اتنا فرق تو تھا ہی کہ تب ہم لوگوں کے ذہن میں ایک آئیڈیل ہوتا تھا، اپنی ذات کے علاوہ معاشرے کی ناہمواریوں کو ہموار کرنے کے خواب ہوتے تھے، اپنی چھپی ہوئی صلاحیت کو اجاگر کرنے کی ایک للک ہوتی تھی۔ تب حالات بھی سازگار تھے۔ تعلیمی اداروں میں مشاعرے، مباحثے ، ادبی عدالتیں، معلوماتِ عامہ کے مقابلے اور مقابلۂ بیت بازی کا کلچر تھا۔ یونین کے الیکشن ہوتے تھے۔ الیکشن جیتنے والے غیرنصابی سرگرمیوں کے ذمہ دار بنائے جاتے تھے جس سے ان میں انتظامی صلاحیت، قوتِ فیصلہ اور دوسری بہت سی صلاحیتیں ابھرتی اور نکھرتی تھیں۔ اب یہ سب کچھ نہیں رہا۔ پہلے جس یونیورسٹی کیمپس میں پولیس داخل ہونے کے لیے اجازت کی طلبگار ہوتی تھی اور اجازت کبھی ملتی نہ تھی، آج اسی یونیورسٹی گیٹ پر مسلح جوان تعینات ہوتے ہیں اور بغیر تلاشی دیے اور شناخت کرائے لڑکے تو لڑکے، لڑکیاں بھی اندر داخل نہیں ہوسکتیں۔ یونیورسٹی جسے ایک کھلا ادارہ ہونا چاہیے، آج قید خانے یا علاقہ ممنوعہ کی تصویر بن گیا ہے۔ مظلوم اور عبرت انگیز تصویر۔ وائس چانسلر اور اساتذہ گاڑیوں پر، اور طلبا و طالبات چلچلاتی دھوپ میں پیدل طول طویل فاصلے جیسے تیسے طے کرتے ہیں۔ نہ وائس چانسلر اور انتظامیہ کے ذمہ داران ہی کو خیال آتا ہے کہ کوئی انتظام سہولت کا بھی ہونا چاہیے اور نہ اساتذہ و طلبہ تنظیموں ہی کو توفیق کہ مسئلے کو حل کرانے کے لیے کوئی آواز اٹھائیں۔ جیسے عوام بھیڑ بکریاں ہیں، ویسے ہی عام طلبا و طالبات!
جس زمانے کے تذکرے سے بات چلی تھی اس کا محرک دراصل ایک شخصیت کی یادوں کو تازہ کرنا تھا۔ میری مراد شفیع نقی جامعی سے ہے جو ہمارے دورِ طالب علمی میں کرشماتی شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ کراچی کی تعلیمی زندگی کیٹھہرے ہوئے تالاب میں جنھوں نے ایک عرصے تک ہلچل مچائے رکھی۔ بہترین مقرر، بہترین طالب علم، اثر انگیز طالب علم رہنما۔۔۔ تینوں حیثیتوں میں جو غیر معمولی کامیابیاں انھیں ملیں اس کی وجہ سے مستقبل میں ان کا سیاسی کیریئر نہایت تابناک نظر آتا تھا، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔ شفیع نقی جامعی اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن سدھارے۔ وہاں لندن اسکول آف اکنامکس سے ماسٹرز کی ڈگری لے کر وطن واپس آنے کے بجائے بی بی سی لندن کی ہندی سروس اور پھر اردو سروس سے وابستہ ہوگئے اور آج تک اسی سے منسلک ہیں۔ ان کے وطن واپس نہ آنے کے فیصلے کے اسباب و عوامل سے لاعلمی کی بنا پر ہم اس پر کوئی تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ ان کے مداحوں کو مایوسی ہوئی جن میں یہ خاکسار بھی شامل ہے کہ حسنِ اتفاق سے ان ہی اداروں کا طالب علم رہا جن سے شفیع نقی جامعی نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ جامعہ ملیہ ملیر اور جامعہ کراچی۔۔۔ ان دونوں درس گاہوں میں مجھے شفیع نقی جامعی کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے قریب سے مشاہدے کا موقع ملا ہے اور میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ایسا زوردار، خود اعتماد اور طلبہ پر اثرانداز ہونے والا طالب علم رہنما یا مقرر پھر میرے مشاہدے میں نہ آیا۔ کسی نے مجھے بتایا تھا کہ شفیع نقی جامعی نے اسکول کی تعلیم بھی جامعہ ملیہ سے حاصل کی اور بہ قول کسے اُن کے پوت کے پاؤں پالنے ہی میں نظر آنے لگے تھے۔اساتذہ کرام کی نظرِ عنایت بھی تب ہی سے ان پر تھی۔ تب ایسے بے نفس اور محبتی اساتذہ بھی درس گاہوں میں ہوتے تھے جو طلبہ سے اپنی اولاد کی طرح پیار کرتے اور ان کی تربیت میں اپنا وقت لگاتے تھے۔ شفیع نقی اساتذہ کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے طفیل اور اپنی محنت، منصوبہ بندی، وقت کے صحیح استعمال اور اپنی خفتہ صلاحیتوں کو اجاگر کرکے تیزی سے ترقی کی سیڑھیاں طے کرتے گئے۔ مثلاً کراچی میں ہونے والے مباحثوں میں شاید ہی کوئی ایسا مباحثہ ہو جس میں انھوں نے انعامی کپ نہ جیتا ہو۔ میٹرک سے ایم اے تک کا کوئی امتحان ایسا نہیں جس میں انھوں نے اوّل، دوم یا سوم پوزیشن نہ لی ہو۔ طالب علم رہنما کی حیثیت میں وہ اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل تھے، لیکن ان کا امیج تب بھی ’ٹھیٹھ جماعتی‘‘ کا کبھی نہ رہا۔ ان کی شہرت و مقبولیت کی وجہ سے ان کی لبرل سرگرمیوں اور طریقِ زندگی پر اعتراضات کے باوجود جمعیت بھی ہمیشہ انھیں یونین کے انتخابات میں بہ طور امیدوار کھڑا کرنے پر مجبور رہی جس کا ایک نقصان تو بہرحال اٹھانا ہی پڑا کہ شفیع نقی یونین کا الیکشن جب بھی جیتے، ان کی جیت اس درس گاہ میں اگلے برس جمعیت کی ہار کا سبب بنی۔ جامعہ ملیہ کالج میں یہی ہوا اور جامعہ کراچی جہاں جمعیت کی شکست کا کوئی سوال اور گمان تک نہ تھا، وہاں بھی خلافِ توقع یہی ’’سانحہ‘‘ رونما ہوا، اور ظاہر ہے ایسا شفیع نقی کی ولولہ انگیز قیادت کی ’’برکت‘‘ ہی سے ہوا۔
جب میں جامعہ ملیہ کالج میں داخل ہوا تو شفیع نقی جامعی کے نام کا طوطی بول رہا تھا۔ اگر میں یہ کہوں کہ تب جامعہ ملیہ کالج اپنے بانی ڈاکٹر محمود حسین سے زیادہ شفیع نقی جامعی کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ڈاکٹر محمود حسین اسی لیے شفیع نقی کو بہت عزیز رکھتے تھے۔ شفیع نقی نے کالج میگزین کے لیے ڈاکٹر صاحب کا ایک انٹرویو بھی لیا تھا جس کا تعارفی نوٹ اتنا خوبصورت اور دل نشیں تھا کہ میں اسے پڑھ کر حیران رہ گیا تھا، یہ الگ بات کہ اس حیرت میں تب اور اضافہ ہوگیا تھا جب میں نے مولوی عبدالحق کی خاکوں کی کتاب ’’میرے چند ہم عصر‘‘ میں سرسید احمد خاں پر مولوی صاحب کا خاکہ پڑھا۔ ڈاکٹر محمود حسین اور سرسید احمد خان کے ابتدائیے میں سرمو فرق نہ تھا۔ حیرت میں اضافہ اس لیے ہوا کہ میرا خیال اب تک یہ رہا تھا کہ شفیع نقی غیر نصابی کتابوں کے مطالعے میں کچھ زیادہ رغبت نہیں رکھتے۔ مطالعہ ان کا سرسری اور سطحی ہے، البتہ طالب علم مقرروں میں لفظوں سے کھیلنے اور ہم قافیہ لفظوں کی جادوگری سے سامعین کو متاثر کرنے کی جو صلاحیت پائی جاتی ہے، اس میں شفیع نقی بہ حیثیت مقرر طاق ہیں، علاوہ ازیں ان کی پاٹ دار آواز اور دورانِ تقریر لہجے کا اتار چڑھاؤ ایسا ہے کہ دوسرے مقررین ہی پیچھے نہیں رہ جاتے، حاضرین اور منصفین بھی اس انداز و اسلوبِ خطابت سے قائل و گھائل ہوجاتے ہیں۔ تو مجھے خوشی ہوئی کہ گمان غلط نکلا اور شفیع نقی نے کالج کے زمانے ہی میں مولوی صاحب مرحوم کی خاکوں کی کتاب پڑھ رکھی تھی، تب تک یہ خاکسار اس کتاب سے بھی لاعلم تھا۔
شفیع نقی کی شخصیت جاذبِ نظر تھی۔ نکلتا ہوا قد، مضبوط کاٹھی کا بدن، خوب چوڑا چکلا چہرہ، آنکھوں پہ دبیز شیشوں کی سنہری کمانی والی عینک، تیز تیز قدموں سے ہاتھ میں کوئی فائل سی اٹھائے وہ جب طلبا و طالبات کے سامنے سے گزرتے تھے تو ہر نگاہ کی توجہ کا مرکز بن جاتے تھے۔ مجھے بڑا رشک آتا تھا۔ میں سوچتا تھا آدمی کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔ ان کی مقبولیت اور ہردلعزیزی کے سبب میں ان کی دوستی اور قربت کا بھی عرصے تک خواہشمند رہا۔ لیکن طبیعت میں مشہور لوگوں سے ملاقات میں پہل کرنے میں ہمیشہ ایک حجاب سا محسوس ہوتا رہا ہے۔ یہ ’’عادتِ قبیحہ‘‘ اب بھی ہے۔ سو شفیع نقی سے بھی چاہنے کے باوجود قربت نہ ہوسکی اور میری طبیعت کا یہ تجسس کہ کوئی آدمی کامیابی اور ترقی کی سیڑھیاں طے کرتا ہے تو اس کا راز کیا ہے؟ وہ کون سے اصول ہیں جن پر عمل کرتے ہی شہرت اور ہردلعزیزی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں؟ میں شفیع نقی کو باہر سے تو دیکھتا ہی تھا، وہ تو سب ہی دیکھتے تھے، میں قریب جاکر ان کے اندر جھانک کر، ان کے جذبات و خواہشات کو ٹٹول کے، ان کی قوتِ عمل اور ان قاعدوں، ضابطوں اور معمولات کو جاننے کا آرزومند تھا جنھوں نے شفیع نقی کی شخصیت اور صلاحیت کو ہم سب کے لیے قابلِ رشک بنادیا تھا۔ طلبا و طالبات ہی نہیں اساتذہ کرام تک کو اُن سے متاثر و مرعوب پاتا تھا۔ بدقسمتی سے اس کا موقع کبھی نہ مل سکا اور میرے سوالات اور متجسسانہ جذبات تشنہ ہی رہ گئے۔ ہاں اتنا ضرور دوسروں کی زبانی معلوم ہوگیا تھا کہ شفیع نقی خود بھی ترقی کی معراج تک پہنچنے کا عزم رکھتے ہیں اور انھیں یہ یقین تھا کہ وہ اپنے عزم و ارادے میں بے شک و شبہ کامیاب رہیں گے۔ غالباً انھوں نے اسکول یونین کا صدر منتخب ہونے کے بعد اپنی تقریر میں یہ اعلان بھی کیا تھا کہ اسکول کے بعد کالج اور پھر یونیورسٹی کی صدارت کا تاج سر پر سجانے کے بعد ایک دن وہ ملک کے منصبِ صدارت پر جلوہ افروز ہوں گے۔ ان کی یہ پیش گوئی اپنی کامیابیوں کی بابت یونیورسٹی کی حد تک تو حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ اُڑان بتاتی تھی کہ ابھی جو ہفت خوانِ رستم باقی ہیں، ان کٹھن مرحلوں کو بھی اپنی صلاحیت و زیرکی سے طے کرلیں گے۔ تو ہم سب مداحانِِ شفیع نقی جامعی اُن کے ملکی منصبِ صدارت پر جلوہ افروز ہونے کے منتظر تھے تو آج تک منتظر ہی ہیں۔
شفیع نقی جامعی لندن اعلیٰ تعلیم کے لیے گئے، سنا ہے انھوں نے لندن اسکول آف اکنامکس سے ڈگری بھی حاصل کرلی، پھر وہیں کسی ’’گوری‘‘ سے بیاہ رچالیا۔ اس ’’گوری‘‘ نے ان کی ازدواجی زندگی کی تقدیر کالی کردی۔ معاش اورمقام کے لیے انھوں نے بی بی سی لندن کی ہندی سروس سے وابستہ ہونے کی کوشش کی۔ وابستگی کے لیے ”پچھلی وابستگی”سے انحراف بھی ضروری ٹھہرا۔ آج بھی ان کی آواز بی بی سی کی کبھی ہندی اور کبھی اردو سروس سے سات سمندر پار سنائی دیتی ہے توگزرے ہوئے دن اپنی یادوں کے ساتھ روشن ہوجاتے ہیں، مگر اپنی گھن گرج کے باوجود یہ آواز اسیرِ لندن ہوکر ہی کیوں رہ گئی۔ اپنے وطن کی فضاؤں میں اپنے سالم وجود کے ساتھ کیوں نہ گونجی؟ اس سوال کا جواب کوئی کیا دے۔۔۔ نہیں معلوم شفیع نقی کے پاس اس سوال کی کوئی معقول توجیہ ہے بھی یا نہیں۔
کالج میں استادِ محترم پروفیسر عطا اللہ حسینی شفیع نقی کے مربی و سرپرست رہے تھے۔ وہی ان کی تقریریں لکھواتے تھے۔ اچھی بات یہ ہے کہ شفیع نقی نے اس حقیقت کی پردہ پوشی کی کبھی کوشش نہ کی۔ کبھی کوئی رٹی ہوئی تقریر کا طعنہ دیتا، کوئی کہتا شفیع تم تو تقریر لکھواتے ہو، تو ان کا برجستہ جواب ہوتا تھا: ’’تقریر لکھی نہیں جاتی، کی جاتی ہے‘‘۔ اور یہ بات سو فیصدی درست ہے۔ استاد محترم حسینی صاحب مجھ پر بھی شفقت فرماتے تھے اور ازراہِ عنایت مباحثوں میں شرکت سے میری دلچسپی دیکھ کر انہوں نے مجھے بھی دو ایک تقریریں لکھوائیں، لیکن میں ناکام رہا کہ اسٹیج پر پہنچ کر یاد کی ہوئی تقریر کے اکثر اجزا حافظے سے محو ہوجاتے تھے ۔ یہاں تک کہ مایوس ہوکر اس کوچے سے ہی نکل گیا۔ تو شفیع کا یہ کہنا کہ ’’تقریر کی جاتی ہے‘‘ اس میں ذرا بھی مبالغہ نہ تھا۔
شفیع کے سیاسی کارناموں میں جو چیز سب سے نمایاں ہے، وہ ہے ’’پرسنالٹی کلٹ‘‘۔۔۔ یعنی اپنی شخصیت کو سحرانگیز بنانے کا کمال۔ اس کے لیے وہ خطابت کے جوہر کے ساتھ اداکاری کے فن سے بھی مدد لیتے تھے۔ طلبہ مسائل یا ’’طلبہ حقوق‘‘ کے حوالے سے میں نے انھیں کالج میں ان کے ہم نام بزرگ پرنسپل شفیع صاحب اور یونیورسٹی میں وائس چانسلر ڈاکٹر محمود حسین کے سامنے خطابت کا مظاہرہ پیش کرتے دیکھا۔ اب کیا بتاؤں کہ اس خطابت میں جذباتی اداکاری کے وہ نمونے انھوں نے پیش کیے کہ پاکستانی فلموں کے شہنشاہِ جذبات اداکار محمد علی کی جذباتی اداکاری بھی ماند پڑگئی۔ بولتے بولتے پرنسپل صاحب کے جوتوں کو ہاتھ لگانا غالباً قدم بوسی کی نیت سے، کہ شاید اسی طرح پرنسپل صاحب اپنے اصولی مؤقف سے پگھل کر دستبردار ہوجائیں۔ ڈاکٹر محمود حسین کے گھر کے کتب خانے میں جہاں رات گئے جمعیت کے لڑکے یونین کے انتخابات بغیر کسی معقول وجہ کے ملتوی کیے جانے پر وائس چانسلر صاحب سے احتجاج کرنے بس میں بھر کر پہنچے تھے، میں بھی شوقِ تجسس سے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے وہاں، بس میں سوار ہوگیا تھا۔ وہاں جو کچھ دیکھا یعنی شفیع نقی کی خطابت جمع اداکاری کا جو مشاہدہ کیا اس نے فلم ’’صاعقہ‘‘ میں اداکار محمد علی کی جذباتی ایکٹنگ کی یاد تازہ کردی۔ فلم کے جذباتی المیہ منظر میں اداکار محمد علی اپنی فرعون صفت دادی کے سامنے ہیروئن کی مظلومیت ثابت کرنے کے لیے ڈائیلاگ بولتے بولتے گھٹنوں کے بل فرش پر گر جاتے ہیں، آنکھوں سے اشک رواں، آواز جذبات سے رندھی ہوئی۔۔۔ کچھ ایسا ہی انداز شفیع نقی کا بھی رہا تھا۔ ممکن ہے فلم ’’صاعقہ‘‘ انھوں نے نہ دیکھی ہو حالانکہ فلم بین تو تھے، اور وائس چانسلر کے حضور ان کی اداکاری بھی اوریجنل رہی ہو کہ بولتے بولتے وہ بھی اداکار محمد علی کی طرح گھٹنوں کے بل گر پڑے، ہاتھ زور سے میز پر جو مارا تو گھڑی ٹوٹ کر دور جاپڑی، مگر شفیع نے پروا نہ کی۔ بولتے ہی رہے۔ ڈاکٹر محمود حسین ساکت اس ولولہ انگیز تقریر کو سنتے اور سہتے رہے۔ آخر جمعیت کے عبدالملک مجاہد سے رہا نہ گیا، انھوں نے کہا:’’شفیع! اب بس بھی کرو‘‘۔ فقرہ یہی تھا یا مفہوم اس کا کچھ ایسا ہی تھا۔ مگر شفیع نے سنی ان سنی کردی اور بولتے ہی رہے۔ خدا جانے بولتے بولتے کیا سوجھی کہ وائس چانسلر کا گھٹنا پکڑ کر عبدالملک مجاہد کی بابت نہایت جوشیلے انداز میں کہا:
’’ان کی نہ سنیں، انہیں تو میں فٹ بال کی طرح اڑا کر پھینک دوں گا۔‘‘
میں جو کھڑکی سے لگا کھڑا تھا، مجاہد بھائی کا ردعمل جاننے کے لیے ان کا چہرہ دیکھنے کی بھی شرم سے ہمت نہ پڑی۔ عبدالملک مجاہد یونین کے صدر اورشفیع نقی جامعی ان ہی کی پُرزور وکالت پر جمعیت کے صدارتی امیدوار بنائے گئے تھے۔ متقی اور دین دار ارکانِ جمعیت اس کے حق میں نہ تھے لیکن مجاہد بھائی نے شفیع کے سحر میں مبتلا ہوکر ان کی حمایت میں ایسی دلیل دی جسے نقل نہ کرنا ہی بہتر ہے، اور یوں شفیع کے حق میں نہ چاہتے ہوئے بھی فیصلہ کرلیا گیا۔ شفیع نے اس شفاعت کا صلہ دینے میں دیر نہ کی۔ میں نے شفیع نقی کا دوسرا چہرہ واپسی پر مسجد میں دیکھا جہاں کارکنان جمعیت کے سامنے انھوں نے جوشِ و جذبات میں کہے گئے غیر محتاط فقرے کی مجاہد بھائی سے معذرت کی۔ جواز یہ پیش کیا کہ جو کچھ کیا بربنائے مصلحت کیا۔ وہ ’’مصلحت‘‘ شاید مجاہد بھائی کی بھی سمجھ میں نہ آئی، آہستگی سے کچھ جواب میں کہا جو میں سن نہ سکا، البتہ ان کی طنز والم میں ڈوبی مسکراہٹ جسے زہرخند مسکراہٹ بھی کہا جاسکتا ہے،آج تک بھلا نہ سکا۔
یونیورسٹی یونین کے الیکشن میں شفیع نقی کے مقابلے پر این ایس ایف کے امیدوار شاید مدثر مرزا تھے جو جنگ اخبار سے آج کل وابستہ ہیں۔ ان کی شخصیت ویسے ہی غیر مؤثر تھی۔ شفیع سمیت جمعیت کا پورا پینل بھاری اکثریت سے جیت گیا۔
جیتنے کے بعد شفیع نقی نے کیمپس کے لبرل سیکولر اور کلچرل ماحول کو بدلنے کے لیے ایک اصلاحی قدم اٹھایا۔ انھوں نے جمعیت سے وابستہ لڑکوں کا ایسا جتھّا تیار کیا جو ”بدی کو ہاتھ سے روکنے اور مٹانے”پر تیار تھا۔ اصل میں کیمپس کا مخلوط ماحول بلاشبہ ایک زمانے سے خود انتظامیہ کے لیے درد سر بنارہا تھا۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی جس زمانے میں وائس چانسلر تھے، ایک اسلامی ذہن کے حامل اسکالر ہونے کے ناتے، ان کی آشیر باد سے پراکٹر میجر آفتاب حسن نے مخلوط ماحول کی ضرررسانی اور اس ماحول کی کشش سے آسانیاں کشید کرنے والے لڑکے لڑکیوں پر کچھ اخلاقی بندشیں عاید کرنے کی کوششیں کیں تو ان کی اصلاحی کوششوں کو ”تین فٹ کا فاصلہ” کامضحکہ خیز عنوان دے کر آج تک انھیں مطعون کیا جاتا ہے۔ فلسفے کے ڈاکٹر منظور احمد صاحب نے پچھلے ہی دنوں ملاقات میں مجھ سے اس پروپیگنڈے کی تردید کی کہ ہر گز ایسا نہیں تھا کہ ڈاکٹر قریشی یا میجر صاحب مرحوم نے طلبا اور طالبات کے درمیان بات چیت یا میل ملاقات کے لیے تین فٹ کے فاصلے کے قائم رکھنے کا کوئی ضابطہ جاری کیا تھا۔ بات فقط اتنی تھی کہ یونی ورسٹی کیمپس ان دنوں بھی نظریاتی مجادلے اور مباحث کی رزم گاہ بنا ہوا تھا ۔ ایک طبقہ تھا جو تہذیب مغرب کے زیر اثر ہر قسم کی آزادی کا طلب گار اور ہر پابندی اور روک ٹوک کو رجعت پسندی سے تعبیر کرتا تھا۔ دوسری طرف وہ طبقہ بھی تھا جو مشرقی اور مذہبی تہذیب کے تقاضوں کے تحت جامعہ کے مخلوط ماحول کو شائستگی اور معاشرتی اقدار کی حدود و قیود کے اندر رکھنے کا حامی تھا۔ شفیع نقی جامعی کی قیادت میں جمعیت کے پینل نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تو یہ خیال ہوا کہ گویا طلبا و طالبات کی تائید و حمایت اس امر کا بھی مینڈیٹ ہے کہ اس مخلوط ماحول کی پیدا شدہ خرابیوں کی اصلاح بھی ضروری ہے۔ چناں چہ شفیع نقی جامعی کا تیار کردہ جتھا جسے جلد ہی مخالفین جمعیت نے تھنڈر اسکواڈ کا نام دیا اور اب اسی نام سے شفیع نقی کا زمانۂ صدارت بدنام کیا جاتا ہے۔ تھنڈر(Thunder)کے لفظی معنی گرج، بجلی کی کڑک، گڑگڑاہٹ وغیرہ کے ہیں۔ اس کے ایک اور معنی پُر زور سرزنش یا مذمّت کے بھی آتے ہیں۔ میں اس زمانے میں بھی کوئی بہت کٹر مذہبی یا فنڈامنٹلسٹ ٹائپ مسلمان نہیں تھا کہ اس مخلوط نظام تعلیم پر نفرین بھیج کر اس کا حصّہ بنا رہا۔ لیکن تب بھی جو چیزیں ، جیسے مناظر اس گنہہ گار نے اپنی آنکھوں سے دیکھے، وہ صورت حال کی اصلاح کے متقاضی تھے۔ تو شفیع نے کیمپس کے ماحول کی اصلاح کا جو بیڑہ اٹھایا، اصل میں وہ ذمہ داری یونی ورسٹی انتظامیہ اور اساتذۂ کرام کی تھی لیکن میجر آفتاب حسن کو اپنی اصلاحی کوشش میں جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، اس کے بعد انتظامیہ ہی نہیں خود اساتذۂ کرام بھی ماحول کو علمی اور تہذیبی بنانے کی ذمہ داری سے خود کو بری الذمہ کرچکے تھے۔ ایسے میں اور کیا صورت تھی کہ یہ ذمہ داری جمعیت ہی اٹھاتی جو مخلوط تعلیم کی مخالف اور خواتین یونی ورسٹی کے قیام کی حامی تھی۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ اصلاح احوال کے لیے نکلنے والے نوجوانوں کو اگر یہ ہدایت کی جاتی کہ اصلاح کا احسن طریقہ ترغیب و تلقین اور نصیحت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ طریقہ اختیار کیا جاتا تو ‘تھنڈر اسکواڈ’کی پھبتی جو جسپاں کی گئی، چسپاں نہ ہوتی۔ یہ کوشش ناکامی اور اس سے بڑھ کر بدنامی سے ہمکنار ہوئی تو اس لیے کہ ‘جوڑوں’کو سمجھانے بجھانے کے بجائے ڈرانے دھمکانے یا بالفاظ دیگر برائی کو بہ زور طاقت مٹانے کی پالیسی اپنائی گئی۔شفیع نقی نے اصلاحی جتھے کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے اپنے مخصوص جذباتی انقلابی لب و لہجے میں گھن گرج کے ساتھ کہا:
’’سائنس کے وہ طلبہ جو آرٹس فیکلٹی میں تھیوری کی کلاسیں لینے آتے ہیں اور آرٹس کے جو جوڑے سائنس فیکلٹی میں پریکٹیکل کی کلاسیں کرنے جاتے ہیں، وہ کان کھول کر سن لیں کہ اب یہ سب کچھ نہیں ہوسکے گا۔‘‘
شفیع نقی کے ان فقروں پر داد تو بہت ملی لیکن یہ زمانہ وہ تھا جب کراچی یونی ورسٹی شہر کی واحد یونی ورسٹی تھی، جہاں ڈیفنس، کلفٹن اور باتھ آئی لینڈ کی آج کی اصطلاح میں برگر کلاس بھی آتی تھی جو آزادی چاہتی تھی اور یہاں ہم جیسے ملیر اور دیگر مضافاقی علاقوں کے مکین بھی حصول تعلیم کے لیے آتے تھے جو آزادی کو ذمہ داری سے مشروط سمجھتے تھے ۔ گویا حسرت موہانی کے اس موقف کے قائل و قتیل تھے کہ عشق کا کام نہیں حُسن کو رسوا کرنا۔ غضب یہ ہوا کہ جوشِ اصلاح میں خدا جانے کس لال بجھکڑکے مشورے پر ”جوڑوں” کو سراسیمہ کرکے ”عادت بد”چھڑانے کے لیے ایک پکڑے گئے جوڑے کی تصویر ‘جنگ اخبار کے بیک پیج پر چھپوادی گئی۔ اس اقدام نے آزادی کے متوالوں کے ”تھنڈر اسکواڈ”کے خلاف پروپیگنڈے میں جان ڈال دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یونین کے الیکشن ہوئے تو جمعیت کے خلاف لبرل اور پروگریسو فرنٹ کا اتحاد جیت گیا۔ جمعیت کے جوائنت سیکرٹری مخدوم علی خان( مشرف دور کے اٹارنی جنرل) اپنی ذاتی قابلیت اور امیج کی وجہ سے جیتے۔ اگر انھیں صدارتی عہدے کے امیدوار بنانے کے فیصلے پر قائم رہا جاتا تو جمعیت کے ہارنے کا پھر کوئی امکان نہ تھا لیکن شومئی قسمت سے صدارتی امیدوار قیصر خاں بنوائے تھے جو تھنڈر اسکواڈ کے چیف تھے، جنھیں کبھی کسی دنگے فساد میں ملوّث نہ پایا گیا لیکن اپنے تن و توش اور اس سے زیادہ ‘بہ زور طاقت اصلاح’کے پروپیگنڈے نے متنازع بنادیا تھا اور یہی وجہ ہوئی کہ وہ بھی ہارے اور جمعیت بھی ہاری۔
شفیع نقی کی یونین کے بعد جمعیت ہاری تو سہی لیکن اس شان و دھوم دھڑکے سے کہ ہار پر بھئی جیت کا گماں گزرتا تھا۔ جمعیت نے اپنی شکست کا کھلے دل سے اعتراف کیا۔ مخالفین کیا لبرل، کیا پروگریسو اور کیا جمعیت سے للہٰی بُغض رکھنے والے سب کے سب بیک زباں بول اٹھے:
”یہ ہوتی ہے جمہوریت ، یہ ہے جمہوری روّیہ”
شاید جیت کر جمعیت کی عزّت و قدر منزلت ویسی نہ ہوتی جیسی شکست کھاکر اور شکست کو کھلے دل سے مان کر ملی۔ جمعیت نے ”یوم تجدید عہد”منانے کا اعلان کیا۔ ہاری ہوئی تنظیم کے جلسے میں وہ جوش و خروش اور ایسا ازدحام تھا لڑکے لڑکیوں کا کہ باید و شاید۔ وجہ یہ بھی تھی کہ جلسے میں لبرل اور پروگریسیو کے کارکنان بھی تھے۔ وہ جمعیت کے جمہوری اور فراخ دلانہ روّیے کی شکر گزاری کے طور پر جلسے میں آئے تھے۔ حسب توقع دھواں دھار تقریر شفیع نقی کی تھی۔ اتفاق ہی کہیئے کہ ایک دن پہلے کیمپس میں موسم آندھی و جھکڑ سے بھرا تھا، اس روز سورج میں خوب روشنی تھی، جلسے کے وقت بادل کا ٹکڑا سورج پر سایہ بن کر چھاگیا۔ شفیع نے فی البدیہہ اپنی تقریر میں اس کا تذکرہ کیا۔مگر ساتھ ہی ڈپٹ کر یہ تنبیہ بھی کی:
’’کل یہاں آزادی آزادی کی بہت باتیں ہوئیں۔ میں بتادینا چاہتا ہوں کہ جامعہ میں کپڑے پہننے کی آزادی ہے، اتارنے کی نہیں۔‘‘
اس پر جو زور دار تالیاں بجیں ، جان سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ خوب دن تھے وہ بھی۔ پھر ایسے دن یونی ورسٹی میں لوٹ کر نہ آئے ۔
اس جلسے کے بعد شفیع پھر یونیورسٹی کے افق پر نہ چمک سکے۔ وہ کیمپس ایک آدھ بار ہی آئے۔ معلوم ہوا کہ لندن اعلیٰ تعلیم کے لیے جانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور انگریزی کی استعداد میں اضافے کے لیے امریکن سینٹر کی لائبریری میں بہ غرضِ مطالعہ پابندی سے جاتے ہیں۔
ایک دن کسی کام سے میں نے انھیں فون کیا کہ یونین کے زمانے میں ان سے اچھی واقفیت ہوگئی تھی۔ ان سے میری ہی خواہش پر ریگل کے کیفے جہان میں ملاقات طے پائی۔ وقتِ مقررہ پر وہ اپنی دیوہیکل موٹرسائیکل پر تشریف لائے۔ دورانِ گفتگو انھوں نے پوچھا:
’’جمعیت کی اب کیا پوزیشن ہے؟‘‘
میں نے یقینی انداز میں کہا:’’اب کے انتخابات میں جمعیت جیت جائے گی!‘‘
شفیع نے مزید کوئی استفسار نہ کیا۔ ہوٹل کا بل انھوں نے ہی ادا کیا۔ یہ پہلی ملاقات تھی جسے آج کل کی زبان میں ’’ون ٹو ون ملاقات‘‘ لکھا جاتا ہے۔
اس کے بعد میرا ان سے کوئی ملنا جلنا نہ ہوسکا۔ بس ایک دن اخباری تصویر دیکھی جس میں وہ اور اکرم کلوڑی (جمعیت کے سابق سیکریٹری یونین) مسلم لیگ کے پیرپگارا کے دفتر میں ان سے ملاقات کررہے ہیں۔ یہ گمان عام ہوا تصویر سے کہ دونوں گہرے دوست مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کردیں گے۔ لیکن یہ گمان حقیقت نہ بن سکا۔ پھر ایک اور دن ٹیلی وژن کے ایک کمرشل میں شفیع نقی ایک ماڈل کے طور پر نمودار ہوئے، اسکرین پر ان کے عقب میں ایک خاتون ماڈل ان کے کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔ اشتہار کسی سوئٹر کا تھا، مگر تب تک صدر ضیا الحق کی اسلامائزیشن کا عمل شروع نہ ہوا تھا۔ راج بھٹو کا تھا جن کے وزیراطلاعات مولانا کوثر نیازی یونیورسٹی کے کسی پروگرام میں تشریف لائے تھے تو شفیع نقی نے اپنے مخصوص اعتماد سے ایک عدد فائل اسٹیج پر چڑھ کر پیش کی تھی۔ اس فائل میں وہ عریاں تصویریں اور فحش مواد تراشوں کی صورت میں جمع کردیا گیا تھا جو اُس زمانے کے اخبارات میں تواتر سے شائع ہورہے تھے۔ مگر حکومت کی اصلاح کی کوشش کا یہ واقعہ ان کے صدر یونین بننے سے قبل کا ہے۔ شفیع نقی اشتہار میں کیا آئے، ایک دھماکا سا ہوا۔ سیاسی وغیر سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں۔ تب جمعیت کی اقدار و روایات مؤثر تھیں۔ اگلے ہی دن اخبار سے جمعیت کے سابق صدر یونین کے اخراج کی اطلاع ملی اور پھر جو آخری اطلاع ملی وہ شفیع نقی کے لندن پرواز کر جانے کی تھی۔
اب یہ سب باتیں رات گئی بات گئی کہہ کر بھلائی جانے والی ہیں۔ شفیع لندن سے کئی بار پاکستان آئے۔ ایک مرتبہ ان کی تشریف آوری پر محترم سید منور حسن نے ہوٹل میں پرانے احباب کو جمع کرکے انھیں چائے پر مدعو کیا۔ خواہش کے باوجود کسی ناگزیر مصروفیت کے سبب شریکِ محفل نہ ہوسکا، اس کا بعد میں قلق بھی رہا۔ رہا سوال شفیع کے عزم و ارادے کے تشنۂ تکمیل رہ جانے کا، تو ساری بات یہ ہے کہ اس کائنات میں ہم غور سے دیکھیں تو ایک الٰہی ارادہ بھی کام کرتا نظر آجائے گا۔ جو لوگ بننا کچھ چاہتے ہیں اور بن کچھ جاتے ہیں۔ جو کامیاب ہونے کی جدوجہد کے باوجود اپنے پیشے میں ناکام ہوجاتے ہیں اور جس کام کو کرنے کا انھوں سوچا بھی نہیں ہوتا وہی کام ایک وقت آتا ہے کہ ان کی پہچان بن جاتا ہے۔ مشہور گمنام، اور گمنامی میں پڑے ہووں کی شہرت کا ستارہ چمک اٹھتا ہے۔ ان واقعات پر غور کریں تو حضرت علیؓ کا یہ قولِ مبارک اپنے معنی سمجھا دیتا ہے کہ میں نے اپنے ارادے کے ٹوٹ جانے سے خدا کو پہچانا ہے۔
آدمی کا ارادہ کیوں ٹوٹ کر کانچ کے برتن کی طرح بکھر جاتا ہے اور الٰہی ارادہ کیوں غالب آجاتا ہے۔ یہ معرفت کے حقائق ہیں جن تک رسائی آسان نہیں۔ البتہ شفیع نقی کے حوالے سے آخری واقعہ جس کے تذکرے پر ان کی بابت اپنی گفتگو کو تمام کرتا ہوں، یہ ہے:
ایک دن استادِ محترم حسینی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اِدھر اُدھر کی باتوں میں ذکر شفیع جامعی کا ذکر چھڑ گیا۔ ٹھنڈی سانس بھر کر فرمانے لگے: ’’شفیع نقی کی تربیت پر میں نے بہت محنت کی۔ ان پر توجہ دینے میں اپنے بچوں تک کو نظرانداز کردیا۔‘‘
اتنا کہہ کر چپ ہوگئے۔ کچھ کہنا چاہا لیکن لگا اپنے آپ کو انھوں نے کہنے سے روک لیا۔
پوچھا:’’سر! شفیع سے رابطہ ہے؟‘‘
اداسی سے جواب دیا:’’کیسا اور کہاں کا رابطہ؟ مدتوں پہلے آئے تھے۔ اب تو ادھر اُدھر سے اڑتی اڑتی خبر سی مل جاتی ہے ان کے بارے میں۔۔۔‘‘
میں نے کہا:’’سر! ان کے لیے دعا کیجیے۔‘‘
یہ کہہ کے جو ان کی طرف دیکھا تو جو کچھ ان کی آنکھوں میں اور جو کچھ ان کی خاموشی میں پڑھا اُس کے بعد اس تجزیے کی ضرورت نہ رہی کہ کسی کے عزم و ارادے ٹوٹ بکھرتے ہیں کانچ کے برتن کی طرح تو کیوں؟
nn

Share this: